Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Harjai (Episode 07)

Harjai by Muqadas Awan

مہراب ابیہا کو کمرے میں لا کے دروازہ لاک کیا ۔۔۔۔۔۔

تمہاری وجہ سے صرف اور صرف تمہاری وجہ سے آج میں نے امی اور آپی سے بدتمیزی کی تمہاری وجہ سے میری جان سے پیاری بہن آج میرے پاس نہیں ہے۔۔نفرت ہو رہی ہے مجھے تم سے نفرت مہراب ابیہا کے بازو پکڑ کے چلایا ۔۔۔۔

تمارا میں وہ حال کرونگا کے تمہاری روح تک کانپ جائے گی تمہارا وہ حال کرونگا کے تم مجھ سے پناہ مانگوگی

مہراب ابیہا کو بیڈ پی پھینک کے باہر چلا گیا۔۔۔۔

ابیہا خوف کے مارے کچھ کہہ نہی پائ

******************

مہراب بے وجہ گاڑی سڑک پہ گھوما رہا تھا

تھک ہار کے گاڑی ایک جگہ روکی اور باہر نکل کے سگریٹ پھونکنے لگ گیا۔۔۔

اسے کسی پل سکون نہیں مل رہا تھا۔۔۔۔

ایشو میری جان تم کیوں اتنی جلدی چلی گئ دیکھو نا تمہارے بغیر تمہارا بھائ کیسا ہے۔۔۔

آج کی رات کوئ سکون سے نا سو پایا۔۔۔

***********************

اگلے دن ابیہا اٹھی تو سر میں شدید درد ہو رہا تھا ساری رات رورو کے گزاری صبح فجر کی نماز پڑھ کے دو گھنٹے کے لیے سو گئ۔۔۔

ابیہا فریش ہو کے کمرے سے باہر آئ گھر میں کوئ نہی تھا مہراب کی بہن نور راتو رات ہی چلی گئ تھی اور مہراب کی امی اپنے کمرے میں تھی۔۔۔۔

ابیہا نیچے گئ ادھر بھی کوئ نہی تھا پھر مایوس ہو کے دوبارہ

روم میں جانے لگی تو نظر برابر والے روم میں ٹک گئ جب باہر روم کا گیٹ ہی اتنا پیارا اور اسٹائلش ہے تو اندر کا روم کیسا ہوگا۔۔۔۔

دروازے پہ تالا لگاوا تھا ابیہا مہراب کے کمرے کی طرف چلی گئ۔۔۔

***********

امی۔۔۔مہراب رات کے دو بجے گھر آیا سامنے اپنی امی کو دیکھ کے ان کے پاس چلا گیا۔۔۔

امی آپ تو ناراض نا ہوئیں۔۔مہراب ثمینہ بیگم کے قدموں میں بیٹھ گیا۔۔۔

امی پلیز ایسا نا کریں مجھ سے بات کریں مجھے سزا دیں مجھے ڈانٹیں لیکن پلیز مجھ سے یوں منہ نا موڑیں ۔۔۔

کیا سزا دوں کس حق سے ڈانٹوں تمہیں میری اولاد نے تو مجھے سے سارے حق چھین لیے ایک ایشال جس نے ۔۔۔۔اب اس کے لیے غلط الفاظ بھی نہیں نکال سکتی۔۔۔اللہ اسے جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے۔۔

اور تم۔۔تم سے ایسی امید نہیں تھی بہن کا کفن ابھی میلا نہیں ہوا اور تم نے شادی کر لی۔۔آج میرا سر شرم سے جھک گیا یہ دن دیکھنے سے پہلے اللہ مجھے اپنے پاس بلا لیتا۔۔۔۔

نہیں امی اللہ آپکو لمبی زندگی دے۔۔۔

ایشال نے ایسا کیوں کیا۔۔کیا کمی تھی اسکو باپ کا پیار دیا میں نے وہ میرا مان تھی۔۔وہ کیوں ہمیں چھوڑ کے چلی گئ۔۔امی مجھے ایک پل بھی سکون نہیں مل رہا یہ تنہا گھر مجھے کاٹ کھانے کو دوڑتا ہے یہ تنہائیاں مجھے ڈستی ہیں امی ایشو مجھ سے ناراض ہوگئ نور بھی مجھ سے خفا ہے اور اب آپ تو یوں منہ نا موڑیں ۔۔۔میں نے جتنا رشتوں کو جوڑ کے رکھا آج یہی رشتے بکھر گئے۔۔۔۔

تو رہو اپنی اس چہیتی بیوی کے ساتھ۔۔جاتے جاتے لائٹ بند کرتے جانا۔۔۔

مہراب زمین سے اٹھ کے بیڈ پہ ثمینہ بیگم کی قدموں کی جانب بیٹھ گیا۔۔۔۔

لیکن ثمینہ بیگم منہ موڑے بیٹھی تھیں ۔۔۔۔

امی میں بہت تھک گیا ہوں میں سکون چاہتا ہوں۔۔۔مجھے وہ سکون دے دیں میں تین راتوں سے سونا نہیں ہوں۔۔۔ثمینہ بیگم جو منہ موڑے بیٹھی تھیں مہراب کی آخری بات پہ تڑپ کے رہ گئیں۔۔بھلا بیٹنے سے کب تک ناراض رہتیں۔۔وہ بیٹا جو پل پل تڑپ رہا ہے اپنی بہن کے لیے۔۔

نا میرے بچے بس بس ثمینہ بیگم مہراب کو سہلا رہیں تھی آدھے گھنٹے بعد مہراب نیند کی وادیوں میں اتر گیا۔۔۔۔

یا اللہ یہ کیسی آزمائش ہے میرے بچے آج جدا ہوگئے۔۔میرے بچے کو سکون دےدے ۔۔۔ثمینہ بیگم نے ساری رات دعائوں میں گزاری۔۔۔۔

**************

مہراب صبح اٹھا تو اپنے آپ کو ثمینہ بیگم کے روم میں اپنے آپ کو دیکھ کے چونکا لیکن پھر رات والا واقعہ یاد آیا تو اپنی امی کو ڈھونڈنے باہر کی جانب چلا گیا۔۔۔

باہر نکلا تو اپنے کمرے پہ نظر پڑی۔۔۔

کمرے کے اندر آیا سامنے ابیہا کو سوتا پایا تو غصے میں دماغ کی رگیں تن گئیں۔۔۔۔

ہماری راتوں کی نیندیں حرام کر کے مزے سے سو رہی ہے۔۔۔مہراب ابیہا کی جانب آیا اور غصے میں ابیہا کو جھنجھوڑ ڈالا۔۔

ابیہا بڑبڑا کے اٹھ گئ سامنے مہراب کو دیکھ کے چہرے کا رنگ اڑ گیا

کس کی اجازت سے تم میرے بیڈ پہ سو رہی ہو۔۔۔

وہ۔۔میں وہ۔۔۔

کیا وہ میں ہاں بولو کس کی اجازت سے ۔۔مہراب نے ابیہا کے دونوں بازووں پہ اپنا دباؤ ڈالا۔۔ابیہا کی آنکھ سے آنسو نکل آیا۔۔۔۔

بند کرو یہ مگر مچھ کے آنسو نفرت ہے مجھے تم سے اور تمہارے ان جھوٹے آنسو سے۔۔۔مہراب غصے سے پھنکارا۔۔۔۔

پلیز میں میرا بازو۔۔ درد۔۔۔ابیہا سے مہراب کے غصے کی وجہ سے کچھ بولا ہی نہیں جا رہا تھا۔۔۔

درد ۔درد ہو رہا ہے۔۔ہو رہا ہے نا درد تمہیں پتا چلے گا درد اور تکلیف کسےکہتے ہیں میری بہن کے ایک ایک آنسوؤں کا بدلہ لونگا جتنا میری بہن ترپی تھی نا اتنا تمہیں تڑپاونگا۔۔۔

تم بھی پل پل مروگی تم موت کی دعا مانگو گی لیکن تمہیں موت بھی نصیب نہیں ہوئے گی۔۔۔مجھ سے پناہ مانگو گی تم

تمہاری زندگی سے ساری خوشیاں چھین لونگا تمہیں تڑپنا ہوگا ابیہا تمہیں تڑپنا ہوگا۔۔۔جب جب مجھے تکلیف ہوگی اس کا ازالہ تم کرو گی ۔۔۔۔

مہراب ابیہا کو زمیں میں پھینک کے باہر چلا گیا۔۔۔۔

ابیہا وہیں زمینمیں بیٹھی اپنے نصیب کو رونے لگ گئ۔۔

یا اللہ میرا کیا قصور تھا مجھے کس بات کی سزا مل رہی ہے کیا محبت کرنے کی اتنی بڑی سزا ۔۔۔مہراب آپ کیوں نہیں سمجھتے میں بےقصور ہوں حماد نے مجھے بھی دھوکا دیا ہے۔۔۔یا اللہ میری مدد کیجیے ۔۔۔

************

یار مہراب کب تک ایسا چلے گا اپنا بزنس دیکھ۔۔۔۔

اپنے کام میں دیہان دے۔۔۔

مہراب اپنے دوست کے ساتھ بیٹھا کسی گہری سوچ میں تھا اپنے دوست کی آواز سے سوچ سے باہر آیا۔۔

کوشش کرونگا۔۔۔

مہراب نے بس اتنا ہی کہا۔۔۔

مہراب زندگی کسی ایک کے چلے جانے سے نہیں رکھتی میرے دوست۔۔

بزنس میں نقصان پہ نقصان ہو رہا ہے تو بزنس کی طرف آ دنیا داری بھی نبھا اپنی ماں کو دیکھ وہ اکیلی ہو گئیں ہیں اب تو سمبھال انکو۔۔۔

اچھا میں چلتا ہوں امید ہے میری باتوں پہ تو دیہاں دیگا۔۔۔

کل آفس آجانا خدا حافظ۔۔۔

************

ابیہا نماز پڑھ کے نیچے آئ روز کی طرح آج بھی پورا گھر تنہا تھا جیسے کوئ رہتا ہی نا ہو اس گھر میں۔۔

چھوٹی بی بی آپکو کچھ چائ ہے۔۔

ابیہا اپنی سوچو میں تھی پیچھے سے ملازمہ نے آواز دی ۔

ہوں نہیں کچھ چائ ہوگا تو میں خود لے لونگی تم جاو۔۔

جی چھوٹی بی بی ۔۔۔۔

ابیہا باہر لان کی طرف گئ۔۔۔

لان میں بھی بیٹھے ایک گھنٹا ہوگیا۔۔ابیہا دوبارہ اندر چلی گئ۔۔۔

***********

یہ گھر اتنا خالی کیوں ہے کیا کوئ نہیں ہے گھر میں۔

ابیہا نے اماں بی سے پوچھا۔۔۔

اس گھر میں تین افراد رہتے تھے لیکن گھر کی رونق سے پتا چلتا تھا کہ اس گھر میں دس افراد رہتے ہیں۔۔مہراب بابا ایشال بی بی اور انکی امی اور بڑی نور بی بی وہ سال میں دو مرتبہ آتی تھیں پھر جب وہ آتی تھیں نا تو گھر میں رونق ہوجاتی تھی لیکن جب سے ایشال بی بی کا انتقال ہوا ہے نا تب سے اس گھر کی ساری رونق ختم ہوگئ ہے چھوٹی بی بی جب ایشال بی بی تھیں نا تو تب اس گھر میں بہت رونق ہوتی تھی وہ نا شوق چنچل سی تھیں اپنے مہراب بابا کی جان تھیں وہ مہراب بابا کی جان بستی تھی ان میں ان کی آنکھوں میں ذرا سا آنسو آجائے نا تو مہراب بابا تڑپ جاتے تھے۔۔۔ان کی خوشی کی خاطر مہراب بابا اپنی امی اور بڑی بہن سے لڑ جاتے تھے۔۔۔۔اب مہراب بابا بلکل ٹوٹ چکے ہیں جب ایشال بی بی تھیں نا تو مہراب بابا رات جلدی آجاتے تھے اور اب وہ تو پوری رات باہر رہتے ہیں ایشال بی بی اس گھر کی لاڈلی تھیں ۔۔۔۔مہراب بابا کے آنکھوں کی ٹھنڈک تھی اس گھر میں خوشی کا ماحول رہتا تھا لیکن جس دن وہ منحوس ایشال بی بی کی زندگی میں آیا تب سے اس گھر کی خوشیوں کو اس منحوس کی نظر کھا گئ ۔۔۔۔

ایشال بیٹی ایک دن اس لڑکے کو اپنے گھر لے آئ وہ لڑکا صحیح نہیں تھا مہراب نے ایشال کو منع کیا اور اس لڑکے کو بہت مارا ایشال بیٹی چلاتی رہیں کہ وہ اسی سے شادی کریں گی مہراب نے ان کی ایک نہیں سنی انہیں دو دن تک کمرے میں بند کر دیا پھر ایک رات پتا چلا کہ ایشال بیٹی گھر سے بھاگ گئیں اس لڑکے کے ساتھ تب مہراب ٹوٹ گیا پوری رات مہراب نے ایشال بیٹی کو ڈھونڈنے میں گزار دی لیکن ایشال بیٹی نہیں ملی پھر ایک رات ایشال بیٹی کا فون آیا کہ حماد نے اسے طلاق دے دی مہراب نے ایشال سے پوچھا کہ وہ کہاں ہے لیکن شاید خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا۔۔۔۔پھر اس رات ایشال بی بی کا۔۔۔۔اما بی۔۔۔

ابیہا اور مہراب نے پیچھے مڑکے دیکھا تو ابیہا کی سانسیں اٹک گئ جیسے موت کا فرشتہ سامنے کھڑا ہو ۔۔۔

اما بی کھانا لگا دیں بہت بھوک لگی ہے۔۔مہراب اما بی کو اتنا کہہ کہ اوپر چلا گیا۔۔۔

ہاں میرے بچے میں ابھی کھانا لگاتی ہوں آج اتنے دنوں بعد میرے بچے نے کھانے کا بولا۔۔۔۔

شکر کچھ سنا نہیں ورنہ پھر جان کو آجاتا جب یہ پتا چلتا کہ اما بی مجھے ایشال کی بارے میں بتا رہی ہے۔۔۔ابیہا نے سکھ کا سانس خارج کیا پھر وہ بھی اوپر چلی گئ۔۔۔

مہراب فریش ہو کے ثمینہ بیگم کے کمرے کی جانب چلا گیا۔۔امی ۔۔

ہاں میرے بچے وہاں کیوں کھڑے ہو اندر آو۔۔

امی آپ نے کھانا کھا لیا ۔۔۔۔

ہاں بچے میں نے تو کھا لیا لیکن ابیہا نے نہیں کھایا کھانا جاو اس کے ساتھ کھاو ۔۔۔

ہممم کھا لونگا تھوڑی دیر آپ کے پاس بیٹھنا چاہتا ہوں۔۔۔

ہاں بچے ضرور ۔۔۔

مہراب بیٹا ۔۔۔۔

جی امی ۔۔۔

آفس کب سے جانے کا ارادہ ہے۔۔

امی صبح سے آفس جاونگا۔۔۔

شاباش بیٹے مجھے خوشی ہوئ تمہیں دیکھ کے دیکھو تم نے شادی کر لی اب ذمہ داری بھی نبھاو ۔۔۔

ابیہا کو ٹائم دو ۔۔۔دو گھڑی اس کے ساتھ بیٹھو باتیں کرو پتا نہیں کیا سوچتی ہوگی وہ کہ کیسا سسرال ہے۔۔۔

باتیں کیا کرو تاکہ تمہارا غم ہلکا ہو۔۔۔میاں بیوی سکھ دکھ کے ساتھی ہوتے ہیں ایک دوسرے کے۔۔۔

(امی کیا بتاووں آپکو اسکو دیکھتا ہوں تو تکلیف دوگنی ہوجاتی ہے ہر زخم تازہ ہو جاتا ہے اسی کی وجہ سے ہی آج ہماری خوشیاں ختم ہوگئ)۔۔۔۔مہراب بس سوچ کے رہ گیا زبان تک نا لا سکا ابیہا کے بارے میں بتا کے مزید تکلیف نہیں دینا چاہتا تھا

بیٹا کس سوچ میں پڑھ گئے۔۔۔

نہیں امی کچھ نہی میں کھانا کھانے جا رہا ہوں آپ بھی سو جائیں گڈ نائٹ۔۔۔۔

*****************

مہراب کمرے میں آیا تو ابیہا صوفے میں بیٹھی گہری سوچ میں ڈوبی وی تھی

مہراب بیڈ میں بیٹھا بغور ابیہا کا جائزہ لے رہا تھا۔۔۔

کوئ اور منصوبہ بنا رہی ہو تو خیالوں سے نکل آو۔۔۔

ہوں ۔۔نہی نہی تو میں کوئ منصوبہ ۔۔۔

اچھا بس جتنی دیر تم بات مکمل کروگی نا تب تک مجھے نیند آجائے گی۔۔۔۔

کل مجھے آفس جانا ہے میرے اٹھنے سے پہلے تم اٹھ جانا صبح کا نائشتہ تم بناو گی اور ابھی میرے آفس کے لیے کپڑے استری کردو شوز پالش کردو۔۔۔

ابھی۔۔۔۔ابیہا جو صبح جلدی اٹھ جانے کا حکم کے بارے میں پریشان ہو رہی تھی کہ ایک اور حکم صابر ہوگیا ۔۔۔۔

تماری مرضی ابھی یا پھر صبح ۔۔اگر صبح کرو گی تو پانچ بجے اٹھنا اگر ابھی سب ریڈی کرو گی تو ضبح چھ بجے۔۔۔۔

گڈنائٹ۔۔۔لائٹ آف کردو مجھے نیند آرہی ہے۔۔۔مہراب حکم دے کے سوگیا ۔۔۔

ابیہا کے سب ریڈی کیا صوفے پہ لیٹ گئ۔

***************

ابیہا جو نیندوں میں تھی اسے ایسا لگ رہا تھا کہ کوئ اسے خوابوں میں جھنجھوڑ رہا ہے لیکن کچھ ہی پل ابیہا کو یہ خواب نہی حقیقت لگا کیوں کہ مہراب ابیہا کو جھنجھوڑ رہا تھا۔۔

مس ماہرانی صاحبہ اٹھ جاو سات بج رہے ہیں۔۔۔

ہوں ۔۔۔ابیہا بڑبڑا کے اٹھ گئ۔۔۔

ظالم جلاد ۔۔ابیہا منہ میں بڑبڑائ۔۔۔

مہراب جو جانے کے لیے پلٹا تھا ابیہا کی بڑبڑاہٹ سن لی۔۔۔

کیا کہا ۔۔مہراب واپس پلٹ کے ابیہا کے پاس جا کے اس کا جبڑا اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔۔۔

ذیادہ میرے سامنے بکواس کی نا سو وہ سامنے ٹیرس سے نیچے پھینک دونگا۔۔۔آئ سمجھ اب اٹھو اور شرافت ست نیچے آو۔۔۔

مہراب ابیہا کو چھوڑ کے کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔

ابیہا فریش ہونے نیچے آئ سامنے مہراب ڈائننگ ٹیبل میں بیٹا موبائل استعمال کر رہا تھا۔۔۔

اب کیا مجھے گھورتی رہو گی میری دیر ہو رہی ہے ناشتہ بناو جاکے ۔۔۔۔

جی جی ۔۔۔۔

ابیہا ناشتہ مہراب کے سامنے رکھ کے چلی گئ دو منٹ گزرے کہ مہراب کے چلانے کی آواز آئ ۔ ۔۔

جی کیا ہوا۔۔۔ابیہا گھبرا کے مہراب کے پاس پہنچی ۔۔۔

یہ چائے ہے اسے چائے کہتے ہیں۔۔۔

کیوں کیا ہوا چائے کو۔۔۔

بہت ہی بیکار چائے ہے تمہیں کوئ کام کرنا نہیں آتا۔۔۔

ہوں آتا بھی کسے بس دوسروں کو برباد کرنا آتا ہے ۔۔۔

اب کھڑی کھڑی میرا منہ کیا دیکھ رہی ہو جاو جا کے دوسری چائے بناو۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *