Harjai by Muqadas Awan NovelR50696 Harjai (Episode 08)
Rate this Novel
Harjai (Episode 08)
Harjai by Muqadas Awan
مہراب صبح جلدی آفس جاتا رات دیر گھر آکے ایشال کے کمرے میں چلا جاتا۔
۔۔ابیہا دن رات اللہ سے دعا مانگتی رہتی اسکی آزمائش ختم ہو جائے۔۔دو بار گھر سے جانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہی گیٹ پہ گارڈ سخت پہرا دے رہے تھے جب مہراب کو پتا چلا تو ابیہا کی سخت سزا دی۔۔۔
اس وقت گھر پہ ثمینہ بیگم اور ابیہا کے علاوہ کوئ نہیں تھا مہراب کی واپسی رات دیر سے ہوتی تھی اس وقت ابیہا گھر میں بور بیٹھی تھی کہ دماغ میں اچانک ایک خیال آیا کمرے میں آکے کام کی چیزیں بیگ میں رکھ کے باہر گیٹ کی جانب چلی گئ۔۔ ۔۔
ایک پل مایوسی ہوئ کہ پہلے کہ طرح آج بھی باہر نہیں جانے دیے کا گارڈ لیکن سامنے دیکھا تو دروازہ خالی تھا ابیہا فورا گیٹ کی جانب بھاگی گیٹ سے باہر آئ رکشہ کروایا ہسپتال پہنچی۔۔۔رکشہ میں بیٹھتے ہی ابیہا نے دینار کو کال کی کہ فلاح ہسپتال پہنچ جائے ابیہا ہسپتال پہنچی تو سامنے دینار ابیہا کا ہی انتظار کر رہی تھی۔۔
چلو میرے ساتھ۔۔۔ابیہا ہسپتال کے اندر چلی گئ۔۔۔
اسلام علیکم ڈاکٹر ۔۔۔ڈاکٹر پیشنٹ کو ہوش آیا۔۔۔
سوری ابیہا ابھی تک پیشنٹ نے کوئ رسپونس نہیں دیا ابھی تک کومے میں ہیں ایسا لگتا ہے جیسے ان کے اندر اب جینے کی چاہ نہیں ہے۔۔۔
ابیہا ڈاکٹر کی بات سن کے مایوسی سے باہر آگئ۔۔
کیا ہوا ڈاکٹر کیا کہہ رہے ہیں۔۔۔
یار دینار وہ لڑکی ابھی تک کومے میں ہے۔۔۔
یار پتا نہیں کب ہوش میں آئے گی اب ہم کیسے پتا لگوائیں کہ یہ لڑکی کون ہے۔۔۔ایک تو تم نے عجیب کی کوئ مصیبت پال لی۔۔۔
کیسی باتیں کر رہی ہو دینار تم میں اسے اس حالت میں چھوڑ دیتی میری تربیت اس بات کی
اجازت نہیں دیتی۔۔۔
ہاں تو اب کیا کریں ایسے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کے بیٹھ بھی نہیں سکتے کیا پتا وہ لڑکی ساری زندگی ہوش میں ہی نا آئے۔۔۔
اللہ نا کرے ۔۔۔۔
ایک ٹینشن کم تھی کہ اب دوسری مایوسی۔۔
یار میں تمہاری وجہ سے بہت پریشان ہوں۔۔۔وہ مہراب سمجھتا کیا ہے خود کو اسکی بہن مری تو الزام تمہارے اپر لگا دیا۔۔۔اچھا تم اس لڑکی کا مہراب بھائ کو بتا دو۔۔۔
پاگل ہوگئ ہو جان کو آجائے گا میری پہلے کیا کم مصیبت ہے کہ اب۔۔۔
۔میری تو زندگی ہی برباد ہوگئ ۔۔ایک وہ حمادکم تھا کہ اب یہ مہراب ہزار بار کہہ چکی ہوں کہ میں حمادکے پلین میں شامل نہیں تھی لیکن پھر بھی سمجھتا ہی نہیں ہے۔۔۔کبھی سوچا نہیں تھا کہ میرا ایسا نصیب ہوگا۔۔۔۔حمادکے گناہ کی سزا مجھے کیوں مل رہی ہے میرا کیا قصور تھا۔۔۔۔
اچھا بس تم یوں رورو کے خود کو ہلکان نا کرو۔۔۔
دینار میں تھک گئ ہوں یار یوں مہراب کا میرے کردار پہ شک کرنا مجھے اندر ہی اندر مار رہا ہے۔۔۔
اچھا میں گھر چلتی ہوں اگر کسی کو پتا چل گیا نا کہ میں گھر نے باہر ہوں تو میری جان کو آجائے گا۔۔۔
ابیہا میرے گھر نہیں چل رہی۔۔۔
نہیں یہاں بھی چپ کے آئ ہوں۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے جاو ویسے بھی اب مزید تمہارے لیے مشکلات کھڑی نہیں لڑ سکتی۔۔
دعا کرنا یار کہ میری مشکلات ختم ہوجائے۔۔۔خدا حافظ۔۔
مہراب آج جلدی گھر آگیا تھا ۔۔۔
اماں بی ایک کپ چائے تو بنا دیں۔۔۔
اچھا میرے بچے تم جا کے آرام کرو میں چائے بھجواتی ہوں۔۔۔
مہراب اپنے کمرے میں آیا تو ابیہا نہیں تھی مہراب کو آئے آدھا گھنٹا ہو گیا لیکن ابیہا کہیں نظر نہیں آئ۔۔۔
مہراب نے ابیہا کو پورے گھر میں ڈھونڈا لیکن ابیہا کہیں نظر نہیں آئ۔۔۔
مہراب کا غصے سے بڑا حال تھا گاڑی کی چابی اٹھا کے باہر کی جانب بڑھا کہ سامنے سے ابیہا آتی نظر آئ۔۔۔
مہراب ابیہا کا ہاتھ پکڑ کے کمرے میں لے گیا ۔۔ ۔
کمرے میں لے جا کے ابیہا کو بیڈ پہ پھنک دیا واپس آیا دروازہ بند کیا۔۔
۔سیدھا جاکے ابیہا کو جبڑوں سے پکڑ لیا۔۔۔
منع کیا تھا نا میں نے۔۔۔کہا تھا کہ اس گھر سے باہر قدم نہیں رکھنا پھر کس کی اجازت سے باہر گئ۔۔۔جواب دو۔۔۔
مہر مہراب میں ہس۔۔۔ابیہا کا منہ مہراب کی ہاتھوں میں تھا درد کے مارے کچھ بولا ہی نہیں جا رہا تھا۔۔۔
کیا میں میں جواب دو ۔۔اس حماد کے پاس گئ تھی نا ۔۔۔بولو کہاں ہے حماد ۔۔۔
نہی نہی میں حماد کے پاس نہیں گئ تھی ۔۔۔
شٹ اپ اب تم باہر گئ نا تو وہ حال کرونگا کہ کسی کو منہ دیکھانے کے قابل نہیں رہو گی۔۔۔
********************
اسلام علیکم ڈاکٹر انس ۔۔
ارے وعلیکم سلام آئیے آئیے تشریف رکھیں۔۔
آج کیسے آنا ہوا۔۔۔
بس آج فارغ تھا تو سوچا آپکے ہسپتال ہی آجاوں ۔۔
ارے یہ تو بہت اچھا کیا آپ نے۔۔۔کیا پیئیں گے ٹھنڈا یا گرم۔۔۔
ارے نہیں اس کی زحمت نہیں کریں میں بس یہ چیک دینے آیا تھا ۔۔مہراب نے لاکھوں روپے کا چیک ڈاکٹر انس کو دیا۔۔۔
اچھا میں چلتا ہوں۔۔۔خدا حافظ ۔۔۔
مہراب انس کے آفس سے باہر نکلا پیچھے سے ڈاکٹر اکرم کی آواز آئ ۔۔۔۔۔جن سے مہراب کی ماں کا علاج ہو رہا ہے۔۔
مہراب ۔۔۔
مہراب کو اپنے پیچھے آواز آئ تو سیدھا اکرم کے پاس چلا گیا۔۔۔
اسلام علیکم مہراب ۔۔
وعلیکم سلام۔۔۔
ارے مہراب اپنی امی کی رپوتس تو لے جاو کب سے میرے پاس ہے۔۔۔
او ہاں بس ٹائم ہی نہی مل رہا تھا بہت مصروف تھا
ہمممم یار بہت دکھ ہوا تمہاری بہن کا سن کے میں آونگا کسی دن اپنی امی کے ساتھ
بس جو اللہ کو منظور
اللہ ایشال کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔۔آمین۔۔
آنٹی کی طبیعت کیسی ہے اب۔۔۔
بس جی رہے ہیں ہم ایشال کی یادوں کے سہارے۔۔۔
امی کی طبیعت آجکل کچھ ٹھیک نہیں ہے۔۔
مہراب جیسے جیسے بول رہا تھا دیوار کی اس پار کوئ مہراب کی باتوں کو سن رہا تھا مگر وہ بےجان وجود کچھ کہہ نہیں سکتا تھا۔۔۔
اچھا میں چلتا ہوں پھر کبھی امی کو لے کے آونگا انکا دوبارہ علاج شروع کرنا ہے خدا حافظ۔۔
مہراب چلا گیا تھا۔۔۔
وہ کہنا چاہتی تھی کہ بھائ مت جائیں۔۔۔چیخنا چاہتی تھی کہ بھائ میں زندہ ہوں لیکن وہ بےجان وجود کچھ کر نہیں پا رہی تھی۔۔
۔وہ اندر ہی اندر گٹ رہی تھی چلا رہی تھی۔۔۔
*************
دینار اس لڑکی کے بارے میں بتاو کیسی ہے اب۔۔
یار ابیہا وہ لڑکی ویسی ہی ہے۔۔۔کیا بتاوں اس کے بارے میں۔۔۔اچھا کل مہراب آیا تھا ہسپتال۔۔۔
ہاں وہ ہر مہینے ہسپتال جاتے ہیں پیسے دینے۔۔وہاں جن جن لاوارثوں کا علاج ہو رہا ہے نا جو مسکین اور یتیم ہیں ان کے لیے پیسے دیتے ہیں۔۔۔بہت نیک انسان ہیں غریبوں کی مدد کرتے ہیں۔۔۔
ہاں بہت ہی کوئ نیک انسان ہے یوں جلاد ہے جلاد۔۔۔۔اور تم کیا اس ظالم کی تعریفیں کر رہی ہو۔۔جیسے تمہارے ساتھ وہ نرمی سے پیش آتا ہے۔۔۔تم پہ اتنا ظلم کرتا ہے اور تم اس کے ساتھ رہ رہی ہو اب تک۔۔۔
ظلم ہی کر رہا ہے نا جان سے تو نہیں مار دیا جو تم ایسے کہہ رہی ہو یار مہراب دل کا برا نہیں ہیں ان کو حالات نے سخت اور ظالم بنا دیا اگر وہ اپنے اندر کا وبال مجھے مار کے کم کرنا چاہتے ہیں تو ایسے ہی صحیح بس مجھ سے مہراب کا دکھ دیکھا نہیں جاتا اگر وہ مجھے اپنی بہن کی موت کا قصور وار سمجھتے ہیں تو ہاں میں ہوں قصوروار ۔۔۔۔تمہیں نہیں پتا دینار وہ رات کے پہر ترپتے ہیں۔۔۔میں سمجھ سکتی ہوں اپنوں کے بچھڑنے کا دکھ میں نے بھی اپنے کھوئے ہیں۔۔۔اچھا مہراب آنے والے ہونگے میں فون رکھتی ہوں اپنا خیال رکھنا۔۔۔ خدا حافظ۔۔۔
مہراب جو آفس سے تھکا ہارا گھر آیا تھا اپنے کمرے سے ابیہا کی آتی آواز سن کے رکھ گیا۔۔۔۔
مہراب کمرے کے اندر گیا سامنے صوفے پہ بیٹھ گیا آنکھوں سے صاف لگ رہا ہے کہ مہراب آج پھر رویا تھا ۔۔۔ابیہا نے کھانے کا پوچھا تو مہراب نے صرف ہوں میں جواب دیا۔۔۔
ابیہا حیران پریشان کچن میں آکے مہراب کے لیے کھانا گرم کر رہی تھی دو دن سے ثمینہ بیگم کا خیال ابیہا ہی رکھ رہی تھی۔۔۔۔۔
رات کے تین بج رہے تھے کہ ابیہا کی آنکھ کھلی ۔۔۔
سامنے مہراب بیڈ پہ بیٹھا ایک ہاتھ سر پہ رکھے دوسرے ہاتھ سے سر دبارہا تھا۔۔۔چہرے سے صاف پتا چل رہا تھا کہ سر میں شدید درد ہے۔۔۔ابیہا سے رہا نا گیا اٹھ کے مہراب کی پاس چلی گئ۔۔۔
میں چائے بنا دوں آپکے لیے۔۔۔
ہوں بنادو ۔۔۔
ابیہا پندرہ منٹ میں چائے کے ساتھ ٹیبلٹ بھی لے آئ۔۔۔۔
مہراب چائے اور گولی کھا لے پندرہ بیس منٹ میں نیند کی وادی میں اتر گیا۔۔۔
*********************
دن پر لگا کے اڑ رہے تھے دن مہینے میں اور مہینہ سال میں بدل گیا لیکن اس گھر میں خوشیاں نہیں آئیں۔۔۔
ایشال ابھی تک کومے میں تھی مہراب ابھی تک اپنی بہن کو یاد کر کے روتا ہے ثمینہ بیگم بہتری کی طرف آرہی تھی اسکی سب سے بڑی وجہ ابیہا تھی ابیہا دن رات ایک کر کے ثمینہ بیگم کا خیال رکھتی تھی مہراب اپنی بہن کو کھونے کے بعد اپنی ماں کی وجہ سے پریشان تھا کیونکہ کچھ دن ثمینہ بیگم کی کافی حالت بگڑ گئ تھی جس طرح ابیہا نے ثمینہ بیگم کو سمبھالا مہراب اب مطمئین ہو گیا تھا۔۔۔مہراب یہ سب نوٹ کر رہا تھا لیکن بولتا کچھ نہیں تھا مہراب یہی سمجھ رہا تھا کہ ابیہا اپنے گناہ اور غلطی پہ شرمندہ ہے اب پہلے کی طرح مہراب ابیہا پہ ہاتھ بھی نہیں اٹھاتا تھا بس تھوڑا بہت غصہ ضرور کرتا تھا۔۔۔لیکن مہراب نے ابھی تک ابیہا کو معاف نہیں کیا تھا ۔۔۔وہ سمجھتا ہے کہ ابیہا اگر اپنی جان بھی دےدے نا تب بھی وہ ایشال کی موت کا گناہ اپنے سر سے نہیں اتار سکتی
ان سب میں ابیہا کی کوئ غلطی نہیں تھی لیکن ہاں اب ابیہا بہت بڑی غلطی کر بیٹھی تھی وہ یہ غلطی تھی کہ ابیہا مہراب سے محبت کر بیٹھی تھی۔۔دینار کو جب پتا چلا کہ ابیہا اس ظالم انسان سے محبت کر بیٹھی ہے
&************************
جب سے ابیہا اس گھر میں آئ ہیں تب سے ابیہا کو ایک کمرہ بہت کھٹکتا تھا اسی کمرے میں مہراب ساری رات بیٹھا رہتا تھا ابیہا کو آج تک یہ پتا نہیں چلا کہ یہ کمرہ کس کا ہے جو سارا دن بند رہتا تھا اور کبھی کبار رات کے پہر کھلتا تھا ۔۔۔
آج ابیہا نے ٹھان کی تھی کہ آج پوچھ کے رہے گی کہ آخر یہ کمرہ ہے کسکا جو مہراب اپنی راتوں کی نیند حرام کر کے اس کمرے میں جاتا ہے۔۔۔۔
نیلو یہ روم بند کیوں رہتا ہے اور ہر رومز کی صفائ ہوتی ہے تو اس روم کی کیوں نہی کرتی صفائ۔۔۔
اس سے پہلے ملازمہ کچھ بولتی پیچھے سے مہراب کی آواز آئ۔۔۔
میں بتاتا ہوں یہ کمراکیوں بند رہتا ہے۔۔۔
مہراب نے ملازمہ کو جانے کا حکم دیا اور ابیہا کا ہاتھ پکڑ کے کمرے کے سامنے لے آیا۔ ۔۔
دروازے کا لاک کھولا اور ابیہا کو اندر لے جا کے دروازہ بند کر دیا۔۔۔
لائٹس آن کی تو کمرے روشن ہو گیا۔۔
ہر چیز سلیقے سے رکھی تھی صاف ستھری ہر چیز جیسے کوئ اس کمرے میں رہتا ہو لیکن یہ کمرہ تو ایک سال سے بند ہے تو اتنا صاف کیوں ہے۔۔ابیہا نے دلمیں سوچھا ۔۔۔
یہ پتا ہے کس کا کمرہ ہے مہراب نے ابیہا کے سامنے آکے پوچھا۔۔۔۔
ابیہا نے نفی میں گردن ہلائ ۔۔۔
میں بتاتا ہوں یہ کس کا کمرہ ہے۔۔۔
یہ میری بہن ایشال کا کمرہ ہے جسے تم دونوں نے موت کے گھاٹ اتار دیا۔۔۔مہراب ابیہا کے بال پکڑ کے بولا۔۔۔
ارے کیا کیا تھا اس سے کیا قصور تھا اس معصوم کا جو تم دونوں نے اسے یہ سزا دی۔۔
آج مہراب اب بار پھر طیش میں آگیا پرانا زخم پھر ابھر گیا۔۔۔۔
بس مہراب میں آپ کو کتنی دفعہ کہوں کے میں نے نہیی مارا ہے ایشال کو حماد نے مجھے بھی دھوکا دیا ہے وہ میرا اور ایشال کا گنہگار ہے اور ایشال ۔۔
بس اپنی زبان سے میری بہن کا نام مت لو مہراب نے ابیہا کی بات کاٹی۔۔۔۔
مجھے جان سے بھی ذیادہ عزیز تھی وہ مہراب ایشال کی تصویر کو سینے سے لگا کے بولا۔۔۔
ابیہا چلتے مہراب کے پاس آکے گھٹنے کے بل بیٹی ۔۔
مہراب نے ایک نظر ابیہا کو دیکھا۔۔۔۔میں تھک گیا ہوں ابیہا سب سے لڑتے تھک گیا ہوں مجھ سے اور برداشت نہی ہوتا مجھے اپنے آپ سے نفرت ہے کہ میں اپنی بہن کی حفاظت نہیں کر سکا۔۔۔۔
ابیہا میں تمہیں آج سے آزاد کرتا ہوں ان تمام رشتوں نے اپنے ظلم سے تمہیں آزاد کرتا ہوں۔۔۔تمہیں تکلیف پہنچا کے بھی میری بہن میرے پاس نہیں آئے گی پتا نہی کیوں میں اس بات کو تسلیم نہی کر پا رہا کہ ایشال ہم سب کو چھوڑ کے چلی گی۔۔۔مہراب تھکے لہجے میں بولا۔۔۔۔
میرا غم تو ہے غم مبتلا
میں جیا مگر میں جیا نہیں
تیرا غم ہےتیری ندامتیں
تو جیا مگر تو مرا نہیں
تجھے عمر بھر کی سزا ملی
تیرا جرم جرم فرار تھا
تیرا بھی بے قرار تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابیہا مہراب کو خالی خالی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔۔آج جب ابیہا کو مہراب سے محبت ہوئ تو وہ اسے ہمیشہ کے لیے اپنی زندگی سے نکال رہا ہے ایک بار تو پوچھتا کے ابیہا تمہارا کیا فیصلہ ہے بس حکم دے دیا۔۔
تم جانے نہی یہ درد میرا
یا جان کے بھی انجانے ہو
اک پل یہ لگےاپنے ہو تم
اک پل یہ لگے بےگانے ہو۔۔۔
۔ابیہا نے گردن اٹھائ تو نظر سامنے تصویر بھی ٹک گئ۔۔۔۔ابیہا آنکھیں پھاڑے اس تصویر کو گھور رہی تھی
ابیہا کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن اس کی آواز ہلک میں ہی رہ گئ تھی۔۔۔۔
مہراب ایشال کی تصویر کو سینے سے لگائے رو رہا تھا ابیہا نے مہراب کو آواز دی ۔۔۔۔
مہ مہراب یہ یہ تمہاری بہن ہے۔۔۔ابیہا ایشال کی تصویر کو دیکھتے بولی۔۔۔
مہراب سے شکوہ آنکھوں سے ابیہا کی طرف دیکھا میری بہن کو مار کے پوچھ رہی ہو کہ یہ میری بہن ہے۔۔۔
