Harjai by Muqadas Awan NovelR50696 Harjai (Episode 04)
Rate this Novel
Harjai (Episode 04)
Harjai by Muqadas Awan
بھائ آپ سے ایک بات کرنی تھی….
ہاں ایشو بولو….مہراب نے کتاب بن کر کے کہا…
بھائ میری دوست کی برتھ ڈے آرہی ہے تو مجھے اس کے لیئے گفٹ لینا ہے….
تو لےلو….اس میں پریشان ہونے کی کیا بات…
بھائ مجھے میری دوست کو گفٹ میں کار دینی ہے….ایشال نے جھجھک کے کہا….
لو اس میں کون سی بڑی بات ہے کل چلتے ہیں کار لینے….
بھائ کل اس کی برتھ ڈے ہے تو کار آج لینی ہے…
تو آج چل لیتے ہیں …تم تیار ہوجاو میں نیچے انتظار کر رہا ہوں….
مہراب اور ایشال کار کی شاپ پے چلے گئے…
اگلے دن ایشال لیٹ آئ….
یار کہاں تھی تم میں کب سے تمہارا انتظار کر رہا تھا…ایشال کے آتے ہی حماد شروع ہوگیا…
آنکھ بند کرو….ایشال نے بس اتنا ہی کہا….
کیوں بند کروں…
اچھا چلو ہاتھ آگے کرو….
لو…حماد نے الٹا ہاتھ آگے کر دیا…
اوہو…وہ والا ہاتھ آگے کروکیا یار ایشو ….حماد نے بیزاریت سے ہاتھ آگے کردیا….
ایشال نے گاڑی کی چابی حماد کے ہاتھ میں رکھ دی….
یہ کس چیز کی چابی ہے…
باہر چلو سب پتا چل جائے گا…ایشال حماد کو باہر لے کے گئ…
ایک کار کے سامنے کھڑا کر دیا…
تمہارے لیے….ایشال نے صرف اتنا ہی کہا…
سچی یہ تم میرے لیئے لائ ہو….حماد نے کال کو ہاتھ لا کے کہا….
یار یہ تو بہت مہنگی کار لگ رہی ہے….
حماد میرے بھائ کے سامنے یہ تو کچھ بھی نہی ہے..تم بتاو کیسا لگا سرپرائز…
یار بہت اچھا لگا…
ہممم اب مجھے اس کار میں باہر کب لے کے جا رہے ہو……
تم کہو تو ابھی چلتے ہی….
*****************
جانی یہ تیرے پاس کس کی کار ہے…حماد اپنے دوست کے گھر پہ آیا یاسر نے اپنے گھر کی بالکونی سے حماد کو کار سے اترتے دیکھ کے پوچھا….
تیرے بھائ کی ہے …کیسی لگی….
یار بہت مہنگی لگ رہی ہے…اس بار کہاں لمبا ہاتھ مارا ہے….اور پچھلی گاڑی کہاں ہے…
یار پچھلی گاڑی افضل نے لے لی اور یہ ایشال نے گفٹ دی ہے….
واہ یار تیری تو لاٹری نکل گئ….
ایشال اور ابیہا میرے لیئے سونے کی مرغی ہیں…
اچھا ابھی میں ابیہا کے پاس جا رہا ہوں زرا اس سے بھی کچھ لوں …..
حماد ابیہا کے ہاسٹل کے نیچے کھڑا ہوگیا….
ہیلو ابیہا زرا نیچے آو…..حماد نے ابیہا کو کال کے کے نیچے بلایا….
ہاں حماد سب خیریت کیوں بلایا مجھے….ابیہا نے نیچے آ کے پوچھا….
یہ دیکھو …..میری پہلی محنت کی پہلی کمائ تمہارے لیئے….حماد نے کار کی طرف اشارہ کر کے کہا….
واووو بہت اچھی کار ہے…یہ تم نے لی ہے….
ہاں ……اب اس کار کی ابتداء تم سے کرتا ہوں….آو باہر چلتے ہیں….حماد نے ابیہا کا ہاتھ پکڑ کے کار میں بٹھایا….
حماد گاڑی روکھو….ابیہا نے ایک رہڑی کو دیکھ کے کہا….
کیا ہوا آبی…حماد نے بریک لگا کے پوچھا…
وہ دیکھو گول گپے کا ٹھیلا…..
ہاں مجھے بھی نظر آرہا ہے….
تو چلو گول گپے کھاتے ہیں…ابیہا گاڑی کا دروازہ کھول کے اتر گئ….
مجبورا حماد کو بھی اترنا پڑا…
ابیہا گول گپے کے ٹھیلے پے گئ اور دو پلیٹ گول گپے لیئے ایک حماد کو دی دوسری خود لی…
حماد اپنی گاڑی کا دروازہ کھول کے ٹیک لگا کے گول گپے کھا رہا تھا….حماد کو ڈر تھا کے کہیں ایشال یا اسکا بھائ نا دیکھ لے کیوں کہ اس ایریے میں ایشال کا ہی گھر ہے….
ابیہا دنیا سے بےخبر گول گپے کھا رہی تھی….
مہراب اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھا چائے پی رہا تھا کے نظر حماد کی گاڑی پے پڑ گئ….
یہ گاڑی کہیں دیکھی ہے….مہراب نے دل میں سوچا….
گاڑی کو دیکھ کے حماد کو دیکھا….
جب یہ لڑکا ادھر ہے تو ابیہا بھی ہوگئ اس کے ساتھ…..مہراب نے ادھر ادھر نظریں گھما کے سوچا….
اوہ تو وہ رہی …..
کہاں کھو گیا مہراب….مہراب کے دوست نے مہراب کو ہلا کے پوچھا….
یار مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے یہ گاڑی میں نے کہیں دیکھی ہے…..
کون سی گاڑی….
وہ سامنے وہ جو لڑکا جس گاڑی پہ ٹیک لگا کے کھڑا ہے….مہراب نے سامنے اشارہ کیا….
ابے تمہارا شوروم ہے گاڑیوں کا ادھر ہی کہیں دیکھی ہوگئ اب زیادہ سوچ نہی اور چائے پی ورنہ ٹھنڈی ہو جائے گی….مہراب کے دوست نے کہا….
*******
یار ایک مسلہ ہوگیا ہے…حماد اپنے دوست یاسر کے گھر پریشان بیٹھا تھا….
اب کیا ہوگیا…
یار ایشال کے بھائ نے مجھے دیکھ لیا…
تو اس میں کون سی بڑی بات ہے ایک نا ایک دن تو دیکھنا ہی تھا….
ابے اس نے مجھے ابیہا کے ساتھ دیکھ لیا…بلکہ اس کو پتا چل گیا ہے کہ میں ابیہا کا منگیتر ہوں اور ہماری شادی ہونے والی ہے….
کیااااااا…..یاسر اچھل کے کھڑا ہوگیا….
ابے اسے کس نے بتایا ….
وہ سب بعد میں بتاونگا بس کوئ آئڈیا بتا سونے کی مرغی ہاتھ سے نہ نکل جائے….حماد نے پریشانی سے کہا….
ایک آئڈیا ہے میرے پاس…..
دیکھ تو ایشال کو قابو میں کر اور مہراب کے خلاف بھڑکا….
ابے وہ میرے بہکاوے میں نہی آئے گی اس کا بھائ اسکی جان ہے وہ اپنے بھائ کے خلاف ایک لفظ بھی نہی سنتی اور تو بھڑکانے کی بات کر رہا ہے….
ابے تو مہراب سے الجھ اور اس کا الٹا ایشال کو بتا اور اسے اپنے قابو میں کر ایک نا ایک دن وہ تیرئ بات کا یقین ضرور کرے گی…
ہاں یہ کوشش بھی کرنی پڑے گی…اچھا میں چلتا ہوں…حماد گاڑی کی چابی اٹھا کے بولا….
****************
آپو آپ کب تک جائیں گی…..
بہت جلدی ہے تمہیں مجھے یہان سے بھیجنے کی….
آپو یار بس پوچھ رہی ہوں….میں تو کہتی ہوں کہ آپ بلاول بھائ کو کہہ کہ اسی گھر میں شفٹ ہو جائیں…
کوئ ضرورت نہی ہے تم بھی اس گھر سے جاو گی جس خوش فہمی میں ہیں نا آپ وہ خوش فہمی جلدی ختم ہونے والی ہے….نور نے مزاق میں کہا…
کس کی برائیاں ہو رہی ہیں بھئ….مہراب اپنے کمرے سے نیچے صوفے میں بیٹھ کے بولا…
برائ تو نہی کر رہے ….ایوی اپنی طرف سے باتیں نا بناو…نور نے مہراب کے کان کھینچ کے کہا…
بھئ جب دو لیڈیز مل کے بیٹھیں تو وہاں کسی نا کسی کی برائ
ہی ہوتی ہے….
بھاائئئئ آپ نے مجھے لیڈیز کہا….ایشال مہراب کے سامنے دونوں ہاتھ کمر پہ ٹکا کے بولی…
اوہ سوری غلطی ہو گئ آپ تو چھوٹی بچی ہیں….
غلطی معاف ہو….مہراب نے نور کے کان پکڑ کے کہا….
مہرو میرے تو کان چھوڑ دو…
آپی یار یہ مہرو مہرو کہنا چھوڑ دیں…
ہاں آپی مہرو بھائ کی بیوی کے سامنے ان کو مہرو کہیں گی تو ان کی کیا عزت رہ جائے گی ….
بھئ پھر مہراب بولے گا….میں مہرو ہوں تیری…..
بس کر دیں آپ دونوں بس میرا مزاق ہی اڑاتی رہنا ….اس سے پہلے آپ دونوں کی بات میرے بچوں پہ چلی جائے میں تو جا رہا ہوں…مہراب اٹھتے بولا…
ہہاہاہا پھر بھائ آپ کے بچے بولیں گے…مہرو بابا ہمیں یہ چائ ہے….ایشال نے پیچھے سے آواز لگائ…..
مہراب کار لے کے باہر نکل گیا….ابھی تھوڑی دور ہی گیا تھا کہ اچانک بریک لگا دی…باہر نکل کے دیکھا تو ایک آنٹی زمین میں بیٹھی سامنے والی کار کو کوس رہی تھیں…
سامنے والی کار سے حماد نکل کے باہر آیا اور آنٹی پہ چلانے لگ گیا…
دیکھ کے نہی چل سکیں ….اب ہٹو آگے دے…حماد آنٹی پہ چلا رہا تھا کہ مہراب کار سے باہر نکل کے آیا…
شرم نام کی کوئ چیز ہے کہ نہی بزرگوں سے ایسے بات کرتے ہیں…ایک تو تم غلط ڈرائوننگ کر رہے تھے اپر سے ان بزرگ کو ڈانٹ رہے ہو…
تجھے بڑی تکلیف ہو رہی ہے…حماد مہراب کے سامنے آگیا….
بتاتا ہوں یہ کیا لگتی ہیں میری…مہراب نے حماد پہ ہاتھ اٹھایا…..
آئندہ بزرگوں سے تمیز سے بات کرنا…مہراب اتنا کہہ کے آنٹی کو اٹھانے لگ گیا….
حماد کو مہراب کا تھپڑ لگا سیدھا اپنی گاڑی پہ جا گھیرا ….ہاتھ کی ہڈی پہ چوٹ اور سر پہ ہلکی سی چوٹ آئ تھی….
*****************
اگلے دن حماد یونی گیا تو ایشا نے پوچھ لیا…
حماد یہ کیسے لگی تمہیں….
کچھ نہی ایشو جانے دو بس لگ گئ….حماد نے بہانا بنایا…
حماد تمہیں کسی نے مارا ہے کیا یہ گال پہ انگلیوں کے نشان….
بولا نا ایشال جانے دو گھر گیا تھا…
حماد یہ گھرنے کی چوٹ نہی ہے بتاو مجھے….ایشال نے ضد کی…
ہاں مجھے کسی نے مارا ہے اور وہ کوئ نہی تمہارا بھائ مہراب تھا…
مہراب بھائ نے تہمیں مارا لیکن کیوں….
کل میں گاڑی پہ جا رہا تھا سامنے تمہارے بھائ کی گاڑی سے ایک آنٹی ٹکرا گئیں تو تمہارا بھائ اندر ہی بیٹھا رہا یہ نہی کہ باہر آکے آنٹی کو اٹھا لے…میں باہر نکلا آنٹی کو اٹھایا اور بس اتنا کہا کے…..کوئ بزرگ کے ساتھ ایسا کرتا ہے ….اتنی سی بات پہ تمہارے بھائ نے مجھے مارا….
مہراب بھائ ایسا کیسے کر سکتے ہیں…تمہیں کوئ غلط فہمی ہوئ ہوگی…..کوئ اور لڑکا ہوگا ….
ایشال میں اتنا پاگل نہی ہوں جو تمہارے بھائ کو نا پہچانوں….اچھا ایک کام کرو اپنا موبائل دو….
ایشال نے اپنا موبائل نکال کے حماد کو دیا…
حماد نے مہراب کی تصویر نکال کے ایشال کے سامنے کی…..یہ دیکھو یہی ہے نا تمہارا بھائ اسی نے مجھے مارا ہے….
اور یہ گال پہ نشان تمہارے بھائ کے ہیں…ان کا فولادی ہاتھ…..ان نشان سے ہی پہچان لو کے تمہارے بھائ نے مارا ہے….
میں آج بھائ سے پوچھوں گی کے انہوں نے ایسا کیوں کیا….
نہی ایشو تم اپنے بھائ سے کچھ نہی پوچھو گئ…بس بات کو ختم کرو….
***********
مہراب کی پڑھائ ختم ہو چکی تھی …نور بھی اپنے گھر چلی گئ تھی….ایشال کا لاسٹ سمسٹر تھا….ابیہا کا تھرڈ سمسٹر چل رہا تھا….سب اپنی اپنی پڑھائ میں مصروف تھے سوائے مہراب کئے…
******************
مہراب پیدل گھر کی طرف جا رہا تھا کہ حماد کے ساتھ ٹکر ہوگئ…
کیا مسلہ ہے دیکھ کے نہی چل سکتا…حماد نشے میں تھا……
پی تونے ہے اور دیکھ کے میں چلوں ….زرا سمبھل کے چل …اندھوں کی طرح نہ چل…مہراب نے جواب دیا….
ابے مجھ سے زبان لڑاتا ہے تجھے تو میں بتاتا ہوں….حماد لڑکھڑا کے آگے بڑھا…مہراب سمجھ گیا تھا کہ حماد نے پی رکھی ہے…
ابے رکھ….مہراب حماد کو نظر انداز کر کے آگے جا رہا تھا کہ حماد نے روکھ لیا…
بہت سنا ہے تیرے بارے میں….میری یونی کے سب لڑکے تیرے سے ڈرتے ہیں..لیکن میں نہی ڈرتا….اس دن بہت مارا ہے تو نے تیرا یہ ہاتھ نہہ ہتوڑا ہے…..اور تیری بہن…وہ کیا نام ہے اسکا …ہاں ….ایشال …..بس حماد کے نام لینے کی دیر تھی کہ مہراب حماد پہ برس پڑا…..حماد نڈھال ہوکے وہیں زمین میں گر گیا اور مہراب سیدھا اپنے گھر کی طرف چلا گیا….
*******************
حماد دو دن سے ہسپتال میں تھا ابیہا کی کال آگئ….حماد کہاں ہو اتنے دن سے…نہ کال اور نہ ہی میسج کا جواب دے رہے ہو….
ہاں آبی بس ایک ڈیل میں بزی ہوں …میں کراچی آجاوں پھر تم سے ملاقات ہوگی….ابھی میں لاہور میں ہوں….
ابے ایشال آرہی ہے…یاسر نے ہلکی آواز میں کہا…
اچھا آبی میں ابھی بزی ہوں تھوڑی دیر بعد کال کرونگا….حماد کال کاٹ کے لیٹ گیا…..
حماد یہ کیا حالت بنا دی تمہاری….
یار ایشو تم جاو کیوں آئ ہو یہاں…..
پہلے بھائ زخم دیتا ہے اور پھر اسی کی بہن زخموں پہ مرہم رکھنے آجاتی ہے…..
غصہ آرہا ہے مجھے تمہارے بھائ پہ …..یہ حالت مہراب نے کی ہے….حماد نے غصے میں کہا…
حماد اب ایسا کیا ہوا کہ بھائ نے تمہیں مارا….
میں بتاتا ہوں…یاسر حماد کے پاس بیٹھ کے بولا….
دو دن پہلے ہم سب بیٹھے پڑھائ کے بارے میں ڈسکس کر رہے تھے تو تمہارا بھائ آگیا…حماد کو کالر سے اٹھایا اور کہنے لگا کہ تو ایک نمبر کا بغیرت انسان ہے…اتنی مار کھانے کے بعد بھی تو باہر نکلا ہے…ورنہ جو بھی مجھ سے مار کھاتا دو دن تک گھر میں بند رہتا….
پھر حماد اور مہراب کی منہ ماری ہوگئ….تو مہراب نے حماد کو مارا….
ایشال تمہارے بھائ نے مجھے بہت سنائ ہے…
کہ میں نشا کرتا ہوں…لڑکیوں سے چکر ہے میرا…وغیرہ وغیرہ…..
میں تو یہ سوچ رہا ہوں کہ جب تم مہراب سے ہمارے بارے میں بات کرو گی تو وہ تو مجھے جان سے مار دیگا…اور جھوٹے الزام بھی لگا دیگا…کہ میری منگنی ہوئ وی ہے میں ایک آوارہ لڑکا ہوں….
حماد نے دو کی چار لگائ….
تم ٹینشن نا لو حماد میں بھائ سے خود بات کرونگی….ایشال اتنا بول کے باہر چلی گئ…
یس ہوگیا کام اب ان بہن بھائ کی لڑائ میں میں اپنا کام کردونگا….حماد خوشی سے بولا…..
******************
بھائ مجھے آپ سے بات کرنی ہے….
ہاں میری ڈول بولو کیا بات کرنی ہے….
بھائ آپ مجھ پہ کتنا بھروسہ کرتے ہیں…
ایشو یہ بھی کوئ پوچھنے ولای بات ہے…..
بھائ آپ میری بات مانیں گے…بھائ آپ نے میری ہر خواہش پوری کی ہے تو میری ایک اور خواہش ہے….
میری ایشو تم بس اپنی خواہش ظاہر کرو یہ میرا وعدہ ہے مین اسے ہر حال میں پورا کرونگا….
بھائ مجھے ایک لڑکا پسند ہے….میری یونی میں میرا کلاس فیلو ہے….
اوہ اچھا تو یہ بات ہے…تبھی میری گڑیا اتنے وعدے لے رہی ہے مجھ سے….
جی بھائ یہی بات ہے….ایشال نے نظریں نیچے کر کے کہا….
تو ٹھیک ہے تم اس لڑکے سے ملواو………
بھائ اسے میں کل یونی سے سیدھا اپنے گھر لے کے آونگی تو آپ مل لینا…..
اوکے جو حکم آپکا….
**************
وہ اس دن جس لڑکے کو میں نے مارا تھا وہ تو ابیہا کا منگیتر ہے….
مجھے ابیہا کو بتانا چائ ہے کہ جس لڑکے کے ساتھ اس کی شادی ہونے والی ہے اس لڑکے کا کریکٹر ٹھیک نہی ہے….
مہراب بیڈ پہ لیٹا سوچ رہا تھا….
نہی اگر میں نے بتایا تو وہ یقین نہی کرے گی…
اففف یہ اس کی زندگی ہے میں کیوں اتنا سوچ رہا ہوں….
ویسے بھی کل اس لڑکے سے ملنا ہے جسے ایشال پسند کرتی ہے….
پتا نہی ایشو نے کیسا لڑکا پسند کیا ہوگا….
اففف سر درد ہو رہا ہے….
مہراب بیڈ سے اٹھ کے نیچے کچن کی طرف چلا گیا….چولہے پہ چائے کا پانی چڑہایا…
چائے کے ابلنے کا انتظار کر رہا تھا کہ پیچھے سے مہراب کی امی نے آواز دے دی…
مہراب تم کچن میں کیا کر رہے ہو…اگر چائے پینی تھی تو مجھے یا ایشال کو بول دیتے….
نہی موم اب انتی رات کو آپ دونوں کو تکلیف کیوں دوں….
بیٹا تبھی کہتی ہوں شادی کر لو…کب تک یونہی خود کام کرتے رہو گے….ہ..
موم جب تک ان ہاتھوں میں جان ہے….ہاہاہا
اچھا اب نکلو باہر میں چائے بھجوا دونگی…
اچھا موم ایک بات کرنی ہے اپ سے….
ہاں بولو….
موم ایشال کو ایک لڑکا پسند آیا ہے….تو وہ اس لڑکے کو مجھ سے ملوائے گئ….
بیٹا وہ تو نادان ہے تم تو سمجھ دار ہو …تم.منع کر دیتے پتا نہی لڑکا کیسا ہو….
مومو ریلیکس….میں نے صرف ملنے کی بات کی ہے….یہ نہی بولا کے شادی کروا دونگا…
بس کل اس لڑکے سے مل لوں پھر اس کا پتا لگوا کے اگر اچھا ہوا تو شادی کروا دونگا…ورنہ ایشال کو اس لڑکے سے دور رہنا ہوگا….
آپ کو اپنے بیٹے پہ بھروسہ ہے نا ….تو بس ایشال کی زمہ داری میری…آپ ٹینشن نا لیں میں کچھ برا نہہ ہونے دونگا ایشو کے ساتھ….
بیٹا تبھی تو میں ایشال کو کچھ بولتی نہیں ہوں….
تم پہ بھروسہ کر کے اتنی آزادی دی ہے اسے…
موم آگے بھی بھروسہ رکھیں ایشو کے ساتھ کچھ غلط نہی ہوگا.
