Harjai by Muqadas Awan NovelR50696 Harjai (Episode 06)
Rate this Novel
Harjai (Episode 06)
Harjai by Muqadas Awan
جب سے ایشال اس گھر سے گئ ہے تب سے کسی کو ایک پل کا بھی سکوں میسر نہی تھا جو کائ پوچھتا کہ ایشال کہاں ہے تو سب یہی کہتے کہ مہراب نے اسے باہر ملک بھیج دیا پڑھنے کے لیئے….
مہراب چوبس گھنٹے اپنے کمرے میں بند رہتا…نور اپنی ماما کو سمبھال رہی تھی….
مہراب اپنے کمرے میں بیٹھا سیگریٹ پھونک رہا تھا….
کیوں کیا ایشو تم نے ایسا…اگر پتا ہوتا کہ تم اتنا بڑا قدم اٹھاو گی تو میں تمہیں جان سے مار دیتا….
ایشو واپس آجاو….مہراب آج بھی تمہارے انتظار میں ہے….میں وعدہ کرتا ہوں کچھ نہی کہونگا تمہیں میں سب کچھ بھلا کے میں معاف کر دونگا…لیکن واپس آجاو….مہراب ایشال کی تصویر سے باتیں کر رہاتھا….
**************
حماد آپ کی چائے…ایشال حماد کو چائے دینے آئ…
حماد آپ آفس سے کب تک آئیں گے….
دیر ہوجائے گی تم کھانا کھا کے سوجانا….
پلیز آج جلدی آجائیں مجھے اکیلے بہت ڈر لگتا ہے….
تو تم پارٹیز میں چلی جاو ….
میں پارٹیز میں نہی جاتی….اچھا میں آپ کے ساتھ آپ کے آفس چلی جاوں….
نہی کوئ ضرورت نہی ہے بیٹھی رہو گھر پہ….
ایشال کچھ بولتی کہ دروازہ بج گیا….
ایشال نے دروازہ کھولا تو سامنے حماد کے دوست کو دیکھ کے ٹھٹکی….
حماد کا دوست یاسر اندر آیا…..حماد سے ملا…
حماد یہ تو وہی ہے جس نے اس دن یونی میں میرے ساتھ بدتمیزی کی تھی….
سوری بھابھی میں معافی چاہتا ہوں…آئندہ خیال رکھونگا….یاسر نے معافی مانگی….
کوئ بات نہی آپ حماد کے بھائ کی طرح ہیں…
اچھا ایشو تمہارے اکاونٹ میں کتنے پیسے ہیں…حماد نے
ٹائ باندھ کے پوچھا…
ایک لاکھ تو ہے….ایشال نے جواب دیا….
ایشو وہ پیسے مجھے دےدو میں تمہیں جلد پیسے لوٹا دونگا…..
حماد تم پیسے لے لو اور لوٹانے کی ضرورت نہی ہے…..
***********
حماد اپنے دوستوں کے ساتھ بیرون ملک جانے کی تیاری کر رہا تھا….
ابے تو باہر جا رہا ہے تو ایشال کا کیا کرے گا….
طلاق دے دونگا اور کیا کرونگا….
ابے کل ہی تو نکاح ہوا ہے تم دونوں کا…
جانی اس کا سب کچھ تو مجھے مل گیا اب وہ میرے کسی کام کی نہی…ویسے اچھا ہے ابیہا بھی اتری میرے سر سے ورنہ اسے بھی سمبھلنا پڑتا….
کل میں دوبئ چلا جاونگا…اور سنو تم میں سے کوئ میرے گھر نہی جائے گا….
****************
حماد رات دیر سے گھر ایا ایشال اسی کا انتظار کر رہی تھی.
…
حماد صوفے میں بیٹھا ٹی وی دیکھ رہا تھا کہ ایشال چائے کے کپ لے کے آگئ…
ایشال حماد کے پاس بیٹھ کے اپنا سر حماد کے کندھے پہ ٹکا دیاممم
حماد پتا نہی ایسی کون سی نیکی کی تھی جس کے بدلے تم مجھے ملے….
حما میں ساری زندگی تمہارے ساتھ گزارنا چاہتی ہوں….
ایشال بولتے بولتے وہیں سوگئ….
حماد نے ایشال کا سر اپنے کندھے سے ہٹایا اور کمرے میں جا کے اپنی پیکنگ کرنے لگ گیا…
اگلے دن ایشال اٹھی حماد کو اٹھانے کے لیئے کمرے میں گئ لیکن حماد وہاں نہی تھا….
آج جلدی آفس چلے گئے مجھے اٹھایا بھی نہی…
ایشال فریش ہو کے کچن میں گئ…تو دروازہ بجا…
جی آپ کون….
باجی تم ابھی تک گئ نہی…ایک آدمی نے ایشال سے کہا…
جی بھائ آپ کون…
باجی ہم اس گھر کا مالک ہے حماد بھائ کا فون آیا تھا کہ وہ یہ گھر چھوڑ کے چلے گئے ہیں تو ہم اپنا گھر لے لے…
دیکھیں بھائ یہ میرے شوہر حماد کا گھر ہے وہ اس گھر کے مالک ہیں…
باجی یہ میرا گھر ہے….اور میں اس گھر کا مالک اور حماد نے آپ سے جھوٹ بولا ہے…وہ ایک نمبر کا کمینہ انسان ہے تین مہینے سے اس گھر کا کرایہ نہی دیا…بڑی مشکلوں سے یہ گھر خالی کروایا ہے…
یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں…آپ حماد کے آفس چلے جائیں آپ ان سے خود بات کر لیں…باجی مزاق نہی کروں اس کا کوئ آفس نہی ہے وہ ایک آوارہ لڑکا ہے….
کیااااااا….نہی حماد کا آفس ہے…
باجی ہمارا واسطہ پڑا ہے اس سے وہ اچھا انسان نہی ہے….
باجی ہم آپ کو شام تک کا ٹائم دیتا ہے..مالک مکان اتنا کہہ کے چلا گیا…
ایشال ندر آئ…تو دوبارہ دروازہ کھٹکا….
ایشال نےدروازہ کھولا تو ٹی سی ایس لڑکے نے ایک لفافہ دیا…اور چل گایا….
ایشال نے لفافہ کھول کے کاغذ دیکھا…
طلاق……
ایشال کاغذ پھینک کے حماد کو کال کی…..
حماد نے کال اٹھا لی….
ہیلو جان تو کیسا لگا سرپرائز….حماد ڈھٹائ سے بولا….
حماد دیکھو اگر یہ مزاق ہے تو مجھے ایسا مزاق نہی پسند…..
ایشو یہ مزاق نہی ہے ..
.یہ ایک تلخ حقیقت ہے…
اب تم جاو اپنے بھائ کے گھر…میرا مطلب تو پورا ہوگیا….
حماد تم تو مجھ سے پیار کرتے تھے…..میں اپنا سب کچھ چھوڑ کے تمہارے پاس آئ اور تم نے اتنا بڑا دھوکا دیا….
آئ ہیٹ یو حماد…میں تمہیں کبھی معاف نہی کرونگی….تم بھی تڑپو گے جیسے مجھے تڑپایا ہے….حماد نے کال کاٹ دی ایشال وہیں زمین میں بیٹھ گئ..
ایشال اپنا سامان پیک کر کے گھر سے چلی گئ…اسے سمجھ نہی آرہا تھا کے کہاں جائے بھائ کے گھر بھی نہی جا سکتی تھی …..
شام سے نکلی بس چلتی جا رہی تھی….چلتے چلتے رات ہوگئ….ایشال کے پاس پیسے نہی تھے سارے پیسے اور زیور حماد لے گیا تھا …صرف کپڑوں کا بیگ اور موبائل تھا…..
ایشال نے کچھ سوچ کے موبائل نکالا اور مہراب کو کال کی…..
ہیلو…ایشال بہت رو رہی تھی….
ہیلو ایشو …مہراب اپنی بہن کی روئ آواز سن کے تڑپ گیا…
ایشال میری جان تم کہاں ہو…..پلیز گھر آجاو….میں تمہاری ہر بار مانونگا….
بھائ سب ختم ہو گیا….میں نے آپ کا مان توڑ دیا…بھائ مجھے معاف کر دیں….
آپ نے کہا تھا نا کہ ایشو اگر تم نے میرا مان توڑا تو میں تمہیں جان سے مار دونگا…تو میں نے کہا کہ بھائ اگر ایسا کچھ ہوا بھی نا تو آب سے پہلے میں اپنی جان خود لونگی…
آج میں نے آپ کا سر شرم سے جھکا دیا….
ایشال وہیں روڈ پہ زمین میں بیٹھ گئ..
بس ایشال روئ جا رہی تھی مہراب ہیلو ایشو.
۔۔۔.کرتا رہا لیکن ایشال بس روئ جا رہی تھی…
کہ اچانک ایک ٹرک اور کار کے بیچ ایشال آگئ…۔۔
&***،*********
خدا کسی کو اپنوں سے بچھڑنے کا غم نہ دے یہ انسان کو دیمک کی طرح چاٹتا ہے۔۔
…………..
اور ٹرک والے نے ایشال کو اڑا دیا…..
ابیہا کار چلاتے چلاتے اپنے ہاسٹل سے دور آگئ….کار ایک سائڈ کھڑی کر کے باہر نکل کے رونے لگ گئ….
کیوں کیا حماد تم نے ایسا….میں نے کیا بگاڑا تھا…ابیہا کار کے پاس کھڑے رو رہی تھی…..
ایک آواز آئ ابیہا نے سامنے دیکھا تو دو لڑکیاں زمین میں خون سے لت پت تھیں…ٹرک والا بھاگ گیا تھا…ابیہا جلدی ان لڑکیوں کے پاس گئ….ان میں سے ایک کی سانسیں رک گئ تھی اور دوسری کی سانسیں مدھم چل رہی تھی ابیہا فورا اس لڑکی کو اٹھا کے اپنی کار میں ہاسپٹل لے کے گئ….
مہراب نے جب شور سنا تو فورا بھاگ کے گاڑی نکالی….ایشال کی لوکیشن دیکھی اسی لوکیشن پہ پہنچا تو وہاں ایک کار جو کہ پوری طرح تباہ ہو گئ تھی ….مہراب ادھر پہنچا ایک آدمی سے پوچھا…
بھائ یہاں جس کا ایکسیڈینٹ ہوا ہے اسے کس ہاسپٹل لے کے گئے ہیں…..
جی وہ سامنے والے ہاسپٹل…آدمی نے ہاتھ کے اشارے سے بتایا….مہراب اپنی کار چھوڑ کے اس ہاسپٹل کی جانب بھاگا….کہ راستے میں ایک کال آگئ…مہراب نے کال اٹینڈ کی….
ہیلو سر…میں ہاسپٹل سے بول رہا ہوں ہمیں ایک لڑکی زخمہ حالت میں ملی ہے…ہم نے پتا لگوایا تو وہ آپ ہی کی ریلیٹوو ہیں آپ پلیز آجائیں….
مہراب کال کاٹ کے ہاسپٹل پہنچا….
ہاسپٹل پہنچ کے ریسیپشن کی جانب بڑھا۔۔۔۔.
میم یہاں ایک کیس آیا ہے جو سامنے روڈ میں ابھی بیس منٹ پہلے ایک ایکسیڈینٹ ہوا ہے آپ پلیز بتا دیں کہ وہ کہاں ہیں اس وقت…
جی سر ابھی ابھی ایک لڑکی بہت بری حالت میں تھی وہ سامنے والے روم میں ہیں…
مہراب سامنے روم کی جانب بھاگا ایک پولیس انسپیکٹر نے اسے روکا۔۔۔۔۔۔
آپ کہاں جا رہے ہیں…
سر ایک لڑکی آئ ہے اس ہاسپٹل سے مجھے کال آئ تھی…. سر ہمیں ان کی ڈیڈ باڈی کے ساتھ یہ کچھ چیزیں ملی ہیں…
انسپیکٹر نے ایشال کا بیگ فون اور شناختی کارڈ مہراب کو دیا….
جی یہ میری بہن کی ہے….
مہراب انسپیکٹر کے ساتھ اندر گیا….
اس لڑکی کا ایکسیڈینٹ ہوا ہے …..
مہراب نے چہرے سے کپڑا ہٹایا چہرہ بری طرح جل چکا تھا…
ایشال ……مہراب ایشال کو جھنجھوڑ رہا تھا…
سر یہ مر چکی ہیں…..
نہی ایسے کیسے مر گئ یہ آپ پلیز چیک کریں…
مہراب نے ڈاکٹر کے سامنے ہاتھ جوڑے…
پلیز ڈاکٹر میری بہن کو دیکھیں نہ یہ بول رہ کیوں نہیں ہے۔۔۔
ایشو دیکھو نا تمہارا بھائ مہراب بھائ آگیا پلیز ایشو اٹھجاو۔۔۔
مہراب بلکل ٹوٹ چکا تھا ……
ایشال کی ڈیڈ باڈی کو گھر لے کے آئے مہراب تو بلکل چپ ایشال کے جنازے کے پاس بیٹھا ….ان کے ہستے بستے گھر میں قیامت کا سماء تھا….
ایشال کی تدفین کے بعد مہراب کمرے میں بند ہو کے رہ گیا تھا….
*******************
ڈاکٹر وہ لڑکی اب کیسی ہیں….
سر پہ گہری چوٹ کی وجہ سے وہ کومے میں جا چکی ہیں….کچھ کہہ نہی سکتے کہ کب تک ہوش میں آئے….
آپ کون ہیں ان پیشنٹ کی….
جی مجھے راستے میں ملی تھی زخمی حالت میں….ابیہا نے کہا…..
*******************
ابیہا ہاسپٹل سے گھر جا رہی تھی کہ رستے میں دو تین آدمی نے پیچھے سے ابیہا کے منہ پہ رومال رکھا ابیہا بہوش ہوگئ…
ایک گھنٹے بعد ابیہا کو ہوش آیا تو خود کو ایک انجانے گھر میں پایا…..
کون ہیں آپ لوگ اور مجھے کیوں لائے ہو…ابیہا نے چلا کے کہا….
اتنے میں ایک آدمی اندر آیا ابیہا کے سامنے بیٹھ گیا ….منہ میں رومال تھا تو ابیہا پہچان نہی پائ…
اس شخص نے نقاب اتارا تو…..ابیہا اس شخص کو دیکھ کے ٹھٹکی…..
تم …..ابیہا نے صرف اتنا بولا….
ہاں میں….پہچانا مجھے یا بھول گئ….اس شخص نے ابیہا کی آنکھوں میں جھانک کے پوچھا….
تم مجھے کیوں لائے ہو یہاں….ابیہا چلائ…
شٹ اپ جسٹ شٹ اپ….اس شخص نے ابیہا کے منہ پہ تھپڑ رسید کیا….
بہت شوق ہے نا تم دونوں کو لوگوں کی زندگی برباد کرنے کا…….اس شخص نے ابیہا کے بال پکڑ کے کہا….
کیا کہہ رہے ہو مجھے کچھ سمجھ نہی آرہی میں نے کس کی زندگی برباد کی…..
میری بہن کی قاتل ہو تم اور وہ تمہارا عاشق حماد…
کون سی بہن کس کی بہن…مجھے کچھ سمجھ نہی آرہا….
تمہاری وجہ سے میری بہن مجھ سے جدا ہوگئ…موت کی نیند سوگئ….جان تھی وہ میری…
تم دونوں نے اسے اتنی بےدردی سے مار دیا….
ابیہا کو کچھ سمجھ نہی آرہا تھا کہ مہراب کیا کہہ رہا ہے….
حماد اور تم نے میری بہن کی زندگی کے ساتھ کھیلا ہے اور تم حماد کے گھٹیا پلین میں شامل تھی….
مجھے نہی پتا تمہاری بہن کون ہے اور حماد نے اس کے ساتھ کیا کیا ہے…مجھے بھی حماد نے دھوکا دیا ہے….
جھوٹ ایک اور جھوٹ …ابیہا کتنے جھوٹ بولو گئ اس دن بھی تم نے جھوٹ کہا کہ تم حماد کو نہی جانتی اور اب کہہ رہی ہو کہ حماد نے تمہیں دھوکا دیا ہے…..ارے دھوکا تو تم دونوں نے میری بہن کو دیا ہے….
اب دیکھنا میں تمارے ساتھ کیا کرنا ہوں….ایک دم نہی مارونگا….تمہیں تڑپا تڑپا کے مارونگا…..مہراب ابیہا کا جبڑا پکڑ کے بولا….
ابیہا ڈر کے کھڑی ہو گئ…مہراب ابیہا کی طرف بڑھ رہا تھا اور ابیہا پہچھے ہوئ جا رہی تھی….
پلیز دور رہو مجھ سے….مت کرو ایسا….
تمہیں مجھ سے نکاح کرنا ہوگا…مہراب نے دھماکا کیا….
**********
واٹ …پاگل ہو گئے ہو کیا..
.میں تم سے نکاح نہی کرونگی….
تو پھر سڑتی رہو ساری زندگی اسی گھر میں…
تم سے نکاح کرنے سے بہتر ہے میں سڑتی ہی رہوں…..
ابیہا غرائ
اوہ…..تو تم ایسے نہی مانو گی….ٹھیک ہے…میں تمارا وہ حال کرونگا کہ تم کسی کو منہ دکھانے کے لائق نہی رہو گی….
کیا مطلب…ابیہا گھبرا کے پیچھے دیوار کے ساتھ جا لگی۔۔۔
مطلب تم سمجھ رہی ہو…….مہراب ابیہا کی طرف بڑھ رہا تھا….
دور رہو مجھ سے ..
…جب مہراب کے قدم نہی رکھے تو ابیہا بول پڑی ….ٹھیک ہے میں نکاح کرنے کے لیئے تیار ہوں….
ڈیڈس لائک آ گڈ گرل…
.مہراب تنزیہ ہنسا اور ابیہا کے گال پہ تھپکی دے کے باہر چلا گیا….
حماد یہ تم نے کیا کیا…کسی کی زندگی کا مزاق بنا کے تمہیں شرم نہی آئ…
میں نےکسی کا کیا بگاڑا تھا مجھے کس چیز کی سزا مل رہی ہے
میرا جرم بس محبت کرنا تھا
کہ میں نے ایک دھوکے باز سے محبت کی
اللہ پلیز میری مدد کیجیے پلیز ۔۔۔۔
.ابیہا زمین میں بیٹھی روتی چلی گئ۔۔۔۔
*************
ایک گھنٹے بعد مہراب مولوی صاحب اور اپنے دوستوں کو اسی فلیٹ میں لے کے آیا جہاں ابیہا کو رکھا تھا۔۔۔۔
*************
ابیہا اور مہراب کا نکاح ہو چکا تھا اب وہ ابیہا قاسم سے ابیہا مہراب بن چکی تھی اب اس کی زندگی بدل گئ تھی۔۔۔۔
مہراب ابیہا کو لیے اپنے گھر کے باہر کھڑا تھا جہاں مہراب اور ایشال کی یادیں تھیں
مہراب آج سے پہلے اس گھر میں تبھی آیا تھا جب ایشال کے جنازے کو کندھا دیا تھا اس دن کے بعد آج وہ ابیہا کے ساتھ گیٹ کے باہر کھڑا اندر جانے کی ہمت جما کر رہا تھا ایشال کو مرے ایک مہینہ ہوا تھا اور مہراب نے نکاح کر لیا یہی بات مہراب کو کھائ جا رہی تھی کہ نکاح کا سن کے اسکی امی اور بڑی بہن نور کیسا برتاؤ کریں گی۔۔۔۔
مہراب ابیہا کا ہاتھ پکڑ کے اندر آیا جہاں اس کی امی غم سے نڈھال اور بڑی بہن ماں کو دلاسہ دے رہی تھی
نور کی مہراب پے نظر پڑی تو فورا بھاگ کے اس کے پاس گئ۔۔۔
کہاں تھے تم مہراب ایک بار پلٹ کے تو پوچھ لیتے کے ایشال کے علاوہ تمہاری ماں بہن بھی ہیں۔۔۔۔
نور روتے ہوئے بولی۔۔
اور یہ کون ہے نور ابیہا کو دیکھ کے بولی جو نظریں نیچے جھکائے کھڑی تھی جیسے بہت بڑا جرم کیا ہو جرم ۔۔
ہاں جرم ہی تو کیا ہے محبت جو کی تھی
یہ میری بیوی ہے ابیہا مہراب ۔۔
پندرہ دن پہلے نکاح ہوا ہے ہمارا آج سے یہ اسی گھر میں رہے گی مہراب نے ایک ہی سانس میں کہہ دیا۔۔۔
چٹاخ۔۔۔
ایک زور دار تھپڑ مہراب کے منہ میں لگا۔۔۔
یہ کیا بکواس کی ہے شرم نہیں آئ تمہیں ارے ابھی تو تمہاری بہن کا کفن ابھی تک میلا نہی ہوا اور تم نے نکاح کر لیا۔۔۔
مہراب کی امی نے غصے میں کہا۔۔۔۔
آج میں خود سے نظریں ملانے کے قابل نہی رہی ایک بیٹی نے دنیا کے سامنے میرا منہ کالا کیا اب یہ دوسرا میرے منہ پہ کہہ رہا ہے کہ نکاح کر آیا۔۔
یہ دن دیکھنے سے پہلے میں مر کیوں نہی گئ۔۔۔۔
امی آپ پلیز اپنی طبیعت خراب مت کریں آپ ادھر بیٹھیں۔۔
نور نے ماں کو سہارا دے کے صوفے پہ بٹھایا۔۔۔
اور تم اب بھی کچھ رہ گیا ہے کہنے کو۔۔۔
نکالو اس لڑکی کو ابھی اسی وقت۔۔۔
نور مہراب کے سامنے آ کے بولی۔۔
سوری آپی یہ میری بیوی ہے اور یہ کہیں نہی جائے گی۔۔۔
مہراب اتنا کہہ کے ابیہا کا ہاتھ پکڑ کے اپنے کمرے میں لے گیا۔۔۔
