Hamnava By Sanaya Khan Readelle50080 Last Episode (Part 1)
No Download Link
Rate this Novel
Last Episode (Part 1)
وہ باہر لان میں کھڑی مسسلسل ایک ہی نقطہ پر نظریں جماۓ ہوۓ تھی امن پچھلے چار دن سے نا گھر آیا تھا نا اس سے فون پر بات ہوئی تھی وہ اسے لیے فکرمند بھی تھی اور اداس بھی
زارا
نسیم. نے اسے باہر دیکھا تو آواز دی پر اس کا دھیان کہیں اور تھا اسلیے ان کی آواز وہ سن نہیں پائی نسیم. بیگم خود وہاں آگئی
…اتنی ٹھنڈ ہے باہر… اندر چلو
نسیم بیگم نے اس کے کاندھے پر ہاتھ کر اسے اپنی جانب متوجہ کیا اس نے ان کی جانب دیکھا پھر دوبارہ سے سامنے دیکھنے لگی
خود کو تکلیف دینے سے چیزیں کبھی ٹھیک نہیں ہوتی بیٹا
انہوں نے اسے سمجھاتے ہوۓ کہا
بڑی امی میں تو بس سب ٹھیک ہی کرنا چاہتی تھی اس نے ہر بار میرے لیے کتنا کچھ کیا ہے اور ایک دن آپ کی بات مان کر مجھ سے شادی بھی کرلی میں بہت گلٹی فیل کرتی تھی اس گلٹ کو کم کرنا چاہتی تھی مجھے نہیں پتہ تھا کہ وہ کیا سوچتا ہے کیا چاہتا ہے مجھے نہیں پتہ تھا کہ بات اتنی بڑھ جاۓ گی
وہ ان کی جانب رخ کرکے بولی
تمہاری غلطی صرف اتنی سی ہے کہ تم اسے سمجھ نہیں پائی….. اگر تم سمجھ جاتی کہ وہ تمہیں کتنا چاہتا ہے تو یہ غلط فہمی کبھی پیدا ہی نہیں ہوتا…… امن کے دل میں اپنے ہر رشتے کے لیے بے حد محبت ہے لیکن وہ اس محبت کو ظاہر نہیں کرتا وہ اسے نبھاتا ہے لیکن جتاتا نہیں بس اس کے ہر عمل سے اس کی محبت جھلکتی ہے جسے تم سمجھ نہیں پائی اور آج سے نہیں ہمیشہ سے ہی اسے تم سے محبت تھی اسلیے وہ تمہیں بس خوش دیکھنا چاہتا تھا اس نے تم سے شادی سے انکار بھی اسی لیے کیا تھا کیوںکہ وہ تمہاری خوشی کی. راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہتا تھا اس وقت تو مجھے بھی بہت حیرانی ہوئی تھی لیکن جب میں نے ضارم سے رشتے کی بات پر تمہاری خوشی دیکھی تو میں سمجھ گئی تھی کہ اس نے ایسا کیوں کیا
زارا انہیں بہت غور سے سن رہی تھی
میں…… مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوگئی بڑی امی……… میں نے اس کا بہت دل دکھایا اس نے مجھے ایک نہیں بلکہ بہت سارے موقع دیے لاکھ سمجھایا لیکن میں نے ایک نہیں سنی اور اب جب مجھے سمجھ آیا تو پتہ نہیں وہ کہاں ہے میں اسے سوری تک نہیں کہہ سکتی..بڑی امی بتائے نا کہاں ہے وہ کیسا ہے
اس نے ان کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر بےتابی سے پوچھا
جہاں بھی ہے بلکل ٹھیک ہے اور بہت جلد واپس آۓ گا
آپ کی بات ہوئی اس سے………کیا کہا اس نے….کب آۓ گا
وہ بےچینی سے بولی
پہلے تم اندر چلو میں سب بتاتی ہوں
ان کے کہنے پر وہ ان کے ساتھ اندر آگئی
💜💜💜💜💜💜💜💜
ویلکم مجھے امید تھی کہ تم آؤگے
امن نے ضارم کو ملنے ایک. انجانی جگہ بلایا تھا اور وہ وقت سے پہلے وہاں حاضر تھا
ہاں تم سےسودا جو کرنا ہے اپنے ڈیڈکی رہائی کا …………
ضارم نے امن کے مقابل چئیر پر بیٹھتے ہوۓ کہا یہ. ایک آفس نما کمرہ تھا جہان بڑی سی ٹیبل کے دوسری جانب امن کسی سے ٹیک. لگاۓ بیٹھا تھا
سب سے پہلے تو یہ جو تحفہ مجھے تمہاری طرف سے ملا ہے اس کے لیے شکریہ
امن نے اپنے بازو پر بندھی پٹی کی جانب اشارہ کرکے مسکراتے ہوۓ کہا جس پر ضارم کے چہرے پر فخریہ مسکراہٹ ابھری
لیکن ایک بات ماننی پڑے گی پہلی بار میری سوچ اتنی غلط ثابت ہوئی شروع سے ہی مجھے یہ لگا کہ تم اپنے باپ کے غیر قانونی کاموں میں شامل نہیں ہو بلکہ شاید اس کے بارے میں جانتے بھی نہیں ہوگے لیکن یار تم تو اپنے باپ سے بھی زیادہ کمینے نکلے مجھ سے لڑنےکے لیے زارا کا استعمال کیا
امن نے حیرت ظاہر کرتے ہوۓ کہا جسے ضارم. نے اپنی تعریف سمجھ کر مسکرایا
تمہیں کیا لگا کہ مجھے اچانک سے ایک معمولی سی لڑکی سے ایسی طوفانی قسم کی محبت ہوگئی کہ میں اس سے شادی کے لیے بھی تیار ہوگیا بنا اس کی کلاس اس کا سٹینڈر دیکھے اس کا دیوانہ ہوگیا
میں اتنا بیوقوف انسان نہیں ہوں میرے پیچھے جو لڑکیاں دن رات مجھے امپریس کرنے کے لیے گھومتی ہے نا میں کبھی انہین گھاس نہیں ڈالتا اور اس لڑکی جسے میں جانتا تک نہیں اس کے عشق میں پاگل ہوجاؤں گا نیور یہ تو بس ایک پلین تھا جب پتہ چلا کہ وہ تمہاری سو کولڈ کزن تمہین بہت عزیز ہے جو میری دیوانی بنی ہوئی تھی تو سوچا کیون نا اسکی دیوانگی کا فائدہ اٹھایا جاۓ
وہ کرسی پر جھولتے ہوۓ ایک ادا سے اسے بتانے لگا جس پر امن کی. مسکراہٹ سنجیدگی مین بدل گئی اور وہ اسے غور سے سننے لگا
مجھے بہت پہلے ہی پتہ چل گیا تھا کہ تم میرے ڈیڈ کو ٹارگیٹ کررہے ہو سیکریٹلی ان کے خلاف ثبوت اکٹھا کررہے ہو بس ایک غلط فہمی ہوگئی تھی کہ وہ چپ تمہیں مل چکی ہے جس میں میرے اور میرے ڈیڈ کے خلاف سارے ثبوت پہلے سے اکٹھا کیے ہوۓ تھے ڈیڈ تو یہ کام بہت پہلے مجھے سونپ چکے ہے اور ان کے اس کاروبار کو اس شہر سے نکال کر دوسرے شہروں اور پھر ملکوں تک پہنچانے کا کریڈیٹ صرف مجھے جاتا ہے مجھے لگا شاید وہ چپ تمہیں مل چکی ہے اور میں تم سے وہ حاصل کرنا چاہتا تھا زارا کے زریعے اور میں نے پہلی کوشش کی …….اپنے برتھ ڈے کا بہانہ بنا کر اسے بلایا تاکہ وہاں اسے بےعزت کرکے اس کے ویڈیو بنا سکوں اور تمہیں بلیک میل. کرسکون لیکن لیکن لیکن
ضارم نے ایک گہری سانس لی امن اس کی. کسی بات پر حیران نہین ہورہا تھا لیکن اس دن والی بات یاد آنے پر اس کے چہرے پر غصے سے آثار صاف واضح تھے
تم سوپر مین بن کر پہنچ گۓ اپنی ہیروئن کی عزت بچانے میرے سارے پلین پر پانی پھیر دیا اس وقت تم پر اتنا غصہ آیا کہ سوچا تمہیں جان سے ماردوں لیکن میں غصے سے نہیں عقل سے کام. کرتا ہوں مجھے کسی بھی طرح تم. سے وہ ثبوت نکالنے تھے اسلیے مجھے مجبورا زارا سے معافی مانگنی پڑی اس کے آگے اچھائی کا ناٹک کرنا پڑا تاکہ وہ دوبارہ مجھ پر یقین کرلے اور اس بیوقوف لڑکی نے میرے ناٹک پر یقین بھی کرلیا سو فنی
وہ طنزیہ ہنستے ہوۓ بولا جب کے امن اسے سنجیدگی سے دیکھ رہا تھا
میں جان بوجھ کر نکاح والے دن وہاں نہیں آیا سوچا تھا کہ جب نکاح کے لیے نہیں پہنچوں گا تب تم لوگ میرے پاس آؤگے میری منتیں کروگے مجھ سے ریکویسٹ کروگے اور تب میں تمہارے سامنے یہ شرط رکھوں گا کہ پہلے میرے حوالے ثبوت کرو اس کے بعد میں نکاح کرونگا لیکن ایک بار پھر تم نے میرے پلین کو خاک کردیا خود زارا سے نکاح کرکے میری شروع سے لے کر اخری تک کی پلیننگ کو برباد کردیا تمہاری وجہ سے میرے ڈیڈ جیل چلے گۓ اور جب اس کیس میں میرا نام نہیں آیا تب مجھے احساس ہوا کہ وہ چپ تمہیں نہیں ملی ہے کیونکہ اگر وہ تمہارے پاس ہوتی تو سب سے پہلے میرا بھید سامنے آتا مجھے خوشی ہوئی اس بات کی کہ میں آزاد ہوں اور تم سے بدلہ لے سکتا ہوں
اب کے اس کے لہجے میں غصہ تھا
اتنا سب ہونے کے بعد تم زارا کے ساتھ ہیپی لائف جیو میں یہ کیسے برداشت کرپاتا اسلیے میں نے دوبارہ وہی کیا زارا کو اموشنلی بلیکمیل.کڈنیپ.کا جھوٹ …..لیکن جب اس سے بھی کام نہیں بناتو اس بار تمہارا سہارا لیا مین نے
کہ امن نے مجبوری میں شادی کی ہے اس کی خوشی کا سوچو اس کی زندگی کا سوچو اور پھر میں کامیاب ہوا اتنا بھڑکایا اسے کہ وہ مجبور ہوگئی تم سے الگ ہونے پر اور اب اگر تم چاہتے ہو کہ مین زارا کی زندگی سے چلا جاؤں تو تم میرے ڈیڈ کے خلاف اپنا کیس واپس لو ورنہ زارا کو بھول جاؤ
ضارم فاتحانہ. مسکراہٹ چہرے پر سجاۓ اسے دھمکاتے ہوۓ بولا
سچ یار مجھے یقین نہین ہورہا کہ میں اس قدر غلط تھا مجھے کبھی لگا بھی نہین کہ تم اندر سے اتنے بڑے فراڈ ہو مجھے کبھی شک بھی نہیں ہوا تم پر لیکن کوئی فائدہ نہین ہوا نا تمہاری اس ہشیاری کا نا تم. اپنے باپ کو بچا پاۓ نا اپنی جھوٹی شان کو نا ہی زارا کو حاصل کر پاۓ تو یہ ساری پلینگ تو فضول ہوگئ
اس کی نارملی کہی گئی بات پر ضارم کے تیور بگڑ گیۓ
تم بھول رہے ہو زارا اب بھی میرے سائڈ پر وہ وہی کرے گی جو مین چاہون گا….
پاگل وہ تو میرے پیار میں کچھ بھی کرے گی…..تم مجھے جان سے مارنے کی دھمکی دوگے تو بے چاری مجبور ہوکر تمہاری بات سنے گی ہی نا…..لیکن وہ تمہاری بات مانے گی یا نہیں…… یہ ہم اسی سے پوچھ لیتے ہے نا
اس نے ہنس کر کہا اس کی آخری بات پر ضارم نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا
زارا…..
امن نے ضارم کو دیکھتے ہوۓ زارا کو آواز دی اسی پل. اندر کی جانب کا ایک دروازہ. کھول. کر زارا اندر آئی جیسے دیکھ کر ضارم بری طرح شاک ہوا اور اپنی کرسی سے اٹھ گیا زارا اسے نفرت بھری نظروں سے دیکھتے ہوۓ آکر امن کے پاس کھڑی ہوگئی
ضارم دا کلیور مین کو بتاؤ کہ تم کس کی سائڈ پر ہو
امن اپنی جگہ پہ کھڑے ہوکر بولا
آپ کو شرم آنی چاہیے آپ انسان نہیں جانور ہے بلکہ جانور بھی آپ سے اچھے ہے میں نے ایک نہین دو دفعہ آپ کو معاف کیا امن کو ناراض کرکے آپ کو. موقع دیتی رہی لیکن آپ نے بدلے مین میرے جزبات سے کھیلنے کی. کوشش کی امن کو ہرٹ کرنے کی. کوشش کی لعنت ہے آپ پر
زارا نے غصے سے کہا
زارا یہ جھوٹ…..
ایک منٹ …….. ایک اور سرپرائز ہے تھوڑا سا شاک بچاکے رکھو….
ضارم زارا کی. جانب بڑھتے ہوۓ اپنے صفائی دینے لگا تو امن نے اس کے سامنے آکر اسے روکتے ہوۓ کہا
انور………
اس نے انور کو آواز دی تو اسی دروازے سے انور اندر آیا اس کے ساتھ ہی کمشنر اور دو پولیس افیسر کو. دیکھ کر ضارم کو پسینہ آگیا
تم نے خود اپنے سارے گناہ قبول کیے ہے جو اب ہمارے پاس محفوظ ہے ضارم ملک حسین تمہیں گرفتار کیا جاتا ہے
کمشنر نے آگے آکر کہا اور اپنے دونون افسروں کو اشارہ کیا جس پر انہوں نے ضارم کو ہتھکڑی لگاکر دونون جانب سے پکڑتے ہوۓ باہر کی جانب دھکیلا
میں تجھے چھوڑوں گا نہیں
باہر نکلنے سے پہلے اس نے امن کو خونخوار نظروں سے دیکھتے ہوۓ بولا
ہر کوئی یہی کہتا ہے سر مین اکیلا بیچارہ کس کس کی خواہش پوری کروں گا
ضارم کے باہر. نکنے پر وہ. کمشنر کی جانب دیکھ کر بےچاریت سے بولا جس پر انہوں نے زوردار قہقہہ لگایا اور امن سے ہاتھ ملاتے ہوۓ باہر نکل گئے امن نے زارا کی. جانب کی. دیکھا تو اس کی مسکراہٹ تھم. گئی اور سنجیدہ ہوتے ہوۓ نظریں پھیر کر انور کی جانب دیکھا
انور……میم ساب کو واپس ان کے محل چھوڑ دو امید ہے اب تو انہیں یقین ہوہی گیا ہوگا کہ کون سہی ہے اور کون غلط……..
جی بھیا
اس کی بات پر انور نے سر ہلاتے ہوۓ کہا زارا چند پل اس کے دیکھنے کا انتظار کیا لیکن وہ اس کی جانب دیکھنے کی بجاۓ نظریں پھیرے کھڑے رہا تو جھجھلا کر اس اسکا رخ اپنی جانب کرتے ہوۓ اس کی شرٹ کو سختی سے پکڑ کر اپنی جانب کھینچا وہ اس کے اوپر ہی گرتا اگر خود کو سنبھال نہیں لیتا
اگر آج شام سے پہلے تم گھر نہیں آۓ تو اچھا نہیں ہوگا سمجھے
وہ اس کی حرکت پر حیران ہو بھی نا پایا کہ اس کی دھمکی سن کو حیرانی دوگنی ہوگئی آنکھیں پھاڑے اسے دیکھنے لگا انور خود حیرانی سے اسے دیکھ رہا تھا زارا نے اسے چند پل. گھورتے ہوۓ دیکھا اور پھر اس کی شرٹ چھوڑ کر باہر کی جانب نکل گئی وہ سر نفی میں ہلاکر مسکرادیا
واہ بھیا اوروں کے سامنے شیر
بیوی کے سامنے ڈھیر
انور نے طنز کرتے ہوۓ کہا
اے شٹ اپ…… اور جاؤ
امن نے اس کے طنز پر اسے ڈپٹتے ہوۓ کہا تو وہ جلدی سے باہر نکل گیا
💜💜💜💜💜💜💜💜
