Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 25


ضارم اسے کھینچتا ہوا اندر سے باہر لے آیا
امن کو بھی سب کے درمیان خاموش کھڑے دیکھ کر زارا کے منہ سے دبی آواز میں اس کا نام نکلا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ اس کی نظروں سے اوجھل ہوگیا وہ ایکدم سے نیند سے جاگ گئی….. تھا تو خواب لیکن اسے لگا جیسے حقیقت میں یہ سب ہوا ہے
… وہ تیز سانسیں لیتے ہوۓ اطراف میں دیکھتی ہوئی خود کو ریلیکس کرنے لگی

زارا….. تم ٹھیک تو ہو

صوفی کو ہلچل محسوس ہوئی تو وہ جاگ گئی اور زارا کو دیکھ کر فکرمندی سے بولی زارا نے کوئی جواب نہیں دیا صوفی نے پانی کا گلاس اسکی جانب بڑھایا تو بنا کچھ کہے گلاس لے کر لبوں سے لگا لیا
.
لگتا ہے تم نے کوئی برا خواب دیکھ لیا ہے
اس کے ہاتھ سے گلاس لیتے ہوۓ بولی

ہاں بہت برا خواب.. …
وہ دھیرے سے بولی

کوئی بات نہیں …..خواب ہی تو ہے……. انکھ کھلنے کے بعد خواب کا زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا….. سوجاؤ
صوفی نے مسکرا کر کہا اور خود بھی لیٹ گئی

یہ خواب ہی میری زندگی کی حقیقت ہے
زارا نے دل ہی دل میں سوچا

💜💜💜💜💜💜💜💜💜

ادنان نے گھر میں قدم رکھا تو اس امید سے تھا کہ ہمیشہ کی طرح سب اسے دیکھ کر چونک جاۓ گی اور بہت خوش ہونگے لیکن اس بار چونکنے کی باری اس کی تھی صوفی کو کمرے سے نکلتے دیکھ اس کی مسکراہٹ تھم گئی اسی. لمحے صوفی نے بھی اسے دیکھا لیکن چند ہی لمحوں میں اس کی آنکھوں میں نفرت اتر آئیں تھی وہ اسے نظر انداز کرکے کچن کی جانب بڑھ گئی نسیم اسے دیکھ کر جلدی سے اس کے پاس آئی

ادنان……… کیسے ہو بیٹا….. فون تک نہیں کرتے تم
نسیم نے کہا

میں ٹھیک ہوں امی……..

ادنان نے سرسری سا جواب دیا اوپر سے اس نے امن کو اترتے ہوۓ دیکھا تو اس کا چہرہ دیکھ کر اسے سمجھ اگیا کہ بات اس کے اندازے سے زیادہ سنجیدہ ہے اور کہیں نا کہیں وہ گھبرا گیا تھا گھر میں کافی چہل. پہل تھی اور امن کسی کے سامنے کوئی بات نہیں کرنا چاہتا تھا اسلیے خاموشی سے آکر باہر نکل گیا

تم جلدی سے تیار ہوکر اجاؤ…. مہمان آتے ہی ہونگے

نسیم نے اسکا بیگ لیتے ہوۓ کہا اس نے اثبات میں سر ہلایا اور اپنے کمرے کی. جانب بڑھ گیا
💜💜💜💜💜💜💜💜💜💜

کمرے کی مسلسل خاموشی کو فون کی آواز نے توڑا زارا نے فون کان سے لگایا
سوری زارا میں تم سے شادی نہیں کرسکتا

اس نے صرف اتنا ہی کہا اور بنا کچھ سنے فون بند کردیا زارا فون کان سے لگاۓ یونہی بیٹھی رہی
کیا ہوا زارا
امن اسی وقت وہاں آیا اور زارا کو اس طرح دیکھ کر حیرت سے پوچھا

وہ مجھ سے نکاح نہیں کرنا چاہتے
زارا نے اسکی جانب دیکھ کر نارملی کہا

کیا…….

امن نے حیرت سے کہا اسے لگا اس نے کچھ غلط سنا ہے

زارا……..
نسیم بیگم زارا کو باہر لے جانے کی غرض سے اندر آئیں

چلو باہر سارے مہمان اگۓ ہیں
وہ امن کو نظر انداز کرکے بولیں

رک جائے امی…. میرے ساتھ آیۓ

امن نسیم کو اپنے ساتھ دوسرے کمرے میں لے گیا ساتھ ہی فرح اور زارا کے ابو کو بھی بلوایا اور بہت ہمت کرکے انہیں یہ بات بتائی کہ ضارم. نے نکاح سے انکار کردیا ہے جسے سن کر یوسف صاحب نے لڑکھڑا کر دیوار کو تھام لیا فرح نے جلدی سے آگے بڑھ کر انہیں سنبھالا

چاچو آپ ٹھیک تو ہے

امن نے انہیں سہارا دیتے ہوۓ کہا انہوں نے سر اثبات میں ہلادیا
آپ فکر مت کیجیے سب ٹھیک ہوجاۓ گا
امن نے انہیں تسسلی دی جب کہ وہ خود نہیں جانتا تھا کہ آگے کیا ہوگا

کیسے ٹھیک ہوگا سب…… باہر سارے مہمان…… کیا جواب دینگے انہیں…….

فرح نے روتے ہوۓ کہا

خود کو سنبھالو فرح اور اللہ پر بھروسہ رکھو

نسیم نے آگے بڑھ کر انہیں چپ کرواتے ہوۓ کہا

امن تم میرے ساتھ آؤ
وہ امن کو کہتی ہوئیں باہر نکل گئی وہ ان کے پیچھے باہر نکل آیا

میں نے پہلے بھی تم سے کہا تھا مگر تم. نے انکار کردیا لیکن اس وقت بات کچھ اور تھی میں تمہارے ساتھ زبردستی نہیں کرنا چاہتی تھی مگر اس وقت بس یہی راستہ ہے

نسیم اسے بنا دیکھے بولیں

کیا
امن نے سوالیہ نظروں سے دیکھا

تمہیں زارا سے نکاح کرنا ہوگا
نسیم نے اب بھی اسے بنا دیکھے کہا

امی…..
بس آج پہلی بار تم سے کچھ مانگ رہی ہوں بیٹا سمجھ کر کیونکہ سوال زارا کی. زندگی ہے اس گھر کی عزت کا ہے
امن نے کچھ کہنا چاہا لیکن نسیم. نے اس کی بات کاٹ دی

میں تیار ہوں امی……
امن نے بنا سوچے کہا اور ان کی بات مان لی ویسے بھی اس وقت کوئی دوسرا راستہ نہین تھا اس کے پاس

💙💙💙💙💙💙💙💙💙💙

کچھ دیر پہلے جو وہ ضارم. کے لیے دلہن بنی تھی اس نے جو مہندی ضارم کے نام کی لگائی تھی اب وہ سب امن کا ہوچکا تھا وہ خود امن کی ہوچکی تھی مگر وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ خوش ہے یا نہیں…..
اس کے زہن میں ایک ہی بات گردش کررہی تھی کہ امن اس سے نکاح نہیں کرنا چاہتا تھا مگر مجبور ہوکر اسے یہ. نکاح کرنا پڑا تھا اور شاید وہ اس بات پر غصہ تھا اسلیے تب سے اس سے ملنے نہیں آیا تھا اسے اپنا آپ بہت چھوٹا لگ رہا تھا وہ امن سے محبت کرتی تھی مگر زبردستی اس کی زندگی میں شامل نہیں ہونا چاہتی تھی اس نے اپنے آپ کو ضارم کو اپنانے کے لیے راضی کرلیا تھا لیکن پتہ نہیں کیوں اس نے اچانک انکار کردیا تھا

مبارک ہو. بھیا
امن نے روم میں آکر سر سے صافہ نکال کر ٹیبل پر رکھا انور بھی اس کے پیچھے آیا

شکریہ……اب خوش ہو نا تم
امن نے اسے خفگی سے کہا

آپ خوش نہیں ہے بھیا
انور نے الٹا سوال کیا

زارا خوش نہیں ہے ….
امن نے سنجیدگی سے کہا

ضارم نے اچھا نہیں کیا….. میں اسے نہیں چھوڑونگا……….. انور کل میں زارا کو ہماری شادی کا بہت خاص تحفہ دونگا اور وہ ہے ضارم حسین کی بے عزتی……….
امن نے غصے سے کہا اس نے فیصلہ کرلیا تھا کہ اب وہ ملک حسین کو ایکسپوز کرنے میں دیر نہیں کرے گا اب تک زارا کی خاطر ضارم کا خیال کرکے وہ دیر کررہا تھا مگر اب وہ ضارم کو شاک دینا چاہتا تھا

💜💜💜💜💜💜💜💜💜