Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

زارا……..
صوفی کمرے میں آئی تو زارا اپنی بکس اٹھا کر باہر جانے لگی تب صوفی نے اسے آواز دے کر روکا

سوری……..
زارا کے دیکھنے پر وہ بولی

کیوں سوری کہہ رہی ہے آپ ………

زارا نے حیران ہوتے ہوۓ کہا

شام کو تمہیں برا لگا اسلیے……

مجھے آپ سے کوئی شکایت نہیں ہے

زارا نے بےنیازی سے کہا اور دوبارہ پلٹ کر جانے لگی

ہم شاپنگ کے لیے نہیں گۓ تھے زارا…ہم ہاسپٹل گۓ تھے
صوفی نے دوبارہ کہا تو زارا نے حیران ہوکر اسے دیکھا

تو امن نے مجھ سے جھوٹ کیوں کہا
وہ بے یقینی اور حیرانی سے بولی

میں نے منع کیا تھا کسی کو بتانے سے کیونکہ میں نہیں چاہتی تھی کہ کوئی پریشان ہو

صوفی نے الزام. خود پر لیتے ہوۓ کہا اس کی وجہ سے زارا پریشان تھی. یہ اسے اچھا نہیں لگا

تم امن سے ناراض مت ہونا ان کی کوئی غلطی نہیں ہے
زارا کو سوچ میں گم. دیکھ کر وہ. دوبارہ بولی

یہ میرے اور اس کے درمیان کا مسلہ ہے میں خود سنبھال لونگی آپ پریشان نا ہو……آپ سو جاۓ میں باہر جا کر پڑھ لوگی

زارا نے لاپرواہی سے کہا اور باہر آگئی لان میں روشنی کافی کم تھی وہ پڑھنے کی کوشش کررہی تھی لیکن دھیان کہیں اور بھٹکا ہوا تھا

اتنی امپورٹینس رکھتی ہے وہ کہ اس کے کہنے پر مجھ سے جھوٹ بولا

بار بار اس کے زہن میں یہی بات گردش کررہی تھی

ارے واہ کیا بات ہے آج آلسی لڑکی پڑھائی کررہی ہے

امن کی آواز پر اس نے پلٹ کر دیکھا وہ. مسکرا کر اسے ہی دیکھ رہا تھا زارا نے اٹھ کر جانا چاہا تو امن نے اس کا ہاتھ پکڑ کر روک لیا

کہاں جا رہی ہو زارا
وہ. سنجیدگی سے بولا

سونے……
تھوڑی دیر بعد چلی جانا پلیز

امن نے ریکویسٹ کرتے ہوۓ کہا تاکہ اسے منا سکے

مجھے نیند ارہی ہے……
زارا نے ہاتھ چھڑا کر بنا اس کی جانب دیکھے کہا

سنیے تو…..
رکیے تو
کیوں ہے خفا
کہیے تو
وہ اندر جانے لگی تو امن ایک دم سے سامنے آکر شرارتی انداز میں گانے لگا وہ سائڈ سے جانے لگی تو پھر سامنے اگیا اس طرح ہر طرح سے اس کا راستہ روکتا رہا

ایسی کیا جلدی جانے کی
دیوانہ…… ہوں مانا
سنیے…… دیوانے کی

امن نے آخر میں دونوں کان پکڑ لیے

امن میں نے کہا نا مجھے جانا ہے…………

زارا نے غصے سے کہا اور سائڈ سے ہوکر نکل گئی امن اسے حیرت سے دیکھتا رہا کیونکہ وہ اتنی ناراض شاید آج تک. نہیں. ہوئی تھی
💜💜💜💜💜💜💜💜💜💜

آج وہ صبح سات بجے سے مسلسل کام میں مصروف تھا صبح کا کھانا تو مس کرچکا تھا لیکن اب بہت بھوک محسوس ہورہی تھی اسلیے جلدی جلدی کام ختم کرکے باہر نکلا بائک سٹارٹ کرنے ہی لگا تھا جب اس کا موبائیل بجنے لگا

….جی چاچی …….

اس نے فرح کا نام دیکھ کر فون کان سے لگاتے ہوۓ کہا

امن ….. زارا ضارم کے ساتھ باہر گئی تھی نو بج گئے ہے ابھی تک واپس نہیں آئی ……..نا فون لگ رہا ہے مجھے بڑی ٹینشن ہورہی ہے

فرح نے پریشان سی آواز میں کہا

کہاں گئی ہے ضارم کے ساتھ………..

امن نے حیرت سے پوچھا ویسے تو وہ ہر بات اسے بتاتی تھی لیکن فیالحال وہ اس سے ناراض تھی اسلیے بات نہیں کررہی تھی

وہ تو مجھے نہیں پتہ بیٹا……….
اج زارا کا برتھ ڈے ہے نا تو ضارم نے کہا کہ اس کے دوستوں نے مل کر تیاری کی ہے برتھ ڈے کی…………میں نے منع کیا لیکن اس نے اتنی دفعہ کہا تو میں زیادہ انکار نہیں کرپائی کہ کہیں وہ برا نا مان جاۓ اسلیے زارا کو جانے دیا میں نے کہا بھی کہ امن کے ساتھ واپس آجانا ………..زارا نے انکار کردیا کہ ضارم کے ساتھ ہی آجاۓ گی… لیکن ابھی تک واپس نہیں آئی تمہارے چاچو جب سے آۓ ہے تین بار پوچھ چکے ہیں سمجھ نہیں ارہا کیا کروں اگر تمہارے پاس ضارم کا نمبر ہے تو ہی اس سے بات کرو…..

فرح اسے بے حد پریشان لگی وہ اپنی مصروفیت میں زارا کا برتھ ڈے بھی بھول چکا تھا جس سے زارا کی ناراضگی بڑھ گئی ہوگی یہ اسے یقین تھا

ڈونٹ وری چاچی….. میں زارا کو لے کر آتا ہوں آپ پریشان مت ہوئیں….

امن نے انہیں تسسلی دیتے ہوۓ کہا اور فون کاٹ دی ضارم کا نمبر ملایا تو رنگ جارہی تھی لیکن دوسری جانب سے فون نہیں اٹھایا گیا اس نے دو تین دفعہ ٹراۓ کیا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا

وہ گاڑی چلا کر کچھ دوری پر ہی پہنچا تھا جب اس کا موبائل دوبارہ بجا وہ رک کر کال اٹھانے لگا کیونکہ اسے لگا شاید چاچی کا ہی فون ہو لیکن صوفی کا نمبر دیکھ کر اسے حیرانی ہوئی

امن…..
ہاں بولو ص….

صوفی

ابھی ابھی انٹی کو سنا تم سے بات کرتے ہوۓ زارا نے مجھے بتایا تو نہیں لیکن میں نے اسے شزا سے بات کرتے ہوۓ سنا تھا تو وہ اسے کہہ رہی تھی ضارم کے فارم ہاؤس پر پارٹی ہے وہ اکیلی نہیں جانا چاہتی اسلیے شزا بھی ساتھ چلے لیکن شزا نے شایدانکار کردیا تھا

تھینکیو سو مچ صوفی…… میری ہیلپ کرنے کے لیت

میں نے انٹی کی ہیلپ کرنے کے لیے بتایا تمہیں………

💜💜💜💜💜💜💜💜💜

ضارم اور اس کے چند دوستوں نے مل کر اس کے فارم ہاؤس کو ڈیکوریٹ کرکے شانداز طریقے سے برتھڈے کی تیاری کی تھی جس میں زارا کی کالج فرینڈس بھی شامل تھیں زارا کو سب بہت اچھا لگ رہا تھا لیکن اسے ہچکچاہٹ بھی ہورہی تھی وہ گھر سے اتنی دور آئی تھی اور کافی رات ہوچکی تھی

بہت دیر ہوچکی ہے مجھے گھر جانا ہے امی پریشان ہورہی ہوگی

اس کی کلاس میٹس بھی جانے کے لیے نکل گئی ضارم اپنے دوستوں کے ساتھ کھڑا تھا جب وہ بہت ہمت کرکے آئی ضارم اسے دیکھ کر اس کے پاس اگیا تو اس نے کہا

ٹھیک ہے چلے جاۓ گے لیکن پہلے گیسٹ کو تو جانے دو ان کے پہلے ہم کیسے جاسکتے ہیں

ضارم. نے دھیرے سے کہا زارا کی سمجھ نہیں آیا کیا کریں

ٹھیک ہے بھائی چل ہم بھی نکلتے ہیں پھر…….

اس کے دوستوں نے شاید اندازہ لگا لیا تھا تب ہی وہاں آکر بولے زارا نے خدا کا شکر ادا کیا

اوکے…..
ضارم باری باری سب سے ملا

اب چلیں……..
ان کے جاتے ہی زارا نے فورا کہا تو ضارم. ہنس دیا

چلیں گے لیکن پہلے سپیشل سیلیبریشن تو بنتی ہے نا صرف میں اور تم

ضارم نے اس کے گال کو چھوتے ہوۓ کہا جو اسے بلکل اچھا نہیں لگا

مجھے……..
زارا نے کچھ کہنا چاہا لیکن اس کے پہلے ہی ضارم نے سامنے کاونٹر پر رکھی بوٹل اٹھائی اور اسے کھولتے ہوۓ گانے لگا

ہیپی برتھ ڈے ٹو یو
ہیپی برتھ ڈے ٹو یو

اس نے دو گلاسوں میں ڈرنک نکالی

چیئرس…….
اس نے گلاس آپس میں ٹکرا کر ایک گلاس زارا کی جانب بڑھایا

نہیں مجھے نہیں چاہیے………..

اس نے اس کا ہاتھ پیچھے کرتے ہوۓکہا

…….ایسا کہہ کر انسلٹ تو مت کرو یہ وائن ہے آج تمہارا برتھ ڈے ہے تھوڑی سی تو پینا پڑے گی نا

اس نے لڑکھڑاتی آواز کے ساتھ کہہ کر پہلے اپنا گلاس خالی کیا پھر زارا کے منہ سے گلاس لگایا

نہیں ضارم مجھے نفرت ہے نشے سے اسے دور رکھیے مجھ سے………….

زارا نے اس کا ہاتھ زور سے پیچھے کیا

اچھا مت پیو میں زبردستی نہیں کرونگا….

ضارم نے وہ گلاس بھی خود ہی پی کر ہار مانتے ہوۓ کہا.گلاس نیچے رکھ کر اس نے زارا کو غور سے دیکھتے ہوۓ اسکے بازووں کو تھام کر اس کی گردن پر جھکنا چاہا

یہ کیا کررہے ہیں آپ ………

زارا نے اس کے ہاتھ جھٹک کر دور ہوتے ہوۓ کہا

آج تمہارا برتھ ڈے ہے نا زارا تو میں تمہیں پیار کررہا ہوں ………..

ضارم نے ہاتھ بڑھا کر اس کی کمر پر رکھتے ہوۓ کہا

چھوڑیے مجھے…………
زارا نے غصے سے اس کا ہاتھ جھٹکا اور جانا چاہا لیکن ضارم. سامنے اگیا

کیا کررہی ہو میں تمہارا ہونے والا شوہر ہوں مجھے انکار کررہی ہو…… مجھے حق ہے تمہیں چھونے کا

وہ. اس کے گال. پر ہاتھ رکھ کر بولا

نہیں ….یہ غلط ہے ضارم

وہ اب کے نرمی سے اسے. سمجھانے والے انداز میں بولی

کچھ غلط نہیں ہے میری جان…. ہماری شادی ہونے والی……سمجھا کرو……..

ضارم. کہتے ہوۓ اس کے قریب آنے لگا زارا نے اس کے زور کا دھکا دیا جس سے وہ کافی دور ہوگیا

شادی ہونے والی ہے ہوئی نہیں ہے آپ دور رہیے مجھ سے…..

زارا نے غصے سے کہا ضارم نے اسے غصے سے دیکھا اور پاس آکر اس کا دوپٹہ کھینچ کر اس سے الگ کردیا اور اپنی گرفت میں لینا چاہا زارا نے اسے زور دار تھپڑ مار کر جلدی سے خود کو بچاتے ہوۓ پیچھے ہوئی

مجھ پر ہاتھ اٹھاؤگی…. تمہاری اتنی ہمت…… اب دیکھو کیا کرتا ہوں میں

وہ اس کا دوپٹہ ہاتھ پر لپیٹ کر خونخوار نظروں سے دیکھتے ہوۓ بولا زارا نے خود کو بہت بے بس محسوس کیا اس وقت اسے ضارم کی جگہ کوئی وحشی جانور دکھائی دیا جس سے اسے بہت ڈر لگ رہا تھا وہ بے آواز رو رہی تھی

💜💜💜💜💜💜💜💜💜💜