Hamnava By Sanaya Khan Readelle50080 Episode 11
No Download Link
Rate this Novel
Episode 11
ہاۓ امن
امن باہر آیا تو جیسے مصیبت اس کے انتظار میں ہی تھی ضارم کی مدر کو دیکھ کر ہی وہ پریشان ہوگیا
جی… ہاۓ
وہ بمشکل مسکرا کر بولا
یوار لوکنگ سو ہینڈسم.
وہ اسے اوپر سے نیچے تک دیکھتے ہوۓ بولیں وہ سفیدسلوار پر ریڈ ٹی شرٹ ٹائپ کرتے میں واقعی بہت پرکشش لگ رہا تھا لیکن اس وقت اسے اپنی تعریف پر خوشی نہیں بلکہ بیزاری سی محسوس ہورہی تھی
میں کیسی لگ رہی ہوں
امن اس کی بات پر مسکرا کر خاموش ہوگیا تو شائنہ نے خود ہی پوچھ ہی لیا امن نے اس کا جائزہ لیا اس نے بلیک پارٹی گاؤن پر ڈائمنڈ جویلری پہنی ہوئی تھی بال جو مشکل سے کاندھے تک آتے تھے کرل کرکے مزید چھوٹے کیے ہوۓ تھے
بہت اچھی لگ رہی ہے اپ ….انٹی
کوئی اور ہوتا تو شاید وہ کوئی اچھا سا جواب دے دیتا لیکن یہان اسے تمیز دکھانا ضروری تھی
انٹی… میں تمہیں انٹی لگتی ہوں
وہ صدمے سے بولیں
ہاں ………مطلب آپ ضارم کی مام ہے نا تو میری تو انٹی ہی ہوئی نا
وہ ٹوٹے لفظوں میں بولا شائنہ چہرے پر غصے کے بھاؤ وہ آسانی سے محسوس کرسکتا تھا
نہیں ….میں صرف ملک کی بیوی ہوں
وہ منہ پھیر کر بولیں
ایک ہی بات ہے نا……
ایک بات نہیں ہے میں ضارم کی ماں نہیں ہوں
وہ. لفظوں پر زور دیتے ہوۓ بولیں
تو آپ انکل کی وائف ہے تو آنٹی ہی ہوئی نا
امن نے دوسری طرح بھی اس کے ارمانوں پر پانی پھیر دیا
تم مجھے اپنی دوست سمجھو اور کچھ نہیں….. اور دوستوں کو نام سے بلایا جاتا ہے…
وہ چند پل رک کر اپنی ناگواری کو چھپا کر بولی
جی
امن نے اتنا سا جواب دے کر جانا چاہا لیکن پھر اس نے کوئی اور بات شروع کردی تو مجبوراً اسے رکنا پڑا اسے لڑکیون سے بات کرنے یا دوستی کرنے پر اعتراض نہیں تھا لیکن ضارم کی مدر کا بے باک انداز حد سے زیادہ فری ہونا اور ذومعنی باتیں کرنا اسے چڑا دیتا تھا
میں تمہاری ہر کوریج دیکھتی ہوں ٹی وی پر…. آۓ ایم یور بیگیسٹ فین………
شائنہ نے کہتے ہوۓ اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا
جی آیا ……….
امن کو کسی نے آواز نہیں دی لیکن اپنی عزت بچانے کا اسے یہی راستہ نظر آیا فورا دوسرء جانب دیکھ کر بولا
مجھے کوئی بلا رہا ہے ……..ابھی آیا ……..
وہ شائنہ سے معزرت کرتا ہوا بولا اور جلدی سے اندر واپس چلا گیا بنا شائنہ کی کوئی بات سنے
یا اللہ مجھے بچالے
اندر آکر صوفے پر گرتے ہوۓ اس نے سکون کی سانس لی اور آنکھیں بند کرلی
کیا ہوا بھیا آپ اتنی تیز تیز سانسیں کیوں لے رہے ہیں
انور باہر ہی جارہا تھا اسے دیکھ کر رک گیا
کیا کروں میرے سر پر ہمیشہ مصبتیں جو سوار رہتی ہے
وہ بنا اس کی جانب دیکھے بولا
کون سی مصیبت……
انور نے حیرت سے پوچھا کہ خوشی والے دن کونسی مصیبت ہوگی امن نے انکھیں کھول کر اسے دیکھا اور سیدھا ہوکر بیٹھ گیا
کچھ نہیں ….
وہ نہیں چاہتا تھا کہ اب اس بات کو لے کر انور ہزار سوال کرے اس لیے بات ختم کرنا چاہا
تو چلیے نا منگنی ہونے والی ہے ہم بھی دیکھتے ہیں
امن نے بات ختم کردی تو انور نے بھی زور نہیں دیا
اس میں کیا دیکھنا ہے دونوں ایک دوسرے کو رنگ پہناۓ گے پھر ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکراے گے اور باقی لوگوں کی طرح ہم بھی کھڑے تالیاں بجاۓ گے سو بورنگ مجھے بلکل انٹریسٹ نہیں ہے اس سب میں
وہ بے نیازی دکھاتے ہوۓ بولا
ایک بات کہیں آپ سے برا تو نہیں مانے گے
انور نے کچھ سوچ کر اس کے پاس والی چئیر پر بیٹھتے ہوۓ کہا
برا مان بھی گیا تو کونسا تمہیں سزاۓ موت دے دوں گا……. بتاؤ نا
امن بےزاریت سے بولا
ہمیں تو یہی لگتا تھا کہ زارا بی بی کی شادی آپ سے ہوگی ….
انور نے سادگی سے کہا امن اسے دیکھنے لگا تو ڈر کر چپ ہوگیا
مطلب بہت اچھے لگتے ہیں نا آپ دونوں ساتھ میں اسلیے
وہ بات بناتے ہوۓ بولا
غلط لگتا تھا تمہیں ……….ایسا کچھ نہیں ہے …….
لیکن اگر ہوتا تو زیادہ اچھا ہوتا نا بھیا
انور نے خوش ہوتے ہوۓ کہا
بلکل نہیں…. بلکہ نہیں ہوا تو زیادہ اچھا ہے
ضارم زارا سے بہت پیار کرتا ہے
اور آپ …آپ پیار نہیں کرتے کیا زارا بی بی سے
انور نے اسے بہت غور سے دیکھتے ہوۓ پوچھا
میں بھی کرتا ہوں پر اس طرح نہیں……… دوست کی طرح
وہ انور کو سمجھاتے ہوۓ بولا
آپ کا مطلب ہے دوست والا پیار الگ ہوتا ہے اور گول فرینڈ والا الگ ہوتا ہے
انور نے انکھیں بڑی کرکے پوچھا توامن اپنی مسکراہٹ نہیں روک پایا
لل
گول فرینڈ نہیں گرل فرینڈ
اس کے الفاظ کو درست کرتے ہوۓ بولا
اب ہمیں کیسے پتہ ہوگا ہماری تو کوئی ہے نہیں نا……. آپ ہی ڈھونڈ دیجیے نا ہمارے لیے کوئی اچھی سی لڑکی
وہ پہلے شرما کر پھر التجا کرتے ہوۓ بولا
یار مجھے اپنے لیے نہیں مل رہی تمہارے لیے کیا ڈھونڈوں گا …چلو باہر چلتے ہیں مجھے نا سہی شاید تمہیں کوئی مل جاۓ
انور کی باتوں سے مزید پریشان ہونے کی بجاۓ اسے باہر جاکر انگیجمنڈ مین شریک ہونا زیادہ آسان لگا تو اٹھ کر باہر اگیا انور بھی اس کے پیچھے چلا آیا
💜💜💜💜💜💜💜💜💜💜💜💜
ضارم نے آف وھائٹ کلر کی شیروانی پہن رکھی تھی ساتھ کھڑے وہ دونوں میڈ فور ایچ ادر لگ رہے تھے صرف گھر گھر کے لوگ ہی شامل تھے اس کے علاوہ ضارم کے کچھ کالج فرینڈس اور ملک صاحب کے دوست وغیرہ پھولوں سے سجے تھال میں شزا نے دونوں کے سامنے رنگس رکھی پہلے ضارم نے پھر زارا نے اسے رنگ پہنائی سب کے ساتھ امن نے بھی تالیان بجائی لیکن جانے کیوں اسے کچھ عجیب سا محسوس ہوا اس کے چہرے کی مستقل مسکراہٹ کی جگہ گہری سنجیدگی نے لے لی وہ ہاتھ روک کر اسے دیکھنے لگا
زارا کی ہر ایک بات ہر ایک حرکت اس کے زہن میں آنے لگی …..بات بات پر چڑ جانا ……رودینا لڑتے رہنا اسے طرح طرح کے ناموں سے چڑانا …… چھوٹی چھوٹی باتوں پر کسی بچے کے طرح خوش ہونا وہ مسلسل اسے دیکھتا رہا زارا کے چہرے پر چمکتی خوشی نے اسے دوبارہ مسکرانے پر مجبور کردیا
اس کا فون بجنے لگا تو وہ سائڈ میں آگیا
امی مجھے جانا ہے
فون پر بات کرنے کے بعد وہ نسیم کے پاس آکر دھیرے سے بولا
کہاں جانا ہے
نسیم نے حیرت سے پوچھا
کچھ کام ہے….
وہ خود کبھی نا جاتا لیکن جب اسے فون پر کسی نے بتایا کے سٹوڈیو میں کچھ پرابلم ہوگئی ہے تو اسے جانا ضروری لگا
کوئی کام وام نہیں… اج زارا کی منگنی ہے اور تمہیں آج بھی کام کی پڑی ہے
نسیم نے دھیمی آواز میں اسے ڈانٹا
امی منگنی تو ہوچکی ہے نا اور سچ میں میرا جانا بہت ضروری ہے پلیز ٹراۓ ٹو انڈرسٹینڈ
وہ سمجھاتے ہوۓ بولا نسیم چپ ہوکر اسے دیکھنے لگی
بیٹا زارا کو کتنا برا لگے گا
میں اسے سمجھادوں گا بعد میں ……پلیز میری مدر انڈیا …… .باۓ
وہ نسیم کو نرم ہوتا دیکھ فورا باۓ بول کر نکل گیا
کہاں تھے اب تک
وہ پورچ میں بائک کھڑی کرکے اندر جانے کو آگے بڑھا تو زارا دروازے میں ہی راستہ روکے کھڑی تھی اس نے ابھی تک وہی منگنی والے کپڑے پہنے ہوۓ تھے صرف جویلری اور میک اپ ریموو کیا تھا اور بال کھلے ہوۓ تھے
اندر تو آنے دو…….
امن نے تھکے تھکے انداز میں کہا
نہیں جب تک میری بات کر جواب نہیں دوگے اندر نہیں اسکتے تم
وہ ایک ہاتھ پھیلا کر راستہ بند کرتے ہوۓ بولی
تم تو بلکل کسی دادا کی طرح بات کررہی ہو اگر ہفتہ نہیں دیا تو یہاں چین سے رہ نہیں پاؤگے تم
وہ ہنستے ہوۓ بولا اور بھاری آواز میں گنڈے کی نقل اتاری
باتیں مت بناؤ بتاؤ کہاں گئے تھے
یار اندر تو آنے دو بہت تھک گیا ہوں
وہ بےچاری سی صورت بنا کر بولا زارا نے دوسرا بھی ہاتھ رکھ کر راستہ مزید بند کردیا
ٹھیک ہی تو میں واپس چلا جاتا ہوں
وہ واپس پلٹ کر باہر کی جانب نکلا اور جاکر جھولے پر بیٹھ گیا زارا بھی وہاں آکر اس کے پاس بیٹھ گئی اور اسے دیکھنے لگی
ضروری کام تھا یار اسلیے جانا پڑا
امن اس کی مسلسل نظروں سے تنگ آکر بولا
میری انگیجمینٹ سے بھی زیادہ ضروری… پتہ ہے کتنا انتظار کیا تمہارا میں نے
اب کے وہ خفگی سے بولی تو امن ہلکا سا ہنس کا سامنے دیکھنے لگا
اب میرے بغیر رہنے کی عادت ڈال لو ……ضارم تھا نا تمہارے ساتھ کیا یہ کافی نہیں
وہ سنجیدگی سے بولا اور اس کی جانب دیکھا زارا اسے حیران نظروں سے دیکھنے لگی
تم تو ابھی سے پرائی باتیں کررہے ہو امن جب کے میں نے تو آگے کے لیے بھی اس کا تصور نہیں کیا ……….کیا میں کچھ نہیں رہ جاؤگی تمہارے لیے بعد میں
امن کی بات پر وہ سنجیدگی سے بولی کہتے کہتے اس کا بھیگا لہجہ امن نے بخوبی محسوس کیا
ایسا نہیں ہے یار ڈونٹ بی اپسیٹ…… تم تو جانتی ہو نا میں ایسے ہی کچھ بھی کہہ دیتا ہوں …سوری
وہ زارا کو. رونے کی تیاری میں دیکھ کر جلدی سے بولا
دراصل آج جب تمہاری انگیجمینٹ ہوئی نا اس وقت مجھے بلکل اچھا فیل نہیں ہورہا تھا بہت اپ سیٹ ہوگیا تھا میں …….
کیوں………
زارا نے اس کی جانب دیکھ کر پوچھا
کیوں کیا…. تم چلی جاؤگی نا…. اتنے سالوں سے ساتھ ہو عادت ہوجاتی ہے پھر برا تو لگتا ہی ہے نا.
وہ ہلکا سا مسکرا کر بولا زارا بھی اس کی بات پر غور سے سوچنے لگی واقعی کتنی سچائی تھی اس کی بات میں وہ خود بھی کیسے اپنوں کو بھول سکتی تھی اس گھر میں اس نے اپنا بچپن گزارا تھا یہاں اس کے ماں باپ تھے ماں جیسی بڑی امی تھی اور امن جیسا دوست تھا جو ہر وقت اسے ہنساتا رہتا تھا اس کی پریشانیوں کو پل. بھر میں ختم کردیتا تھا
ویسے تم بہت سیلفش ہو ہاں…..
وہ اسے سوچ میں ڈوبا دیکھ کر اس کی جانب رخ. کرکے بولا
کیوں…..
وہ اسے آنکھیں بڑی کرکے دیکھنے لگی
کیوں کیا…..خود تو شادی کرکے جارہی ہو اور میرے لیے کوئی لڑکی تک نہیں دیکھی
وہ اسے اپ سیٹ دیکھ کر موڈ ٹھیک کرنے کی غرض سے بولا
میں کیوں کسی غریب کی زندگی برباد کروں
وہ سنجیدگی سے بولی
اےےےےے….. ….
امن نے ہنستے ہوۓ اسے انگلی دکھائی زارا بھی ہنسنے لگی
آۓ ایم رئیلی اپسیٹ یار…….. مجھے تو لگتا ہے تمہاری وداعی کے وقت امی اور چاچی سے زیادہ میں رونے والا ہوں…
وہ ایک گہری سانس لے کر بولا اس کے انداز پر زارا اپنی ہنسی روک نہیں پائی
تمہارے جانے کے بعد کون مجھے پاگل بناۓ گا…. کسے میں بندیا کہا کروں گا…. .. جب کارٹون دیکھنے کا من کریگا تو کسے دیکھونگا….. اور لائف میں اگر
کبھی کسی بھوت پریت سے سامنہ ہوگیا تو اسے ڈراؤں گا کس طرح تم نہیں ہوگی تو کیا ہوگا میرا
وہ بڑے افسوس بھرے لہجے میں بولا زارا نے اسے گھورتے ہوۓ اسکے بال پکڑنے چاہے لیکن وہ اس کے پہلے ہی بھاگ کر اندر چلا گیا
امن………..
وہ بھی چلاتی ہوئی اس کے پیچھے دوڈی لیکن جب تک وہ اندر آئی امن اوپر جاکر اپنا دروازہ لاک کرچکا تھا
💙💙💙💙💙💙💙💙💙💙
