Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 23

راج پلے گراؤنڈ میں لڑکوں کے ساتھ فٹبال کھیل رہا تھا وہاں سے گزرتے ہوۓ صوفی کا دھیان اس پر گیا تو اس کے قدم خود بخود رک گۓ یلو ٹی شرٹ اینڈ شارٹس میں وہ پسینے میں شرابور اپنی دھن میں کھیل رہا تھا

ایسے چھپ چھپ کر دیکھنا بیٹر ہے یا کھلے عام محبت کا اظہار کرنا

امن کی آواز اتنے قریب سے سن کر صوفی ہڑبڑا کر پلٹی جیسے اس کی چوری پکڑی گئی ہو

کیا…کیا. مطلب ہے آپ کا….. میں اسے نہیں دیکھ رہی تھی
وہ نظریں چرا کر بولی امن مسکرایا

میں آپ سے ایک بتاتا ہوں صوفیہ سچ والی
امن نے ہنس کر کہا

مجھے پیار محبت عشق ان باتوں پر یقین نہیں ہے….. یہ مت سمجھنا کہ میں اپنے بھائی کی وکالت کررہا ہوں یا اس کامیسینجر بن کر آیا ہوں آپ کے پاس سفارش لےکر ……مگر میں نے محسوس کیا ہے کہ آپ اس کے لیے اسپیشل ہے…..مجھے لگتا ہے آپ کو اسے ایک چانس دینا چاہیے

امن. نے سنجیدگی سے کہا

آپ کی صلاح کا شکریہ مگر یہ تکلیف کس لیے

دوستی کی حیثیت سے اپ مجھے اپنا دوست سمجھ سکتی ہے…
امن نے ہنس کر کہا

میں یہاں آپ کے بھائی کے لیے نہیں آئی ہوں امن میں یہان اپنی امی کا خواب پورا کرنے آئی ہوں ڈاکٹر بننے آئی ہوں میں اس راستے سے بھٹکنا نہیں چاہتی فیالحال میں اس بارے میں نہیں سوچنا چاہتی
صوفی نے اسے صاف دلی سے جواب دیا

فیالحال نہیں سوچنا چاہتی…… لیکن اگر دیر ہوگئی تو افسوس کرسکتیں ہے آپ……. دل کو. کبھی مارنا نہیں چاہیے چاہے کتنی بھی بڑی وجہ ہو پاس میں مگر سب سے پہلے دل کی سننا چاہیے

چلیے دوست کی حیثیت سے آپ کی صلاح مان بھی لوں مگر آپ کا بھائی آپ نہیں جانتے اسے اور اس کی. حرکتوں کو گنڈہ ہے کالج کا

صوفی نے اسے حقیقت سے آگاہ کرواتے ہوۓ کہا تو وہ ہنس دیا

ہوسکتا ہے……. مگر وہ دل کا برا نہیں ہے وہ آپ کے جزبات کے ساتھ نہیں کھیلے گا میری امی کی تربیت ایسی نہیں ہے میں زمہ داری لیتا ہوں اس کی..

امن نے سنجیدگی سے جواب دیا

مطلب اگر اس نے مجھے تنگ کیا تو آپ سزا بھگتے گے….

صوفی نے مسکرا کر کہا

بلکل…..
امن نے ہنس کر جواب دیا

تو ٹھیک ہے میں اسے ایک موقع دے دیتی ہوں اپنے دل. کی سن لیتی ہوں اور آپ کو دوست سمجھ کر آپ کی صلاح بھی مان لیتی ہوں
صوفی نے چند پل. رک کر کہا تو امن نے اسے حیرانی سے دیکھا

تھینکیو صوفیہ

صوفیہ نہیں….. صوفی….
صوفی نے ہاتھ آگے کرکے کہا تو امن نے اس سے ہاتھ ملایا وہ تو ان کی دوستی کی شروعات کا دن تھا لیکن یہ دوستی دو سالوں تک چلتی رہی امن کا جب بھی دل کیا وہ دونوں سے ملنے جاتا اور پھر تینوں بہت دن ساتھ رہتے گھومتے پھرتے موج مستی کرتے راج کی محبت کے ساتھ امن کی دوستی بھی صوفی کے لیے بہت خاص تھی
💜💜💜💜💜💜💜💜💜
امن کی غلطی صرف اتنی تھی کہ اس نے صوفی سے راج کے پیار کو سمجھنے کی ریکویسٹ کی تھی اور اسے اس بات کا بے حد افسوس بھی تھا کہ اس نے اپنے بھائی کق پہنچاننے میں غلطی کی تھی وہ. اس کے بھائی سے زیادہ دوست تھا لیکن وہ اچانک. اتنا کیوں بدل گیا تھا خود امن بھی سمجھ نہیں پایا تھا چند دن پہلے جب امن نے اس سے صوفی کے متعلق پوچھا تھا تو اس نے بات کو ٹال دیا تھا اس وقت امن کے وہم وگماں میں بھی نہیں تھا کہ بات اتنی بڑی ہوسکتی ہے صوفی کے آنے کے بعد اس نے ادنان سے رابتہ کرنے کی. کوشش کی تھی مگر فون بند تھا اور ہاسٹل سے اسے پتہ چلا تھا کہ وہ تو کافی وقت سے ہاسٹل چھوڑ چکا ہے اسے بہت دکھ ہوا تھا اپنے بھائی کا یہ. روپ دیکھ کر ایک طرف سب نے اس سے اتنی امید لگائی ہوئی تھی اور دوسری طرف وہ اتنی آسانی سے غلط راستے کی جانب بڑھ رہا تھا

امن…….

امن اسی. سوچ میں گم بیڈ پر بیٹھے ہوۓ چھت کو گھور رہا تھا زارا کی. آواز پر دروازے کی جانن دیکھا زارا کھانے کا ٹرے لے کر اندر آئی

کھانا لے کر آئی ہوں تمہارے لیے……
امن کے نا پوچھنے پر اس نے خود ہی کہہ دیا

مجھے بھوک نہیں ہے زارا
امن نے سنجیدگی سے جواب دیا زارا نے ٹرے بیڈ پر رکھی اور خود بھی بیٹھ گئی

کھالو اب تو میں روز روز نہیں آؤنگی تنگ کرنے جارہی ہوں نا تمہارا پیچھا چھوڑ کے

زارا بمشکل مسکرا کر بولی امن بھی مسکرایا

مجھے نہیں لگتا تم اتنی آسانی سے پیچھا چھوڑو گی میرا…. بھٹکتی روح جو ہو

میں نے بنایا ہے یہ تمہارے لیے…….
زارا نے کھانے کی. جانب اشارہ کرکے کہا

گیس تو آن نہیں ہوتی تم سے ڈھنگ سے اور تم کھانا بناؤگی تمہیں پتہ ہے نا زارا….. نا تم مجھ سے جھوٹ بول سکتی ہو نا کچھ چھپا سکتی ہو اوکے…
امن نے ہنس کر کہا

اب تک. مجھے بھی ایسا ہی لگتا تھا
زارا نے دل ہی دل میں کہا
I am waiting
امن. نے منہ کھول. کر کھلانے کا اشارہ. کیا زارا نے چمچ بھر کر اس کے منہ میں ڈالا

امی کے ہاتھ کا ٹیسٹ ہے
امن نے مسکرا کر کہا زارا نے دوسرا چمچ لے کر اا کی جانب بڑھایا امن نے وہ لے کر سپون اس کے ہاتھ سے لے لیا

بس اتنی خدمت مت کرو ورنہ تمہاری وداعی کے وقت مجھے زیادہ رونا آئگا
امن نے کہہ کر خود سے کھانا شروع کردیا

ایک بات پوچھوں تم سے
زارا نے جھجھکتے ہوۓ کہا

اگر وہ بات صوفی سے ریلیٹڈ ہے تو مت پوچھو پلیز
امن نے اس کی جانب دیکھ کر سنجیدگی سے کہا

تم نے ہی تو کہا تھا نا کہ. دوستی میں کوئی سیکریٹس نہیں ہوتے جو ہوتا ہے فئیر ہوتا ہے

ہاں لیکن دوست کی خوشیوں کے لیے کبھی کبھی رولس توڑنے پڑتے ہیں کچھ سیکریٹس رکھنے پڑتے ہیں
امن نے گہری سانس لے کر کہا اس کا. مطلب کچھ اور تھا لیکن زارا نے اس کا مطلب کچھ اور لیا تھا امن نے زارا کی خوشی کے لیے صوفی والی بات کو چھپانا ضروری سمجھا جب کہ زارا نے فیصلہ کرلیا کہ وہ اپنے دل کی بات امن کو بتا کر اس کی خوشیوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنے گی

زارا پلیز تم. یہ. سب مت سوچو تم صرف شادی انجواۓ کرو کچھ لمحے دوبارہ لوٹ کر نہیں آتے اسلیے انہیں ویسٹ نہیں کرنا چاہیے تم یہ سوچو کے تم اپنے خواب کو حقیقت بنتے دیکھنے جارہی ہو کوئی چیز اس سے بڑی نہیں ہے تمہارے لیے

امن نے زارا کو سوچ میں گم دیکھ کر کہا زارا نے ہلکا سا مسکرا کر سر اثبات میں ہلا دیا اور باہر اگئی
باہر آئی تو بوا اسی بات پر نسیم کو ڈانٹ رہی تھیں زارا کو آتے دیکھ چپ ہوکر دونوں کو گھورتی ہوئیں اندر چلی گئی

یہ سب کیا ہورہا ہے بڑی امی
زارا نے وہاں آکر پوچھا

کچھ نہیں بیٹا تم اس پر دھیان مت دو تم بس اپنی اگلی زندگی کا سوچو اللہ ہر دکھ کے سایے سے دور رکھے تمہیں
نسیم. نے سچے دل سے اسے دعا دی زارا نے مزید کوئی سوال. کیے بنا اندر چلی گئی

💜💜💜💜💜💜💜💜💜💜

امن
امن باہر لان میں موجود تھا صوفی نے وہاں آکر اسے مخاطب کیا

آۓ ایم. سوری….
صوفی نے چند پل. رک کر کہا

تم کیوں سوری کہہ رہی ہو صوفی……. تمہاری تو کوئی غلطی نہیں ہے.. سوری تو مجھے کہنا چاہئے اتنا روڈلی بات کی تم سے…آۓ ایم سوری …میں غصے میں کچھ بھی بول جاتا ہوں …..میں جانتا ہوں کتنا ہارڈ ہے تمہارے لیے یہ سب سننا……. اور وہ بھی صرف میری بیوقوفی کی وجہ سے ……….کاش کے اس دن دوست بن کر صلاح نا دیتا…….. سوری میں اچھا دوست نہیں بن پایا
امن نے سنجیدگی سے کہا

نہیں امن…. تم. بہت اچھے ہو…… دوست ہی نہیں بہت اچھے انسان بھی ہو …..جس نے دنیا بھر کے وعدے کیے تھے وہ تو الزام لگا کر چلا گیا اور تم بنا کسی غرض کے میرے بارے میں سوچ رہے ہو……میری نفرت کو برداشت کررہے ہو…… کوئی اور ملتا نہیں نا مجھے غصہ نکالنے کے لیے اسلیے تم پر نکالتی رہتی ہوں….. نفرت کے آگے دوستی کو بھی بھول. گئی میں بہت ہرٹ کیا میں نے تمہیں

صوفی نے افسوس سے کہا

بس ایک آخری بات آج کے بعد وہ بات کبھی نہیں کرونگے جو تم نے آج کی میں تم سے شادی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی

تو پھر میں کیا کرو صوفی اسے ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک چکا ہوں مجھے اور کوئی راستہ نظر نہیں ارہا تھا جس سے سب کچھ ٹھیک ہوجاۓ امی الگ ناراض ہے اور اب بوا…. … پتہ نہیں کیا ہوگا

اس نے پریشانی سے کہا

میرے نصیب میں جو لکھا ہوگا وہ ہوجاۓ گا دیکھتے ہے کتنے اور دن لگتے ہیں خدا کورحم انے میں
اس نے امن کی جانب دیکھ کر کہا امن نے کوئی جواب نہیں دیا اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا تو وہ اس کے ساتھ جھولے پر بیٹھ گئی زارا نے اپنے کمرے کی کھڑکی بند کرتے ہوۓ انہیں ساتھ دیکھا تو نا چاہتے ہوۓ بھی رک کر دونوں کو دیکھنے لگی مگر بس کچھ دیر
💙💙💙💙💙💙💙💙💙💙