Hamnava By Sanaya Khan Readelle50080 Episode 12
No Download Link
Rate this Novel
Episode 12
آج کتنے مہینے بعد دونوں بھائی ساتھ میں جوگنگ کے لیے نکلے تھے اور پارک تک پہنچنے میں دونوں کی اچھی خاصی ریس ہوچکی تھی اور ہمیشہ کی طرح جیتنے والا ادنان ہی تھا
آپ پھر ہار گئے بھائی……..
ادنان نے تیز سانسوں کے ساتھ اپنی جیت پر خوش ہوتے ہوۓ کہا جب کہ امن اب بھی برابر میں کھڑا کمر پر دونوں ہاتھ رکھے ہانپ رہا تھا لیکن اس کے چہرے پر بھی اپنے بھائی کی خوشی چھلک رہی تھی دونوں پسینے میں بھیگ چکے تھے امن آکر پاس رکھے بینچ پر اگیا ادنان بھی اس کے پاس آکر بیٹھ گیا
ہار گیا……
وہ آنکھیں بند کرکے بولا
آپ جیتنے کی کوشش ہی نہیں کرتے……. اگر کروگے تو جیت سکتے ہو….آپ کب تک دل سے سوچتے رہے گے دماغ سے سوچنا شروع کریں…….. دوسروں کا نہیں خود کا فائدہ سوچا کریں
ادنان جانتا تھا کہ وہ بھائی کی جیت پر زیادہ خوش ہوتا ہے
تم. دوسرے کہاں ہو تم تو بھائی ہو
وہ اس کی جانب دیکھ کر بولا
مقابلے میں کوئی اپنا نہیں ہوتا ………….بلکہ سب جیتنے والوں کا ساتھ دیتے ہیں ….
اپنی اپنی سوچ ہے ……
امن نے بے نیازی سے کہا
آپ کی اور میری سوچ بہت الگ ہے….. ایک آپ ہے جو اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر لوگوں کے خلاف بولتے ہیں…جب کہ اس میں اپ کا کوئی فائدہ نہیں
ادنان نے سامنے دیکھ کر کہا تو امن نے اس کی جانب دیکھا
یہ جو آج کل آپ کا مشن چل رہا ہے نا لوگوں کو بے نقاب کرنا……. حقیقت دکھانا…. ان کے خلاف ثبوت ڈھونڈنا………یہ سب آپ کا کام نہیں ہے بھائی یہ کام پولیس کا ہے آپ کیوں ان لوگوں سے دشمنی مول لے کر اپنی مشکلیں بڑھانا چاہتے ہیں… کچھ نہیں ہوگا اس سب سے کسی کو کوئی سزا نہیں ملے گی نا آپ کو کچھ ملے گا…..لوگوں کو آپ کا نام تک یاد نہیں رہے گا ….
وہ امن کی جانب دیکھ کر بولا
ہر کوئی یہ سوچنے لگا تو شیطان کی حکومت چلے گی دنیا میں ….میں یہ اپنے فائدے کے لیے نہیں کرتا بس فرض سمجھ کر کرتا ہوں
امن نے سنجیدگی سے کہا
آپ سے ایک ریکوہسٹ ہے بھائی….. پلیز یہ سب بند کرییے……. ان لوگوں کو نہیں جانتے آپ…. بہت خطرناک لوگ ہے وہ کیوں ان سے دشمنی مول لینا چاہتے ہیں…. کم سے کم امی کا تو سوچیے کچھ نقصان پہنچایا ان لوگوں نے آپ کو تو کیا گزرے گی امی پر….یہ ایمانداری…… یہ لوگ کوئی نہیں اۓ گا اس وقت جب آپ کو ضرورت ہوگی. سب مطلبی ہے اس دنیا ہے بس اپنا سوچتے ہیں آپ بھی اپنے بارے میں سوچیے اپنے فیوچر کا سوچیے کیااپ ہمیشہ ایسی ہی لائف جینا چاہتے ہیں بھائی
ہماری زندگی میں کسی چیز کی کمی نہیں ہے آدی
امن نے اسے دیکھ کر غصے کو کنٹرول کیا
سب کچھ بھی تو نہیں ہے نا بھائی………..
سب کچھ ہے…… جس کی ضرورت ہے….اور تمہاری سوچ غلط ہے تمہیں اسے بدلنا ہوگا
وہ ادنان کی بات کاٹ کر سختی سے بولا
میں صرف اتنا چاہتا ہو بھائی کہ آپ کوکچھ ہو نا. …….
ادنان نے اسے غصے میں اتے دیکھا تو نرمی سے کہا
مجھے کچھ نہیں ہوگا… …….اللہ کا کرم اور امی کی دعائیں جب تک ساتھ ہے کچھ نہیں ہوگا غلط
آپ کو سمجھانا فضول ہے……
ادنان نے اس کی بات پر بے زاری سے کہا جگہ سے اٹھ گیا
ادی میں اس کہانی کا ہیرو ہوں اور کہانی میری جیت سے ہی پوری ہوگی
امن بھی کھڑے ہوکر بولا
ایک ریس تو جیت نہیں پاۓ آپ اور جنگ جیتے گے
ادنان نے طنزیہ ہنسی ہنستے ہوۓ کہا
وہ تو لحاظ تھا بھائی کی خوشی کا… چلو کچھ پل کے لیے بدلحاظ ہوجاتا ہوں .. لیٹس گو..
امن نے اشارے سے اسے ریس کا کہا اور ادی نے مسکرا کر اس کا چیلینج قبول کیا
💜💜💜💜💜💜💜💜💜💜
بھابھی……..
نسیم کچن میں کھڑی سبزی کاٹ رہی تھی فرح انھیں پکارتی ہوئی اندر آئی
کیا ہوا فرح
نسیم نے ان کی جانب دیکھ کر پوچھا
بھابھی… زارا کے ابو نے بتایا کے اس کے سسرال سے فون آیا تھا…ضارم کے ابو کا
اچھا…….. کیا کہا انہوں نے
فرح کے بتانے پر نسیم نے ہاتھ روک کر پوچھا
وہ کہہ رہے ہیں ہے کہ کل انہوں نے اپنے گھر دعوت رکھی ہے جس میں شادی کی تاریخ بھی طے کرلیگے اور اپنے جان پہچان والوں سے ہمارا تعارف بھی کروادینگے
ٹھیک ہے نا…. ہم لوگ بھی تیاریاں کرلیتے ہیں اپنی جانب سے ان لوگوں کو کچھ تحفے دینے کی
نسیم نے سوچ کر کہا
وہ سب تو ٹھیک ہے بھابھی…. لیکن وہ چاہتے ہیں کہ ہم زارا کو بھی وہاں لے جاۓ…..آپ ہی بتائیے شادی سے پہلے وہ کیسے جاسکتی ہے وہاں…زارا کے ابو نے منع بھی کیا…. . لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے جان پہچان والوں سے زارا کا تعارف کروانا چاہتے ہیں اور خاص دعوت اسی کی وجہ سے رکھی ہے
وہ. پریشان ہوکر بتانے لگی
کوئی بات نہیں فرح یہ سب ہمارے دور میں ہوتا تھا آج کل یہ بہت عام بات ہے اور اچھا ہی ہے نا زارا بھی گھر دیکھ لے گی تو اس کے لیے آسانی ہوجائگی……….تم فکر مت کرو کوئی غلط بات نہیں ہے اس میں
نسیم نے سمجھاتے ہوۓ کہا
جی بھابھی……..
فرح نے سر اثبات میں ہلا دیا
💜💜💜💜💜💜💜💜💜💜💜
امن….. امن….. امن
وہ دروازے کے باہر نکل ہی رہا تھا کہ زارا جلدی سے اسے روک کر بولی
ضارم کو تم سے بات کرنی ہے
اس کے ہاتھ میں فون تھا وہ دبی آواز میں بولی امن نے فون لے کر کان سے لگایا
امن تمہاری ایک ہیلپ چاہیے مجھے………
امن کے ہیلو بولتے ہی ضارم نے کہا
ہاں بولو کیا کرسکتا ہوں میں
وہ باہر کی جانب جاتے ہوۓ بولا
کل کی. پارٹی کا تو پتہ ہے نا تمہیں
ہاں امی نے بتایا
امن نے جواب دیا
کل یہ لوگ شادی کی تاریخ فکس کرنے والے ہے اور پاپا نے اسی مہینے کی تاریخ کا سوچا ہی لیکن انکل کو جلدی شادی کرنے پر اعتراض ہوسکتا ہے میں نہیں چاہتا کوئی پرابلم ہوجاۓ….. تم پلیز کچھ بھی کرکے انکل کو منالو جلدی شادی کے لیے
وہ ریکویسٹ کرتے ہوے بولا
ٹھیک ہے میں بات کرونگا لیکن پکا نہیں کہہ سکتا کچھ…افٹرآل وہ ایک فادر ہے بیٹی کے لیے سوچ سمجھ کر ہی فیصلہ کرنا چاہے گے میں صرف سمجھا سکتا ہوں
امن نے صاف لہجے میں بات کرتے ہوۓ کہا
ٹھیک یے…. تھینکیو سو مچ……..تھینکس اگین
ضارم خوش ہوکر بولا اس کی چہکتی آواز میں خقشی امن بخوبی محسوس کرسکتا تھا
شادی کو لیے تو ایسے مررہا ہے جیسے دنیا کی اخری لڑکی بچی ہے اسکے لیے
وہ فون کاٹ کر خود کلامی کرنے لگا اور مسکرادیا
کیا……..
زارا اس کے پیچھے ہی کھڑی تھی اس کی بات پر فورا بولی تو امن نے ہڑبڑا کر پیچھےدیکھا
کیا ..کیا……. تم چھپ کر میری باتیں سن رہی ہو شرم نہیں اتی تمہیں
امن نے مصنوعی غصے سے کہا
ضارم کو کیا بولا ابھی تم نے……
زارا نے اس کی بات کو مکمل نظر انداز کیا
کچھ نہیں بولا میری ماں…. مجھے معاف کردے مجھے جانا ہے
وہ دونوں ہاتھ جوڑ کر بولا اور جلدی سے گاڑی پر بیٹھ گیا
امن………… پتہ نہیں اسے کہاں جانے کی. اتنی جلدی ہوتی ہے
زارا نے اسے روکنا چاہا لیکن تب تک وہ گیٹ سےباہر نکل گیا تھا
💜💜💜💜💜💜💜
اسلام علیکم
Welcome to the prime hour
With aman mirza
امن کیمرا کے سامنے شوٹنگ کرنے میں لگا تھا جب باہری دروازہ کھول کر پیون داخل ہوا
امن سر……..
اس نے ڈرتے ہوۓ امن کو آواز دی اس طرح بیچ میں روکنا سہی نہیں تھا مگر اسے کرنا پڑا
وہاٹ دا ہیل…… کیا ہوا
بیچ میں روکے جانے پر امن نے غصے سے پوچھا
سوری سر…. باہر کوئی لڑکی آئی ہے آپ سے ملنے
تھوڑی دیر روک نہیں سکتے تھے…….
اب کے وہ غصے کو قابو کرکے بولا
میں نے کہا سر کہ آپ بزی ہے مگر وہ مان ہی نہیں رہی ہیں
کیا نام بتایا……
امن نے سوچتے ہوۓ پوچھا
نام….سر صوفیہ صادق نام بتایا انہوں نے
پیون یاد کرتے ہوۓ بولا
صوفیہ……….
امن نے زیرلب کہتے ہوۓ اسکی جانب دیکھا
اوکے تم چلو میں ارہا ہوں……. ناصر مجھے کچھ ضروری کام ہے تھوڑا وقت لگ جائگا… ہم ایک گھنٹے بعد شوٹ کرلیں
اس نے پیون کو جواب دیا اور ساتھ کھڑے شخص کو مخاطب کیا اور باہر آیا تو وہ صوفے پر بیٹھی تھی امن کو آتا دیکھ اٹھ گئی اور وہ قریب آیا تو اسے سلام کیا
وعلیکم اسلام…….. باہر چل کر بات کریں ……
امن نے جواب کے ساتھ ہی کہا صوفی نے رک کر سر اثبات میں ہلا دیا اور امن کے اشارے پر اس کے ساتھ چل دی
💜💜💜💜💜💜💜💜💜💜
I am sorry
امن اسے پاس والے ریسٹورانٹ میں لے کر آیا تھا اب تک کی خاموش کو توڑتے ہوۓ بولا بنا اس سے نظریں ملاۓ
اگر تمہارے سوری کہنے سے سب کچھ ٹھیک ہوسکتا….. میری عزت مجھے واپس مل سکتی…… میری امی لوٹ کر آسکتیں تو مجھے بہت خوشی ہوتی تمہارے سوری کہنے پر
صوفی نے باہر کی جانب دیکھتے ہوۓ کہا
میں…… میں جانتا ہوں…… لیکن………. میں کیا کرسکتا ہوں یہ میرے بس کی بات نہیں ہے
امن نے نظریں چراتے ہوۓ کہا
تمہیں کچھ کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے اب جو کرنا ہے میں کرونگی………..
وہ اس کی جانب دیکھ کر بولی
میں یہاں تمہارے گھر والوں کو سب کچھ بتانے آئی ہوں ان لوگوں کو بھی تو سچائی کا پتہ چلنا چاہیے نا
اس کے لہجے سے ہی امن نے نفرت محسوس کی
نہیں صوفی………..
تم اندازہ بھی نہیں لگا سکتے کہ ان چند دنوں میں میری زندگی کیا سے کیا ہوچکی ہے سب کچھ کھو چکی ہو میرے اپنے مجھ سے نفرت کرنے لگے ہیں میری ماں……….
امن کی بات کاٹ کو کہنے لگی مگر ماں کا ذکر آنے پر آواز نے ساتھ چھوڑدیا
میں اور میرے گھر والوں نے جو سہا ہے اس کے مقابلے میں بہت کم. ہوگا یہ…. تم بھی تو یہی کرتے ہو نا لوگوں کا اصلی چہرہ سامنے لانے کی کوشش….. میں بھی یہی کرنا چاہتی ہوں میں بھی یہ شرافت اور معصومیت کا نقاب اتارنا چاہتی ہوں تمہارے گھر والوں کے سامنے
وہ خود کو مضبوط کرتے ہوے بولی
دیکھو صوفی……… میری کزن زارا…… اس کی شادی ہے بہت جلد……. ایسے میں تم یہ سب بتاؤگی….. گھر کا ماحول خراب ہوگا…….
ریلی امن تمہیں اب بھی اپنے گھر کے ماحول کی پڑی ہے یہاں میری ساری زندگی تباہ ہوچکی ہے میں بے سہارا ہوچکی ہو اور تمہیں اپنی کزن کی شادی کی پڑی ہے
ایک. پھر وہ امن کی بات کاٹ کر بولی
تمہارے سب کو بتانے سے سب کچھ ٹھیک تو نہیں ہوجاۓ گا نا لیکن کچھ دن رک جاؤگی تو کم سے کم زارا کی خوشیوں میں خلل نہیں پڑے گا بات صرف اتنی نہیں ہے بلکہ اگر اس بات کا پتہ اس کے سسرال میں چل گیا تو پرابلم بڑھ جائگی اس سب میں اس کی کیا غلطی ہے ….سو پلیز کچھ دن انتظار کرلو میں خود بتادونگا سب کو
وہ سمجھاتے ہوۓ بولا
رئیلی….. تم بتاؤگے سب کو…. اتنی ہمت ہے تم میں………. چلو یہ بھی دیکھ لیتے ہیں….. کچھ دن انتظار کرکے
وہ طنزیہ ہنستے ہوۓ بولی امن خاموش رہا
تم. …..تم میرے ساتھ….. میرے گھر چلو………..آۓ مین……
وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ اس کی اس بات پر کیسے ری ایکٹ کرے گء لیکن ہمت کرکے کہہ دیا
مجھے کسی کی ہمدردی کی ضرورت نہیں ہے……..
صوفیہ نے انکھیں گھما کر کہا
میں کوئی ہمدردی نہیں جتا رہا ہوں……… اس سیچیوشن میں تمہارا اکیلے رہنے ٹھیک نہیں ہے تمہارے پاس کسی کا ہونا ضروری ہے اسلیے کہہر رہا ہوں
وہ سختی سے بولا
زندگی بھر کے لیے اکیلی ہوچکی ہو اب عادت ڈالنی ہوگی اکیلے رہنے کی بھی……..
صوفی نے دھیمی آواز میں کہا
صوفی میں تم سے کوئی بحث نہیں کرنا چاہتا میں الریڈی بہت ڈسٹرب ہوں سو پلیز مجھ پر ایک احسان کرو میرے ساتھ چلو میں تمہیں اکیلے نہیں چھوڑ سکتا
وہ کوفت زدہ ہو کر بولا
کیا کہوگے اپنے گھروالو سے کون ہوں میں….
کہہ دونگا فرینڈ ہو……..چلو
وہ اٹھتے ہوۓ بولا
صوفیہ کو ساتھ لیے وہ گھر پہنچا تو زارا اسے دروازے میں ہی مل گئئ ساتھ انور بھی تھا جو اسی سے ملنے ایا تھا
امن…….. اچھا ہوا تم آگئے
زارا خوش ہوتے ہوۓ بولی
زارا ایک منٹ بعد میں بات کرتے ہیں …..امی………
وہ زارا کو روک کر نسیم. کو پکارنے لگا جو کہ اوپر جارہی تھی زارا کو اس نے شاید پہلی دفعہ اتنی سنجیدگی سے جواب دیا تھا وہ اگنور کرنے والا جو زارا کا کوفی محسوس ہوا
ہاں بیٹا………..
نسیم صوفی کو دیکھ کر ان کے پاس چلی آئی
امی یہ میری فرینڈ ہے صوفیہ……….. یہاں کسی کام سے آئی ہے…….میں نے سوچا ہوٹل کی بجاۓ کچھ دن ہمارے ساتھ رہے
وہ. صوفی کا تعارف کرواتے ہوۓ بولا صوفی نے انہیں سلام کیا
بلکل بیٹا ….
نسیم نے مسکرا کر کہا اور صوفی کو مسکرا کر دیکھا
زارا صوفی تمہارے کمرے میں رہ لے گی اس سے تمہیں بھی کمپنی مل جائگی
امن نے بتایا تھا یا پوچھا تھا یہ اسے سمجھ نہیں آیا
ہاں کیوں نہیں……..
زارا نے بےدلی سے مسکرا کر جواب دیا تھا اسے صوفی کا رہنا نہیں بلکہ امن کا اگنور کرنا برا لگا تھا
کم…..
امن صوفی کو چلنے کا اشارہ کرتے ہوۓ بولا وہ اس کے پیچھے چل دی
انور بھائی…..آپ کے امن بھیا نے کیا ہمارے گھر کو سرکاری گیسٹ ہاؤس سمجھ رکھا ہے جسے دیکھو یہاں لے آتے ہے رہنے کو
اس کے جانے کے بعد زارا نے انور کو مخاطب کرکے بھڑاس نکالی لیکن پھر اچانک اپنی غلطی کا احساس ہوا جب اس نے انور کے چہرے پر شک کی لکیریں دیکھیں
نہیں میرا مطلب آپ سے نہیں تھا آپ تو میرے پیارے بھائی ہو لیکن یہ لڑکی کون ہے…. آپ جانتے ہیں اسے
وہ بات گھماتے ہوۓ بولی
نہیں ہم تو نہیں جانتے ……….
خیر پتہ لگا ہی لینگے آپ جو ہو ساتھ
زارا نے اسے مکھن لگانے کی کوشش کی جس میں اسے کامیابی حاصل ہوئی
💜💜💜💜💜💜💜💜💜💜💜
