Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

نسیم بیگم صوفی کو آرام کرنے کا کہہ کر کچن مین اگئی تھی تاکہ فرح کی مدد کرسکے امن وہاں آیا کیونکہ اسے صوفی کہ متعلق اسے کچھ تو بتانا تھا

امی صوفی میری کالج فرینڈ ہے حال ہی میں اس کی امی کی ڈیتھ ہوئی ہے اور ان کے علاوہ اس کا کوئی ہے بھی نہیں وہ ہاسٹل میں رہنے آئی تھی لیکن وہ اتنی ڈسٹرب ہے اسلیے میں اسے یہاں لے ایا تاکہ ہم سب کے درمیان رہ کر شاید وہ بیٹر فیل کرسکے

اس نے انہیں ادھورا سچ بتایاکیونکہ اس سے زیادہ شاید وہ اتنی آسانی اے کبھی نہیں بتا سکتا تھا

بہت اچھا کیا بیٹا ویسے بھی ایک لڑکی کا اہسے بےسہارا ہونا کوئی معمولی بات نہیں ہوتا کیا گزری ہوگی اس بچی پر

نسیم کو واقعی اس کی فکر ہوئی امن انہیں دیکھ کر سوچنے لگا کہ اس کے ساتھ ہوئی زیادتی کا یہ آدھا حصہ بھی نہیں تھا
تم فکر. مت کرو بیٹا ہم اس کا پورا خیال رکھے گے
فرح نے اسے خاموش دیکھ کر کہا

.تھینکیو چاچی……

وہ کہہ کر نسیم بیگم کو دیکھا اور باہر نکل گیا
💜💜💜💜💜💜💜💜💜💜💜

وہ لوگ حسین مینشن کی عالیشان پارٹی میں موجود تھے جو ان کی امید سےکہیں زیادہ بڑی تھی شہر کی ہر جانی پہچانی صورت بڑے بڑے عہدے پر فائز افسر اس پارٹی میں موجود تھے لہکن زارا کسی بھی طور پر کم نہیں لگ رہی تھی قیمتی خوبصورت سفید ڈریس میں ….اسے ضارم کی ارینج کی ہوئی بیوٹیشن نے تیار کیا تھا آج وہ بے حد خوبصورت لگ رہی تھی ہر کوئی تحفے دے کر اس کی تعریف کرتے ہوۓ ضارم کے دل کو مزید خوشی فراہم کررہا تھا وہ ایک پل. کے لیے اس سے الگ نہیں ہوا تھا اس کے ساتھ ہی کھڑا تھا ملک حسین اور شائینہ کا انداز سب کے ساتھ ہمیشہ کا طرح لیا دیا سا ہی تھا لیکن کسی کو ان کی بےرخی نہیں بس زارا کی ہنسی اور اسکے چہرے پر خوشی کے رنگ نظر ارہے تھے

💜💜💜💜💜💜💜💜💜💜💜💜

انور کی نظریں شزا پر ٹکی تھی جب سے وہ اس گھر میں رہنے آیا تھا کافی مرتبہ اس کا سامنہ شزا سے ہوا تھا شزا کو وہ ایک انکھ نہیں بھاتا تھا لیکن انور کی انکھین بس ہمیشہ اسی پر لگی رہتی تھی
وہ انکھوں میں چمک لیے اسے دیکھ رہا تھا امن وہاں پہنچا تو سب سے پہلے اسی پر نظر پڑی

چھوٹے دیکھنے سے کچھ نہیں ہوتا آج موقع بھی موسم بھی ہے اور دوستور بھی…… کہہ دو دل کی بات
امن نے اسکے دونوں کاندھوں پر ہاتھ رکھ کر کہا

کیا کہہ دیں بھیا ………اگر انہوں نے چپل دور سے بھی پھینک کر ماری نا…. تو بھی کم سے دو مہینے بے ہوش رہے گے ہم

انور نے اپنا ڈر بیان کیا

ارے یار پیار کیا تو ڈرنا کیا …….مرد بنو مرد….
کوئی فلمی اسٹائل میں گانا سنا کر اپنی بات پہنچادو…..
امن نے اسے شیخی بڑھاتے ہوئے کہا

کونسا گانا……..

بنو کی سہیلی ریشم کی ڈوری
چھپ چھپ کے شرماۓ دیکھو چوری چوری

امن نے دھیمی آواز میں اسے گاکر بتایا جو اسے سیچیویشن کے حساب سے پرفیکٹ لگا

ارے واہ بھیا گانا تو زبردست ہے لیکن وہ کہیں سے بھی ریشم کی ڈوری لگتی نہیں ہے

انور نے اسکے اچھے خاصے وزن کو نشانہ بناتے ہوۓ کہا

تو تم کونسا شاہروخ خان ہو یار…… دیکھو لڑکی کی تعریف کرتے وقت یہ نہیں سوچتے کہ اس میں یہ کالیٹی ہے یا نہیں بس جتنی ہوسکتی ہے کردو

اس سے مان جایے گی…
انور نے بے یقینی سے پوچھا

ہنڈریڑ پریسینٹ………. کم سے کم ایک گھنٹی تو ضرور بجے گی اب وہ دل میں بجے گی یا کان کے پیچھے یے گانے پر ہے

دوسرا جملہ امن نے دھیرے سے کہا

کیا ہورہا یہ سب…..
زارا کافی دیر سے نوٹس کررہی تھی جب وہ لڑکیوں کے گروپ کی طرف دیکھ کر باتیں کررہے تھے اور موقع ملتے ہی وہ وہان آگئی

وہ بھیا ہمیں سکھا رہے تھے کے گانا گاکر……

چپ…. تمہیں کیوں بتاۓ ہم

امن نے انور کو ہاتھ دکھا کر چپ کرایا اور زارا کے سامنے اکڑ دکھاتے ہوۓ بولا

امن کیا بدتمیزی ہے ……..یہ چھثھوری حرکتیں کیوں کررہے ہو تم

زارا نے خفگی سے کہا

تم ضارم سے شادی کررہی ہو اسلیے مجھے اپنے لیے کوئی دوسری ڈھونڈنی تو پڑے گی نا ….بس وہی ٹراۓ کررہا تھا

امن نے شرارت سے کہا

امن……. جانے دو تم سے تو بات کرنا ہی فضول ہے… جارہی ہوں میں

زارا نے خفگی سے کہا وہ کل سے ہی اس سے ناراض تھی وہ جانے لگی لیکن امن نے اس کا ہاتھ پکڑ کر روک لیا

بے قرار کرکے ہمیں یوں نا جائے
آپ کو ہماری قسم لوٹ آئے

امن نے مسکرا کر گانا گایا وہ لوگ کافی الگ ہوکر کھڑے تھے اسلیے شاید کسی نے نوٹس نہیں کیا لیکن زارا کو بہت شرمندگی محسوس ہوئی اس نےفوراًا اپنا ہاتھ کھینچ لیا

تمہیں زراسی بھی شرم نہیں آتی نا اور انور بھائی اپ بھی اس ٹھرکی کے برابر لگ گئے

اب کے وہ انور پر بھی غصہ نکالنے لگی

اے چشمش…….
امن کو اسکا ٹھرکی کہنا چبھ گیا

اے دڑیل……..

زارا نے بھی اسی کی طرح انگلی دکھا کر کہا اور بنا رکے وہان سے چلی گئی

امن بھیا یہ آپ کو دڑیل کیوں کہتی ہے آپ کی تو داڑھی بھی نہیں ہے

انور نے حیرت جتاتے ہوۓ پوچھا

تو اسکو بھی کہاں چشمہ لگا ہے پھر بھی میں اسے چشمش کہتا ہوں نا…. اور وہ زارا ہی کیا جو امن سے بدلہ نا لے

امن نے اسے دور سے خود کو گھورتے دیکھ کر کہا

اچھا میری بات سنو میں کسی بھی طرح ملک حسین کے کمرے میں جاکر اس چپ کو ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہوں تم یہاں دھیان رکھنا کوئی بھی میرے متعلق پوچھے تو کہہ دینا میں باہر گیا ہوں کسی کام سے اوکے

وہ انور کو سنجیدگی سے مخاطب کرکے بولا اسے ایک سنہرا موقع ملا تھا اس چپ کو ڈھونڈنے کا حالانکہ پچھلے کچھ دنوں مین اس نے خود ہی ملک حاین کے خلاف کافی ثبوت اکٹھا کرلیے تھے

ٹھیک ہے بھیا…….

انور نے جواب دیا

ہاۓ امن…….

اس کے پہلے کے امن وہاں سے نکل پاتا پیچھے سے ہیناسے شائینہ کی آواز سنائی دی

یا اللہ کہاں جاؤں میں

وہ پریشان ہقکر خود سے بولا اعر پکٹ کر بمشکل. مسکرایا

کیسے ہو….
شائنہ نے پاس آکر پوچھا

ابھی تک تو بلکل ٹھیک تھا …..
وہ اداس صورت بناۓ دھیرے سے بولا لیکن شائنہ نے با آسانی سن لیا

تو اب کیا ہوا….

اچانک سر درد ہونے لگا تھوڑا….
وہ بات بناتے ہوۓ بولا

کوئی بات نہیں ٹھیک ہوجاۓ گا تم میرے ڈانس پارٹنر بنوگے آج
اسے سر درد سے زیادہ جس بات کی پڑی تھی اسی پوائنٹ پر آتے ہوۓ بولی

میں… لیکن آپ کے پارٹنر تو ملک صاحب ہوگے نا

وہ ڈانس نہیں کرتے……

شائنہ نے اپنی ناگواری چھپاتے ہوۓ مختصر سا جواب دیا

بھیا عمر ہوگئی ہے نا تو جوڑوں میں درد رہتا ہوگا
انور نے امن کے کان کے پاس ہوکر دھیرے سے کہا

چپ…..
امن نے اسے انکھیں دکھائی

میں آج بہت بور ہورہی ہوں تم مجھے کمپنی دوگے پلیز

شائنہ نے بہت بےتقلفی سے اس کے بازو مین ہاتھ ڈالتے ہوۓ کہا

یا اللہ……

امن کے منہ سے بے ساختہ نکلا

مجھے یاد آیا مجھے مسجد جانا ہے

وہ اپنا ہاتھ نکاتے ہوۓ بولا

اس وقت لیکن اب تو عشاء کا وقت بھی ختم ہوچکا ہے تو
شائینہ نے حیرت سے کہا

نہیں کبھی کبھی مصیبت سے بچنے کے لیے خدا کو یاد کرنے مسجد چلا جاتا ہوں اور اس وقت میرا جانا بہت ضروری اوکے باۓ ……..
امن نے باۓ کہنی کی جلدی کہ وہ کسی بہانے روک ہی نا لے اور دوسری جانب چلا گیا جہاں سے باہر کا راستہ تھا

ویسے آج ہم بھی اکیلے ہیں کیا ہم آپ کے ڈانس پاٹنر بن جاۓ
انور نے مسکرا کر آفر کی تو شائنہ نے اسے ناگواری سے دیکھا اور بنا کچھ کہے آگے بڑھ گئی

💜💜💜💜💜💜💜💜💜💜

اور یہ ہے ہمارا کمرہ………….

ضارم نے اسے سارا گھر دکھا دیا تھا اور اپنے کمرے میں لے کر آیا تھا زارا خاموشی سے روم کو دیکھنے لگی جو بہت بڑا اور خوبصورت تھا

لیکن جب تک تم یہاں آؤگی یہ بدل چکا ہوگا….

اسے کلر اور ڈیکور کرکے تمہارے لائق جو بنانا ہے زندگی کا ہر لمحہ یادگار ہوگا جب تم زندگی میں اجاؤگی… مجھے تو ابھی سے محسوس ہورہا ہے سب کچھ……. جب تم وہاں گھونگٹ سے چہرہ چھپاۓ میرا انتظار کروگی…….

وہ بیڈ کی جانب اشارہ کرکے بولا زارا اندر تک سمٹ گئی

اور جب اس آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر تم تیار ہورہی ہوگی میں تمہیں وہاں سے دیکھونگا کبھی یہاں تم میری باہوں میں کبھی یہاں ہم دونوں ……..

وہ ہر جگہ کے لیے ایک پلین بناۓ بیٹھا تھا

بسسسس………

زارا نے مزید آگے بڑھنے سے پہلے ہی اسے روک دیا

مجھے جانا ہے…….

وہ نظریں جھکا کر بولی

زارا……..
ضارم نے اس کا ہاتھ پکڑنے کی گستاخی کی اور قریب کرتے ہوۓ بولا

مجھے سے تو بلکل صبر نہیں ہورہا کیوں نا آج ہی شادی کرلیں…

وہ اسے شرارت سے دیکھتے ہوۓ بولا زارا نے لرزتی پلکوں سے اسے دیکھا اور اپنے آپ کو آزاد کرکے باہر کی جابن بھاگی ضارم بھی اس کے پیچھے آیا اور ہاتھ پکڑ کر اسے روکتے ہوۓ اپنی جانب کھینچا وہ اس سے بری طرح ٹکرائی

تم یہاں……..

ضارم نے زارا کو آزاد کرتے ہوۓ کہا تو زارا نے گھبرا کر اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا جہاں امن کھڑا تھا

ہاں وہ میں واشروم دیکھ رہا تھا………

میرے ساتھ آؤ امن ……. زارا تم چلو میں آرہا ہوں

ضارم نے امن کے ساتھ ساتھ زارا کو بھی مخاطب کیا جو اچھی خاصی شرمندہ ہوکر کھڑی تھی چپ چاپ وہاں سے چلی گئی
💜💜💜💜💜💜💜

کیا ہوا چہرہ کیوں اترا ہوا ہے تمہارا ابھی تو ٹھیک تھی

وہ ہال میں آئی تو شزا نے اس کے اترے ہوۓ چہرے کو دیکھ کر کہا
.امن نے مجھے ضارم کے ساتھ دیکھ لیا… مجھے بہت خراب لگ رہا ہے
وہ منہ بناتے ہوۓ بولی

کیوں….
شزا نے حیرت سے پوچھا

یار ضارم میرے اتنے قریب تھے اور ایسے میں امن…. اففف
وہ دھیرے سے بولی

تم تو ایسے بات کررہی ہو جیسے امن نے نہیں بلکہ تمہارے ابو نے تمہیں دیکھ لیا ہے چھوڑو نا

شزا نے بے نیازی سے کہا

تمہیں یہ ڈر لگ رہا ہے کہ امن مزاق اڑاۓ گا اس بات پر
زارا کو سوچ میں گم دیکھ کر اس نے اندازہ لگاتے ہوۓ کہا زارا نے سر نفی میں ہلا دیا

ایک بات میری سمجھ میں نہیں آتی تمہاری ہر سوچ امن سے ہی کیوں شروع ہوتی ہے مطلب تمہیں یہ محسوس نہیں ہوا کہ امن کے اجانے سے ضارم کو برا لگا ہوگا بلکہ تمہیں امن کی پرواہ ہے کہ اسے کیسا لگا ہوگا

کیا بکواس کررہی ہو مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی
شزا کے بات حقیقتاً اس کے سر سے گزر گئی

سمجھ آۓ بھی تو تم سمجھنا نہیں چاہتی جانے دو
شزا نے سنجیدگی سے کہا زارا چپ ہی رہی الریڈی وہ اپنی سوچ میں گم پڑی تھی شزا سے بحث نہیں کرنا چاہتی تھی

💜💜💜💜💜💜💜💜💜💜💜