Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hamnava

By Sanaya Khan

وہ روتے ہوۓ پیچھے قدم کرتی رہی ضارم نے فورا آگے بڑھ کر اسے اپنی

گرفت میں لے لیا اس نے بہت مشکل سے پورا زور لگا کر ضارم کو پیچھے دھکیلا اور خود کو ازاد کیا وہ ضارم کو خوفزدہ نظروں سے دیکھتے ہوۓ باہری

دروازے کی جانب دوڑی دروازہ کھلا ہی تھا اسے ایک امید ملی کہ وہ وہاں سے نکل سکتی ہے لیکن

ضارم اس کے اتنے قریب اگیا تھا کہ وہ مزید گھبرا گئی پیچھے

دیکھتے ہوۓ بھاگنے میں اسے محسوس ہی نہیں ہوا اور باہر نکلتے ہی وہ سامنے پلر سے بری طرح ٹکرائی جس سے ا

س کے حواس گم ہوگۓ اور وہ سر پکڑ کر گرنے لگی مگر اسکے گرنے سے پہلے ہی اسے کسی نے سہارا دے کر سنبھال لیا جو امن تھا

امن..........

امن کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ کر زارا کو جیسے زندگی مل گئی

وہ اس سے بری طرح لپٹ گئی اور پھوٹ پھوٹ کر رودی جب کہ امن کو دیکھ کر ضارم

کافی گڑبڑا گیا امن غصے اور لعنت بھری نظروں سے ضارم کو دیکھ رہا تھا امن نے زارا کو خود سے الگ کیا اور ضارم کی جانب بڑھا اور اس کی شرٹ کی کالر اپنی مٹھی میں جکڑ کر اسے اپنی جانب کھینچا

آج تونے اپنی اوقات دکھا ہی دی مجھے غلط ثابت کرہی دیا تونے... مجھے لگا تھا تو اپنے باپ جیسا نہیں ہوگا تو شیطان کی اولاد ہوکر بھی انسان ہوگا...اسلیے تجھے یہ موقع دیا تھا صرف زارا کی خاطر..... اور تونے اسی کے ساتھ.........

امن نے اس کے منہ پر زور دار مکہ رسید کیا وہ پیچھے دیوار سے جالگا

تیری ہمت کیسے ہوئی زارا کے ساتھ زبردستی کرنے کی یاد رکھنا جب تک میں ہوں نا اسے خراش بھی نہیں آنے دونگا

ضارم کو جیسے چپ لگ گئی تھی وہ کچھ نہیں بولا با ایک. نظر زارا پر ڈالی جو نفرت اور خوف زدہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی

آج کے بعد زارا کے آس پاس بھی نظر آیا تو یاد رکھنا مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا

وہ انگلی دکھا کر بولا اور زارا کا ہاتھ پکڑ کر اسے باہر لے آیا

پندرہ دن بعد میری شادی ہے اور.یہ سب ہوگیا اب کیا ہوگا امن.....میں سب کو کیسے بتاؤنگی

وہ. مزید روپڑی

تمہیں کسی کو کچھ بتانے کی ضرورت نہیں ہے...... اس وقت خاموش ہی رہو رات کو سب پریشان ہوجاۓ گے کل. میں خود بات کرونگا اور سب کو بتاؤنگا ٹھیک ہے امن نے سمجھاتے ہوۓ کہا

رونا بند کرو زارا...... وہ روتی رہی تو امن نے دوبارہ کہا وہ امن کے لگ گئی اور زیادہ رونے لگی

تو میں کیا کروں امن......مجھے سمجھ نہیں آرہا...... . آج میری برتھ ڈے پر مجھے کیسا تحفہ دیا ہے زندگی نا

ایسا نہیں کہتے زارا کسی بھی برائی میں کوئی اچھائی چھپی ہوتی ہے اسے بھی دیکھنا چاہیے تمہیں یہ سوچ کر خوش ہونا چاہیے کہ تم ٹھیک ہو اللہ نے مجھے سہی وقت پر بھیج کر اس کے ارادوں کو ناکام کردیا تھا آگے بھی جو ہوگا وہ اچھا ہی ہوگا

امن نے اسے سمجھاتے ہوۓ کہا وہ سر اٹھا کر اسے سنجیدگی سے دیکھنے لگی

گھر چلیں

امن کے کہنے پر وہ پیچھے ہوگئی تو امن گاڑی سٹارٹ کرنے لگا لیکن وہ مسلسل اسے ہی دیکھ رہی تھی