Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 29

اتنی رات کو اندھیرے میں وہ دونوں جانے کتنی دیر سے سڑک پر بھٹک رہے تھے امن نے اب تک ایک. لفظ نہیں کہا تھا وہ مسلسل خاموش تھا جس کی وجہ سے زارا کی ہمت نہیں ہورہی تھی کہ وہ اس سے کچھ بھی پوچھ سکے شاید آج پہلی دفعہ اس نے امن کو اتنا سنجیدہ دیکھا تھا وہ لوگ کافی دور آگۓ تھے جب امن نے سڑک کے کنارے گاڑی روکی زارا فورا نیچے اتر گئی. لیکن امن اسی طرح بیٹھا رہا

امن………
اس نے بہت ہمت کرکے اسے مخاطب کیا تو امن نے خالی خالی نظروں سے اسے دیکھا

تم ٹھیک ہو نا…….

زارا نے دھیرے سے پوچھا اس نے سر اثبات میں ہلادیا اور دوبارہ سامنے دیکھنے لگا

بس تھوڑا کنفیوز ہوں…… کہ میں صحیح ہوں یا غلط……. ساری دنیا سے لڑسکتا ہے انسان لیکن اپنوں سے کیسے لڑیں……. اور جب سامنے کوئی راستہ ہی نا ہو تو ……….

امن………
زارا نے اسکے بازو پر ہاتھ رکھا

فیصلہ تو لے لیا لیکن مجھے یہ بھی نہیں پتہ کہ میں تمہیں اس وقت کہاں لےکر جاؤنگا …….کچھ سمجھ نہیں آرہا

امن نے پریشان ہوکر دونوں ہاتھوں میں سر تھامتے ہوۓ کہا

امن پلیز ریلیکس ہوجاؤ ……….

زارا نے اسے بےحد پریشان دیکھ کر کہا اس نے کچھ سوچتے ہوۓ جیب سے موبائل نکالا اور کسی کو میسیج کیا چند منٹوں تک وہ موبائل میں لگا رہا اور زارا خاموش کھڑی اطراف کا جائزہ لیتی رہی وہ. لوگ جہاں کھڑے تھے رات کے اس وقت بہت ہی سنسان جگہ تھی اور کافی اندھیرا بھی تھا دور دور تک نا کوئی لائٹ تھی نا انسان

چلو…..
امن کے کہنے پر وہ جلدی سے گاڑی پر بیٹھ گئی اور خدا کا شکر ادا کیا
امن نے ایک بلڈنگ کے پارکنگ میں گاڑی روکی اور واچ مین سے چابی لے کر زارا کا ہاتھ تھامتے ہوۓ اسے اپنے ساتھ اندر لے آیا

ہم کہاں جارہے ہیں امن
وہ لوگ لفٹ میں تھے جب زارا نے پوچھا

ایک دوست سے بات کی ہے…… اس کا فلیٹ ہے یہاں …….

امن نے مختصراً جواب دیا زارا نے سکون کی سانس لی چوتھے فلور پر آکر امن نے ایک فلیٹ کا دروازہ کھولا فلیٹ بڑا اور خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ صاف ستھرا بھی تھا شاید چند دنوں پہلے تک وہاں کوئی رہتا تھا فرنیچر اور ضروت کا تقریبا سارا سامان موجود تھا

تمہیں بھوک لگی ہوگی نا….. میں تمہارے لیے کچھ کھانے کو لے کر آتا ہوں

امن نے اسے مخاطب کرکے کہا وہ کچھ نہیں بولی امن کے جانے کے بعد وہ فلیٹ کا جائزہ لینے لگی دونوں بیڈروم اور کچن کے بعد وہ گیلیری کا دروازہ. کھول کر گیلیری میں آگئی جہاں سے باہر کا منظر بے حد خوبصورت تھا سارے شہر کا نظارہ وہاں سے کیا جاسکتا تھا اور رات کے اندھیرے میں ڈھیر ساری لائٹس کی روشنی بہت دلکش لگ رہی تھی

زارا

وہ امن کے آنے تک وہی کھڑی تھی اس کے آواز دینے پر ہال میں واپس آئی

امن یہ فلیٹ بہت اچھا ہے
اس نے خوش ہوتے ہوۓ کہا امن نے مسکرا کر سر اثبات میں ہلا دیا

💜💜💜💜💜💜💜💜

بھابھی کھانا کھا لیجیے
فرح نے تیسری دفعہ کہا امن کے جانے کے بعد سے اب تک نسیم مسلسل روۓ جارہی تھی فرح انہیں چپ کروانے کی ناکام کوشش کررہی تھی

نہیں فرح مجھے بھوک نہیں ہے
انہوں نے صاف انکار کرتے ہوۓ کہا

میرا بیٹا مجھے چھوڑ کر چلا گیا ……. اتنے دن تک میں اس سے ناراض رہی …جب کہ اس کی کوئی غلطی نہیں تھی ……..وہ میری نفرت کو برداشت کرتا رہا اور آج بھی اس کی غلطی نہیں تھی پھر بھی وہ گھر چھوڑ کر چلا گیا………… اور ایک بیٹا جس کے لیے میں نے جانے کیا کیا خواب دیکھے تھے آج وہ. سارے خواب مٹی ہوگۓ……. وہ میرے سامنے ایک مجرم کی شکل. میں کھڑا ہے اور میں چاہ کر بھی اسے سزا نہیں دے سکتی…..

نسیم. بےبسی سے کہتے ہوۓ پھر سے رونے لگی

حوصلہ رکھیے بھابھی سب ٹھیک ہوجاۓ
فرح خود نہیں جانتی تھی کہ آگے کیا ہوگا لیکن انہیں تسسلی دے رہی تھی انہیں بھی امن اور زارا کے جانے کا دکھ تھا روم کا دروازہ ناک کرکے صوفی نے ان دونوں کو اپنی جانب متوجہ کیا اور ڈرتے ہوۓ اندر آئی اور آکر نسیم کے قدموں میں بیٹھ گئی

مجھے معاف کردیجیے امی………….میں جس دن سے آپ لوگوں کی زندگیوں میں آئی ہوں آپ سب کی لائف بھی ڈسٹرب ہوچکی ہے……میں واپس جانا چاہتی ہوں کم سے میرا منحوس سایہ ہٹے گا تو سب کچھ ٹھیک ہوجاۓ گا یہاں
صوفی نے روتے ہوۓ کہا

خود کو سنبھالو بیٹا……..اس سب میں تمہاری کوئی غلطی نہیں ہے …..ہم تو خود تمہیں اب تک غلط سمجھتے رہے
فرح نے اسے زمین سے اٹھا کر اوپر بیڈ پر بٹھایا

ادنان نے جو غلطی کی ہے وہ ہم نہیں کرینگے…….. ہم تمہیں در بدر بھٹکنے کے لیے یہاں سے نہیں جانے دے گے…… بیٹی بنایا تھا تمہیں اور بیٹی بن کر ہی رہوگی یہاں ………

نسیم نے اس کے گال پر پھسلتے آنسو صاف کرتے ہوۓ کہا

پتہ نہیں امن مجھے معاف کرے گا بھی یا نہیں
وہ دوبارہ امن کو یاد کرکے رودی

💜💜💜💜💜💜💜💜💜
امن بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاۓ سامنے غور سے دیکھتا ہوا کچھ سوچ رہا تھا زارا نے اپنے کان سے ائیر رنگس نکال کر ڈریسر پر رکھے اور اسے دیکھ کر اس کے پاس آئی

امن…..

زارا نے اس کا دھیان نا پاکر بیڈ پر بیٹھتے ہوۓ اسے پکارا تو امن نے اس کی جانب دیکھا

تمہیں اس طرح نہیں کرنا چاہیے تھا بڑی امی بہت پریشان ہونگی
زارا نے جھجھکتے ہوۓ کہا

تو میں کیا کرتا زارا……… ادنان نے جو کیا میں اسے معاف نہیں کرسکتا…. اور امی….میں امی کو کیسے سمجھاؤں …..

امن نے بےبسی سے کہا اور دوبارہ سامنے دیکھنے لگا

لیکن ایسے گھر چھوڑدینے سے بھی تو سب کچھ ٹھیک نہیں ہوگا نا

کم. سے کم اس کے ساتھ ایک چھت کے نیچے رہنے سے بہتر ہی ہے …….اس کی شکل دیکھونگا تو شاید امی کی قسم بھی ٹوٹ جاۓ…….مجھے اس پر غصہ نہیں آرہا بلکہ نفرت ہورہی اس سے……. کتنے خواب دیکھے تھے امی نے چاچو نے……. اسے پڑھنے اتنی دور بھیجا…….. اس کی ہر خواہش پوری کرتے رہے آنکھیں بند کرکے بھروسہ کرتے رہے اس پر اور اس نے سب کا یقین توڑ دیا

وہ. سامنے دیکھتے ہوۓ غم وغصے سے بولا

مجھے یہ سب نہیں سوچنا ہے…… نا اس کے بارے میں کچھ سوچنا ہے……… بہت رات ہوگئی ہے تم سوجاؤ

اس نے ایک گہری سانس لے کر کہا اور رخ دوسری جانب کرکے سونے لگا زارا خاموش ہی رہی وہ جانتی تھی کہ امن بہت اپسیٹ ہے لیکن وہ غلط نہیں تھا اس کی سوچ سہی تھی

اس نے رات بھر امن کو بے چینی سے کروٹیں بدلتے محسوس کیا اور اسی وجہ سے وہ خود بھی سو نہیں پائی تقریبا صبح چار بجے امن سکون سے سوگیا لیکن زارا کو اب بھی نیند نہیں آرہی تھی اس نے کچھ دیر کوشش کی اور پھر بےزاری سے اٹھ کر روم سے باہر ہال میں آکر بیٹھ گئی اور موبائل میں ٹائم پاس کرنے لگی کچن میں کچھ سامان نہیں تھا جو وہ چاۓ یا کافی بھی بنا سکے
بور ہونے سے بہتر اس نے سوچا کہ کیوں نا تھوڑی بہت صفائی ہی کرلے کئی جگہ جالے اور دھول مٹی جمی ہوئی تھی اس نے دوپٹہ سائڈ میں رکھ کر صفائی شروع کی کچن اور ہال کے بعد بیڈروم اور گیلیری میں سب صاف ستھرا کردیا اور سارا کچرا ڈسٹبن میں ڈال کر باہر رکھ دیا صرف امن جہاں سویا تھا اس بیڈروم کو چھوڑدیا کہ اس کی نیند خراب نا ہو اسے اتنا کرکے ہی خود پر بہت فخر محسوس ہورہا تھا لیکن اب وہ اور اس کے کپڑے بے حد گندے ہوگۓ تھے دھول سے بار بار چھینکیں آرہی تھی بال اور چہرہ بھی دھول سے خراب ہوگۓ تھے اور اب وہ مزید پریشان ہوگئی تھی کیونکہ اس کے پاس پہننے کے لہے ایک بھی ڈریس نہیں تھی گھر سے تو وہ صرف اپنا ہینڈ بیگ اٹھا کر لے آئی تھی اس کے علاوہ اسنے کچھ نہین لیا تھا اس نے باری باری دونوں بیڈروم کے وارڈ روب چیک کیے جہاں اسے پہننے کے لیے کچھ مل. جاۓ مگر سب خالی تھے اس کے زہن میں کچھ ائیڈیا آیا تواس نے ہال میں صوفے پر پڑی امن کی شرٹ اٹھا کر دوسرے بیڈروم میں آگئی اور دروازہ اندر سے اچھی طرح بند کردیا جلدی جلدی نہا کر اس نے وہ شرٹ پہنی اور پھر اپنے گندے کپڑے دھوکر اچھی طرح سے نچوڑ لیے روم میں آکر انہیں پھیلا دیا اسے امن کے جاگنے سے پہلے تک کپڑوں کو سکھانا تھا کیونکہ اس حلیہ میں وہ اس کے سامنے آنے کا سوچ بھی نہین سکتی تھی شرٹ نے اسے گھٹنوں کے اوپر تک کور کیا ہوا تھا اور کپڑے دھونے سے گیلی ہوکر اس کے بدن سے پوری چپکی ہوئی تھی اسے کپڑے سکھانے کی. جلدی تھی لیکن کپڑوں کا اتنی جلدی سوکھنا ممکن نہیں تھا اس نے پورے روم میں آئرن ڈھونڈنے کی. کوشش کی تا کہ پریس کے زریعے سکھا سکے لیکن اسے نہیں ملی اسے دھیان آیا کہ اس کے بیگ میں ہئی ڈرایر ہے لیکن وہ بیگ بھی ہال میں تھا اور فیالحال وہ روم. سے باہر نکلنے کی حالت میں نہیں تھی اسے سمجھ نہیں آیا کہ اب کیا کرے پھر کچھ سوچ کر اس نے ہمت کی اور دروازہ کھولا اور وہیں سے جھانک کر دیکھا کہ امن باہر تو نہیں لیکن وہ باہر نہیں تھا شاید اب تک. روم. میں ہی سورہا تھا وہ جلدی جلدی ہال میں آئی اور فورا بیگ اٹھا کر واپس اسی روم میں آگئی اسے لگا جیسے بڑی جنگ فتح کرلی ہو اس نے جلدی سے ہئیر ڈرایر آن کیا اور گیلے کپڑوں کو سکھانے لگی ایکدم سے روم کا دروازہ کھلا اور امن اندر آیا

زارا تم یہاں ہو اور میں ……….

امن اندر آتے ہوۓ کہنے لگا لیکن زارا کو دیکھنے کے بعد اس کے باقی الفاظ ادھورے ہی رہ گۓ وہ اسے ڈھونڈتے ہوۓ یہاں آیا تھا اور اب بےحد شاک ہوکر اسے دیکھ رہا تھا لیکن اس سے بھی زیادہ شاک زارا لگ رہی تھی

امن جاؤ یہاں سے….

وہ سارے کپڑے ہاتھ میں لے کر خود کے سامنے کرتے ہوۓ خود کو کور کرنے لگی امن کے چہرے پر ایک محظوظ سی مسکراہٹ اگئی اور وہ اس کی جانب بڑھنے لگا

امن کیا کررہے ہو باہر جاؤ نا

امن کا قریب آنے کا پکا ارادہ دیکھ کر وہ فورا باتھروم کی جانب بھاگی لیکن امن نے جلدی سے اس کے سامنے آکر اس کا راستہ روک دیا وہ خوفزدہ ہوتی نظروں سے اسے دیکھتے ہوۓ پیچھے ہوتی دیوار سے جا لگی امن اسے دیکھتے ہوۓ اس کے مزید قریب ہوا زارا کی سانس رکنے لگی

امن…..
وہ اسے دیکھتے ہوۓ ہچکچا کر بولی لیکن زیادہ دیر اس کی آنکھوں میں نہیں دیکھ پائی اور نیچے دیکھنے لگی
مجھے میرے کپڑے چاہیے
امن نے شرٹ کی کالر کو کھینچتے ہوۓ زومعنی لہجے میں کہا زارا نے فورا نظریں اٹھا کر اسے دیکھا

میں …….دے دونگی………….. ابھی……..چینج…… کرکے

وہ ہکلاتے ہوۓ بولی امن نے سر نفی مییں ہلادیا
مجھے ابھی چاہیے………. ناؤ

وہ اس کے کپکپاتے ہونٹوں کو دیکھ اوپری بٹن کو چھیڑتے ہوۓ بولا زارا نے اسے قریب ہوتے دیکھ جلدی سے دھکا دے کر پیچھے کیا اور بنا دیر کیے باتھ روم مین گھس گئی

زارا دروازہ کھولو…… مجھے تمہیں دیکھنا ہے
امن نے دروازے کے قریب جاکر شرارت سے کہا

شٹ اپ گندے کہیں کے ……جاؤ یہاں سے
زارا چلا کر بولی تو وہ ہنسنے لگا

اوکے میں جارہا ہوں تم جلدی سے باہر اجانا…..
وہ مسکرا کر بولا اور باہر آگیا زارا نے محسوس کیا کہ. وہ جاچکا ہے تو سکون کی سانس لی کپڑے ٹھیک سے سوکھے نہیں تھے لیکن پھر بھی جلدی سے پہن لیے اب اسے بہت برا لگ رہا تھا کیونکہ وہ جانتی تھی کہ امن اس بات پر اسے بہت تنگ کرے گا
💜💜💜💜💜💜💜💜💜