Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 34

زارا نے کئی بار ضارم کی کال کاٹ کر اسے اگنور کرنا چاہا لیکن مسلسل بجتی بیل نے اسے کال لینے پر مجبور کردیا
ہیلو
اس نے جھنجلاکر فون کان سے لگایا

ہیلو زارا……. کیسی ہو تم
ضقرم نے اسکی ناگواری کو مکمل طور پر نظر انداز کرکے پوچھا

جب میں آپ سے بات نہیں کرنا چاہتی تو آپ کیوں مجھے بار بار فون کرکے تنگ کررہے ہیں
زارا نے بجاۓ جواب دینے کے بےزاری سے کہا پہلے ہی وہ امن کے رویے کو لے کر کل رات سے پریشان تھی اور وہ رات سے نا گھر آیا تھا نا کوئی کال کی تھی اوپر سے ضارم کے فون نے اسے اور بدمزہ کردیا

میں صرف یہ جاننا چاہتا ہوں کہ امن نے کیا کہا کیا اس نے طلاق کے کاغذات ہر دستخط کردیے

ضارم نے بے چینی سے پوچھا زارا نے اسے امن کی شرط بتائی تھی تو اس نے خود ہوکر اگلے ہی دن اسے وہ پیپرس تیار کرکے دیے تھے زارا کو یقین تھا کہ جب تک امن کی شرط پوری نہیں ہوگی وہ اس کی بات نہیں مانے گا اور اگر اس نے نقلی پیپرس سے بھی کام لیا تو امن کو سمجھے میں زیادہ وقت نہین لگے گا اسلیے اسے ضارم کی بات ماننا سہی لگا لیکن اس نے اسی وقت اسے بتادیا تھا کہ وہ صرف امن سے طلاق چاہتی ہے لیکن ضارم کو دوسرا موقع کبھی نہیں دے گی

نہیں……….اور میری ایک بات آپ غور سے سن لیجیے…… میں آپ سے پہلے بھی کہہ چکی ہوں اور اب بھی کہہ رہی ہوں کہ مجھ سے کوئی ایسی ویسی امید مت رکھیے گا میں امن سے طلاق ضرور لینا چاہتی ہوں لیکن آپ کے لیے نہیں میری زندگی میں اگر امن نہیں تو کوئی نہیں آپ تو ہرگز نہیں….. اسلیے آپ میرے اس معاملے میں زیادہ دلچسپی نا لیں تو بہتر ہوگا آپ کے پیپرس آپ کو واپس مل جاۓ گے

اس نے اسے اچھی طرح واضح کرکے فون بند کردیا وہ پھر سے امن کے بارے میں سوچ رہی تھی پتہ نہیں وہ کہاں تھا ڈور بیل کی آواز پر اس کی جان میں جان آئی اور اس نے جلدی سے دروازہ کھولا لیکن باہر امن کی بجاۓ انور کو دیکھ کر چونک گئء

انور بھائی آپ
وہ اسے دیکھ کر حیرت سے بولی

زارا بی بی آپ جلدی سے ہمارے ساتھ چلیے
انور نے پریشانی سے کہا

کہاں…. اور امن کہاں ہے

آپ چلیے تو سہی ہم آپ کو راستے میں سب بتاتے ہیں
انور نے کہا تو وہ بنا کچھ پوچھے دروازہ لاک کرکے باہر نکل گئی
انور بھائی اب تو بتائے کیا ہوا
انور کے پیچھے پیچھے وہ نیچے تک آئی اور انور نے گاڑی اسٹارٹ کی تو بےچینی سے بولی

امن بھیا ہسپتال میں ہے
انور نے دھیرے سے جواب دیا

کیا….. کیا ہوا اسے
زارا نے شاک. ہوکر پوچھا

کچھ گنڈوں نے ان پر حملہ کردیا تھا اور ان پر گولی چلائی
انور نے مختصر سا جواب دیا زارا بے آواز روپڑی

پلیز جلدی چلائیں
وہ بے صبری سے بولی اس کا دل. کیا کہ کسی بھی طرح پلک جھپکتے ہی امن کے پاس پہنچ جاۓ

💜💜💜💜💜💜💜💜💜

زارا انور کے ساتھ اندر آئی تو ڈاکٹر امن کے بازو پر پٹی باندھ رہا تھا وہ بیڈ سے ٹیک لگاۓ بیٹھا تھا اور اس کی شرٹ ادھی سائڈ سے اتری ہوئی تھی اس کے سر پر بھی سفید پٹی بندھی ہوئی تھی وہ وہیں دروازے میں رک. کر اسے دیکھنے لگی

اسے یہاں کیوں لے کر آۓ انور
امن کی نظر اس پر پڑی تو انور کی جانب دیکھ کر بولا

ہاں مجھے یہاں لے آکر کیوں آۓ اس جیمس بونڈ کو کسی سے کیا لینا دینا اسے تو بس ہیرو گری کرنی ہے
زارا اپنی ٹینشن کو بھول کر اس کی بات پر بھڑکتے ہوۓ اس کے پاس آئی

دیکھا مجھے پتہ تھا ڈرامہ شروع ہوگیا
امن نے آہ بھرتے ہوۓ کہا

کیا ضرورت ہے ہیرو بننے کی جب دیکھو بے کار لوگوں سے الجھتے رہتے ہو دیکھو کیا ہوگیا کچھ ہوجاتا تمہیں تو

وہ اپنے آنسو صاف کرتے ہوۓ بولی

اچھا ہے نا مرجاتا تو تمہارے سارے مسلے ختم ہوجاتے
امن نے سنجیدگی سے کہا

بکواس مت کرو ورنہ اپنے ہاتھوں سے مار کر سارے مسلیے ختم کردوں گی
زارا نے چڑ کر کہا امن نے تاسف سے سر ہلا دیا ڈاکٹر بھی ان کی نوک جھوک پر ہنس رہا تھا

آپ کی وائف بھی ایسی ہی ہے کیا ڈاکٹر

امن نے سنجیدگی سے سوال کیا جس پر ڈاکٹر صرف ہنس دیا جب کہ زارا نے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا

فکر کی بات نہیں ہے بیٹا گولی چھوکر گزر گئی زخم بہت جلد بھر جاۓ گا
ڈاکٹر نے زارا کو تسسلی دیتے ہوۓ کہا اور خود باہر چلے گۓ زارا آکر بیڈ پر اس کے قریب بیٹھ گئی اور اسے خاموشی سے دیکھنے لگی

یہ زخم تو بھر ہی جاۓ گا لیکن اور بھی بہت سارے زخم ہے جو کسی دوائی سے بھی نہیں بھر سکتے
امن اسے خاموش دیکھ کر سنجیدگی سے بولا اور اسے دیکھنے لگا تب ہی ادنان وہان آیا تو اسے دیکھ کر زارا فورا اٹھ گئی

بھائی آپ ٹھیک تو ہے نا
ادنان اس کے پاس بیٹھتے ہوئے بولا امن نے نظروں دوسری جانب کرلیں

انور ڈاکٹر سے پوچھو گھر کب جاسکتے ہیں مجھے یہاں بہت بور لگ رہا ہے
امن نے اسے اگنور کرکے نارمل انداز میں انور کو مخاطب کیا

بھائی پلیز مجھے ایسے نظر انداز مت کیجیے میں جانتا ہوں آپ مجھ سے ناراض ہے لیکن آج میں آپ کی ناراضگی دور کرنے آیا ہوں آپ کو گھر لے جانے آیا ہوں
ادنان نے کہا تو امن نے اس کی جانب دیکھا لیکن کچھ کہا نہیں

میں بھول گیا تھا آپ سب کا پیار میں راستہ بھٹک گیا تھا دولت اور شہرت کی چمک نے میری آنکھوں پر پردہ ڈال دیا تھا نا مجھے کسی کا درد دکھائی دیا نا کسی کا خون مجھے کبھی احساس نہیں ہوا کہ میں غلط راستے ہر ہوں آپ نے اور امی نے آج تک میرے لیے جو کچھ کیا وہ سب فراموش کر بیٹھا میں یہ جانتے ہوۓ کہ میرا بھائی ایک ایماندار اور سچا انسان ہے میں نے برائی اور جھوٹ کو چنا بنا یہ سوچے کہ میں میرے اپنوں کو تکلیف دے رہا ہوں اس کھوکھلے. مستقبل کے آگے مجھے صوفی کی محبت اس کی بے بسی تک بھول گئی اسے دربدر بدنام ہونے کے لیے چھوڑدیا میں نے میرے گناہوں میں سب سے بڑا گناہ وہ ہے جو میں نے آپ کو او امی کو الگ کرکے کیا ہے لیکن اب میں اپنے سارے گناہوں کا مداوا کرنا چاہتا ہوں پلیز بھائی ایک موقع دے دیجیے مجھے میں میرے ساتھ گھر چلیے میں آپ کو امی کو ایک ساتھ دیکھنا چاہتا ہوں اس کے بعد جیسا آپ چاہتے ہیں ویسا ہی کرونگا میں خود کو پولیس کے حوالے کردونگا
کہتے کہتے اس کی آنکھیں بھیگ گئی تھی امن نے اس کی باتوں میں سچائی کو اس کے انسوں میں پچھتاوا محسوس کیا تھا زارا نے بھی خوش ہوکر دل سے دعا کی کہ اب سب ٹھیک ہوجاۓ

مجھے معاف کردیجیے بھائی پلیز مجھے معاف کردیجیے
امن اب بھی خاموش تھا ادنان روتے ہوۓ اس کے گلے لگ گیا امن نے اسے معاف کرتے ہوۓ گلے سے لگا لیا اپنے بھائی کو روتے دیکھ چاہ کر بھی وہ اپنے جزبات پر کنٹرول نہیں رکھ پایا جلدی سے اپنی رگڑ کر اسے خود سے الگ کیا اور اس کے گال ہر ہلکی سی چپت لگائی

گھر چلیے بھائی جب سے آپ گھر سے گئے ہے امی بھی ٹوٹ گئیں ہے ایک پہلی اور آخری خوشی دینا چاہتا ہوں انہیں …
ادنان ریکویسٹ کرتے ہوے بولا امن ہلکا سا مسکرادیا اور سر اثبات مین ہلادیا
💜💜💜💜💜💜💜💜💜💜
امن کے واپس آنے سے دوبارہ ان کے گھر میں خوشیاں آگئی تھی اسے گولی لگنے والی بات جان کر سب پریشان ضرور ہوۓ تھے لیکن اس کی واپسی کی خوشی نے اس پریشانی کو کم کردیا تھا ادنان نے سچے دل سے صرف نسیم سے ہی نہیں بلکہ صوفی سے بھی معافی مانگی تھی اور صوفی اس کے اس فیصلے پر بہت خوش تھی اس نے امن کو واپس لاکر اور اس کی بات مان کر ان سب کو جو تحفہ دیا تھا اس کے بعد سب کے دل اس کے لیے نرم. ہو چکے تھے اس نے اپنے وعدے کے مطابق اسی دن خود کو پولیس کے حوالے کردیا تھا اور اپنے سبھی جرم کا اقبال کرلیا تھا ماں ہونے ناطے نسیم اس کے اس فیصلے پر دکھی ضرور ہوئی تھی لیکن انہیں احساس تھا کہ ان کا بیٹا اپنی غلطی کا مداوا کررہا ہے امن نے پہلے ہی کمشنر سے بات کرکے س
انہیں سب بتادیا تھا اور انہیں نے اسے یقین دلایا تھا کہ وہ اس کی پوری مدد کرے گے کہ ادنان کو سرکاری گواہ بننے پر کم سے کم سزا ملے