Fakhar shah by Zainab Ansari NovelR50580 Fakhar shah (Last Episode)
Rate this Novel
Fakhar shah (Last Episode)
Fakhar shah by Zainab Ansari
تو تم نے سوچ لیا ہے کہ تم بھائی کو سب کچھ بتا دو گی!!!! ہاد نے اپنے ساتھ بیٹھی ہالے سے پوچھا وہ دونوں اس وقت گاڑی میں بیٹھے تھے جو کہ ابھی ابھی شاہ حویلی میں داخل ہوئی تھی
بتانا ہی پڑے گا شاہ جی بہت سٹیرس لے رہے ہیں!!! ہالے نے کہا
پلیز ہالے ذرا احتیاط سے تم جانتی ہو نا ڈاکٹرز نے کیا کہا تھا!!! ہاد نے کہا
ہاں مجھے یاد ہے تم فکر نا کرو میں سنبھال لوں گی!!! ہالے بولتی اندر بڑھ گئی زرغام کے کمرے کے باہر پہنچ کر وہ کچھ دیر رکی پھر گہری سانس لیتی اندر داخل ہوئی جہاں وہ بیڈ پر لیٹا گھڑی دیکھتے ہوئے شاید اسی کا انتظار کر رہا تھا
آج تمہیں دیر ہو گئی؟؟؟ زرغام نے پوچھا لہجہ بے لچک تھا ہالے نے گلہ تر کیا
جی ٹریفک جام تھا!!!! ہالے بیڈ پر بیٹھتی بولی جس پر زرغام نے سمجھنے والے انداز میں سر ہلایا ہالے نے ایک نظر اس کے سپاٹ چہرے کو دیکھا آج وہ سچ جانے بغیر نہیں ماننے والا تھا
تو پھر شروع کریں؟؟؟ زرغام نے پوچھا
جی!!! ہالے گہری سانس لیتی بولی
تو ٹھیک ہے میں پوچھو گا اور تم سب سچ سچ بتاؤ گی اوکے؟؟؟ زرغام نے کہا
جی!!! ہالے بولی
صبح صبح کہاں جاتی ہو تم؟؟؟ زرغام نے سپاٹ لہجے میں پوچھا
گاؤں کے پرائمری سکول کو ہاد نے ہائی سکول میں تبدیل کردیا ہے شروع میں بہت کم بچیاں پڑھنے آتی تھیں کیونکہ لڑکیوں کو تعلیم دلوانا گاؤں میں معیوب سمجھا جاتا تھا اس لیے سرپنچ بنتے ہی ہاد نے پورے گاؤں میں اصول بنا دیا تھا کہ ہر لڑکی پر تعلیم حاصل کرنا لازم ہو گا اس فیصلے کی بہت مخالفت بھی کی گئی اور بہت سے لوگوں نے اسے ماننے سے بھی انکار کر دیا لیکن ہاد کے سختی کرنے پر لوگ ناچار ماننے لگے لیکن اب بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جو نہیں چاہتے کہ ان کی بچیاں سکول جائیں بہت سی مائیں اپنی بچیوں کو اپنے شوہر کے علم میں لائے بغیر سکول بھیجتی ہیں اس لیے آئے روز کوئی نہ کوئی ہنگامہ کھڑا ہو جاتا ہے سکول میں اس لیے میں نے اور ہاد نے طے کیا تھا جب تک سکول کی چھٹی نہیں ہو جاتی میں وہیں رہوں گی تاکہ اگر کوئی مسئلہ ہو تو سنبھال سکوں!!!!! ہالے بول کر خاموش ہوئی پھر ایک نظر زرغام کو دیکھا وہ بس سپاٹ چہرہ لیے اسے سن رہا تھا
سکول سے فارغ ہونے کے بعد کہاں جاتی ہو؟؟؟ زرغام نے پوچھا
وہاں سے سیدھا شہر جاتی ہوں وہ آآآآآآآآ ہالے بولتی خاموش ہو گئی
آگے بولو!!!! زرغام نے سخت لہجے میں کہا ہالے کے ماتھے پر پسینہ آنے لگا
وہ میں نے آپ سے ایک جھوٹ بولا تھا!!! ہالے ڈرتے ہوئے بولی
ہممممممم میں سن رہا ہوں!!! زرغام نے کہا
وہ آآآآآآآآ آپ غصہ تو نہیں کریں گے؟؟؟ ہالے نے پوچھا
یہ تو اس بات پر منحصر ہے کہ تم نے کیا جھوٹ بولا ہے مجھ سے!!!! زرغام بولا
وہ شاہ جی میں شہر آغا جان کو دیکھنے جاتی ہوں!!!! ہالے نے کہہ کر آنکھیں میچ لیں جبکہ زرغام ایک دم سیدھا ہوا
کیا؟؟؟؟ آغا جان؟؟؟ آغا جان زندہ ہیں؟؟؟ بولو ہالے نور!!!! زرغام بے چینی سے بولا
جی وہ آغا جان کو ہم نے شہر بھجوا دیا تھا جب آپ ہوش میں آئے تھے!!!! ہالے نے جھکے چہرے کے ساتھ کہا
کیوں؟؟؟ زرغام نے بے چینی سے پوچھا
ڈاکٹر نے کہا تھا کہ آپ کو کسی قسم کا سٹریس نہیں دینا کیونکہ کسی بھی شاک سے آپ واپس کومے میں جا سکتے ہیں اس لیے آپ کے ہوش میں آتے ہی ہم نے آغا جان کو شہر بھجوا دیا تھا تاکہ آپ انہیں اس حال میں نا دیکھ سکیں!!! ہالے نے کہا
کیا مطلب؟؟؟ زرغام نے پوچھا
شاہ جی اس ایکسیڈنٹ سے ایک ماہ بعد بہت کچھ بدل گیا تھا!!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماضی:-
ڈاکٹر صاحب زرغام کب تک ہوش میں آئے گا؟؟؟ شازل شاہ نے بے ہوش پڑے زرغام کو دیکھ کر کہا وہ اسے واپس شاہ حویلی کے آئے تھے
دیکھیں کچھ کہہ نہیں سکتے ایکسیڈنٹ بہت سیریس تھا اوپر سے گولیاں لگنے سے ان کی کنڈیشن اور خراب ہو گئی ان کا ہوش میں آنا کوئی معجزہ ہی ہو سکتا ہے!!! ڈاکٹر نے کہا جس پر دروازے میں کھڑی انشرح کی آنکھیں بے اختیار نم ہوئیں وہ آنسو صاف کرتی تیزی سے نائل کے کمرے کے باہر پہنچی اس نے زور سے دروازا نوک کیا
کیا مصیبت ہے کون مر گیا ہے جو اس طرح دروازا بجا رہی ہو؟؟؟ نائل باہر نکلتا غصے سے بولا انشرح اسے اندر دھکا دیتی خود بھی اندر داخل ہوئی اس کے انداز پر زرغام کے کمرے کی طرف جاتی ہالے چونکی اس نے تھوڑا سا دروازا کھل کر اندر جھانکا جہاں وہ دونوں آمنے سامنے کھڑے تھے
یہ کیا بدتمیزی ہے؟؟؟ نائل غصے سے بولا انشرح نے کچھ پل اسے دیکھا پھر اگلے ہی لمحے
چٹاخ!!!!!
نائل منہ پر ہاتھ رکھے حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا جس کی آنکھوں سے آنسوں بہہ رہے تھے
تم!!!!
بے غیرت انسان میں نے تمہاری مدد کی تھی تاکہ تم ہالے کو راستے سے ہٹاؤ نا کہ شاہ جی کو!!!! انشرح غصے سے بولی جبکہ اس کی بات پر باہر کھڑی ہالے کو لگا کہ آسمان اس کے سر پر گر گیا ہے
ہاں تو اگر وہ نہیں مری تو اس میں میرا کیا قصور ہے ہاں اور تم اپنا منہ بند رکھو سمجھی اگر ہالے زندہ ہے تو اس میں میری غلطی نہیں ہے!!! نائل بولا
تمہاری غلطی نہیں ہے؟؟؟ یہ سب صرف اور صرف تمہاری غلطی ہے سمجھے!!! بہت غلط کیا میں نے تمہارا ساتھ دے کر سب سمجھتی ہوں میں تم نے جان بوجھ کر شاہ جی کو مروانا چاہا کیونکہ ہالے پر نظر ہے تمہاری!!!!
ہاں تو کیا غلط کیا تمہیں کیا لگتا ہے میں زرغام کو اپنی اتنی بے عزتی کرنے کے بعد یونہی چھوڑ دوں گا بہت دھڑلے سے کہہ کر گیا تھا نا کہ دور رہو میری بیوی سے اب رکھ کر دیکھائے مجھے دور اپنی بیوی سے!!!! نائل خباثت سے بولا
بکواس بند کرو اپنی تمہیں کیا لگتا ہے میں تمہیں یوں ہی چھوڑ دوں گی بلکل نہیں مجھ سے غلطی ہوئی کہ میں تمہاری باتوں میں آ گئی لیکن اب تم دیکھنا میں کیسے تمہاری اصلیت سب کے سامنے لاؤں گی!!! انشرح بولی جس پر نائل کی آنکھوں میں ایک دم سرخی اتری
اگر ایسا سوچا بھی تو جان نکال دوں گی تمہاری سمجھی!!! نائل اس کے بال مٹھی میں دبوچے بولا
آہ جنگلی انسان چھوڑو مجھے!!!! انشرح خود کو چھوڑاتی بولی اس سے پہلے کہ نائل کچھ بولتا کسی نے کالر سے پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچا بغیر اسے سمجھنے کا موقع دیے ہالے نے زور دار تھپڑ اسے رسید کیا
بے غیرت انسان تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے شاہ جی کو چھونے کی؟؟؟ ہالے نے منہ پر ہاتھ رکھے کھڑے نائل سے پوچھا وہ بھیگے ہوئے چہرے سے اسے دیکھ رہی تھی آنکھوں میں نفرت تھی
تمہیں تو میں!!!!! نائل نے اس پر ہاتھ اٹھانا چاہا پر ہالے نے اس کا ہاتھ ہوا میں ہی روک لیا پھر اس کی کلائی مڑوری نائل نے چونک کر اسے دیکھا اس کا یہ روپ اس کے لیے نیا تھا نائل نے اپنی ہاتھ چھڑوانا چاہا پر ہالے کی گرفت سخت تھی وہ کہیں سے بھی وہ کمزور سی ہالے نور نہیں لگ رہی تھی ہالے نے جھٹکے سے اس کا ہاتھ چھوڑا
میں تمہیں نہیں چھوڑوں گی نہیں دیکھنا اب میں تمہارا کیا حال کرتی ہوں!!! ہالے بولتی انشرح کا ہاتھ پکڑے نیچے چل دی نائل نے چہرے پر ہاتھ پھیرا پھر ایک دم اس کی آنکھوں میں خون اترا ڈریسنگ ٹیبل سے اپنی گن نکالے وہ ان کے پیچھے لپکا
آغا جان!!!!!!
آغا جان!!!! ہالے نے نیچے لاونج میں بیٹھے آغا جان کو پکارا باقی گھر والے بھی ادھر ہی موجود تھے اس کی آواز پر سب متوجہ ہوئے
کیا بات ہے ہالے کیوں چیخ رہی ہو؟؟؟ نسرین بیگم نے کہا
یہ سوال آپ اپنی بیٹی سے پوچھیں!!! ہالے بولی جس پر سب کی نظر روتی انشرح پر اٹھیں
کیا کیا ہے اس نے؟؟؟ آغا جان نے پوچھا
اس نے اور نائل نے ہمیں مارنے کی کوشش کی ہے میرے شاہ جی کی یہ حالت اس کی وجہ سے ہے!!! ہالے غصے سے بولی
انشرح یہ کیا کہہ رہی ہے؟؟؟ شازل شاہ نے پوچھا
انشرح کچھ بولو بھی ہالے کیا کہہ رہی ہے؟؟؟ شازم شاہ نے کہا
بابا یہ سچ ہے نائل کے کہنے پر میں نے شاہ جی کو کال کر کے یہاں بلایا تھا اس نے کہا تھا کہ راستے میں ان پر فائرنگ کروا کر وہ ہالے کو مروا دے گا لیکن اس نے جان بوجھ کر شاہ جی پر حملہ کروایا وہ ان سے بدلہ لینا چاہتا تھا مجھے سچ میں نہہہ
چٹاخ!!!!!!!! انشرح کے باقی الفاظ منہ میں رہ گئے تھے جب ایک زور دار تھپڑ اس کے منہ پر پڑا تھا اور وہ تھپڑ مارنے والی کوئی اور نہیں کوثر جہاں تھیں
بے غیرتوں تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے بچوں کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی؟؟؟ کوثر جہاں غصے سے بولیں
نائل!!!!!!!!!
نازیہ بیگم کے چیخنے پر سب نے سیڑھیوں کی طرف دیکھا جہاں نائل ہاتھ میں گن پکڑے کھڑا تھا اس کا نشانہ ہالے تھی دفعتاً نے فائر کیا
ٹھاہ!!!!!!
ہالے پھٹی پھٹی نظروں سے سامنے دیکھ رہی تھی جہاں کوثر جہاں ایک دم سے اس کی ڈھال بن کر سامنے آ گئیں تھی گولی ان کے سینے میں لگی تھی
اماں جان!!!!! شازل شاہ اور شازم شاہ ایک دم ان کی طرف لپکے جبکہ آغا جان بس دل پر ہاتھ رکھتے صوفے پر ڈھہ گئے
اماں جان خدا کے لیے آنکھیں کھولیں!!! شازم شاہ ان کا چہرہ تھپکتے ہوئے بولے ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے
ہہ ہالے!!! کوثر جہاں نے پکارا وہ جو نم آنکھوں سے انہیں دیکھ رہی تھی ان کے پاس گھٹنوں کے بل آ بیٹھی
بب بیٹا مم مجھے معاف کککک کر ددد دو!!! کوثر جہاں بامشکل بولیں ہالے نے ایک دم ان کا ہاتھ تھام لیا
نانو خدا کے لیے ایسا نا کہیں مجھے آپ سے کوئی شکائت نہیں ہے!!! ہالے ان ہاتھ چومتے ہوئے بولی کوثر جہاں جیسے یہی سننے کا انتظار کر رہی تھیں انہوں نے اس کے گال پر ہاتھ پھیرا پھر ان کی آنکھیں بند ہو گئیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہالے بول کر خاموش ہوئی پھر ایک نظر اسے دیکھا جس کی آنکھوں سے آنسوں بہہ رہے تھے
شاہ جی پلیز ایسا مت کریں!!! ہالے اس کے آنسو صاف کرتی بولی زرغام نے گیلی سانس اندر کھینچی
نائل کے ساتھ کیا ہوا؟؟؟ زرغام نے پوچھا
وہ تب تو بھاگ گیا تھا لیکن بعد میں اریسٹ ہو گیا عدالت نے عمر قید کی سزا دی ہے اس کے جیل جانے کے بعد شازم مامو اور ممانی دونوں بیرونے ملک چلے گئے شازل مامو نے اپنے ایک جاننے والے کے بیٹے سے انشرح کی شادی کروا دی وہ بھی چھ ماہ پہلے اپنے شوہر کے ساتھ بیرونے ملک چلی گئی ہے!!! ہالے بولی
اور آغا جان؟؟؟ زرغام نے پوچھا
آغا جان کو آدھے جسم کا فالج ہو گیا ہے اس لیے آپ کے ہوش میں آتے ہی ہم نے انہیں شہر بھجوا دیا تھا!!! ہالے نے کہا جس پر زرغام نے سر ہلایا اس کی آنکھوں میں ابھی بھی نمی تیر رہی تھی
مجھے آغا جان سے ملنا ہے!!! زرغام بولا
جی ٹھیک ہے اس ہفتے آپ کے چیک اپ کے لیے بھی جانا ہے تو واپسی پر آغا جان سے بھی مل لیں گے!!! ہالے بولی جس پر زرغام نے سمجھنے والے انداز میں سر ہلایا دفعتاً وہ چونکا
رکو ذرا شام میں تم شہر سے آتی ہو پھر ایک زنان خانے میں ہوتی ہو لیکن رات کے کھانے کے بعد کہاں جاتی ہو؟؟؟ زرغام نے یاد آنے پر پوچھا
وہ!!! میں ہوسپٹل جاتی ہوں دن میں مصروفیات کی وجہ سے میں نائٹ شفٹ کرتی ہوں!!! ہالے نے مسکرا کر کہا
ہوسپٹل؟؟؟ نائٹ شفٹ؟؟؟ زرغام نے ناسمجھی سے دہرایا
آپ کی اطلاع کے لیے بتا دوں میں اس ملک کی جانی مانی سرجن ہوں ڈئیر ہسبنڈ!!! ہالے نے ایک ادا سے کہا زرغام نے پوری آنکھیں کھول کر اسے دیکھا
واقعی؟؟؟ زرغام نے حیرت سے پوچھا
جی بلکل!!! ہالے بولی زرغام نے کچھ پل اسے دیکھا پھر ایک دم اسے خود میں بیچ لیا ہالے نے اس کے سینے سے سر اٹھا کر حیرت سے اسے دیکھا
بیگم اکیلی جان اور اتنے کام اور اس ٹائم ٹیبل میں بیچارے شوہر کو کیوں نظر انداز کیا ہاں؟؟؟؟ زرغام نے مصنوعی غصے سے پوچھا
وہ اس لیے کیونکہ جب بھی میں آپ کے پاس آتی تھی آپ پوچھتے تھے کہاں تھی کہاں جا رہی ہو آپ سے جھوٹ بولنے کا دل نہیں چاہتا تھا اس لیے!!!!!
اس لیے تم نے سوچا کہ کیونکہ شاہ جی کے منہ ہی لگا جائے تاکہ ان کے سوالوں کے جواب نا دینے پڑیں ہے نا؟؟؟ زرغام بولا جس پر ہالے نے نیچلا لب دانتوں تلے دبا کر اسے دیکھا پھر ہاں میں سر ہلایا زرغام نے اسے گھوری سے نوازا پھر اس کا ماتھا چوما جس پر ہالے مسکرا دی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تین سال بعد:-
ہیلو جی شاہ جی!!!! ہالے کال ریسیو کرتی بولی وہ ابھی ایک سرجری کے بعد اپنے کیبن میں آ کر بیٹھی تھی جب فون پر زرغام کی اتنی ساری مسڈ کالز دیکھ کر چونکی
کہاں ہو تم؟؟؟ زرغام نے غصے سے پوچھا
آآآآآ ہوسپٹل!!! ہالے بولی
ابھی کے ابھی گھر آؤ!!!! زرغام نے کہہ کر کال کاٹ دی ہالے نے کان سے ہٹا کر فون کو دیکھا پھر بے اختیار مسکرا دی یقیناً زرغام سے بچے نہیں سنبھل رہے ہوں گے اسی لیے اتنے غصے میں تھا وہ مسکراتی ہوئی اپنے کیبن سے نکلی تقریباً پندرہ منٹ بعد وہ شاہ حویلی میں داخل ہوئی
اسلام و علیکم آغا جان!!!! ہالے نے اندر داخل ہوتے ہوئے آغا جان کو سلام کیا جو کہ لاونج میں ویل چیئر پر بیٹھے تھے وہ بات نہیں کر پاتے تھے بس اشاروں سے ہی جواب دیتے تھے پاس کی رمشاء بیٹھی اپنے دو سالہ عمر کو چاول کھلا رہی تھی
وعلیکم السلام شکر ہے خدا کا تم آ گئی ذرا اپنے کمرے میں جا کر دیکھو کیا ادھم مچایا ہوا ہے تمہارے لاڈلوں نے!!!! رمشاء نے مسکرا کر کہا جس پر ہالے مسکراتی ہوئی اوپر چل دی اس نے اپنے کمرے کا دروازا کھولا تو اسے حیرت کا جھٹکا لگا سارا کمرہ بکھرا پڑا تھا بیڈ کے تکیے زمین پر پڑے سلامی دے رہے تھے بیڈ شیٹ نیچے فرش پر جھول رہی تھی ڈریسنگ ٹیبل کی ساری چیزیں کچھ اوپر کچھ نیچے تھیں اور ان سب کے بیچوں بیچ زرغام اپنے دونوں جڑواں بیٹوں حمزہ اور علی کو اٹھائے کھڑا تھا
یہ سب کیا ہے؟؟؟ ہالے نے حیرت سے پوچھا جبکہ اس کی آواز پر زرغام غصے سے پلٹا
کیا مطلب ہے تمہارا ہاں؟؟؟ اپنے یہ دو جن کھلے عام چھوڑے ہوئے ہیں اور پوچھ رہی ہو کہ یہ سب کیا ہے ساری دنیا کا ٹھیکہ لے رکھا ہے تم نے مجھ غریب کو بھی پوچھ لیا کرو کبھی!!!! زرغام تو جیسے پھٹ پڑا تھا
آف شاہ جی ایسا بھی کیا ہو گیا ہے اور یہ کمرے کی کیا حالت بنائی ہوئی ہے؟؟؟ ہالے نے پوچھا
یہ اپنے ان نمونوں سے پوچھو انہیں بیٹھا کر شاور لینے گیا تھا واپس آیا تو ایسا لگا کہ شاید کمرے میں طوفان آیا تھا دس منٹ میں حشر نشر کر دیا انہوں نے ہر چیز کا اور اگلے تیس منٹ میں میرا بھی!!! زرغام بولا جس پر ہالے مسکرا دی جبکہ زرغام کے ماتھے پر مزید بل پڑے
کس بات کی ہنسی آ رہی ہے تمہیں؟؟؟ زرغام نے غصے سے پوچھا جس پر ہالے ایک دم سنجیدہ ہوئی
اچھا آپ انہیں مجھے دیں جائیں تھوڑی دیر آغا جان کے پاس چلے جائیں تب تک میں کمرہ صاف کر لوں اور انہیں بھی نہلا لوں!!! ہالے اس سے دونوں کو لیتی بولی جس پر زرغام سر ہلاتا نیچے چل دیا ہالے نے ایک نظر گھڑی کو دیکھا جہاں نو بج رہے تھے پھر اپنے دونوں بچوں کو اٹھائے واش روم کی طرف چل دی قریباً دس بجے زرغام کمرے میں داخل ہوا تو کمرے میں قدرے اندھیرا تھا صرف سائڈ لیمپ اون تھے پورا کمرہ اصل حالت میں واپس آ چکا تھا ایسے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا بیڈ پر اس کے دونوں جن مزے سے سو رہے تھے پاس ہی ہالے بیٹھی پیار سے ان کے بال سہلا رہی تھی
سو گئے تمہارے نمونے؟؟؟ زرغام بیڈ پر بیٹھتا بولا
جی سو گئے!!! ہالے نے مسکرا کر کہا
ویسے ماننا پڑے گا ایک گھنٹے میں پورا کمرہ صاف کر لیا بچوں کو بھی نہلا لیا کپڑے چینج کر کے سلا بھی دیا اتنی سپیڈ حیرت ہے بھئی!!! زرغام نے مسکرا کر کہا
ہم لڑکیاں چاہیں تو سب کچھ کر سکتی ہیں شاہ جی ہمیں خود سے کم نہ سمجھیں!!! ہالے نے مسکرا کر کہا
جی بلکل آپ ہم سے کسی صورت کم نہیں ہیں بلکہ بعض دفع آپ ہم سے سبقت لے جاتی ہیں بس آپ کو خود کو پہچاننے کی ضرورت ہے ایک بار آپ خود کو یہ باور کروا لیں کہ آپ کوئی بیکار چیز نہیں ہیں تو پھر کوئی اور آپ کا کچھ نہیں بیگار سکتا!!! زرغام نے کہا
یہی تو کمی ہے ہم لڑکیوں میں شاہ جی ہم سمجھتیں ہیں کہ ہمیں زندگی میں ایک محافظ چاہیے جو ہمارے حصے کی جنگ لڑے جو ہماری حفاظت کرے لیکن دراصل ہمیں کسی محافظ کی ضرورت ہی نہیں ہوتی ہم خود اپنی محافظ بن سکتی ہیں ہم اپنی لڑائیاں خود لڑ سکتی ہیں ہمیں ضرورت نہیں ہے ساری زندگی کسی شہزادے کے انتظار میں گزارنے کی ہم اپنی کہانی کی ہیرو خود بھی بن سکتی ہیں ہے نا؟؟؟ ہالے نے کہا
جی بلکل ایسا ہی ہے لیکن تمہاری کہانی کا ہیرو تو میں ہی ہوں ہے نا؟؟؟ زرغام نے پوچھا
خوش آمد بری بلا ہے شاہ جی!!!! ہالے نے کہا
کیا بولا؟؟؟ زرغام نے غصے سے پوچھا
میں نے کہا ہاں بلکل ایسا ہی ہے میرے ہیرو تو آپ ہی ہیں بس آپ بچوں کو سنبھالنا سیکھ لیں باقی آپ بلکل پرفیکٹ ہیں!!! ہالے نے کہا
یہ نمونے تمہارے ہیں محترمہ آئی سمجھ میں نے کہا بھی تھا مجھے بیٹی چاہیے پر تم نے یہ جن پکڑا دیے وہ بھی ایک نہیں دو دو اس لیے اب خود ہی سنبھالو!!!! زرغام ہاتھ کھڑے کرتا بولا
جی ٹھیک ہے سنبھال لوں گی میں اپنے شہزادے خود ہی بڑی مہربانی آپ کی!!! ہالے منہ بناتی بولی
ہاں سب کو سنبھال لینا ایک مجھے ہی نا پوچھنا بس!!! زرغام نے کہا
کیا مطلب ہے آپ کا کیا میں آپ کو نظر انداز کرتی ہوں؟؟؟ ہالے نے ایبرو آچکا کر پوچھا
ہاں بلکل نظر انداز کرتی ہو تم مجھے بلکل ٹائم نہیں دیتی بس ہر وقت کام کام اور بس کام اسی لیے کبھی کبھار میں سوچتا ہوں کہ دوسری شادی کر لوں!!! زرغام مسکراہٹ ضبط کرتا بولا
آپ دوسری شادی کریں گے؟؟؟ ہالے نے ماتھے پر تیوری چڑھا کر پوچھا
ہاں ایک دو لڑکیاں بھی ہیں میری نظر میں کہوں تو ملوا بھی سکتا ہوں تمہیں!!! زرغام بولا
جی ضرور ملوائیں میں بھی تو دیکھوں کون ہیں وہ خوش نصیب جن کا قتل میرے ہاتھوں لکھا ہے!!!! ہالے غصے سے بولی جبکہ اس کی بات پر زرغام کی بے ساختہ ہنسی چھوٹی
ارے اتنی پیاری بیوی کے ہوتے ہوئے کون کمبخت دوسری شادی کرے گا ہمیں تو یہ ونڈر وومن کافی ہے!!! زرغام اس کی ناک دباتے ہوئے بولا جس پر ہالے مسکرا دی زندگی کتنی حسیں ہوتی ہے جب ہمسفر اچھا ہو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شدہ
