Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Fakhar shah (Episode 08)

Fakhar shah by Zainab Ansari

صبح سے ہوتی بارش نے موسم کو خوشگوار بنا دیا تھا ہر چیز دھل کر نکھر گئی تھی پر زرغام کے اندر عجیب سی ویرانی چھائی ہوئی تھی آج اسے ہوش میں آئے پورے دو ہفتے ہو چکے تھے وہ لان میں ویل چیئر پر بیٹھا تھا وہ چل نہیں پا رہا تھا لیکن ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ اس کا چل پانا ممکن ہے ہر روز فزیشن اسے دیکھنے آتے تھے شاہ حویلی ان سات سالوں میں بلکل بدل چکی تھی نا یہ گھر پہلے جیسا رہا تھا نا اس کے مکین سب کچھ بدل چکا تھا آغا جان اور کوثر جہاں دونوں کا انتقال ہو چکا تھا یہ خبر زرغام پر پہاڑ بن کر گری تھی شازم شاہ اور نازیہ بیگم بیرونے ملک چلے گئے تھے اور شازل شاہ اپنا زیادہ تر وقت گھر سے باہر ہی گزارتے تھے انشرح اور ہاد دونوں کی شادی ہو چکی تھی ہالے نے ہاد کی شادی اپنی دوست رمشا سے سال پہلے کروائی تھی گھر کا سارا انتظام رمشاء ہی سنبھالتی تھی ان دو ہفتوں میں زرغام کے اندر ایک خالی پن سا اتر گیا تھا ہالے اسے نظر انداز کر رہی تھی روز شام میں وہ بس تھوڑی دیر کے لیے اس کے پاس آتی تھی حال چال کے علاؤہ چند دوسری باتیں کر کے چلی جاتی تھی صبح بھی ناشتہ کر کے نکل جاتی تو شام میں واپس آتی پھر رات کے کھانے کے بعد دوبارہ نجانے کہاں چلی جاتی ان دنوں ہاد اکثر اس کے پاس آ جاتا تھا کئی کئی دیر باتیں کرتا رہتا تھا پر اسے ہالے کی ضرورت تھی جیسے شاید اب اس کی ذات میں کوئی دلچسپی نہیں رہی تھی وہ یونہی سوچوں میں گم سامنے پھولوں کی کیاری کو دیکھ رہا تھا جب باہر گاڑی کا ہارن سنائی دیا چوکیدار نے برق رفتاری سے دروازا کھولا ایک گاڑی اندر داخل ہوئی پیچھلی سیٹ کا دروازا کھولے ہالے باہر آئی وہ اس وقت سفید سوٹ میں ملبوس تھی ہمیشہ کی طرح سیاہ شال دائیں طرف ڈالے وہ جنت سے اتری کوئی حور ہی لگ رہی تھی زرغام نے ایک نظر اسے دیکھ کر نظریں پھیر لیں

اشرف چچا یہ پھولوں کو پانی نہیں دیا مالی کہاں ہے؟؟؟ ہالے نے پھولوں کو دیکھ کر پوچھا

وہ بیگم سرکار اس کی ماں کی طبیعت ٹھیک نہیں اس لیے چھٹیوں پر ہے!!!! ملازم نے کہا

تو پھر کسی اور سے کہیں!!! ہالے بولتی اندر بڑھنے والی تھی جب لان میں زرغام کو بیٹھا دیکھ رکی اس نے گہری سانس لے کر قدم اس کی جانب بڑھائے

اسلام و علیکم شاہ جی!!! ہالے نے مسکرا کر سلام کیا پر زرغام نے اس کی جانب دیکھا تک نہیں

وعلیکم السلام!!! زرغام سامنے دیکھتا بولا

یہاں کیوں بیٹھے ہیں اتنی سردی ہو رہی ہے کھانا کھایا آپ نے؟؟؟ ہالے نے مسکرا کر پوچھا

تم کہاں تھی؟؟؟ زرغام اس کی بات نظر انداز کرتا بولا

ضروری کام سے گئی تھی؟؟؟ہالے نے نارمل انداز میں کہا زرغام نے غصے سے سر جھٹکا ہر بار اس کے پوچھنے پر وہ یہی جواب دیتی تھی یا بات بدل دیتی تھی

لگتا ہے بارش ہونے والی ہے چلیں اندر چلتے ہیں اشرف چچا!!!!!! ہالے نے کہہ کر ملازم کو آواز دی

جی بیگم سرکار؟؟؟ ملازم نے نظریں جھکا کر پوچھا

شاہ جی اندر لے جاؤ!!! ہالے نے زرغام کو دیکھ کر کہا جو کہ منہ پھیرے ہوئے تھا

جی اچھا!!!! ملازم بولتا اس کی ویل چیئر تھامے اسے کمرے میں چھوڑ گیا اسے بیڈ پر لیٹا کر وہ مؤدب سا باہر نکل گیا ہالے نے زرغام کو نیچے والے فلور پر شفٹ کروا دیا تھا کیونکہ ویل چیئر کی وجہ سے سیڑھیاں چڑھنا مشکل تھا زرغام بیڈ پر لیٹا خلا میں دیکھ رہا تھا جب دروازا نوک ہوا

آ جاؤ!!!

اسلام و علیکم بھائی!!!! ہاد مسکراتا ہوا اندر داخل ہوا

وعلیکم السلام!!! زرغام پھیکا سا مسکرایا

کیسے ہیں آپ طبیعت کچھ بہتر ہوئی؟؟؟ ہاد نے پوچھا

ہممممممم ٹھیک ہوں مجھے کیا ہونا ہے تم بتاؤ کہاں تھے سارا دن؟؟؟ زرغام نے پوچھا

ڈیرے پر تھا گاؤں والوں کے مسائل سن رہا تھا پھر جرگہ تھا آج بہت اہم بس ایسے ہی گزرا سارا دن بہت تھک گیا ہوں آپ بتائیں آپ نے کیا کیا سارا دن؟؟؟ ہاد نے پوچھا

میں بس بستر پر پڑا رہا اس کے علاؤہ کر بھی کیا سکتا ہوں!!! زرغام نے کہا

بھائی ایسا تو نا کہیں انشاء اللہ آپ بہت جلد ٹھیک ہو جائیں گے ہالے بہت اچھے ڈاکٹرز سے آپ کا ٹریٹمنٹ کروا رہی ہے اور ہم سوچ رہے تھے کہ آپ کو شہر لے کر جائیں گے تاکہ ایک بار آپ کا اچھے سے چیک اپ کروا سکیں!!! ہاد نے کہا

ہالے نور کہاں ہے؟؟؟ زرغام نے پوچھا

وہ تو ابھی شہر کے لیے نکلی ہے!!! ہاد نے کہا

اس وقت کس لیے؟؟؟ زرغام نے پوچھا

کچھ ضروری کام ہے!!! ہاد نے کہا جس پر زرغام کی رگیں تن گئیں چہرہ مارے ضبط کے سرخ ہو گیا

آخر تم لوگوں کے ساتھ مسئلہ کیا ہے کیا چھپا رہے ہو مجھ سے کیوں ہر بات کا ایک ہی جواب دیتے ہو کیوں نہیں بتاتے کہ کیا چل رہا ہے کہاں گئی ہے وہ اس وقت ہاں؟؟ کیا ان سالوں میں میری حیثیت تم لوگوں کی نظروں میں بلکہ ختم ہو گئی ہے میری بیوی صبح جاتی ہے شام کو لوٹتی ہے پھر رات میں کہیں نکل جاتی ہے تو نجانے کس وقت واپس آتی ہے اور جب میں پوچھتا ہوں تو کہتی ہے کہ ضروری کام تھا کیا میری ذات تم لوگوں کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی؟؟؟؟ زرغام غصے سے بولا ایک سانس میں بولنے سے اس کا سانس پھول گیا تھا گردن کی رگیں اُبھری ہوئی تھیں جبکہ ہاد بس لب پیچے اسے دیکھ رہا تھا پھر بغیر کچھ کہے باہر نکل گیا زرغام نے بے بسی سے بند دروازے کو دیکھا نجانے کیا تھا جو اس سے چھپایا جا رہا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بیگم سرکار!!!! ہالے صبح گاڑی میں بیٹھنے والی تھی جب ملازمہ نے پکارا

کیا بات ہے گل تمہیں دیکھائی نہیں دے رہا ہمیں دیر ہو رہی ہے!!! ہالے نے کہا

وہ بیگم سرکار آپ کو کچھ بتانا تھا!!! ملازمہ نے کہا

ہم جلدی میں ہیں بعد میں بتانا!!!

وہ بیگم سرکار شاہ سائیں ناشتہ نہیں کر رہے کتنی بار لے کر گئے پر انہوں نے منع کر دیا!!! ملازمہ نے کہا جس پر ہالے نے رک کر اسے دیکھا

کیا مطلب ناشتہ نہیں کر رہے تمہیں پتہ ہے نا کہ انہیں دوا لینی ہوتی ہے!!! ہالے نے کہا

جی بیگم سرکار پر وہ مان نہیں رہے رات سے انہوں نے کچھ نہیں کھایا ہے!!! ملازمہ نے کہا

کیا؟؟؟ شاہ جی نے رات سے کچھ نہیں کھایا اور تم یہ بات مجھے اب بتا رہی ہو اتنی لاپرواہی!!! ہالے نے غصے سے کہا

وہ آپ گھر پر نہیں تھیں!!! ملازمہ نے کیا جس پر وہ گہری سانس لیتی اندر بڑھ گئی اس نے زرغام کے کمرے کا دروازا کھولا تو وہ کھڑکی کے سامنے ویل چیئر پر بیٹھا باہر دیکھ رہا تھا بیڈ پر کھانے کی ٹرے ویسے ہی پڑی تھی

شاہ جی!!! ہالے نے اندر داخل ہوتے ہوئے پکارا پر زرغام نے اس کی جانب توجہ نا دی ہالے چلتی ہوئی اس کی ویل چیئر کے بلکل پیچھے آ کھڑی ہوئی

شاہ جی ناشتہ کر لیں!!! ہالے نے نرمی سے کہا جبکہ زرغام ابھی بھی باہر دیکھ رہا تھا

بھوک نہیں ہے!!! زرغام سپاٹ لہجے میں بولا

مجھے پتا چلا کہ آپ نے کل رات سے کچھ نہیں کھایا آپ جانتے ہیں نا کہ ڈاکٹر نے سختی سے تاکید کی ہے کہ آپ کو باقاعدگی سے دوا لینی ہے چلیں آئیں ناشتہ کر لیں!!! ہالے نے کہہ کر اس کی ویل چیئر کا رخ بدلنا چاہا پر زرغام نے ایک دم ویل چیئر کے دونوں پہیے تھام کر اس کی کوشش ناکام بنا دی ہالے نے چونک کر اسے دیکھا

تم سے کہا نا مجھے بھوک نہیں ہے جاؤ یہاں سے!!! زرغام سخت لہجے میں بولا ہالے نے حیرت سے اس کا انداز دیکھا

شاہ جی کچھ ہوا ہے کیا آپ ایسے کیوں کہہ رہے ہیں؟؟؟ ہالے نے حیرت سے پوچھا زرغام نے گہری سانس لی

کچھ نہیں ہوا تم جاؤ!!! زرغام بولا ہالے چلتی ہوئی اس کے سامنے گھٹنوں کے بل آ بیٹھی لیکن زرغام ہنوز باہر دیکھتا رہا

شاہ جی!!!! ہالے نے اس کے ہاتھ تھامتے ہوئے پکارا زرغام نے نظروں کا رخ اس کی جانب کیا

کیا بات ہے؟؟؟ ہالے نے نرمی سے پوچھا

کچھ نہیں!!!! زرغام بولا انداز میں عجیب سی بے رخی تھی

اگر کچھ نہیں ہوا تو آپ یوں منہ پھیرے کیوں بیٹھے ہیں کیا بات ہے کسی نے کچھ کہا ہے آپ سے؟؟؟ ہالے نے پوچھا زرغام نے کچھ پل اسے دیکھا پھر نظریں پھیر لیں

جاؤ یہاں سے ہالے نور!!!! کچھ دیر بعد زرغام بولا آنکھوں میں زخمی پن تھا

اچھا ٹھیک ہے میں چلی جاتی ہوں پر آپ پلیز ناشتہ کر لیں پھر آپ کو دوا بھی لینی ہے پلیز شاہ جی یہ ضروری ہے!!!! ہالے اس کی ناراضگی نوٹ کرتی بولی

تم سے کہا نا مجھے کچھ نہیں چاہیے ایک بار میں تمہیں سمجھ کیوں نہیں آتی کیا ثابت کرنا چاہتی ہو تم ہاں؟؟؟ کیا دیکھانا چاہتی ہو سب کو کہ بہت پرواہ ہے تمہیں میری!!! خدا کے لیے بند کرو اپنا یہ ڈرامہ نہیں ضرورت مجھے کسی چیز کی نا تمہاری نا کسی اور کی مر نہیں جاؤں گا میں تمہارے بغیر سمجھی!!!! زرغام غصے سے پھٹ پڑا جبکہ ہالے بس حیرت کی مورت بنے اسے سن رہی تھی وہ کہیں سے بھی سات سال پہلے والا زرغام نہیں لگ رہا تھا

شاہ جی میں تو بس آآآآآآآآ

تمہیں میں کیا کوئی دودھ پیتا بچہ لگتا ہوں ہاں؟؟؟ کیا تمہیں لگتا ہے میں نہیں سمجھ سکتا کہ تم مجھ سے جان چھڑا رہی ہو کیونکہ اب میں معذور ہو چکا ہوں تمہارے قابل نہیں رہا ہوں ہے نا ہالے نور بوجھ بن چکا ہوں تم پر؟؟؟

شاہ جی خدا کے لیے ایسا نا کہیں ایسا کچھ نہیں ہے آپ غلط سمجھ رہے ہیں!!!! ہالے نم لہجے میں بولی اس کی شہد رنگ آنکھوں میں نمی تیر رہی تھی

غلط سمجھ رہا ہوں؟؟؟ میں غلط سمجھ رہا ہوں؟؟ تم ہی بتاؤ مجھے!!! دو ہفتوں سے میری بیوی مجھے نظر انداز کر رہی ہے کب کہاں جاتی ہے کب واپس آتی ہے میں نہیں جانتا اور میرے پوچھنے پر کہہ دیتی ہے کہ کچھ ضروری کام تھا تو مجھے کیا سمجھنا چاہیے ہاں؟؟؟ جب وہ مجھے یہ تک بتانا ضروری نہیں سمجھتی کہ وہ کہاں تھی یا کہاں جا رہی ہے تو مجھے کیا سمجھنا چاہیے ہاں؟؟؟ کیا مجھے پھر بھی اس پر اعتبار کرنا چاہیے ہاں؟؟؟ زرغام نے غصے سے کہا تیز تیز بولنے سے اس کا سانس پھول گیا تھا جبکہ ہالے بس نم آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی اس نے کیا سوچا تھا اور کیا ہو گیا تھا

شاہ جی پلیز میری بات سنیں آپ غلط سمجھ رہے ہیں میں بس آپ کو پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی اس لیے میں نے آپ کو کچھ نہیں بتایا تھا مجھے بلکل اندازہ نہیں تھا کہ آپ اس بات سے اس قدر ہرٹ ہوں گے پلیز شاہ جی میرا یقین کریں میں آپ کو نظر انداز کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی آپ نہیں جانتے کتنا انتظار کیا ہے میں نے آپ کا!!!! ہالے بھیگے لہجے میں بولی اس کی آنکھوں سے موتیوں کی طرح آنسو بہہ رہے تھے اس کے بھیگے چہرے کو دیکھ زرغام کچھ ڈھیلا پڑا آج اتنے دنوں بعد وہ اپنی سی لگی تھی ایسی ہی تھی وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر رو دینے والی زرغام نے گہری سانس لی پھر ہالے کو دیکھا جو کہ ابھی بھی اس کے گھٹنوں میں بیٹھی ہوئی تھی

رونا بند کرو ویسے تو بڑی بیگم سرکار بنی گھومتی ہو ابھی تھوڑا سا ڈانٹا ہے اور تمہاری ساری اکڑ نکل گئی ہے ہونہہ!!!! زرغام اس کے آنسو صاف کرتا بولا جبکہ اس کی بات پر ہالے مسکرا دی

ناشتہ کر لیں پلیز!!! ہالے نے کہا

ہممممممم کر لیتا ہوں!!!! زرغام بولا ہالے نے اسے بیڈ پر بیٹھایا ناشتے کے بعد اس نے زرغام کو دوا کھلائی پھر گھڑی دیکھتی اٹھنے والی تھی جب زرغام نے ایک دم اس کا ہاتھ پکڑا

کہاں؟؟؟ زرغام نے ایبرو آچکا کر سخت لہجے میں پوچھا ہالے کے گلے میں گلٹی ابھر کر معدوم ہوئی

واپس آ کر بتاؤں گی!!!! ہالے بولی

ہممممم ٹھیک ہے!!! زرغام نے کہہ کر اس کا ہاتھ چھوڑ دیا ہالے ایک نظر اسے دیکھتی باہر نکل گئی زرغام نے بھی سر تکیے سے ٹکا کر آنکھیں موند لیں اب اسے بس شام کا انتظار تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *