Fakhar shah by Zainab Ansari NovelR50580 Fakhar shah (Episode 01)
Rate this Novel
Fakhar shah (Episode 01)
Fakhar shah by Zainab Ansari
یہ منظر ایک چھوٹے سے گاؤں میں کھڑی عظیم الشان حویلی کا ہے جو کہ پورے گاؤں میں شاہ حویلی کے نام سے مشہور تھی یہ حویلی اس گاؤں کے سرپنچ شیراز شاہ کی تھی جو کہ اپنے رعب اور دبدبے کی وجہ سے جانے جاتے تھے ان کے تین بیٹے تھے شازم شاہ شازل شاہ اور شہرام شاہ
شہرام شاہ بھائیوں میں سب سے بڑے تھے ان کا ایک ہی بیٹا تھا زرغام شاہ جس کی پیدائش کے وقت اس کی والدہ نورالنساء انتقال کر گئیں تھیں اور یہی غم لیے اس کے والد بھی اسے پانچ سال کی عمر میں چھوڑ گئے تھے
ان بعد شازل شاہ تھے جن کا ایک بیٹا اور بیٹی تھے بیٹا ہاد شاہ اور بیٹی انشرح شاہ
ان کے بعد شازم شاہ تھے جن کا صرف ایک بیٹا تھا نائل شاہ
ان کے علاؤہ شیراز شاہ کی ایک بیٹی بھی تھی ماہا نور سالوں پہلے انہوں نے اپنے بابا کی مرضی کے خلاف گھر سے بھاگ کر نکاح کیا تھا جس کی وجہ سے شیراز شاہ نے ان پر شاہ حویلی کے دروازے بند کر دیے تھے ایک عرصے تک ان کی ملاقات نا ہو سکی پھر ایک دن پتا چلا کہ ماہا نور اور ان کے شوہر کی ایکسیڈنٹ میں موت ہو گئی ہے یہ خبر شیراز شاہ کے دل پر پیگلے سیسے کی طرح گری وہ دل مسوم کر رہ گئے اس لیے انہوں نے اپنی بیٹی ماہا نور کی آخری نشانی ہالے نور کو اپنے پاس رکھ لیا جو کہ اس وقت صرف چار سال کی تھی لیکن اس کا وجود ہر کسی کو ناگوار گزرتا تھا سوائے شیراز شاہ کے ایک وہی اس کے اپنے تھے
سورج کی روشنی نے رات کی سیاہی کو چیڑنا شروع کیا تو زمین پر ہلچل سی شروع ہو گئی علی الصبح رزق کی تلاش میں لوگوں نے گھروں سے نکلنا شروع کیا پرندوں نے بھی گھونسلوں کو چھوڑ کر اڑان بھری اور یونہی شاہ حویلی کے مکین بھی جاگ اٹھے
صبح صبح سارے گھر میں ہلچل سی مچی ہوئی تھی ہر کسی کو اپنے کام پر جانا تھا ملازموں کی ایک فوج ناشتے کی تیاری میں مصروف تھی لیکن ان میں سب سے تیزی سے ہالے نور ہاتھ چلا رہی تھی
اور کتنی دیر لگے گی ہالے؟؟؟ شازم شاہ کی بیگم نازیہ شاہ نے پوچھا
بس چھوٹی ممانی ہو گیا!!! ہالے نے کہا وہ اس وقت سکول یونیفارم میں ملبوس تھی گاؤں میں شیراز شاہ نے سکول اور کالج بنوائے تھے
کتنی بار کہا ہے تم سے کہ جلدی اٹھ جایا کرو کام زیادہ ہوتا پر نہیں تم تو اپنے نام کی ایک ہی ہو مجال ہے جو کسی بات کا اثر ہو!!! نازیہ بیگم نے غصے سے کہا یہ ان کا معمول تھا ہر صبح کا آغاز وہ ہالے کو بے عزت کر کے کرتیں تھیں جبکہ ہالے بس ضبط کر جاتی تھی
اب دیکھ کیا رہی ہو جلدی ناشتہ لگواؤ آئی بڑی مہرانی ہونہہہ!!! وہ غصے سے بولتیں باہر چل دیں ہالے بھی سر جھٹک کر تیز تیز ہاتھ چلانے لگی گھر میں اتنے ملازم ہونے کے باوجود زیادہ تر کام وہی کرتی تھی تاکہ وہ یہاں مفت کی روٹیاں توڑنے کے لیے نہیں تھی
اسلام و علیکم آغا جان!!! ہالے نے مسکرا کر شیراز شاہ کو سلام کیا جو کہ سربراہی کرسی پر بیٹھے تھے
وعلیکم السلام میرا بچہ آؤ بیٹھو ناشتہ کرو ورنہ دیر ہو جائے گی!!! شیراز شاہ نے مسکرا کر کہا
ہالے میری بکس نہیں مل رہیں!!! ہالے کے بیٹھنے سے پہلے انشرح نے پکارا
میں نے وہی رکھیں تھیں تمہارے ٹیبل پر!!!! ہالے نے کہا
تمہیں میں کیا اندھی لگتی ہوں اگر ہوتیں تو مجھے نظر آ جاتیں جاؤ ڈھونڈ کر لاؤ جہاں رکھیں ہیں!!! انشرح اسے جھڑک کر بولتی کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی جبکہ ہالے اپنی کھینچی گئی کرسی واپس دھکیلتی اوپر چل دی شیراز شاہ نے افسوس سے اسے دیکھا وہ یہاں آ کر بے بس ہو جاتے تھے
چھوٹے شاہ کہاں ہیں؟؟؟ شیراز شاہ کی بیگم کوثر جہاں نے پوچھا
اپنے کمرے میں ہے میں نے پیغام بھیجا ہے آتا ہی ہو گا!!! شازل شاہ کی بیگم نسرین بیگم نے کہا تبھی سیڑھیوں سے قدموں کی آواز سنائی دی سب نے مڑ کر دیکھا جہاں انیس سالہ زرغام چلا آ رہا تھا دراز قد مضبوط جسامت سرخ و سفید رنگت نیلی چمکدار آنکھیں کالے گھنے بال ۔۔۔
وہ بے شک کافی ہینڈسم تھا انشرح نے پر شوق نظروں سے اسے دیکھا وہ تھا ہی ایسا کہ نظر ٹہر جاتی تھی
اسلام و علیکم!!! زرغام سلام کرتا کرسی کھینچ کر بیٹھا
وعلیکم السلام بیٹا کیا لو گے بریڈ یا پڑاٹھا؟؟؟ نسرین بیگم نے فوراً پوچھا انداز ایسا ہی تھا مکھن لگانے والا
نہیں بس چائے لوں گا مجھے دیر ہو رہی ہے!!! زرغام ایک نظر گھڑی کو دیکھ کر بولا تبھی ہالے نیچے آئی
بیٹا اتنی دیر کہاں لگا دی ناشتہ ٹھنڈا ہو رہا ہے!!!! شیراز شاہ نے کہا
وہ آغا جان بکس ڈھونڈ رہی تھی مل ہی نہیں رہیں تھیں!!! ہالے نے کہہ کر انشرح کے پاس ٹیبل پر بکس رکھیں
کیوں کہاں تھیں بکس؟؟؟ شیراز شاہ نے پوچھا
بیڈ کے نیچے!!!! ہالے بولتی ان کے کپ میں چائے ڈالنے لگی ہاد نے ایک تیز نظر انشرح پر ڈالی جو کہ کھانا بھلائے کن اکھیوں سے زرغام کو دیکھ رہی تھی اس نے افسوس سے سر جھٹکا وہ جانتا تھا کہ وہ یہ سب جان بوجھ کر کرتی ہے
اوکے آغا جان میں چلتا ہوں!!!! زرغام بولتا اٹھ گیا انشرح کی نظریں مسلسل اسی پر تھیں اور ہاد کی انشرح پر
ٹھیک ہے بیٹا جاؤ اللہ حافظ!!! شیراز شاہ نے کہا
اللہ حافظ چلو ہالے نور!!!! زرغام نے ہالے سے کہا جس نے ابھی بامشکل دو نوالے لیے تھے پھر اس کی آواز پر ایک دم اٹھی
اللہ حافظ آغا جان!!!! ہالے بولتی باہر نکل گئی تبھی دروازے سے اٹھارہ سالہ نائل داخل ہوا ہالے کو آتا دیکھ اس کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی ہالے نے ایک نظر اسے دیکھا رف سا حلیہ بکھرے بال شرٹ کے کھلے بٹن وہ حلیے سے ہی اپنے آوار ہونے کا ثبوت دے رہا تھا ہالے خاموشی سے اس کے پاس سے گزرنے والی تھی جب نائل نے ایک دم اس کا بازو تھاما ہالے کی سانس مانو سینے میں اٹک گئی اس نے سہمی نظروں سے اسے دیکھا
چھوڑیں!!!! وہ اپنا بازو چھڑاتی بولی
بندہ سلام ہی کر جاتا ہے ایسی بھی کیا بے رخی!!! نائل نے کہا
مم مجھے دیر ہو رہی ہے!!! ہالے بولی
کوئی بات نہیں ہونے دو زیادہ سے زیادہ کیا ہو گا تھوڑی ڈانٹ پر جائے گی تو وہ تو گھر میں بھی اکثر پڑتی رہتی ہے جسٹ چل!!! نائل بولا
پلیز چھوڑیں مجھے جانا ہے!!! ہالے بولی اس ک لہجہ رندھ گیا تھا
ہالے نور!!!!! اس سے پہلے نائل کچھ کہتا زرغام کی گرجدار آواز پر جھٹکے سے اس سے دور ہوا وہ بھی موقع پاتے ہی تیزی سے باہر نکلی وہ بھی سر جھٹکتا اندر چل دیا
ہالے نے باہر آ کر اسے دیکھا جو کہ اپنی گاڑی میں منتظر سا بیٹھا تھا وہ خود کو سنبھالتی آگے بڑھی
آگے بیٹھو!!!!! وہ جو پیچھلی سیٹ کا دروازا کھول رہی تھی اس کی آواز پر اندر تک کانپ گئی پھر بغیر کچھ کہے فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی زرغام نے گاڑی گاؤں کے کچے راستوں سے گزارتے ہوئے سکول کے سامنے روکی
ہاد تمہیں پک کر لے گا!!! زرغام اسر دیکھے بغیر بولا
جی اللہ حافظ!!! ہالے بولتی اتر گئی اس کے اترتے ہی زرغام گاڑی زن سے بھگا گیا جبکہ وہ چپ چاپ اندر بڑھ گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نسرین!!!!
اے نسرین!!!!
کہاں مر گئیں تم سب!!!! کوثر جہاں کافی دیر سے آوازیں دے رہیں تھیں
جی آماں جان؟؟؟ نسرین بیگم اور نازیہ بیگم بھاگتی ہوئی وہاں پہنچیں
کب سے آوازیں دے رہی ہوں کہاں مر گئی تھیں دونوں؟؟؟ کوثر جہاں نے غصے سے کہا
وہ اماں جان کمرے میں تھے تو پتا نہیں چلا!!!! نازیہ بیگم نے کہا
کمرے میں تھیں قبر میں تو نہیں تھیں جو آواز نہیں آ رہی تھی میری تسبیح کہاں ہے مجھے مل نہیں رہی!!!! کوثر جہاں نے پوچھا
اماں ہمیں نہیں پتا آپ کی چیزیں تو ہالے ہی رکھتی ہے!!! نسرین بیگم نے کہا
ایک تو یہ کلموہی کوئی کام ڈھنگ سے نہیں کر سکتی پتا نہیں کب جان چھوٹے گی اس مصیبت سے؟؟؟ کوثر جہاں نحوست سے بولیں
شازیہ!!!!
او شازیہ!!!! نسرین بیگم نے ملازمہ کو پکارا
جی بی بی جی؟؟؟
جاؤ جا کر اماں کی تسبیح ڈھنڈو پتا نہیں کہاں رکھ گئی ہے وہ منہوس!!! نسرین بیگم نے کہا
جی اچھا!!!! ملازمہ بولتی چلی گئی کوثر جہاں وہی صوفے پر بیٹھی تھی جب تھوڑی دیر بعد ملازمہ واپس آئی
کیا ہوا ملی نہیں؟؟؟ نازیہ بیگم نے پوچھا
بیگم صاحبہ یہ تسبیح کے دانے ملے ہیں ڈریسنگ کے دراز سے!!! ملازمہ نے کہا
ضرور اس منہوس سے ٹوٹی ہو گی اس لیے چھپا کر گئی ہے آج آنے دو اسے!!! کوثر جہاں غصے سے بولیں جس پر اوپری منزل پر ریلنگ کے ساتھ کھڑا نائل مسکرا دیا
اور کرو مجھے اگنور ہالے نور!!! نائل ہاتھ میں موجود چین گھماتا بولا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں تمہیں اندر کلاس روم میں ڈھونڈ رہی ہوں اور تم یہاں بیٹھی ہو!!!! ہالے کی دوست رمشا اس کے برابر بیٹھتی بولی
کیوں کوئی کام تھا؟؟؟ ہالے گیلی سانس اندر کھینچتی بولی
ادھر دیکھو میری طرف تم رو رہی ہو آف پھر کچھ کہا ہے کسی نے تم سے؟؟؟ رمشا غصے سے بولی وہ ہالے کے حالات سے واقف تھی
نہیں کسی نے کچھ نہیں کہا بس یونہی!!! ہالے خود کو سنبھالتی بولی رمشا نے ایک نظر اسے دیکھا سفید رنگت گلابی ہونٹ گھنی جھالر جیسی مڑی ہوئی پلکیں سیدھی ستواں ناک گھنے سیاہ چمکدار بال اور شہد رنگ آنکھیں ۔۔۔
وہ بے شک شہزادیوں جیسا حسن رکھتی تھی پر قسمت حسن سے تھوڑی نا ملتی ہے
اب تم مجھ سے بھی چھپاؤ گی سچ بتاؤ آج کس لیے رو رہی ہو؟؟؟ رمشا نے کہا جس پر اس نے اسے صبح والا واقع سنایا
آف یہ مصیبت تم اپنے آغا جان سے بات کیوں نہیں کرتی دیکھنا کیسے تیر کی طرح سیدھا کریں گے تمہارے اس کزن کو!!!! رمشا نے کہا
نہیں میں آغا جان سے بات نہیں کر سکتی وہ غصہ کریں گے اور ۔۔۔۔ ہالے رکی
اور پھر تمہاری ممانیاں تم پر غصہ کریں گی!!! رمشا نے اس کا جملہ مکمل کیا جس پر ہالے نے محض سر ہلایا
سب ٹھیک ہو جائے گا یار تم دیکھنا تمہاری زندگی میں بھی کوئی شہزادہ آئے گا جیسے ہر کہانی میں آتا ہے پھر دیکھنا تمہاری ساری پریشانیاں دور ہو جائیں گئیں!!!! رمشا اس کے گرد بازو حائل کرتی لاڈ سے بولی جس پر ہالے ذرا سا مسکرا دی رمشا بس اسے یہی خواب دیکھاتی رہتی تھی اور وہ بھی صرف یہی ایک خواب دیکھتی تھی پر حقیقت اور خواب میں بہت فرق ہوتا ہے
