Fakhar shah by Zainab Ansari NovelR50580 Fakhar shah (Episode 02)
Rate this Novel
Fakhar shah (Episode 02)
Fakhar shah by Zainab Ansari
ہیلو جی بھائی؟؟؟ ہاد کال ریسیو کرتا بولا
ہاد ہالے نور کو پک کر لو!!! زرغام مصروف سا بولا
پر بھائی میں تو شہر جا رہا ہوں!!!! ہاد ڈرائیو کرتے ہوئے بولا
اچھا ٹھیک ہے!!!! زرغام نے کہہ کر کال کاٹ دی فون ہاتھ میں پکڑے وہ سوچ میں پڑ گیا تھا کہ کیا کرے پھر ایک خیال کے تحت اس نے ایک نمبر ملایا
ہیلو!!!! نائل کال ریسیو کرتا بولا
کہاں ہو تم؟؟؟ زرغام نے پوچھا
بستر پر ہوں!!! نائل آنکھیں ملتا بولا
یہ کوئی وقت ہے سونے کا؟؟؟ زرغام نے غصے سے کہا
آپ نے فون کیوں کیا؟؟؟ نائل بولا
کچھ نہیں سو جاؤ تم!!! زرغام نے کہہ کر غصے سے کال کاٹ دی پھر چابیاں اٹھاتا اٹھ گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہالے تمہیں لینے کون آنے والا ہے؟؟؟ رمشا نے ہالے سے پوچھا
شاہ جی نے کہا تھا کہ ہاد آئے گا لینے!!!! ہالے بولی
شاہ جی مطلب زرغام بھائی؟؟؟ رمشا نے پوچھا
ہاں!!!! ہولے یک لفظی بول کر باہر دیکھنے لگی تبھی ایک گاڑی رکی
اچھا میں چلتی ہوں اللہ حافظ!!!! ہالے بولتی تیزی سے باہر نکل گئی لیکن گاڑی میں ہاد کی جگہ زرغام کو بیٹھا دیکھ ٹھٹکی
جلدی اندر بیٹھو میں اتنا فارغ نہیں ہوں!!! اسے ہلتا نا پا کر زرغام نے غصے سے کہا جس پر وہ ہڑبڑا کر اندر بیٹھی زرغام نے اسے دیکھے بغیر گاڑی سٹارٹ کی ہالے سر جھکائے بیٹھی تھی جبکہ زرغام نے اسے دیکھنا تک گوارا نہیں کیا تھا گاڑی شاہ حویلی کے باہر رکی
چلو جاؤ!!! زرغام کے بولنے پر وہ تیزی سے باہر نکلتی اندر بڑھ گئی
اسلام و علیکم!!!! اس نے ہال میں بیٹھیں کوثر جہاں کو سلام کیا باقی دونوں خواتین بی ادھر ہی موجود تھیں
ادھر آ!!! کوثر جہاں نے اسے اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا ہالے کو کہیں سے خطرے کا سگنل مل رہا تھا
جی نانو؟؟؟ ہالے ان کے سامنے جاتی بولی
چٹاخ!!!!!!
ہالے منہ پر ہاتھ رکھے حیرت سے انہیں دیکھ رہی تھی اس کے گال پر انگلیوں کے نشان بن گئے تھے اس کی شہد رنگ آنکھیں پانی سے بھر گئیں تھیں
نانو!!!!
کلموہی ہاتھ ٹوٹے ہیں تیرے ایک کام ڈھنگ سے نہیں کر سکتی توں بیٹھے بٹھائے تیرے جیسا عذاب ہمارے سر پر گیا تیری ماں تجھے لے کر کیوں نہیں مری؟؟؟ کوثر جہاں اسے بالوں سے پکڑ کر بولیں جبکہ ہالے کو تو ابھی تک اپنا قصور ہی نہیں پتا چل رہا تھا
نانو مم میں نن نے کک کیا کیا؟؟؟ ہالے روتے ہوئے بامشکل بولی
کیا کیا ہے توں نے؟؟؟ تجھ جیسا گندہ خون ہمارے سروں پر مسلط ہو گیا ہے یہی کیا کم ہے؟؟؟ کوثر جہاں غصے سے بولیں
نانو پلیز چھوڑیں درد ہو رہا ہے!!!! ہالے بھیگے لہجے میں بولی
دادی جان!!!!!! ان کے کچھ اور کہنے سے پہلے باہر سے آتا زرغام بولا کوثر جہاں نے ایک دم ہالے کو چھوڑا تبھی شیراز شاہ اندر داخل ہوئے لیکن شور سن کر پیچھے ہی کھڑے ہو گئے جبکہ ہالے ایک دم اٹھی
چھوٹے شاہ آپ کب آئے؟؟؟ کوثر جہاں نے پیار سے پوچھا
کیا ہے اس نے کیوں مار رہیں تھیں آپ اسے؟؟؟ زرغام ان کا سوال نظر انداز کرتا سخت لہجے میں بولا
ارے یہ تو ہے ہی منہوس ہاتھ ٹوٹے ہیں اس کے!!! کوثر جہاں روتی ہوئی ہالے کو دیکھ نحوست سے بولیں
کیا کیا ہے تم نے؟؟؟ زرغام ہالے سے مخاطب ہوا جس نے روتے ہوئے نفی میں سر ہلایا گو اسے خود نہیں پتا تھا اس کے بھیگے چہرے کو دیکھ اس نے غصے سے لب پیچے
جاؤ اپنے کمرے میں!!!! زرغام نے غصے سے کہا جس پر وہ تقریباً بھاگ کر اوپر گئی
اور دادی جان!!! زرغام ان کی طرف متوجہ ہوا
ہالے نور بھی انسان ہے اور انسانوں سے غلطیاں ہو جاتی ہیں اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اس کے ساتھ اس طرح کا سلوک کریں اور اگر آپ اس کی کوئی غلطی معاف نہیں کر سکتیں تو بہتر ہے اسے کوئی کام نا کہا کریں گھر میں ملازموں کی فوج ہے کسی اور کو کہہ دیا کریں لیکن آئیندہ اس کے ساتھ اس طرح کا سلوک میں برداشت نہیں کروں گا!!!! زرغام سخت لہجے میں بولتا اوپر چلا گیا کچن کے دروازے میں کھڑی انشرح نے غصے سے پیر پٹخا زرغام کا یوں ہالے کی حمایت کران اسے زہر لگ رہا تھا اور یہی حال باقی سب کا بھی تھا سوائے شیراز شاہ کے انہیں جیسے ہالے کی مشکلوں کا حل مل گیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زرغام اپنے کمرے میں سنگل صوفے پر بیٹھا تھا جب دروازا نوک ہوا
آجاؤ!!!
صاحب آپ کو کھانے پر بلا رہے ہیں!!! ملازم نے کہا
مجھے بھوک نہیں!!! زرغام نے کہا جس پر وہ باہر نکل گیا وہ آنکھیں موندے بیٹھا تھا جب دروازا دوبارہ نوک ہوا
کہا ن مجھے بھوک نہیں!!!!
آغا جان آپ؟؟؟ زرغام بولتا بولتا رکا
مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے زرغام!!! آغا جان نے سنجیدگی سے کہا
آغا جان بیٹھیں!!! زرغام نے کہا جس پر وہ بیڈ پر بیٹھے
اگر کوئی کام تھا تو مجھے بلا لیتے آپ نے خود کیوں ضحمت کی!!! زرغام بولا
بیٹا مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے بلکہ گزارش کرنی ہے!!!! شیراز شاہ تھکے ہوئے لہجے میں بولے جس پر زرغام صوفے سے اٹھتا ان کے قدموں میں آ بیٹھا
آغا جان کیسی بات کر رہے ہیں آپ حکم کریں!!!! زرغام ان کے ہاتھ تھام کر بولا
بیٹا میرے دل پر ایک بوجھ ہے جو کہ دن با دن مجھے موت کی طرف دھکیلتا جا رہا ہے میں اب بہت بوڑھا ہو چکا ہوں پتا نہیں کب یہ دنیا چھوڑ دوں!!!!
اللہ نا کرے آغا جان کیسی بات کر رہے اللہ آپ کا سایہ ہمارے سروں پر سلامت رکھے!!! زرغام ان کے ہاتھ پر بوسہ دیتا بولا
بیٹا مجھ سے ایک گناہ سر زد ہوا ہے میں نے ماہا نور پر دروازے بند کیے تھے وہ کئی بار آئی تھی میرے پاس لیکن میں نے اس کی نا سنی وہ اپنی دل کی باتیں دل میں ہی لیے اس دنیا سے چلی گئی میں اس سے معافی تک نا مانگ سکا اور نا ہی میں ہالے کے لیے کچھ کر سکا تم نے دیکھا کس طرح اس گھر کے لوگ اس کے ساتھ جانوروں کی طرح سلوک کرتے ہیں اس کی بڑی وجہ بھی میں ہوں میں نے اس گھر میں ماہا نور کی حیثیت ختم کر دی تھی اس لیے ہالے کی بھی حثیت بھی ختم ہو گئی سب نے اسے بس ایک بیکار چیز سمجھ رکھا ہے لیکن میں چاہتا ہوں کہ مرنے سے پہلے اس کے لیے کچھ کر جاؤں!!!؟ شیراز شاہ نے نم لہجے میں کہا
آغا جان میں سمجھا نہیں!!!! زرغام نے کہا
بیٹا میں چاہتا ہوں کہ تم ہالے سے نکاح کر لو!!!! شیراز شاہ نے کہا جس پر زرغام نے چونک کر انہیں دیکھا
کیا؟؟؟ زرغام نے حیرت سے کہا
بیٹا وہ اکیلی اس دنیا کا سامنا نہیں کر سکتی اسے کسی سہارے کی ضرورت ہے میں آج ہوں کل نہیں ہوں گا میری وجہ سے ابھی وہ سانس لے رہی ہے اگر مجھے کچھ ہو گیا تو یہ لوگ تو اسے نوچ ڈالیں گے دیکھو زرغام ہالے بہت اچھی لڑکی ہے بہت نیک اور فرمانبردار بچی ہے میری یہ بات مان لو بیٹا تاکہ میں کل حشر میں اپنی ماہا نور سے نظریں ملانے کے قابل ہو جاؤں!!!! شیراز شاہ آنکھوں میں آنسوں لیے بولے زرغام نے لب پیچے انہیں دیکھا پھر کچھ پل خاموش رہنے کہ بعد ان کے ہاتھ پر بوسہ دیا
آپ کی خواہش میرے لیے حکم ہے آغا جان آپ جیسا چاہتے ہیں میں ویسا ہی کروں گا آخر آپ ہی تو میرے لیے بابا اور ماما دونوں ہیں!!!! زرغام نے مسکرا کر کہا آغا جان نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا
شکریہ بیٹا تم نے مجھے اس قابل کر دیا کہ میں سکون سے مر جاؤں!!!! شیراز شاہ بولے
آغا جان بس بھی کریں کیوں اتنے ایموشنل ہو رہے ہیں!!!! زرغام انہیں گھور کر بولا جس پر وہ ہنس دیے
چل آ جا کھانا کھاتے ہیں!!! شیراز شاہ بولتے اٹھ گئے
جی چلیں!!!؟ زرغام نے کہا جس پر وہ دونوں نیچے چل دیے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کھانے کی میز پر سب موجود تھے سب خاموشی سے کھانا کھانے میں مصروف تھے زرغام کن اکھیوں سے ہالے کو دیکھ رہا تھا جس کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں شاید وہ دوپہر سے روتی رہی تھی زرغام نے غصے سے سر جھٹکا اس لڑکی کو رونے کے علاؤہ کچھ نہیں آتا تھا
میں نے ایک فیصلہ کیا ہے!!! آغا جان کی آواز پر سب اس جانب متوجہ ہوئے سوائے زرغام کے وہ بس خاموشی سے کھانا کھا رہا تھا
کیسا فیصلہ آغا جان؟؟؟ شازل شاہ نے پوچھا
اس جمعے کو ہالے کا نکاح ہو گا!!!! آغا جان نے کہا جس پر ہالے کا نوالا منہ میں ہی اٹک گیا وہ حیرت سے شیراز شاہ کی طرف دیکھ رہی تھی جو کہ پرسکون سے بیٹھے تھے باقی کسی کو کچھ خاص فرق نہیں پڑا ان کی بلا سے یہ مصیبت کل کی جاتی آج جائے
لیکن کس سے آغا جان؟؟؟ ہاد نے پوچھا اس سب میں صرف ایک وہی پریشان ہوا تھا
ہے میری نظر میں ایک رشتہ میں بات پکی کر چکا ہوں!!!! آغا جان بولے ہالے نے چہرہ جھکا لیا
لیکن آغا جان آپ ایسے کیسے ہالے سے پوچھے بغیر کسی بھی ایرے غیرے سے اس کی بات پکی کر سکتے ہیں ارے کون لوگ ہیں کہاں رہتے ہیں ان کا رہن سہن کیسا اور سب سے بڑی لڑکا کیسا ہے؟؟؟؟ ہاد نے پوچھا جس پر نسرین بیگم نے گھور کر اسے دیکھا
بھئی اس کے گھر والوں کا تو نہیں پتا لیکن لڑکا بہت دیکھا بھالا ہے بس میں ہاں کر چکا ہوں!!! آغا جان بولے
لیکن وہ ہے کون؟؟؟ ہاد نے پوچھا
بھئی جب گھر میں رشتہ موجود ہے تو باہر کیوں جانا میں نے گھر میں ہی بات پکی کر دی ہے!!!! آغا جان نے کہا جس پر ہالے کی نظر بے ساختہ نائل پر اٹھی جس کے اپنے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی تھی ہالے کا دل زور سے دھڑکا کیا بس یہی اس کا مقدر تھا
آغا جان بتا بھی دیں کیوں سسپنس پھیلایا ہے؟؟؟ ہاد تپ کر بولا
بھئی میں زرغام کی بات کر رہا ہوں اس جمعے کو ہالے اور زرغام کا نکاح ہو گا!!!! آغا جان نے کہا جس پر باقی سب کے ہلکوں میں نوالے اٹک گئے سب کھانا چھوڑ کر آغا جان کو دیکھنے لگے
یہ کیسے ہو سکتا ہے بابا جان زرغام کیسے؟؟؟ شازل شاہ نے حیرت سے پوچھا
کیوں نہیں ہو سکتا بچے بڑے ہو گئے ہیں اب ہمیں سہی وقت پر اپنی فرض سے سبکدوش ہو جانا چاہیے!!!! آغا جان اطمینان سے بولے ہالے بس ششدر سی زرغام کو دیکھ رہی تھی جو کہ سکون سے کھانا کھانے میں مصروف تھا
لیکن بابا جان ہم نے تو زرغام اور انشرح کا سوچ رکھا تھا!!!! شازل شاہ بے چینی سے بولے جبکہ انشرح بس قہر آلود نظروں سے ہالے کو دیکھ رہی تھی جو کہ کسی مجرم کی طرح سر جھکائے بیٹھی تھی
شاہ صاحب آپ جو کہہ رہے ہیں وہ بلکل نہیں ہو سکتا ہم اس کلموہی کو اپنے چھوٹے شاہ کے پلے ہرگز نہیں باندھیں گے!!!! کوثر جہاں اٹل لہجے میں بولیں
اور ویسے بھی آغا جان ہالے زرغام سے پورے چار سال چھوٹی ہے انشرح اور زرغام کا جوڑ زیادہ مناسب ہے!!!! نازیہ بیگم نے کہا
بس خاموش!!!!!!
ابھی میں زندہ ہوں اس گھر کے فیصلے کرنے کے لیے اور میں فیصلہ کر چکا ہوں اس جمعے کو زرغام اور ہالے کا نکاح ہو گا اور اگر کسی کو کوئی اعتراض ہے تو وہ بے شک شرکت نا کرے!!!! شیراز شاہ گرج کر بولے جس پر سب ایک بار سہم گئے
بابا جان ایک بار زرغام سے تو پوچھ لیں!!!! شازم شاہ نے کہا انہیں امید تھی کہ زرغام انکار کر دے گا
ہاں بولو زرغام تمہیں کوئی اعتراض ہے؟؟؟ شیراز شاہ نے پوچھا جس پر سب کی نظریں اس پر اٹھیں ہالے نے بھی اس کی جانب دیکھا اسے بھی لگ رہا تھا کہ وہ انکار کر دے گا
مجھے کوئی اعتراض نہیں!!!! زرغام ہاتھ صاف کرتا اٹھ گیا ہالے نے پھٹی پھٹی نظروں سے اسے دیکھا جبکہ انشرح نے زخمی نظروں سے اسے دیکھا
تو پھر بس فیصلہ ہو گیا پرسوں جمعے کو نماز کے بعد ان کا نکاح ہو گا اور اب کوئی کچھ نہیں بولے گا!!!! آغا جان نے جیسے فیصلہ سنایا جس پر سب ناچار خاموش ہو گئے سب خواتین آگ برساتی نظروں سے ہالے کو دیکھ رہی تھیں جس کا خوف سے لو لو کانپ رہا تھا اب پتا نہیں اس کے ساتھ کیا ہونے والا تھا
