Fakhar shah by Zainab Ansari NovelR50580 Fakhar shah (Episode 04)
Rate this Novel
Fakhar shah (Episode 04)
Fakhar shah by Zainab Ansari
زرغام ڈرائیو کرتے ہوئے ساتھ بیٹھی ہالے کو دیکھ رہا تھا جو کہ سکول یونیفارم میں ملبوس تھی اس کے چہرے پر پیاری سی مسکان تھی آج عرصے بعد اسے لگ رہا تھا جیسے وہ اکیلی نہیں ہے تھوڑی دیر بعد زرغام نے گاڑی اس کے سکول کے باہر روکی
میں لینے آؤں گا تمہیں!!!! زرغام نے مسکرا کر کہا
جی ٹھیک ہے شاہ جی اللہ حافظ!!! ہالے بولتی اتر گئی زرغام نے تب تک اسے دیکھا جب تک وہ اندر نہیں چلی گئی پھر گاڑی زن سے بھگا گیا
اسلام و علیکم زہے نصیب شکر ہے خدا کا کہ تمہیں بھی دو دن بعد اپنی شکل دیکھانے کا خیال آ گیا ورنہ مجھے نجانے کیسے کیسے خیال آ رہے تھے پر تم دو دن سے آئی کیوں نہیں ہاں؟؟؟ ہالے کے کلاس روم میں داخل ہوتے ہی رمشا بولتی گئی
وعلیکم السلام کیسی ہو؟؟؟ ہالے نے مسکرا کر پوچھا
میں تو ٹھیک ہوں تم بتاؤ تم تو سلامت ہو نا؟؟؟ رمشا نے پوچھا
ہاں کیوں؟؟؟ ہالے نے پوچھا
کیونکہ مجھے لگ رہا تھا کہ کہیں تمہارے گھر والوں نے تمہاری کوئی ہڈی پسلی تو نہیں توڑ دی خیر چھوڑو یہ بتاؤ تم آئی کیوں نہیں؟؟؟ رمشا نے کہا
تم بھی نا کیا اوٹ پٹانگ سوچتی رہتی ہو اور میں ویسے ہی نہیں آئی!! ہالے نے کہا
اچھا جی اب تم مجھ سے بھی باتیں چھپاؤ گی؟؟؟ رمشا نے افسوس سے کہا
ایسی بات نہیں یار!!! ہالے نے کہا
تو پھر اصل وجہ بتاؤ!!! رمشا نے کہا
میں اس لیے نہیں آئی کیونکہ میرا نکاح تھا!!!!
اچھا!!!
کیا!!!!!!!!!!! رمشا ایک دم چیخی ہالے نے بے اختیار کانوں پر ہاتھ رکھا کلاس میں موجود کئی لڑکیوں نے مڑ کر انہیں دیکھا بھی
تمہارا کیا تھا؟؟؟ رمشا نے پوچھا
میرا نکاح تھا!!! ہالے نے مسکرا کر کہا
نکاح؟؟؟ کس سے؟؟؟ رمشا نے پوچھا جس پر ہالے نے نیچلا لب دانتوں تلے دبایا
بولو بھی!!! رمشا نے کہا
شاہ جی سے!!!! ہالے نے کہا جس پر رمشا کی آنکھیں پھٹنے کی حد تک کھل گئیں
شاہ جی؟؟؟ مطلب زرغام بھائی!!! آف اللّٰہ ہالے تمہارا نکاح زرغام بھائی سے ہو گیا لیکن کیسے؟؟ کیوں؟؟؟ وہ تو بہت!!!
وہ بہت اچھے ہیں کچھ الٹا سیدھا مت کہنا!!! ہالے اس کی بات کاٹتی بولی رمشا نے چونک کر اسے دیکھا
ارے واہ
خدا ملائے جوڑی
ایک اندھا اور ایک گھوڑی!!!! میری بہن وہ کب سے اچھے ہو گئے تم بھول گئی کتنے برے ہیں تمہارے گھر والے؟؟؟ رمشا نے کہا
ہاں پر شاہ جی تو ایسے نہیں ہیں وہ تو بہت اچھے ہیں بلکہ بہت سے بھی زیادہ اچھے ہیں!!! ہالے نے کہا
واقعی؟؟؟ رمشا نے پوچھا جس پر ہالے نے سر ہلایا
یہ تو اچھی بات ہے اللہ تمہیں ہمیشہ خوش رکھے!!! رمشا نے دل سے اسے دعا دی
آمین!!! ہالے نے مسکرا کر کہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہاں تھے تم ساری رات؟؟؟ نازیہ بیگم نے غصے سے نائل سے پوچھا جو کہ ساری رات کے بعد گھر آیا تھا
دوستوں کے ساتھ تھا!!! نائل بولا
کونسے دوست؟؟؟ نازیہ بیگم نے پوچھا
آف ماما کیا تفتیش شروع کر دی ہے ابھی تو آیا ہوں ہٹیں مجھے سونے جانا ہے!!! نائل بولا
دیکھو نائل مجھے تمہاری حرکتیں بلکل ٹھیک نہیں لگ رہیں اس سے پہلے کہ تمہارے بابا یا کسی اور کو پتہ چلے سدھر جاؤ!!! نازیہ بیگم نے کہا پر وہ آن سنی کرتا چل دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام و علیکم!!! زرغام شام کو گھر آتا لاونج میں بیٹھی کوثر جہاں کو سلام کرتا بیٹھا
وعلیکم السلام!!! کوثر جہاں نے مروتآ جواب دیا ان کے چہرے پر واضح ناراضگی تھی جیسے زرغام نے باخوبی نوٹس کیا تھا تبھی اٹھ کر ان کے برابر آ بیٹھا اور ان کے کندھوں کے گرد بازو حائل کر کے لاڈ سے انہیں دیکھنے لگا
کیا ہے ہاں؟؟؟ کوثر جہاں نے پوچھا
میری کیوٹ سی دادی جان کیوں ناراض ہیں اپنے چھوٹے شاہ سے؟؟؟ زرغام نے مسکرا کر پوچھا
آپ تو جیسے جانتے ہی نہیں نا بہت دکھ پہنچایا ہے آپ نے ہمیں چھوٹے شاہ!!! کوثر جہاں نے کہا
دادی جان جو ہونا تھا ہو گیا اب کیا ساری عمر اپنے چھوٹے شاہ سے اسی طرح ناراض رہیں گئیں اچھا ادھر ہماری طرف دیکھیں اب آپ کو کبھی ناراض نہیں کریں گے!!!! زرغام نے کہا جس پر کوثر جہاں کچھ نرم پڑیں
ہم نہیں بولتے آپ سے!!! کوثر جہاں نے کہا
اچھا یہ دیکھیں ہم کان پکڑتے ہیں پلیز اب تو ناراضگی ختم کر دیں!!!! زرغام بولا جس پر کوثر جہاں نے مسکرا کر اس کے سر پر چت لگائی
چل ہم بھلا آپ سے ناراض رہ سکتے ہیں!!! کوثر جہاں نے محبت سے اس کا ماتھا چوما تبھی ہالے پانی کی گلاس لیے وہاں آئی
شاہ جی پانی!!!! ہالے نے گلاس زرغام کی طرف بڑھایا
تھنک یو ہالے نور!!! زرغام نے مسکرا کر گلاس تھاما جبکہ کوثر جہاں نے غصے سے منہ موڑ لیا
تمہاری ڈیٹ شیٹ آ گئی ہے؟؟؟ زرغام نے گلاس واپس پکڑا کر پوچھا
جی اگلے منگل کو پہلا پیپر ہے!!! ہالے نے کہا
ہممممم تو پھر ابھی سے تیاری شروع کرو ٹائم کم ہے!!! زرغام نے کہا
جی!!!! ہالے بولتی کچن کی طرف چل دی زرغام کی نظروں نے دور تک اس کا پیچھا کیا کوثر جہاں کو اس کا انداز ایک انکھ نہ بھایا
اچھا دادی جان میں تھوڑا ریسٹ کر لوں!!! زرغام بولتا اپنے کمرے کی طرف چل دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہالے کہاں مر گئی ہو؟؟؟ انشرح کچن میں کھڑی سلاد بناتی ہالے سے بولی
ہاں بولو کوئی کام تھا!!! ہالے نے پوچھا
میرے کپڑے کیوں نہیں استری کیے تم نے اور ساری الماری بھی بکھری ہوئی ہے آخر تم سارا دن کرتی کیا رہتی ہو؟؟؟ انشرح نے غصے سے پوچھا
وہ میرے ذہن سے نکل گیا میں ابھی کر دیتی ہوں!!! ہالے بولی
بڑی مہربانی ہوگی!!! انشرح بولتی باہر نکل گئی ہالے بھی تیزی سے سلاد کاٹنے لگی
ہالے نور!!!! ابھی وہ کچن سمیٹ رہی تھی جب زرغام نے پکارا
جی شاہ جی؟؟؟ ہالے نے اس سے پوچھا جو کچن کے دروازے میں کھڑا تھا
میں باہر انتظار کر رہا ہوں دس منٹ میں ریڈی ہو کر آؤ!!! زرغام نے کہا
پر میں وہ۔۔۔۔۔۔
ہالے نور!!!!!!! وہ جو کچھ کہنے والی تھی اس کی آواز پر چپ ہوتی اس کے پاس سے گزر کر اوپر چل دی وہ بھی مسکراتا گاڑی کی چابی انگلی میں گھماتا باہر چل دیا
وہ گاڑی میں منتظر سا بیٹھا تھا جب ہالے ساتھ والی سیٹ پر آ بیٹھی زرغام نے ایک نظر اسے دیکھا وہ اس وقت پرپل کلر کے عام سے سوٹ میں ملبوس تھی جو کہ انشرح کا تھا ساتھ ہم رنگ حجاب کیے ہوئے وہ عام سے حلیے میں بھی بے حد حسیں لگ رہی تھی زرغام نے ایک نظر اسے دیکھ کر گاڑی سٹارٹ کی گاڑی گاؤں کے کچے راستوں سے ہوتی ہوئی شہر میں داخل ہوئی
ہم کہاں جا رہے ہیں شاہ جی؟؟؟ ہالے نے پوچھا
ہم مال جا رہے!!!! زرغام نے کہا
اس وقت؟؟؟ کیوں؟؟؟ ہالے نے پوچھا
سارا دن میرا وقت نہیں لگتا پہلے یونی پھر آغا جان کے ساتھ زمینوں پر تو تمہیں شاپنگ نہیں کروا پا رہا تھا اس لیے سوچا کیوں نا ابھی یہ کام کر لیا جائے!!! زرغام نے مسکرا کر کہا
لیکن میرے پاس تو سب کچھ ہے مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے چلیں گھر چلتے ہیں!!! ہالے نے کہا زرغام نے اسے گھور کر دیکھا پھر گہری سانس خارج کرتا اس کی طرف متوجہ ہوا
ہالے دیکھو میں تمہیں ایک بات بتاتا ہوں میں جانتا ہوں کہ تم بہت سادہ مزاج ہو اور تھوڑے میں ہی خوش ہو جاتی ہو لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ تم اپنی جائز ضرورتوں کا تقاضا بھی نا کرو میں جانتا ہوں کہ تمہارے ساتھ ہمیشہ غلط ہوتا رہا ہے پہلے میں اس پر خاموش رہتا تھا کیونکہ میرے پاس کوئی اختیار نہیں تھا لیکن اب سب کچھ بدل گیا ہے بلکل ایسے جیسے ہمارا رشتہ بدل گیا ہے اب اگر کوئی تمہیں کچھ کہے گا تو اس کو جواب دینا میری ذمے داری ہے بلکل اسی طرح اگر تمہیں کوئی ضرورت ہے تو تمہارا بھی حق بنتا ہے کہ تم مجھ سے سوال کرو نا کہ فضول میں خود پر جبر کرو سمجھی!!! زرغام نے کہا
جی سمجھ گئی!!! ہالے نے کہا جس پر زرغام مسکرا دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ منظر ایک دو کمروں کے فلیٹ کا ہے جہاں ہالے لاونج میں بیٹھی اپنے سامنے موجود ڈھیر سارے شاپنگ بیگز کو دیکھ رہی تھی انہیں شاپنگ کرتے کافی دیر ہو گئی تھی اس لیے زرغام اسے اپنے فلیٹ میں لے آیا تھا جہاں وہ اکثر شہر آ کر رہتا تھا ہالے حیرت سے اس ساری شاپنگ کو دیکھ رہی تھی جس چیز پر اس کی نظر اٹھتی زرغام اسے لے دیتا پہلے تو وہ جھجھک رہی تھی پر پھر زرغام کے کافی زور دینے پر وہ تھوڑی بہت شاپنگ کرنے لگی لیکن تھوڑی دیر تک وہ بے دھڑک ہو کر فرمائشیں کرنے لگی جس پر زرغام نے مسکراتے ہوئے اسے ڈھیر ساری شاپنگ کروائی پھر ڈنر کے بعد وہ دونوں زرغام کے فلیٹ میں آ گئے اور اس دوران وہ حویلی اور اس کے مکینوں کے بارے میں بلکل بھول چکی تھی
چائے پئیو گی؟؟؟ زرغام نے مسکرا کر پوچھا وہ ابھی شاور کے کر آیا تھا بلیک پینٹ پر بلیک گول گلے والی شرٹ پہنے وہ عام سے حلیے میں بھی کافی ہینڈسم لگ رہا تھا
جی میں بناتی ہوں!!! ہالے نے کہا
تم بیٹھو میں بناتا ہوں!!! زرغام بولتا اوپن کچن کی طرف چل دیا
رہنے دیں شاہ جی میں بناتی ہوں!!! ہالے بھی کچن میں آتی بولی
ساری عمر آپ نے ہی بنانی ہے میڈم ابھی ہمیں خدمت کا موقع دیں!!! زرغام چائے کا پانی چڑھاتا مسکرا کر بولا جس پر ہالے بھی مسکرا دی زرغام نے چائے بنائی پھر فریج سے چاکلیٹ کیک کے دو پیس کاٹ کر پلیٹ میں ڈالے پھر سب کچھ ٹرے میں رکھے لاونج میں آ بیٹھے
لو بتاؤ کیسی بنی ہے؟؟؟ زرغام نے چائے کا کپ اس کی طرف بڑھایا جیسے ہالے نے مسکرا کر تھاما زرغام نے ریموٹ سے ٹی وی اون کیا
کافی مزے کی ہے شاہ جی!!! ہالے چائے کے سپ لیتی بولی زرغام نے مسکرا کر سر کو خم دے کر تعریف وصول کی
یہ میری فیورٹ مووی ہے چلو ساتھ میں دیکھتے ہیں!!! زرغام مووی لگاتا بولا ہالے نے مسکرا کر اسے دیکھا جو کہ چائے پینے کے بعد چمچ سے کیک کھا رہا تھا پھر اس نے اس کے کاندھے سے سر ٹکا دیا زرغام کا منہ میں چمچ ڈالتا ہاتھ رکا اس نے حیرت سے اسے دیکھا اس کے دیکھنے پر ہالے نے اپنی شہد رنگ آنکھیں جھپکائیں اس کے انداز پر زرغام نے مسکرا کر سر جھٹکا پھر وہ دونوں مسکرا کر ٹی وی دیکھنے لگے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آ گئی مہرانی عیش کر کے!!! صبح ہالے اور زرغام حویلی واپس آئے تو جیسے سب انہی کے انتظار میں تھے نسرین بیگم نے ہالے کو دیکھ کر نفرت سے کہا جس نے ڈر کے مارے ساتھ کھڑے زرغام کا بازو تھام لیا جو کہ سپاٹ نظروں سے سب کو دیکھ رہا تھا
کہاں تھے تم دونوں؟؟؟ شازم شاہ نے غصے سے پوچھا
آغا جان کو بتا دیا تھا کہ کہاں تھے!!! زرغام سپاٹ لہجے میں بولتا ہالے کا ہاتھ پکڑے ڈائینگ ٹیبل پر آ بیٹھا ہالے جو کہ سہمی نظروں سے سب کو دیکھ رہی تھی جو کہ اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہے تھے
ہاں مجھے بتا دیا تھا زرغام نے انہیں شہر میں دیر ہو گئی تھی اس لیے رات وہیں رک گئے!!! آغا جان نے کہا
چھوٹے شاہ آپ کس لیے گئے تھے شہر وہ بھی اس کے ساتھ؟؟؟ کوثر جہاں نے پہلے زرغام اور پھر ہالے کو دیکھ کر کہا
ہالے نور کو شاپنگ کروانے گیا تھا پھر اس کے پیپر شروع ہو جائیں گے تو وقت نہیں ملے گا!!! زرغام ہالے کے سامنے پلیٹ رکھتا بولا
لیکن اس کی کیا ضرورت تھی ہالے کے پاس تو سب کچھ ہے!!! نازیہ بیگم نے کہا
بلکل جیسے باقی خواتین کے پاس سب کچھ ہے پر میں نے سوچا کہ وہ کم ہے اس لیے ہم مال گئے تھے کیونکہ وہ کیا ہے نا کہ بیویوں کو جتنی بھی شاپنگ کرواؤ کم ہوتی ہے کیوں میں نے ٹھیک کہا نا چچا جان آپ کو تو تجربہ ہو گا آخر ہر دو دن بعد تو آپ چچی کو شاپنگ کروانے لے کر جاتے ہیں بس اسی لیے میں نے بھی سوچا کہ کیوں نا آپ کے نقشے قدم پر چلا جائے کیا کسی کو کوئی اعتراض ہے؟؟؟ زرغام نے ایبرو آچکا کر پوچھا جس پر ہاد اور آغا جان نے سر جھکا کر ہنسی روکی جبکہ جہاں باقی سب نے غصے سے سر جھٹکا وہیں انشرح غصے سے پلیٹ پیچھے کھسکاتی اٹھ گئی زرغام نے ہالے کو دیکھ کر دائیں آنکھ ونک کی جس پر وہ روکنے کے باوجود ہنس پڑی باقی سب آہستہ آہستہ اٹھ گئے پر وہ دونوں مسکرا کر ناشتہ کرتے رہے چاہے کوئی کچھ بھی کہے انہیں فرق نہیں پڑتا تھا
