Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Fakhar shah (Episode 05)

Fakhar shah by Zainab Ansari

ہائے ڈئیر کزن!!!! ہالے کچن میں کھڑی رات کا کھانا بنا رہی تھی جب پیچھے سے نائل کی آواز سنائی دی ہالے نے ایک نظر مڑ کر اسے دیکھا پھر دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہو گئی

اوہ ہو اتنا نخرہ کیا بات ہے یہ اتنی اکڑ کہاں سے آ گئی ہے؟؟؟ نائل چلتا ہوا اس کے برابر آ کھڑا ہوا لیکن ہالے نے اس پر کوئی خاص توجہ نا دی جس پر نائل نے غصے سے لب پیچے

تم سے بات کر رہا ہوں!!!! نائل غصے سے بولا جس پر ہالے خاموشی سے اس کے پاس سے گزر کر باہر جانے لگی جب ایک دم نائل نے اس کا دوپٹہ کھینچا ہالے نے برق رفتاری سے دوپٹے کو تھاما ورنہ وہ اس سے الگ ہونے والا تھا

نائل چھوڑیں!!! ہالے نے سہمی نظروں سے اسے دیکھا

کیوں کیا ہوا نکل گئی ساری اکڑ!!! نائل تمسخر سے بولا جس پر ہالے کی آنکھوں میں نمی چمکی

نائل میں کہہ رہی ہوں میرا دوپٹہ چھوڑیں!!! ہالے نے نم لہجے میں کہا

اگر نا چھوڑوں تو؟؟؟ نائل خباثت سے بولا

نائل چھوڑ دیں ورنہ!!!

ورنہ؟؟؟ ورنہ کیا؟؟؟ کیا کر لو گی تم ہاں؟؟؟ نائل نے پوچھا

ورنہ میں شاہ جی کو بتاؤں گی!!! ہالے نے دھمکی دی جیسے وہ سرے سے ہوا میں اڑا گیا

اچھا ٹھیک ہے بتا دینا لیکن ابھی ادھر تو آؤ!!! نائل اسے کلائی سے کھینچتا بولا وہ جو پہلے کی سہمی ہوئی تھی اس اچانک افتاد پر توازن برقرار نہ رکھ سکی لیکن اس کے قریب ہوتے ہی ایک زوردار تھپڑ اسے رسید کر گئی

تمہاری یہ مجال!!! نائل گال پر ہاتھ رکھتا غصے سے بولتا اسے بازو سے دبوچتا اپنے روبرو کر گیا ہالے نے خوف سے اسے دیکھا

ہالے!!!! باہر سے آتی نسرین بیگم کی آواز پر نائل نے دروازے کی طرف دیکھا موقعے کا فائدا اٹھاتے ہوئے ہالے نے تیزی سے اپنا بازو اس کی گرفت سے نکالا اس کوشش میں اس کی آستین بھی پھٹ گئی وہ بغیر پیچھے دیکھے تیزی سے باہر بھاگی نائل بھی ہوش میں آتا اس کے پیچھے لپکا ہالے اپنے کمرے میں جانے کی بجائے زرغام کے کمرے میں داخل ہو گئی جیسے دیکھ کر نائل بھی پیر پٹختا واپس چل دیا

کیا ہوا ہالے نور؟؟؟ وہ جو بیڈ پر بیٹھا کوئی سائیمنٹ بنا رہا تھا اسے یوں اتنا دیکھ پریشان سا کھڑا ہوا ہالے نے کچھ پل اسے دیکھا پھر ایک دم اس کے سینے سے جا لگی زرغام نے حیرت سے اسے دیکھا جو اس کے سینے میں منہ چھپائے سسک سسک کر رو رہی تھی

ہالے نور کیا ہو ادھر دیکھو میری طرف!!! زرغام نے اسے کندھوں سے تھام کر اپنے سامنے کیا ہالے کا چہرہ مکمل طور پر آنسوں سے تر تھا تبھی زرغام کی نظر اس کی پھٹی ہوئی آستین پر پڑی ایک دم اس کی آنکھوں میں بے یقینی اتری پھر اگلے ہی لمحے ڈھیر سارا غصہ

کس نے کیا یہ؟؟؟ زرغام نے اس کے بازو دبوچتے ہوئے سخت لہجے میں پوچھا

شش شاہ جج جی وہ!!!

ہالے مجھے بتاؤ!!! زرغام ایک دم غصے سے بولا

وو وہ نائل نے!!!! ہالے نے کہا زرغام کی آنکھوں میں ایک دم خون اترا اس نے جبڑے پیچے سامنے کھڑی ہالے کو دیکھا جو کہ ابھی بھی زاروقطار رو رہی تھی

رونا بند کرو ہالے نور ورنہ میں تمہارا گلہ دبا دوں گا!!! زرغام غصے سے بولا جس پر ہالے نے سہم کر اسے دیکھا

کیوں رو رہی ہو تم ہاں؟؟؟ تم لڑکیوں کو صرف رونا ہی آتا ہے؟؟ کیوں تم لوگوں نے اپنے آنسوؤں کو اس قدر بے مول بنا دیا ہے؟؟؟ کیوں ہمارے معاشرے میں عورت کا رونا ایک عام بات بن گئی ہے؟؟؟ تم لڑکیوں نے کیوں خود کو ایک کہانی کی مظلوم سی شہزادی سمجھ لیا ہے جیسے بس ایک شہزادہ ہی بچا سکتا ہے ہاں؟؟؟ کیوں تم لوگ اپنی ساری زندگی ایک شہزادے کے انتظار میں گزار دیتی ہو؟؟؟ کیوں تم لوگ اپنی محافظ خود نہیں بنتی ہو؟؟؟ تمہیں تو ہر روپ میں خدا نے عزت بخشی ہے

ماں کے روپ میں محترم ہو

بہن کے روپ میں فرض ہو

بیوی کے روپ میں عزت ہو

بیٹی کے روپ میں رحمت ہو

پھر کیوں تم نے خود کو گرا لیا ہے؟؟؟ کیوں خود کو مردوں سے کم تر سمجھ لیا ہے؟؟؟ آخر کیوں تمہیں جینے کے لیے کسی کا سہارا چائیے ہاں؟؟؟ زرغام اسے اپنے روبرو کرتا ایک ہی سانس میں بولتا گیا اس کی سفید رنگت میں سرخی گھل گئی تھی تیز تیز بولنے سے اسے سانس چڑھ گیا تھا ہالے بس حیرت سے اسے سن رہی تھی

میں کیا کروں شاہ جی؟؟؟ ہالے سر جھکا کر بولی زرغام نے گہری سانس لے کر خود کو نارمل کیا پھر اس کا چہرہ ہاتھوں میں بھر کر اس کی طرف متوجہ ہوا

ہالے نور میری جان میری بات غور سے سنو میں جانتا ہوں کہ نکاح کے بعد میں تمہارا محافظ بن گیا ہوں تمہیں ہر دکھ اور تکلیف سے بچانا میری ذمے داری ہے اور میں اس ذمے داری کو آخری سانس تک نبھاؤں گا لیکن ہالے نور میں چاہتا ہوں کہ تم خود ہی اپنی محافظ بنو اتنی مضبوط بن جاؤ کہ بڑے سے بڑا پہاڑ بھی تمہیں توڑ نا سکے تمہیں کبھی کسی کے پیچھے چھپنا نا پڑے کبھی کسی کے سامنے سر نا جھکانا پڑے میں چاہتا ہوں ہالے نور کہ تم ایسی بن جاؤ کہ مجھے تم پر فخر ہو میں یہ اس لیے نہیں کہہ رہا کہ میں اپنی ذمے داری نہیں نبھانا چاہتا بلکہ صرف اس لیے کہ میں ہوں نا ہوں تم پر کوئی مصیبت نا آئے تم اپنی حفاظت کر سکو ہالے نور میں چاہتا ہوں کہ تم ایسی بن جاؤ کہ میں مان سے کہوں یہ ہے میری ہالے نور جس پر زرغام شاہ کو فخر ہے یہ ہے وہ لڑکی جو کہ زرغام شاہ کا فخر ہے!!! زرغام بہت مان سے بولا ہالے بغیر پلک جھپکائے اسے سن رہی تھی

میں واقعی ایسی بننا چاہتی ہوں شاہ جی مجھے آپ کا فخر بننا ہے!!! ہالے نے کہا جس پر زرغام نے مسکرا کر اسے دیکھا

میں بناؤں گا تمہیں ایسا ہالے نور تم ایک ہیرا ہو جیسے میں تراشوں گا پھر دیکھنا کوئی تمہاری چمک کے سامنے ٹک نہیں پائے گا!!!! زرغام نے مسکرا کر کہا جس پر ہالے بھی مسکرا دی زرغام نے اسے ساتھ لگایا اس کے بالوں میں لب رکھے وہ سوچ رہا تھا کہ اب آگے کیا کرنا چاہیے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آغا جان مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے!!! ناشتے کی میز پر زرغام نے کہا جس پر سب اس کی طرف متوجہ ہوئے

ہاں بولیں چھوٹے شاہ!!! آغا جان نے کہا

آغا جان میں شہر جانا چاہتا ہوں جب تک میری پڑھائی پوری نہیں ہو جاتی!!! زرغام نے کہا

لیکن کس لیے؟؟؟ شازم شاہ نے پوچھا

کیونکہ مجھے ہر روز جانے اور واپس آنے میں دقت ہوتی ہے ویسے بھی یہاں کا سارا کام ہاد سنبھال لے گا تو مجھے نہیں لگتا کہ میرے جانے سے کوئی مسئلہ ہو گا!!! زرغام نے کہا

ٹھیک ہے چھوٹے شاہ جیسا آپ مناسب سمجھیں!!! آغا جان نے کہا

تو پھر ٹھیک ہے ہالے نور تم اپنا اور میرا سامان پیک کر لو ہم صبح نکلیں گے!!! زرغام نے کہا جبکہ اب کی بار سب کے کھانا کھاتے ہاتھ رکے

کیا ہالے بھی ساتھ جائے گی؟؟؟ نسرین بیگم نے جل کر پوچھا

ہاں بلکل اب چونکہ اس کے بھی پیپر ختم ہو گئے ہیں تو میں سوچ رہا تھا کہ اس کا اڈمیشن بھی شہر کے کسی کالج میں کروا دوں گا ایسے میں مجھے بھی آسانی رہے گی !!! زرغام نے عام سے انداز میں کہا

پر!!!!

بس اب پلیز اور کچھ نہیں!!! کسی کے بولنے سے پہلے ہی زرغام نے کہا جس پر سب ناچار خاموش ہو گئے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تم لوگ کون ہو؟؟؟ نائل نے ڈیرے میں داخل ہوتے آدمیوں سے پوچھا جنہوں نے اس کے پوچھنے پر ایک دوسرے کو دیکھا

میں کچھ پوچھ رہا ہوں!!!! نائل غصے سے بولا ان آدمیوں نے کچھ پل اسے دیکھا پھر ایک دم اس کی طرف بڑھے

یہ!!! یہ کیا کر رہے ہو؟؟؟ چھوڑو مجھے!!! نائل ان سب لوگوں سے جو کہ اسے بازوؤں سے پکڑ چکے تھے پھر دیکھتے ہی دیکھتے انہوں نے کافی اچھی طرح اس کی دھلائی کر ڈالی پھر ایک طرف کھڑے ہو گئے جبکہ نائل زمین پر گرا تھا جب پاس قدموں کی آہٹ سنائی دی اس نے نظر اٹھا کر دیکھا تو سامنے زرغام کھڑا تھا کچھ پل اسے دیکھتا رہا پھر اس کے پاس زمین پر بیٹھا

آئیندہ میری بیوی کی طرف دیکھا تو جان سے جاؤ گے!!! زرغام آگ سے لہجے میں بول کر واپس چل دیا

نہیں چھوڑوں گا میں تمہیں زرغام اس کا حساب سود سمیت لوں گا!!!! نائل اسے جاتا دیکھ بولا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *