Fakhar shah by Zainab Ansari NovelR50580 Fakhar shah (Episode 07)
Rate this Novel
Fakhar shah (Episode 07)
Fakhar shah by Zainab Ansari
شاہ جی پلیز گاڑی کی سپیڈ کم کریں مجھے ڈر لگ رہا ہے!!! ہالے نے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے زرغام سے کہا جو کہ فل سپیڈ پر گاڑی بھگا رہا تھا
نہیں ہالے نور مجھے جلد از جلد آغا جان کے پاس پہنچنا ہے جب تک انہیں دیکھ نہ لوں مجھے چین نہیں آئے گا!!! زرغام بولا جس پر ہالے ناچار خاموش ہو گئی تبھی ایک گاڑی بلکل ان کے برابر آئی جس میں تین افراد سوار تھے وہ گاڑی بلکل ان کی گاڑی کے برابر چل رہی تھی ہالے کو کچھ اچھنپا سا ہوا تبھی ساتھ والی گاڑی کی پیچھلی سیٹ سے کسی نے شیشہ نیچے کیا اور ہالے کی آنکھیں پھٹنے کی حد تک کھل گئیں جہاں وہ شخص ان کی گاڑی پر گن تان رہا تھا
شاہ جی!!!!! ہالے ایک دم چیخی تبھی اس شخص نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کردی یکے بعد دیگرے تین فائر زرغام کو لگے جبکہ ایک گولی ہالے کا بازو چیڑ گئی
ہالے نور نیچے جھکو!!! زرغام بولا اس کے جسم سے خون رس رہا تھا ایک دم اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا گاڑی اس سے نا سنبھلی اور سامنے والی گاڑی سے ٹکڑا گئی آخری منظر جو زرغام نے بے ہوش ہونے سے پہلے دیکھا تھا وہ ساتھ والی سیٹ پر بے ہوش پڑی ہالے تھی اس کے ماتھے سے خون بہہ رہا تھا بازو بھی لہو لہان تھا اردگرد شور بڑھتا جا رہا تھا آہستہ آہستہ زرغام ہوش و حواس سے بیگانہ ہو گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ منظر شاہ حویلی کی دوسری منزل پر موجود وسیع وعریض کمرے کا ہے یہ کمرہ باقی تمام باقی تمام کمروں کی نسبت بڑا اور شاندار تھا کمرے کے بیچوں بیچ پڑے بیڈ پر زرغام چت لیٹا تھا چہرہ کافی کمزور لگ رہا تھا اس کی سفید رنگت پیلی پڑ چکی تھی اور کسرتی جسم بھی کافی کمزور ہو چکا تھا چہرے پر شیو کافی بڑھ چکی تھی دفعتاً اس کی آنکھوں میں جبنش ہوئی آہستہ آہستہ اس نے آنکھیں واہ کیں اور آس پاس نظریں دوڑائیں دھیرے دھیرے اس کے حواس بحال ہوئے وہ کئی طرح کی مشینوں میں جکڑا ہوا تھا اس نے اٹھنے کی کوشش کی پر جسم میں جیسے سکت نہ تھی اس نے سر واپس تکیے پر رکھ دیا اس نے ایک نظر اطراف میں دوڑائ یہ اس کا کمرہ تھا وہ اس وقت شاہ حویلی میں تھا پر اسے اپنا کمرہ کافی بدلا ہوا لگ رہا تھا تبھی دروازا کھلا زرغام نے ایک نظر دروازے کو دیکھا جہاں کوئی ادھیڑ عمر خاتون چلی آ رہی تھیں اس کے ہاتھ میں پانی سے بھرا جگ تھا زرغام نے اسے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا اندر داخل ہوتے ہوئے اس خاتون نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا تو جیسے اس کا سانس سینے میں اٹک گیا اس کے چہرے پر واضح بے یقینی تھی
سائیں آپ آآآآآآ حیرانگی کے عالم میں اس کے ہاتھ سے پانی کا کے چھوٹ کر فرش پر گرتا چکنا چور ہو گیا
آپ کون آآآآآآ زرغام کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی وہ تیزی سے باہر نکل گئیں زرغام نے حیرت سے اس کی کاروائی دیکھی پھر اٹھنا چاہا پر اس کی ٹانگیں حرکت نہیں کر رہیں تھیں تھک کر اس نے سر تکیے سے ٹکا دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیگم سرکار!!!!!
بیگم سرکار!!!!!
خانم بی کیا ہو گیا ہے کیوں چلا رہی ہیں؟؟؟ ایک بائیس سالہ لڑکی نے انہیں روک کر پوچھا
وہ رمشاء بی بی بیگم سرکار کہاں ہیں؟؟؟ خانم بی نے پھولے ہوئے سانس کے ساتھ پوچھا
وہ تو زنان خانے میں ہیں ابھی آئیں ہیں ہوا کیا آپ کیوں پوچھ رہی ہیں!!!! رمشا نے پوچھا پر وہ بغیر کوئی جواب دیے زنان خانے کی طرف بڑھ گئیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیگم سرکار میرا شوہر بلکل اجازت نہیں دے رہا میری بیٹی کو آگے پڑھنے کی میں نے بہت کوشش کی پر وہ مانتا ہی نہیں ہے!!!! زنان خانے میں بیٹھی ایک خاتون نے اپنے سامنے کرسی پر بیٹھی تئیس سالہ لڑکی سے کہا جو کہ اپنی شہد رنگ آنکھیں اس عورت پر مزکور کیے غور سے اسے سن رہی تھی
کیا تمہارا شوہر نہیں جانتا کہ گاؤں کے سرپنچ میر ہاد شاہ نے یہ اصول قائم کیا ہے کہ گاؤں کی ہر لڑکی پر تعلیم حاصل کرنا لازم ہے!!!! اس پری پیکر نے اپنی مخروطی انگلی سے آنکھوں میں آتے بال پیچھے کرتے ہوئے پوچھا اس کی مخروطی انگلی میں موجود انگوٹھی اس کے سفید ہاتھ پر جچ رہی تھی
جی بیگم سرکار پر وہ آآآآآآآآ
بیگم سرکار ہماری بات سنیں!!!! اس خاتون کے بولنے سے پہلے خانم بی اندر آتیں بولیں جس پر اس لڑکی نے اپنی روشن پیشانی پر بل ڈالے انہیں دیکھا
خانم بی یہ کیا طریقہ ہے کیا ہم نے آپ کو منع نہیں کیا کہ جب ہم زنان خانے میں ہوں تو کسی بھی بات کیلئے مداخلت نا کریں!!!! اس نے سخت لہجے میں پوچھا
گستاخی معاف بیگم سرکار پر وہ شاہ سائیں!!!
کیا ہوا انہیں؟؟؟ اس نے بے چینی سے اٹھتے ہوئے پوچھا
وہ بیگم سرکار شاہ سائیں کو ہوش آ گیا ہے!!! خانم بی نے کہا جس پر اس کے چہرے پر واضح حیرت ابھری وہ بغیر کسی کی طرف دیکھے تیزی سے باہر نکلی اس نے تقریباً بھاگ کر سیڑھیاں چڑھیں اس کا دل بہت تیزی سے دھڑک رہا تھا اس نے دوسری منزل پر پہنچ کر پہلے کمرے کا دروازا کھولا زرغام نے گردن موڑ کر دروازے کی سمت دیکھا جہاں سفید رنگ کا سوٹ پہنے دائیں طرف سیاہ شال ڈالے شہر رنگ آنکھوں والی لڑکی کھڑی تھی اس کا سانس پھولا ہوا تھا سفید دوپٹے سے اس کے سیاہ بال نظر آ رہے تھے اس کے چہرے پر واضح بے یقینی تھی ابھی وہ قدم آگے بڑھاتی کہ زمین پر ٹوٹا ہوا کانچ دیکھ کر رکی وہ احتیاط سے چلتی اس کے پاس بیڈ پر آ بیٹھی
آپ اٹھ گئے؟؟؟ اس نے زرغام کا ہاتھ تھامتے ہوئے پوچھا لہجے میں خوشی جھلک رہی تھی جبکہ زرغام نے پہلے اسے دیکھا پھر اپنے ہاتھ کو جو اس نے تھام رکھا تھا پھر ایک دم اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے چھڑایا جبکہ اس کے عمل پر مقابل کی آنکھوں میں حیرت ابھری
کون ہو تم اور تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے چھونے کی!!! زرغام نے سخت لہجے میں کہا
آپ نے مجھے نہیں پہچانا میں وہ آآآآآآآآ
خاموش!!!! تم جو کوئی بھی ہو تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے کمرے میں آنے کی اور میں یہاں کیسے آیا ہم تو گاؤں جا رہے تھے جب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زرغام بولتا بولتا رکا
گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا!!!! اس لڑکی نے دھیرے سے کہا جس پر زرغام کے سامنے ہالے کا چہرہ لہرایا ایک دم اس کا دل کانپا
ہالے نور!!!!! میری ہالے نور کہاں ہے وہ بھی گاڑی میں تھی اسے چوٹ لگی تھی کہاں ہے وہ اسے کچھ ہوا تو نہیں تم سے پوچھ رہا ہوں کہاں ہے میری ہالے نور؟؟؟؟ زرغام ایک دم بے چینی سے پوچھا جس پر وہ سر جھکائے دھیرے سے مسکرا دی
نہیں شاہ جی آپ کی ہالے نور کو کچھ نہیں ہوا!!!! اس نے نرمی سے زرغام کے گال پر ہاتھ رکھا جبکہ اس کی بات پر زرغام نے چونک کر اسے دیکھا یہ لہجہ یہ انداز یہ آنکھیں سب کچھ کتنا اپنا سا تھا
ہالے نور!!!!!! زرغام بے یقینی سے بولا جس پر ہالے نے ہاں میں سر ہلایا
میں آآآآآآآآ
آپ ایکسیڈنٹ کے بعد کومے میں چلے گئے تھے شاہ جی آپ پیچھلے سات سال سے کومے میں تھے!!! ہالے نے دھیرے سے کہا زرغام کے چہرے پر واضح بے یقینی تھی
میں سات سال سے کومے میں تھا پر کیسے ؟؟؟ زرغام نے اس کے ہاتھ تھامتے ہوئے فکرمندی سے پوچھا اس سے پہلے کہ ہالے کچھ کہتی دروازا نوک ہوا ہالے نے نرمی سے زرغام کے ہاتھوں سے اپنے ہاتھ نکالے پھر اٹھ کھڑی ہوئی
آ جائیں!!! ہالے نے کہا
بیگم سرکار آپ کو ہاد سائیں بلا رہے ہیں!!! ملازمہ نے اطلاع دی
ٹھیک ہے یہ کانچ اٹھاؤ!!! ہالے بولتی آگے بڑھنے لگی جب زرغام نے ایک دم اس کا ہاتھ پکڑا جس پر ہالے نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا وہ کہیں سے بھی وہ معصوم سی ہالے نہیں لگ رہی تھی بلکہ اس وقت تو وہ زرغام کو اجنبی ہی لگ رہی تھی
کہاں جا رہی ہو؟؟؟ زرغام نے پوچھا
کچھ کام ہے شاہ جی آپ آرام کریں!!!! ہالے بولتی دوپٹہ ٹھیک کرتی باہر چل دی زرغام کو اس کے انداز میں عجیب روکھا پن سا محسوس ہوا دل میں ایک ٹھیس سی اٹھی کیا ہالے کے لیے وہ بے معنی ہو گیا تھا اس نے زخمی نظروں سے بند دروازے کو دیکھا جہاں سے ابھی وہ گئی تھی پھر سختی سے آنکھیں میچ لیں نجانے ان سات سالوں میں کیا کیا ہوا ہو گا جس سے زرغام بے خبر تھا
