Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Fakhar shah by Zainab Ansari

زرغام اپنے کمرے میں سنگل صوفے پر بیٹھا تھا جب دروازا نوک ہوا
آجاؤ!!!
صاحب آپ کو کھانے پر بلا رہے ہیں!!! ملازم نے کہا
مجھے بھوک نہیں!!! زرغام نے کہا جس پر وہ باہر نکل گیا وہ آنکھیں موندے بیٹھا تھا جب دروازا دوبارہ نوک ہوا
کہا ن مجھے بھوک نہیں!!!!
آغا جان آپ؟؟؟ زرغام بولتا بولتا رکا
مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے زرغام!!! آغا جان نے سنجیدگی سے کہا
آغا جان بیٹھیں!!! زرغام نے کہا جس پر وہ بیڈ پر بیٹھے
اگر کوئی کام تھا تو مجھے بلا لیتے آپ نے خود کیوں ضحمت کی!!! زرغام بولا
بیٹا مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے بلکہ گزارش کرنی ہے!!!! شیراز شاہ تھکے ہوئے لہجے میں بولے جس پر زرغام صوفے سے اٹھتا ان کے قدموں میں آ بیٹھا
آغا جان کیسی بات کر رہے ہیں آپ حکم کریں!!!! زرغام ان کے ہاتھ تھام کر بولا
بیٹا میرے دل پر ایک بوجھ ہے جو کہ دن با دن مجھے موت کی طرف دھکیلتا جا رہا ہے میں اب بہت بوڑھا ہو چکا ہوں پتا نہیں کب یہ دنیا چھوڑ دوں!!!!
اللہ نا کرے آغا جان کیسی بات کر رہے اللہ آپ کا سایہ ہمارے سروں پر سلامت رکھے!!! زرغام ان کے ہاتھ پر بوسہ دیتا بولا
بیٹا مجھ سے ایک گناہ سر زد ہوا ہے میں نے ماہا نور پر دروازے بند کیے تھے وہ کئی بار آئی تھی میرے پاس لیکن میں نے اس کی نا سنی وہ اپنی دل کی باتیں دل میں ہی لیے اس دنیا سے چلی گئی میں اس سے معافی تک نا مانگ سکا اور نا ہی میں ہالے کے لیے کچھ کر سکا تم نے دیکھا کس طرح اس گھر کے لوگ اس کے ساتھ جانوروں کی طرح سلوک کرتے ہیں اس کی بڑی وجہ بھی میں ہوں میں نے اس گھر میں ماہا نور کی حیثیت ختم کر دی تھی اس لیے ہالے کی بھی حثیت بھی ختم ہو گئی سب نے اسے بس ایک بیکار چیز سمجھ رکھا ہے لیکن میں چاہتا ہوں کہ مرنے سے پہلے اس کے لیے کچھ کر جاؤں!!!؟ شیراز شاہ نے نم لہجے میں کہا
آغا جان میں سمجھا نہیں!!!! زرغام نے کہا
بیٹا میں چاہتا ہوں کہ تم ہالے سے نکاح کر لو!!!! شیراز شاہ نے کہا جس پر زرغام نے چونک کر انہیں دیکھا
کیا؟؟؟ زرغام نے حیرت سے کہا
بیٹا وہ اکیلی اس دنیا کا سامنا نہیں کر سکتی اسے کسی سہارے کی ضرورت ہے میں آج ہوں کل نہیں ہوں گا میری وجہ سے ابھی وہ سانس لے رہی ہے اگر مجھے کچھ ہو گیا تو یہ لوگ تو اسے نوچ ڈالیں گے دیکھو زرغام ہالے بہت اچھی لڑکی ہے بہت نیک اور فرمانبردار بچی ہے میری یہ بات مان لو بیٹا تاکہ میں کل حشر میں اپنی ماہا نور سے نظریں ملانے کے قابل ہو جاؤں!!!! شیراز شاہ آنکھوں میں آنسوں لیے بولے زرغام نے لب پیچے انہیں دیکھا پھر کچھ پل خاموش رہنے کہ بعد ان کے ہاتھ پر بوسہ دیا
آپ کی خواہش میرے لیے حکم ہے آغا جان آپ جیسا چاہتے ہیں میں ویسا ہی کروں گا آخر آپ ہی تو میرے لیے بابا اور ماما دونوں ہیں!!!! زرغام نے مسکرا کر کہا آغا جان نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا
شکریہ بیٹا تم نے مجھے اس قابل کر دیا کہ میں سکون سے مر جاؤں!!!! شیراز شاہ بولے
آغا جان بس بھی کریں کیوں اتنے ایموشنل ہو رہے ہیں!!!! زرغام انہیں گھور کر بولا جس پر وہ ہنس دیے
چل آ جا کھانا کھاتے ہیں!!! شیراز شاہ بولتے اٹھ گئے
جی چلیں!!!؟ زرغام نے کہا جس پر وہ دونوں نیچے چل دیے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *