Fakhar shah by Zainab Ansari NovelR50580 Fakhar shah (Episode 03)
Rate this Novel
Fakhar shah (Episode 03)
Fakhar shah by Zainab Ansari
آج جمعے کا دن تھا اور ہالے اور زرغام کا نکاح بھی تھا گھر میں موجود ہر ذی نفس کلس رہا تھا لیکن شیراز شاہ کسی کو خاطر میں نہیں لا رہے تھے جمعے کی نماز کے بعد مسجد میں نکاح ہونا تھا سارے انتظامات ہاد دیکھ رہا تھا باقی کسی نے کچھ کرنے کی پرواہ نہیں کی
آجاؤ!!!! ہالے کمرے میں بیٹھی اپنے ہاتھوں پر لگی مہندی دیکھ رہی تھی صبح پارلر والی نے اسے مہندی لگائی تھی اور اب بھی دو بیوٹیشنز اس کا میک اپ کرنے کے لیے کھڑی تھیں ان سب کو زرغام نے بلایا تھا
بی بی جی چھوٹے صاحب نے یہ آپ کے لیے بھیجا ہے!!! ملازمہ ایک شاپنگ بیگ بیڈ پر رکھ کر چلی گئی ہالے گہری سانس لے کر مہندی دھونے اٹھ گئی تھوڑی دیر بعد وہ باہر آئی اس کی ہاتھوں پر خوب رنگ چڑھا تھا پر دل میں عجیب ویرانی سی تھی نجانے زرغام کا رویہ اس کے ساتھ کیسا ہو گا دفعتاً اس کی نظر بیڈ پر پڑے شاپنگ بیگ پر پڑی اس نے آگے بڑھ کر بیگ کھولا تو اسے حیرت کا جھٹکا لگا اندر ایک بہت ہی نفیس وائٹ فراک تھی جس پر بہت ہی خوبصورت سا گاؤن تھا جس پر سفید موتیوں کا کام ہوا تھا ساتھ میچنگ جیولری اور میچنگ ہیل بھی تھی ہالے بے یقینی سے یہ سب دیکھ رہی تھی اسے عموماً انشرح کی اترن ہی ملا کرتی تھی پہننے کو یا سال بعد عید پر ایک جوڑا جو کی آغا جان کی طرف سے ہوتا تھا اب بھی وہ اس وجہ سے پریشان تھی کہ وہ کیا پہنے گی پر اب اس ڈریس کو دیکھ وہ بے ساختہ مسکرا دی
میڈم آپ چینج کر لیں پھر ہم میک اپ سٹارٹ کریں گے!!! بیوٹیشن نے کہا جس پر وہ ڈریس اٹھائے واش روم کی طرف چل دی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاد پتا کرو یہ زرغام ابھی تک آیا کیوں نہیں دیر ہو رہی ہے!!! آغا جان گھڑی دیکھتے بولے
ارے آغا جان آ جائیں گے ان کی شادی ہے تھوڑا سجنے سنورنے تو دیں!!! ہاد نے کہا
یہ سجنا سنورنا عورتوں کا کام ہے اسے بول جلدی نیچے آئے!!! آغا جان نے کہا
جی اچھا!!! ہاد بولتا اوپر چل دیا اس نے زرغام کے کمرے کا دروازا نوک کیا پھر اجازت ملنے پر اندر داخل ہوا جہاں وہ شیشے کے سامنے کھڑا بال بنا رہا تھا اس نے سفید شلوار قمیض پر گولڈ اور سفید واسکٹ پہن رکھی تھی بالوں کو جیل سے سیٹ کیے وہ اس وقت بے حد ہینڈسم لگ رہا تھا
بھائی آغا جان بلا رہے ہیں!!! ہاد نے کہا
آ رہا ہوں!!! زرغام خود کو شیشے میں دیکھتا بولا پھر باہر چل دیا گھر میں کوئی بھی اس شادی سے خوش نہیں تھا ہر ایک بس غصے اور بے بسی سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے پر آغا جان اپنی بات پر آڑے ہوئے تھے
جمعے کی نماز کے بعد مسجد میں زرغام اور ہالے کا نکاح ہوا اس نکاح میں گھر کے کسی فرد نے شرکت نہیں کی سوائے ہاد کے وہ اس سب سے بہت خوش تھا جبکہ باقی سب خون کے آنسو رو رہے تھے نکاح کے بعد آغا جان اور ہاد گھر کی طرف چل دیے جبکہ ہالے گاڑی میں منتظر سی بیٹھی تھی جب ڈرائیونگ سیٹ کا دروازا کھول کر زرغام اندر بیٹھا اس نے اسے دیکھے بغیر گاڑی سٹارٹ کی اور گھر کی طرف چل پڑا سارا راستہ ان کے درمیان خاموشی رہی ہالے تو بس یہ سوچ رہی تھی کہ گھر پہنچ کر اس کے ساتھ کیا ہو گا خوف سے اس ک برا حال ہو رہا تھا زرغام نے گاڑی شاہ حویلی کے باہر روکی ابھی وہ اترے ہی تھے کہ زرغام کا فون بجا
تم اندر جاؤ میں کال سن کر آتا ہوں!!!! زرغام فون دیکھتا بولا جس پر وہ اندر چل دی
آ گئی کلموہی میرے بیٹی کا حق کھا کر!!! ابھی اس نے ہال میں قدم رکھا ہی تھا جب نسرین بیگم ایک دم بولیں
بے شرم کہیں گی تجھے ذرا حیا نا آئی ناگن نا ہو تو ہماری بچی کی خوشیاں ہی کھا گئی!!! نازیہ بیگم بھی دوبدو بولیں جبکہ ہالے بس نم آنکھوں سے انہیں دیکھ رہی تھی
بند کر اپنے یہ مگرمچھ کے آنسو دور ہو جا میری نظروں کے سامنے سے ورنہ جان لے لوں گی میں تیری!!! کوثر جہاں نے کہا جس پر وہ آگے بڑھنے والی تھی جب ایک دم اپنے ہاتھ پر کسی کی گرفت محسوس ہوئی اس نے مڑ کر دیکھا تو زرغام سنجیدہ تاثرات لیے کھڑا تھا
کیا ہو رہا ہے یہاں؟؟؟ زرغام ہالے کو اپنے برابر کھڑا کرتا بولا اس نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے رکھا تھا
چھوٹے شاہ اس منہوس کو ہماری آنکھوں کے سامنے سے دور کریں ہم سے مزید اس کا وجود برداشت نہیں ہو رہا!!! کوثر جہاں نے کہا
اسے تو اب آپ سب کو برداشت کرنا ہی پڑے گا دادی جان کیونکہ اب تو یہ ہمیشہ آپ کی نظروں کے سامنے ہی رہے گی کیونکہ اب تو یہ اس گھر کی بہو بھی ہے تو یہ خیال تو اپنے ذہن سے آپ سب لوگ نکال دیں کہ ہالے نور یہاں سے کہیں جائے گی اور ایک اور بات ہالے نور اب میری بیوی ہے اس لیے اس گھر میں موجود ہر فرد یہ بات ذہن نشین کر لے کہ اب اگر اس کے ساتھ کچھ برا ہوا تو میں ہرگز برداشت نہیں کروں گا!!!! زرغام سنجیدگی سے کہتا ہالے کو لیے اوپر چل دیا جبکہ پیچھے سب کلس کر رہ گئے کچن کے دروازے میں کھڑی انشرح نے آگ برساتی نظروں سے ان دونوں کو دیکھا اس کے سینے پر سانپ لوٹ رہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پریشان مت ہو سب ٹھیک ہو جائے گا!!! زرغام نے نرمی سے کہا وہ دونوں اس وقت ہالے کے کمرے میں تھے ہالے بس چہرہ جھکائے کھڑی تھی نیچے ابھی جو کچھ ہوا اس پر وہ ابھی بھی بے یقین تھی زرغام غور سے اسے دیکھ رہا تھا وہ پریشان لگتی تھی اس نے ٹھوڑی سے پکڑ کر اس کا چہرہ اوپر کیا ہالے نے اپنی شہد رنگ آنکھوں سے اس کی نیلی آنکھوں میں جھانکا وہ نرمی سے اسے دیکھ رہا تھا
کیا بات ہے ہالے نور؟؟؟ کیا سوچ رہی ہو؟؟؟ زرغام نے نرمی سے پوچھا
کک کچھ نہیں شاہ جی!!! ہالے بولی
ہالے نور ایک بات ذہن نشین کر لوں دو چیزوں سے مجھے نفرت ہے ایک جھوٹ سے اور دوسرا بات چھپانے سے اس لیے یہ دو غلطیاں تو بھول کر بھی مت کرنا سمجھی اب بتاؤ کیا سوچ رہی ہو؟؟؟؟ زرغام نے پہلے سخت اور آخر میں نرم لہجے میں پوچھا ہالے بس لب پیچے اسے دیکھ رہی تھی
ہالے نور بولو بھی کیا بات ہے؟؟؟ زرغام اس ک چہرہ ہاتھوں میں بھر کر بولا لہجہ میں بلا کی نرمی تھی ہالے کو یاد نہیں تھا کہ کبھی اس نے زرغام کو اس طرح بات کرتے سنا ہو
آپ ناراض تو نہیں ہوں گے؟؟؟ اس کے نرم لہجے سے ہمت پا کر ہالے نے پوچھا
بلکل نہیں بولو!!! زرغام نے مسکرا کر کہا
یہ شادی نہیں ہونی چاہیے تھی!!! ہالے نے کہا
کیوں؟؟؟ زرغام نے پوچھا لہجے میں وہی نرمی تھی
کوئی بھی اس شادی سے خوش نہیں ہے سب کہہ رہے ہیں میں نے انشرح کا حق کھایا ہے سب مجھے نفرت سے دیکھ رہے ہیں!!! ہالے نے کہا اس کا لہجہ بھیگ گیا تھا
سب؟؟؟ زرغام نے پوچھا
جی سب؟؟؟ ہالے بولی
کون سب؟؟ تمہیں کیوں پرواہ ہو رہی ہے کسی کی یہ تو وہ لوگ ہیں ہالے جنہیں تمہارے مرنے سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا اور تم ہو کہ ان کی باتوں کی وجہ سے رو رہی ہو ادھر دیکھو میری طرف اگر تمہیں کسی کے رویے سے فرق پڑنا چاہیے تو وہ صرف میں ہوں سمجھی باقی کسی کے لیے آنسو بہانے کی ضرورت نہیں بند کرو یہ رونا!!!! زرغام اس کے آنسو صاف کرتا بولا ہالے بس حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی نکاح کے دو بول نے اس کی دنیا بدل تھی اسے ایک محافظ دے دیا تھا جو کہ اسے کچھ ہی لمحوں میں ڈھیر سارا مان دے گیا تھا ہالے بے اختیار مسکرا دی
یہ دیکھو تمہارے لیے لایا ہوں میری امی کی ہے!!!! زرغام جیب سے ایک ڈبی نکالتا بولا جس میں خوبصورت سی انگوٹھی تھی
پر میں یہ کیسے!!!! ہالے بولتی بولتی اس کی گھوری دیکھ کر رکی زرغام نے اس کی انگلی میں انگوٹھی پہنائی
اب تم چینج کر لو تھک گئی ہو گی!!! زرغام بولتا باہر چل دیا جبکہ ہالے بس حیرت کی مورت بنے اپنی مخروطی انگلی میں موجود انگھوٹھی کو دیکھ رہی تھی اسے اپنا آپ بہت قیمتی لگ رہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح ناشتے کی ٹیبل پر سب بیٹھے تھے ہر کوئی غصے میں تھا سوائے شیراز شاہ اور زرغام کے وہ دونوں ہی مطمئن لگتے تھے زرغام کے بائیں طرف انشرح بیٹھی تھی جبکہ دائیں طرف کی کرسی خالی تھی اس پر عموماً ہاد بیٹھتا تھا پر آج اس نے یہ جگہ ہالے کے لیے چھوڑ دی تھی جو کہ کچن میں کام کر رہی تھی ملازمہ نے میز پر ناشتہ رکھا
ہالے نور کہاں ہے؟؟؟ زرغام نے پوچھا جس پر انشرح نے لب پیچے
جی کچن میں!!! ملازمہ بولی
بلاؤ اسے!!!! زرغام نے کہا جس پر وہ سر ہلاتی چلی گئی
وہ ناشتہ بنا رہی ہے!!! نازیہ بیگم نے کہا جس پر زرغام نے ایک تیز نگاہ ان پر ڈالی جیسے کہہ رہا ہو کہ آپ سے کسی نے پوچھا
شاہ جی آپ نے بلایا؟؟؟ ہالے باہر آتی بولی اسے دیکھ سب نے منہ پھیر لیا
بیٹھو!!!! زرغام نے کرسی کی طرف اشارہ کیا
میں وہ!!!!! ہالے کچھ کہنے والی تھی جب زرغام نے اسے گھورا جس پر وہ چپ چاپ کرسی کھینچ کر آ بیٹھی آغا جان نے مسکرا کر انہیں دیکھا انہیں لگ رہا تھا جیسے وہ سرخرو ہو گئے
سب کھانا بھلائے انہیں دیکھنے میں مصروف تھے جو کہ اطمینان سے ناشتہ کر رہے تھے زرغام ہالے کو سرف کر رہا تھا اس کا انداز کسی کو بھی ہضم نہیں ہو رہا تھا
ہالے جاؤ میرا بیگ کے کر آؤ!!! انشرح سے جب مزید برداشت نہ ہوا تو بولی جس پر ہالے ایک دم اٹھی پر زرغام نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے واپس بیٹھایا
تمہارے ہاتھ پاؤں ٹوٹے ہیں؟؟؟ وہ تمہاری ملازمہ نہیں ہے سمجھی اپنے کام خود کرو!!! زرغام سخت لہجے میں بولا انشرح نے ایک قہر آلود نظر ہالے پر ڈالی پھر پیر پٹختی اٹھ گئی
ناشتہ کرو!!!! زرغام نے نرمی سے کہا جس پر ہالے ناشتہ کرنے لگی باقی سب بس آگ برساتی نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے پر اب اسے فرق نہیں پڑ رہا تھا کیونکہ اس کا محافظ اس کے ساتھ تھا
