Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Deedar e Mehboob Ka Hijar by Nishaal Aziz

"نو مِس فاریہ۔۔۔عندی کے معاملے میں کوئی کوتاہی نہیں چاہوں گی۔۔۔ابھی اسکی عمر ہی کیا ہے۔۔۔صرف پندرہ سال۔۔۔اُسے آپ کسی بھی ٹِرپ پر لے کر نہیں جائیں گی۔۔۔گھر سے دور دوسرے شہر جاکر پڑھنا اُس کا شوق تھا۔۔۔سکندر کی ناراضگی کے باوجود میں نے اسکے شوق کو مدِنظر رکھ کر اسے جانے دیا۔۔۔مگر اب وہاں پر وہ ہر بات پر اپنی مرضی نہیں کرسکتی گی۔۔۔۔میں نے آپ پر بھروسہ کر کے آپ کے ذمے کیا تھا اسے۔۔۔امید ہے کوئی شکایت کا موقع نہیں دیں گی آپ مجھے۔۔۔۔"
کال پر بات اپنی چھوٹی بیٹی کی نینی سے بات کرتی مہناز بیگم تھوڑی برہم ہوئی تھیں،وجہ ہمیشہ کی طرح انکی لاابالی بیٹی کی فرمائش۔۔۔،اسکول کی طرف سے اب اسے ٹرپ پر جانا تھا اور نینی کو اس نے ساتھ جانے سے منع کیا تھا جس کے بعد اب شہناز بیگم نے اسے صاف انکار کردیا تھا ٹرپ پر جانے سے،
"ماما۔۔۔ماما۔۔۔"
ٹک ٹک کرتی ہیلز کی آواز کے ساتھ وہ دندناتی ہوئی مہناز بیگم کے روم میں داخل ہوئی،گیٹ دھاڑ سے کھلنے پر وہ جو فون پر نینی سے باتوں میں محو تھیں چونکی،آنے والی کوئی اور نہیں بلکہ انکی 18 سالہ بڑی مگر سر پھری بیٹی فِلذہ سکندر تھی،
"میں آپ سے بعد میں بات کروں گی۔۔۔"
فِلذہ کے غصیلے تاثرات دیکھ کر حیران ہوتیں وہ کال پر کہہ کر فون رکھی تھیں،
"کیا ہوا سوئیٹی۔۔۔"
بیڈ سے اٹھ کر اسکے پاس آتیں وہ تشویش بھرے لہجے میں پوچھنے لگی،
"وہاں اتنا سب ہوگیا اور آپ پوچھ رہی ہیں کہ کیا ہوا۔۔۔"
ہاتھ کے اشارے سے باہر کی طرف اشارہ کر کے فلذہ نے بلند آواز میں کہا،
"کہاں کیا ہوگیا۔۔۔؟"
مہناز بیگم اسکے اچانک غصے کی وجہ سمجھ نہیں پارہی تھیں،
"گریٹ۔۔۔مطلب ہمارے گھر کی انیکسی میں کوئی آرہا ہے رہنے اور مِس مہناز کو یہ بات معلوم ہی نہیں۔۔۔رائٹ۔۔۔"
ان کی ناسمجھی پر کاری طنز کرتی وہ آئبرو اچکائی تھی،
ادھر مہناز بیگم کو اب معاملہ سمجھ میں آیا تھا،آہستگی سے سر اثبات میں ہلاتی وہ بولیں
"ہاں وہ تمہارے ڈیڈ کے کوئی دوست ہیں۔۔۔انکا بیٹا پڑھائی کے سلسلے میں آیا ہے دوسرے شہر سے۔۔۔۔"
ان کی بات پر فِلذہ کی آنکھیں سکڑیں،گھور کر انہیں دیکھنے کے بعد وہ بولی،
"ڈیڈ کے۔۔صرف دوست۔۔۔۔یا پھر "غریب دوست"۔۔۔"
اسکے یوں کہنے پر مہناز بیگم نے تائیدی انداز میں کندھے اچکائے،
"اچھا خاصا وہ لڑکا کسی ہوٹل میں رہنے والا تھا پر تمہارے ڈیڈ پر تو رحم دلی کا بھوت سوار رہتا ہے۔۔۔بلالیا یہاں رہنے کے لیے۔۔۔پر خیر چھوڑو۔۔۔انیکسی میں ہی رہے گا نا۔۔۔"
مہناز بیگم کی باتوں سے واضح پتا لگایا جاسکتا تھا کہ انہیں خود بھی اس لڑکے کا آنا شاید پسند نہیں آرہا تھا،پر شوہر کے آگے مجبور ہونے کی وجہ سے خاموش تھیں،
"انیکسی میں رہے گا یا جہاں بھی لیکن رہے گا تو ہمارے گھر کے ہی کسی حصے میں۔۔۔۔آپ جانتی ہیں یہ غریب کس قدر لالچی ہوتے ہیں۔۔۔کہیں ہمارے گھر کو دیکھ اسکی نیت خراب ہوگئی تو۔۔۔اور پھر اس گھٹیا رفاق کی طرح ایک بار پھر چوری ہوگی گھر میں۔۔۔پھر کیا کریں گے ہم۔۔۔۔ماما میں اسی لیے کہتی ہوں کہ نفرت ہے مجھے غریبوں سے۔۔۔یہ جانتے ہوئے بھی ڈیڈ ہر جگہ اپنی من مانی کیوں کرتے ہیں۔۔۔۔"
اپنے ایک پرانے نوکر(جسے چوری کرتے پکڑنے پر سکندر ولا سے نکال دیا گیا تھا) کی مثال دیتے ہوئے کئی خدشات میں گِھر کر وہ زیرِ لب بڑبڑاتی بعد میں مہناز بیگم سے چڑ کر بولی،
"گاڈ۔۔۔تم کتنا آگے کا سوچتی ہو سوئیٹی۔۔۔اتنا تو مجھے بھی یقین ہے کہ وہ تمہارے ڈیڈ کے کسی عزیز دوست کا ہی بیٹا ہے۔۔۔وہ ایسا نہیں کروائے گا کچھ بھی۔۔۔"
بےپرواہ انداز میں کہہ کر انہوں نے پھر نمبر ڈائل کیا نینی کا،عندلیب کی فکر انہیں ستارہی تھی کہ کہیں مس فاریہ سے بضد ہوکر وہ چلی ہی نہ جائے ٹرپ پر،
"ٹھیک ہے رہیں آپ لوگ یونہی لاپرواہ بنے۔۔۔آنے دیں اس لڑکے کو نہ میں نے دو دن میں اسے یہاں سے چلتا کیا تو میرا نام بھی فلذہ سکندر نہیں۔۔۔"
فون رنگ ہونے پر اپنی پینٹ کی جیب سے فون نکالتی وہ انہیں تڑخ کر کہتی نکلی تھی روم سے،
"ہاں بولو مُطیبہ۔۔ہاں آج ہے۔۔۔چلو ٹھیک ہے آجاؤ۔۔۔"
کاریڈور سے گزر کر فون پر بات کرتی وہ اپنی کزن کو بولی ساتھ ہی فون جیب میں رکھی،ہر اتوار سکندر ولا میں بیرونی حصے کے جانب بنے پلے گراؤنڈ میں وہ بہن بھائی اور فلذہ کی کزنز باسکٹ بال کھیلتے تھے،آج بھی اسکی کزن جو کہ فلذہ کی بہترین دوست بھی تھی اسے اپنے آنے کا بتارہی تھی،
سکندر صاحب شہر کے نامور اور عزت دار بزنس تھے،بزنس سے زیادہ انکی شہرت کی وجہ سکندر صاحب کا بہترین اخلاق تھا،اپنی خوش طبع اور سخاوت کے باعث اکثر و بیشتر وہ اپنے شہر اورفونیچ کے چکر لگاتے ساتھ ہی وہاں خود سے جتنا ہوسکے امداد کرتے،بزنس میں دن بدن ترقی کی کہیں نہ کہیں وجہ یہ بھی تھی کہ انہیں غریبوں سے لگاؤ بہت تھا،سکندر صاحب کی چار اولادیں تھیں دو بیٹے اور دو بیٹیاں،بیٹے ہیثم اور ہناد کی پیدائش میں چند منٹوں کا وقت تھا جس کے باعث وہ دونوں ایک دوسرے سے حتی الامکان مماثلت رکھتے،پر یہ ممالثت صرف انکی شکلوں میں تھی کیونکہ فطرتاً دونوں ایک دوسرے سے بلکل مختلف تھے،21 سالہ ہیثم جہاں خوش اخلاق اور عادت میں اپنے باپ پر گیا تھا وہی ہناد فطرتاً کافی مغرور تھا،ان دونوں سے تین سال چھوٹی فلذہ 18 سال کی اپنی ماں مہناز بیگم کی کاپی تھی خوبصورت وہ بلا کی تھی پر اسکی خوبصورتی کو صرف ایک چیز ماند کردیتی اور وہ تھی اس کے اندر شروع سے پنپتی اپنی چھوٹی بہن عندلیب کے لیے حسد اور مغروریت،دوسروں کو جوتوں کی نوک پر رکھنے والی فلذہ اس بات پر یقین رکھتی تھی کہ پیسوں سے ہر چیز خریدی جاسکتی ہے،غریبوں سے شدید نفرت کرنے والی فلذہ انجان تھی اپنے آنے والے کل سے کہ عنقریب ہی اسکے دل میں ایک غریب ہی گھر کرنے والا تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *