173.1K
12

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dangal Episode 8

Dangal by Jameela Nawab

صبح کی سُبکی کے بعد وٹو رات سب کے سو جانے کا انتظار کر کے گھر واپس آیا تھا وہ سب سے پہلے کچن کچھ کھانے كی غرض سے گیا تھا

آج قیمہ گوشت بنا تھا جو شمسی کی خاص ڈش اور وٹو کی خاص پسند تھی وہ پلیٹ بھر کر دو روٹیاں لئے کچن کے شلف پر چوکڑا مارے بیٹھ گیا تھا

ابھی پہلا نوالا ہی لیا ہوگا کہ دروازے میں شمسی آئی کھڑی تھی

“آگئے تھے تو مجھے بتا دیتے کھانا ڈال ۔۔۔۔نہیں میرا مطلب ہے نکال دیتی ۔۔۔”

شمسی نے جلدی سے جملہ مکمل کیا تھا

“تم جاؤ شمسی میں کھانا کھا کر آتا ہوں “

وٹو بڑا سا نوالہ لے کر بھاری آواز میں بمشکل بول پایا تھا

شمسی نے ریورس گئیر لگایا تھا وٹو نے سکون کا سانس لیا تھا

۔💖💖💖💖💖💖💖💖

آج اتوار کا دن تھا سب گھر پر تھے سارے کام نپٹا کر شمسی باریک كنگی لے کر بیٹھی تھی جبکہ وٹو میاں بچوں کے ساتھ پکڑن پکڑائی کھیل رہے تھے دروازے پر دستک ہوئی تھی

شاہ نے دروازہ کھولا تھا اور دونوں ہاتھوں کی انگلیاں منہ میں ڈال کر سیٹی بجائی تھی جس پر سب اس کی طرف متوجہ ہوۓ تھے اسی لمحے نوی “میں ہوں نہ” کی امریتا راؤ کی طرح لہک لہک کر اندر آئی تھی

وٹو جی کے پیچھے وائیلن بجاتے ہوۓ بونے لڑکوں کا ٹولا بنا تھا خاص دھن بجنے لگی تھی جبکہ ساتھ ہی ٹھنڈی ہوا میں بڑے بڑے پت جھڑ کے پتے گرنا شروع ہوۓ تھے ۔۔۔۔۔۔

سب غا ئب ہوگئے تھے اس موجودہ منظر میں صرف وٹو اور نوی ہی تھے ہاں نبراس،شاہ، جيزل اور غزلان تیز ہوا میں یہاں وہاں قلاباذی مارتے نظر آ رہے تھے ۔۔۔۔

نوی نے وٹو کو پھول دینے کے لئے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تھا وٹو پھول پکڑنے کی بجائے بھاگ کر شرماتا ہوا دروازے سے جا لگا تھا “تڑاخ” کی آواز پر وٹو نے اپنی آنکھیں کھول کر پیچھے دیکھا تھا

شمسی نے نوی کے منہ پر تھپڑ جڑا تھا

نوی منہ پر ہاتھ رکھے انتقامی شکل بنائے شمسی کو دیکھ رہی تھی

“وٹو صرف میرا ہے شمسی ۔۔۔۔۔۔اس کا وجود تراشہ ہی میرے لئے گیا ہے ۔۔۔۔تم کیا سمجھتی ہو کہ تم عجیب و غریب بچے پیدا کر کے میرے وٹو کو مجھ سے ۔۔۔۔۔مجھ ۔۔۔۔۔۔نوی سے اسے چھیننے میں کامیاب ہو جاؤ گی اور میں ۔۔۔ میں خاموش رہوں گی ۔۔۔۔”

“نہیں ۔۔۔۔”

“نہیں ۔۔۔ “

“ہر گز نہیں ۔۔۔”

نوی نے وٹو کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھا تھا جس پر وٹو مرغے کی ٹوکری کے اندر جا چھپا تھا

“نوی تمہاری اماں بھی آئی تھی کل تم دونوں جتنی بھی کوشش کر لو مجھ سے وٹو کو نہیں چھین سکتے وہ ان صحت مند موٹے بچوں کا کلم کلا باپ۔۔۔۔ سالم باپ ہے ۔۔۔ کوئی مذاق نہیں ۔۔۔۔”

شمسی نے نتھنے پھلائے تھے

“موٹی عورت ۔۔۔۔۔۔یہ تو وقت ہی بتائے گا”

نوی واپس جانے کے لئے مڑی تھی جب شاہ نے باپ کو اشارہ دیا تھا

“وٹو یار باہر آجا نوی پھپھو جا رہی ہے”

نوی دس منٹ تک وٹو کی طرف دیکھتی رہی مگر کسی قسم کی حرکت نا ہونے پر وہ چل پڑی تھی

“رک جاؤ”

نهنی نے پولا پولا کہا تھا جس پر نوی نے فاتحانہ نظروں سے شمسی کی طرف دیکھا تھا

“یہ کمیٹی کے پیسے اپنی ماں کو دے دینا کل بھی وہ ہی مانگنے آئی تھی ندیدی کہیں کی”

“مجھے بھی اماں نے وہ ہی لینے بھیجا تھا مگر میں وٹو میں کھو گئی تھی خالہ ۔۔۔۔اپنی بہو بنا لو نا مجھے ۔۔۔۔۔قسم سے بلکل بھی خدمت نہیں کروں گی خالہ تیری ۔۔۔۔۔هاهاهاهاها ۔۔۔۔۔۔۔اپنوں میں ویاہ ہو جائے اور ساس پھوپھی یا خالہ ہو تو زیادہ ہی زہر لگتی ہے قسمے ۔۔۔۔۔”

“چل نکل یہاں سے بے شرم نا ہو تو میرے ویاۓ پتر کے پیچھے کیوں پڑ گئی ہے میری بھینس جتنی بہو نظر نہیں آتی تمہیں ؟؟؟؟”

اس بات پر نوی نے نهنی کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر قہقہ لگایا تھا ۔۔۔۔

پولی نے آنکھ مار کر شمسی کی طرف دیکھا تھا جس سے شمسی کا دل کیا تھا ساس پر چار پائی الٹا دے اس نوی سميت ۔۔۔۔مگر وہ غصہ پی گئی تھی ۔۔۔

“میں بتا رہا ہوں اماں میں نوی سے ہی شادی کروں گا چاہے جو مرضی ہو جائے ۔۔۔۔”

وٹو ٹوکری کے نیچے سے بولا تھا

“وٹو جی ۔۔۔۔داٹس ناٹ فیئر ۔۔۔۔۔۔۔کیا کمی رہ گئی تھی میری محبت میں ؟؟؟؟”

“چلو بچوں ہم یہاں ایک سیکنڈ اور نہیں گزارے گے ۔۔۔”

شمسی نے دروازے کی طرف چلنا شروع کیا تھا جبکہ بچوں نے پیچھے سے قلابازی مارکر اس کا ساتھ دیا تھا

وٹو ٹوکری کے نیچے سے فورا نکلا تھا

“اماں ۔۔۔۔چل توں بھی کھسک ۔۔۔۔۔۔میں ذرا گھٹیا رومانس کر لوں نوی کے ساتھ ۔۔۔”

“ارے توں بھول گیا کیا ؟؟؟اس ناول کی رائیٹر جمیلہ جی ہیں ۔۔۔۔رومانس کا تو سوچنا وی نا ۔۔۔۔”

“اچھا نوی میں تمہارے لئے پھول لے کر آتا ہوں ۔۔۔۔تم تب تک میری اماں کو برداشت کرو ۔۔۔”

وٹو شرماتا ہوا دروازے سے باہر نکلا تھا ۔۔۔۔۔