Dangal by Jameela Nawab Readelle 50380 Dangal Episode 11
Rate this Novel
Dangal Episode 11
Dangal by Jameela Nawab
شمسی رات ننھی کے ساتھ پلٹون سميت سوئی تھی بچوں کو اپنے پاس سویا دیکھ کر دادی پولا پولا “میرے سنڈے ہاۓ میں صدقے”
مسلسل کہہ رہی تھی
شمسی کو آج کافی دنوں بعد اپنے گھر میں سکون کی نیند آئی تھی
“آپ قد میں ضرور گٹھے ہیں وٹو صاحب مگر میرا سکون آپ کے ساتھ سے ہی ہے”
شمسی نے خراٹا روک کر شرما کر سوچا تھا
آج بچے بھی زیادہ پر سکون سوۓ تھے ۔۔۔
صبح ساس کے اٹھنے سے پہلے ہی شمسی ناشتہ بنا کر ساس کے پاس لے کر آ گئی تھی
“میری شمسی ۔۔۔۔تجھے بہت زیادہ مس کیا میں نے”
ساس کو جی جان سے اپنی صحت مند بہو پر پیار آیا تھا
“جانے دیں امی میں کتنا بھی آپ کا کرلوں آپ کی بہن کی بیٹی وہ پولی آپ کو مجھ سے زیادہ عزیز ہے,ورنہ آپ مجھے کبھی بھی جانے نا دیتیں ۔۔۔”
شمسی نے ناک کو رگڑ کر کہا تھا
“ایسی بات نہیں ہے شمسی ۔۔۔۔۔وہ تو رائیٹر نے بس کہانی میں ٹوسٹ ڈالا تھا ورنہ میں تو بہت ہی اچھی ساس ہوں”
ننھی نے دانتوں سے عاری منہ مسکرا کر دیکھایا تھا
“اچھا امی میں ایک بات بتا رہی ہوں ہاں ۔۔۔میں وٹو صاحب کو معاف کوئی نی کرنا ۔۔نا ہی کوئی کام کرنا ہے ان کا”
شمسی نے دوپٹہ مروڑ کر کہا تھا اسی وقت وٹو بنیان کے ساتھ دھوتی پہنے وہاں ٹانگیں کجھاتا آیا تھا
“امی میری چارپائی اتنے دنوں سے جھڑی نہیں ہے ساری رات مجھے چیزیں کاٹتی رہی ہیں”
وٹو بول ماں کو رہا تھا مگر نظر ہنوز شمسی پر اٹکی ہوئی تھی
شمسی اپنے دو مرلے کے چہرے پر ہاتھ رکھ کر کھسیانی ہنسی ہنسی تھی ۔۔۔
“اماں ۔۔۔تو بڑی دلکش لگ رہی ہے آج”
وٹو نے ماں کو جھپی ڈال کر شمسی کی طرف دیکھ کر کہا تھا شمسی کا چہرہ شرم سے براؤن ہوا تھا
“اچھا ۔۔۔۔تیرا ابا بھی ایسے ہی مجھے پٹا لیا کرتا تھا ۔۔۔۔”
ننھی نے اپنا پٹارا کھولا تھا
“میں کمرے میں جا رہا ہوں اماں مجھے آدھے سیکنڈ میں ناشتہ چاہیے ۔۔۔بس مجھے نہیں پتہ اماں”
وٹو فنکی موڈ میں اپنی ناراضگی کی دھمکی دے کر بولا تھا جس پر ننھی نے اس کی گردن میں جھانپڑ جڑا تھا
“ماں کو نستور جن سمجھ لیا ہے کیا ؟؟؟آدھے سیکنڈ میں تو وہ بھی ہاتھ کھڑے کر لے گا کوڈوے”
“اماں میں زیادہ جذباتی ہو گیا تھا اب بندہ جذباتی بھی نہیں ہو سکتا حد ہے ویسے اماں”
وٹو پير پٹخ کر جاتے ہوۓ دروازہ کی آگے ہوئی کنڈی میں جا بجا تھا جس سے اس کے سینے پر چوٹ لگی تھی شمسی اٹھ کر اس کی طرف بڑھی تھی اور پانچ منٹ پنتالیس سیکنڈ میں اس کے پاس پہنچی تھی
اس نے وٹو کو اٹھا کر جھلونگی میں ڈال کر چپ کروایا تھا ۔۔
وہ اب بھی اس سے بری طرح خفا تھی ۔۔۔وہ بولی اب بھی نہیں تھی ۔۔۔
وٹو اپنے ہاتھ ایک سینے اور دوسرا آنکھوں پر رکھ کر شمسی کو دیکھ رہا تھا شمسی نے دل ہی دل میں اپنی اہمیت پر اللّه کا شکر ادا کیا تھا
“شمسی ۔۔۔جلدی سے ہمیں ناشتہ دے دو ورنہ ہم سے برا کوئی بھی نہیں ہوگا،اور قانون نے آپ کو چاروں طرف سے جو گھیر لیا ہے میں وہ بھی بہت اچھی طرح دیکھ رہا ہوں”
“ہممممم ۔۔۔”
شاہ خود کو غنڈہ سمجھ کر وٹو صاحب کو دیکھ کر قلاباذی مار کر بولا تھا
“چل پتر ۔۔۔خبردار جو تم نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش بھی کی ہو تو ۔۔۔”
وٹو نے شاہ کو ڈانٹ کر کہا تھا جس پر شاہ نے وٹو کو ایک تیز جھولا دیا تھا ۔۔۔
شمسی اٹھ کر شرماتے ہوۓ کچن کی طرف گئی تھی جب تک سارے بچے ہاتھ منہ دھو کر چارپائی پر بیٹھتے شمسی بھی کچن میں پہنچ گئی تھی ۔۔۔۔۔۔
اب بچے ناشتہ کر رہے تھے وٹو دروازے میں کھڑا ایک ٹانگ ہلاتا شمسی کو تاڑ رہا تھا ننھی نے اس کو دیکھ کر آڑھے ہاتھوں لیا تھا
“چل یہ اوچھی حرکتیں چھوڑ دے وٹو ۔۔۔بچے بھی ساتھ ہی گئے تھے ان کو تو مجال ہے جو تم نے پوچھا ہو ؟؟؟”
“اماں ۔۔۔شمسی کو کہو نہ ۔۔۔مجھ سے بات کرے ۔۔۔”
وٹو نے ماں کی خوشامد کی تھی
“اچھا تم ایسا کرو بازار سے شمسی کے لئے کوئی تحفہ لے کر آؤ ۔۔۔ایسے نہیں بات کرنا بنتا اس کا بچو ۔۔۔۔۔آخر نوں کس کی ہے ۔۔۔”
ننھی نے فخر سے کہا تھا
“اماں پر کیا لاؤں ؟؟؟”
“میری مانو تو پہیے لا دے ۔۔شمسی ان پر آسانی سے پورے گھر میں فراٹے بھرتی یہ شوووووں ۔۔۔۔وہ شووووووں کرتی پھرے گی ۔۔۔وقت بھی بچ جایا کرے گا اس کا ۔۔۔۔اور ہو سکے تو کسی ڈاکٹر کے پاس لے جا کر اس کے موٹاپے کا کوئی علاج کروا ۔۔۔۔دیکھ تو اب تو سانڈوں میں بھی سانڈ لگنے لگی ہے”
ننھی نے مخلصانہ مشورہ دیا تھا
“اچھا اماں ۔۔۔اپنی بہو کو بول مجھے ناشتہ دے”
وٹو کمرے کی طرف جا رہا تھا ننھی غصے سے بولی تھی
“جب ادھر سب کر رہے ہیں ناشتہ ۔۔۔لگا ہوا ناشتہ چھوڑ کر یہ توں کمرے میں کدھر جا رہا ہے ؟؟؟”
ننھی نے وٹو کے ارمانوں پر پانی کا ڈرم ڈالا تھا وہ دھوتی سنبهالتا بچوں کے ساتھ آ بیٹھا تھا ۔۔۔
شمسی نے اچار کی کی ایک پھانک نکال کر وٹو کے پراٹھے پر رکھی تھی جس پر وٹو شرما کر اتنا ٹوسٹ ہوا کہ وہ چارپائی سے نیچے لُڑک گیا جب تک
وہ اوپر آتا غزلان وہ پھاڑی ہاتھ میں پکڑے چوس رہا تھا ۔۔۔
وٹو نے امید بھری نظروں سے شمسی کو دیکھا تھا جو بنا اچار دیے کچن کی طرف موڑ کاٹ چکی تھی ۔۔۔اب اس کا واپس آنا اتنا ہی نا ممکن تھا جتنا نواز شریف کا پاکستان آنا ۔۔۔۔
وٹو اب خالی پراٹھا چاۓ کے ساتھ کھا رہا تھا ۔۔۔سب بچوں کو چھابی کپ اور پلیٹیں چاٹتا دیکھ وٹو نے آخری چانس کے طور پر کچن کا رخ کیا تھا جہاں شمسی بیٹھی برتن دھو رہی تھی ۔۔۔
وہ شمسی کے کندھے پر جا کر دونوں پاؤں آگے لٹکا کر بیٹھ گیا تھا شمسی کا شرما شرما کر برا حال ہو رہا تھا ۔۔۔
