Dangal by Jameela Nawab Readelle 50380 Dangal Episode 2
Rate this Novel
Dangal Episode 2
Dangal by Jameela Nawab
شام کا وقت تھا کالی گھٹا چھائی ہوئی تھی تیز آندھی چلنے لگی تھی بارش کسی بھی وقت آ سکتی تھی
پریہان،مرحہ، شاہ،نبراس،جیزل اور غزلان۔۔۔۔۔ شمشاد نے ایک ہی سانس میں اپنی گینڈہ فورس کو پکارہ تھا
“آخری بار پوچھ رہی ہوں تم لوگوں نے آج سونا ہے کہ نہیں ؟؟؟”
“سارا دن روٹیاں پکا پکا کر میری نازک ہاتھوں میں درد ہو جاتا ہے اس وقت تھوڑا سا وقت ملتا ہے تم وہ آپس میں دنگل لگا کر گزار دیتے ہو ۔۔۔اب سو جاؤ ورنہ میں کالی دھوتی والے بابے کو بلا لوں گی وہ سالم کھا جائے گا تم سب کو غڑوچ کر کے ۔۔ “
شمشاد بچوں کو دھمکا رہی تھی جس پر بچے سہم کر اثبات میں سر ہلا رہے تھے شمشاد کے دو کلو میٹر پر محیط چہرے پر چمک نمایاں تھی
“شمسی؟؟؟؟”
غزلان ہمت کر کے بولا تھا جس پر شمشاد نے اس کی طرف خون خوار نظروں سے دیکھا تھا
“شمسی تم ہمیں روز جلدی کیوں سلاتی ہو خود تم وٹو صاحب کے ساتھ رات گئے تک خوش گپیاں کرتی اکثر پائی جاتی ہو پھر ہمیں کیوں نہیں آپس میں کھیلنے دیتی ؟؟؟”
“کیا ہمارے سینے میں دل نہیں ہے ماں ۔۔۔۔”
اس بات پر ساس صاحبہ نے دل ہی دل میں اپنے ہاتھی کے بچے کو داد سے نوازا تھا اور شمسی اس بات پر مسڑ بین کی طرح منہ پر ہاتھ رکھ کر کھی کھی کر کے ہنسی تھی
“سڑتے رہو گے تم اور تمہاری دادی مجھ سے اور وٹو صاحب سے اب سونا ہے کہ بلاؤں بابے کو ؟؟؟”
بچے اب خوفزدہ ہو کر کسی گوشت کے ڈھیر کی طرح ڈھیر ہو گئے تھے شمسی ساس کے پاس آکر بیٹھی تھی
“شمسی موسم خراب ہے وٹو ابھی تک نہیں آیا”
“اماں آجائیں گے میں ذرا بن سنور لوں ۔۔”
شمشاد نے 5kg کے چہرے پر جوؤں کی سلائڈ(لٹ)
کو گھوماتے ہوۓ شرما کر کہا تھا جس پر ساس کا دل جل کر خاکستر ہوا تھا
“یا اللّه میرا شی جوان پُتر جلد از جلد گھر واپس آ جائے”
اسی وقت دروازے پر کوئی چیز زور سے ٹکڑائی تھی
لگتا ہے وہ آگئے ہیں شمشاد نے اپنے ایک ایک پاؤ کے ہونٹوں کو لال لپ سٹیک سے رنگتے ہوۓ خوشی سے کہا تھا وہ باوجود کوشش کے بھی دس منٹ سے پہلے دروازے پر نہیں پہنچ پائی تھی ۔۔۔
“میرا وٹو ۔۔۔۔۔۔میری زندگی ۔۔۔”
مگر دوسری طرف سے مکمل خاموشی تھی وہ وٹو کے ہمراہ اندر آئی تھی
“یہ اس وقت کس کا بچہ اٹھا لائی ہو بہو؟؟؟”
“آپ کا بیٹا ہے اماں بارش اور تیز آندھی میں بیہوش ہو گیا ہے۔۔۔لگتا ہے آج ہوا نے ڈراپ کیا ہے ان کو گھر وہ تین فٹی وٹو صاحب کو اپنے ایک پٹ پر بیٹھا کر ہوش میں لانے کی کوشش کر رہی تھی مگر بے سُدھ۔۔۔۔
اس دوران ساس جیسی شکلیں بنا رہی تھی شمسی کا دل کر رہا تھا اس کے سر پہ آگ لگا کر مشعل بنا کر کسی سیاہ غار کو روشنی بخش دے ۔۔۔
