173.1K
12

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dangal Episode 5

Dangal by Jameela Nawab

شمسی برتن دھو رہی تھی جب اس کی ساس کی بہن پولی وہاں آئی تھی اس کی ساس نهنی اس کی آمد پر باغ باغ ہوئی تھی وہ پولی کو فورا کمرے میں لے گئی تھی

وہ دونوں جتنی قریب ہو کر بیٹھ گئی تھیں ایسا لگ رہا تھا دنیا پر موجود وہ آخری جگہ ہے اور اس طرح بیٹھنا مجبوری ۔۔۔

“پولی اپنی بہو کی سناؤ؟؟؟”

شمسی کی ساس سرگوشی میں بولی تھی جس کا جواب پولی نے ایک بھینکر سی شکل بنا کر دینا ضروری سمجھا تھا

اس شکل کا مطلب نهنی کو فورا سمجھ آیا تھا وہ مزيد قریب ہوئی تھی

“پھر تو ہاتھ ملاؤ ۔۔۔۔ادھر بھی یہی حال ہے”

“پوری جادوگرنی ہے یہ شمسی میرے شیر جیسے پتر کو اپنا غلام بنا کر رکھا ہوا ہے”

“تم شمسی کو بھول جاؤ گی جب میری بہو کی کالی کرتوتیں دیکھوگی ۔۔۔ ہر وقت خوش ۔۔۔۔ہر وقت خوش گپياں میرے بیٹے کے ساتھ ۔۔۔۔اور تو اور میرا بیٹا بھی خوش رہتا ہے ۔۔۔۔۔مجال ہے جو ماں کا ذرہ برابر بھی احساس ہو کبھی ۔۔۔۔جو لڑ کے بیوی کا منہ متها پن دے ۔۔۔”

“ہاے ۔۔۔۔پولی ہم دونوں شریف بہنوں كی یہ قسمت کہاں ۔۔۔”

“یہ برتن روز شمسی ہی دھوتی ہے ؟؟”

اس کا جواب نهنی نے شکل بنا کر دینے پر اكتفا کیا تھا جس کا مطلب یس تھا

پولی کو خاص مزہ نہیں آیا تھا اس جواب کا وہ مزيد بولی تھی

“یہ گھر کتنا گندہ ہو رکھا لگتا کوئی کام ڈھنگ سے نہیں کرتی شمسی میری نیوی کا کیا ہوتا نہ رشتہ تو آج یہ گھر ہارپک کی مشہوری میں دیکھاے جانے والے لیٹرین كی طرح چمک رہا ہوتا “

پولی نے چہرے میں مزيد بل ڈال کر جھریوں میں اضافہ کر کے ہارر سے بھرپور شکل بنائی تھی ۔۔۔

بیچاری شمسی جو کب سےان کے غیبتی ماحول کو بهنگ کرنے کے ارادے سے اندر آنا چاہتا تھی آج سپیڈ معمول سے زیادہ کم تھی شاید اس کے اکسیلیٹر میں مسلہ تھا تيل ڈالنے والا تھا

وہ نیو خان بس کی طرح ڈب کھڑ ب کرتی وہاں پوہنچھی تھی

وہ پھولی سانس لئے فورا چارپائی پر ڈھیر ہوئی تھی جس سے چار پائی نے بے ساختہ “اوی میں مر گئی” کہا تھا

“آگئی میری شہزادی میں نهنی سے یہی کہہ رہی تھی بلاؤ میری شمسی کو میں اسے شاباش دوں گھر کتنا اچھے سے صاف کیا ہوا ہے”

پولی فورا بولی تھی

“خالہ جانے دو اچھی طرح جانتی ہوں یہاں کیسا ذکر ہو رہا تھا میرا زیادہ میسنی نہ بنو اب”

شمسی نے اپنا 50kg کی ران اٹھا کر چار پائی کے اپر رکھی تھی اسی وقت شاہ قلاباذی مار کر اندر آیا تھا وہ جلدی میں تھا

“شمسی پریہان مرغی کے ڈربےکے دروازے میں پھنس گئی ہے اسے آ کر باہر نکالو،مرغی نے انڈا دینا ہے وہ فوکس نہیں کر پارہی پریہان کی وجہ سے”

شاہ ایک ہی سانس میں بولا تھا

“پریہان کو ضرورت کیا تھی ادھر گھسنے کی؟؟؟”

شمسی چیخی تھی جس سے پولی اور نهنی ایک دوسرے کو پکڑ کر بیٹھ گئی تھیں

“وہ کہہ رہی تھی میں وہ محسوس کرنا چاہتی ہوں جو مرغی ڈربے میں کرتی ہے”

اس بات پر شمسی اپنے دونوں ہاتھ سینے پر مارتے مارتے خاص آواز نکالی تھی