Dangal by Jameela Nawab Readelle 50380 Dangal Episode 6
Rate this Novel
Dangal Episode 6
Dangal by Jameela Nawab
شام کا وقت تھا شمسی روٹیاں بنا رہی تھی جبکہ بچے کھاناکھا رہے تھے جیسے ہی روٹی بنتی مرحہ گرم گرم اپنے بہن بھائیوں کے آگے رکھ دیتی وہ ایک ایک نیوالہ کھا کر اس کا خاتمہ کردیتے ۔۔۔
شمسی پچھلے ایک گھنٹے سے لگاتار یہ کام کر رہی تھی مگر بچے تھے کے رج ہی نہیں رہے تھے آخر وہ تنگ آ کر چیخی تھی
“لوگوں کے بچے دو فرائیز سے ہی نو ماما نو ماما کرتے ہیں ایک تم لوگ ہو جو دس دس روٹیاں کھا کر بھی ابھی تک توے كی طرف دیکھ رہے ہو،کیسے بچے ہو تم لوگ ؟؟؟”
“شمسی زیادہ بھاؤ نہ کھاؤ کبھی خود کو دیکھا ہے ؟؟؟ جب تم ان دو فرائیز کھانے والے بچے کی ماما جیسی سنگل پسلی نہیں ہو تو ہم کیوں پیٹ بھر کر نا کھانا کھائیں؟؟”
شمسی کی ساس نهنی جو کب سے چھابی لئے اپنی باری کی منتظر تھی فورا بولی تھی
“لے ۔۔۔۔۔۔آۓ ھاۓ شمسی ۔۔۔۔ یہ کیا کہہ رہی ہے توں ان معصوم بچوں کو ؟؟؟ ان کا باپ اللّه لمبی زندگی دے ابھی مرا نہیں ہے ۔۔۔اللّه کے فضل سے میرا وٹو زندہ ہے ابھی ۔۔۔کماؤ پوت ہے وہ کماؤ پوت ۔۔۔۔۔”
ساس نے دانتوں سے عاری منہ سے پولا پولا کماؤ پوت کہا تھا جس سے شمسی کو کچیچی چڑی تھی
“اماں تیرا وٹو محظ تیرے کوڈستان کا شہزادہ ہے بس!!! تم تو ایسے کہہ رہی ہو جیسے وہ کسی ادارے میں ايم- ڈی ہو”
“شمسی چل مجھے بھی روٹی دے دیں یہ دیو کے بچے نہیں رجنے آج میرے پیٹ میں بل پڑ گئے ہیں بھوک سے”
بیچاری ساس پیٹ دبا کر تڑپ کر گویا ہوئی تھی
“دیتی ہوں دیتی ہوں مرحہ اب کی روٹی اپنی دادی کو دینا اس کے بعد والی پانچ تم خود کھانا اور اس کے بعد جو گیارہ روٹیاں پکے گی ان میں ایک وٹو صاحب کو دینا میری چھوڑ کر”
“یہ لو اب یہ والی اپنی دادی کو ڈال دو میرا مطلب ہے دے دو”
شمسی مذاق کے انداز میں ہنسی تھی
“ہاں ہاں ۔۔یہی اوقات رہ گئی ہے میری آج کرتی ہوں بات وٹو سے”
اس بات پر شمسی کے ہاتھ پاؤں پھول گئے تھے وہ روٹی چھوڑ کر فورا ساس کے پاس آنا چاہتی تھی مگر پھر بھی پانچ منٹ لگ گئے ساس نے اس وقت کا بھر پور فائدہ اٹھایا اور روٹی کھا کر پلیٹ چاٹی اور یہ جا وہ جا ۔۔۔۔
وہ دلبرداشتہ سی بچوں کے پاس آ کر بیٹھی تھی
“شمسی اداس کیوں ہو ؟؟؟”
“دیکھا نہیں تم لوگوں نے اس بوڑھی شیطان کو اب وہ وٹو صاحب کو ایک کی دو لگا کر بتاۓ گی ۔۔۔۔”
شمسی نے ایک پاؤ ہونٹ میں وائبریشین پیدا کی تھی جس کا مطلب تھا وہ رونے والی ہے
شمسی تم آخر کیوں ڈرتی ہو اس تین فٹی وٹو سے جو بمشکل 35kg کا ہوگا ۔۔۔”
نبراس نے ماں کی ڈھارس باندھی تھی
“وٹو صاحب کہتے ہیں میں تمہارے لئے الٹا لٹک کر بندر بن کر خارش کر سکتا ہوں مگر میری ماں کو کچھ غلط نہیں کہنا جس دن میری ماں کا دل دکھایا اسی دن دوسری شادی کر لوں گا اپنی کرنانی خالہ کی بیٹی نوی سے”
“ویسے شمسی ہے وہ ٹیٹ پیس”
شاہ نے لوفر رهنے کی روایت قائم رکھتے ہوۓ ڈکار مارتے ہوۓ کہا تھا
“شاہ میں تمہیں سوئی مار کر تمہاری ساری ہوا نکال دوں گی پھر پھو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وووووو ۔۔۔ کرتے آسمان میں کہیں دور پڑے ہو گے ۔۔ “
شمسی نے شاہ کو موٹی موٹی ٹانگوں سے پکڑ کر الٹا لٹکایا تھا جس سے اس میں گدگدی کا فوارہ چھوٹا تھا
اب سارے بچے روٹی سے لبالب پیٹ پکڑے قہقے لگا رہے تھے جبکہ شمسی پریشان سی دروازے کی طرف دیکھ رہی تھی
اتنے میں وٹو صاحب اندر آے تھے آج حسب معمول انہوں نے آتے ہی بچوں کو الٹی قلاباذی کا مظاہرہ نہیں کر کے دکھایا تھا وہ خاموش سے اندر چلے گئے تھے یہ دیکھ کر شمسی کا ماتھا ٹنکا تھا
“بچوں تم لوگ سو جاؤ میں ذرا باقی کی روٹی پکا کر وٹو صاحب کو دیکھ لوں”
بچے آج کم کھانا کھانے کی وجہ سے كمزوری محسوس کر رہے تھے وہ آج پيدل ہی اپنے کمرے کی طرف غول کی شکل لائن بنا کر چل پڑے تھے شمسی نے بچوں كی گنتی پوری کی اور اندر جانے دیا ۔۔۔
وہ روٹی پکا کر اندر گئی جہاں وٹو ماں کے گوڈے سے لگ کر بیٹھا شمسی کو گھور رہا تھا شمسی پھيكی سی مسکراہٹ سجاۓ اس کے پاس گئی تھی
“وٹو صاحب آجائیں کھانا کھاتے ہیں .۔۔۔”
“نہیں کھانا میں کوئی کھانا شانا ۔۔۔”
وٹو اپنی طرف سے چیخ کر بولا تھا شمسی کو وٹو کے اس غصے پر جی جان سے غصہ آیا تھا اس کا دل کیا تھا اس وٹو کو پمبیری بنا کر اتنا گھوماۓ اتنا گھوماۓ کے اس کو اپنی فسادی ماں بھول جائے مگر وہ یہ صرف سوچ ہی سکتی تھی ۔۔۔۔
“آپ کمرے میں تو چلیں میرے وٹو”
شمسی نے آنکھ مار کر وٹو کو گمراہ کرنے کی کوشش کی تھی مگر آج وٹو پہلے والا وٹو نہیں رہا تھا ۔۔۔جو سونے سے پہلے شمسی کی ٹانگیں دبانا اپنا پیدائشی فرض سمجھتا تھا ۔۔۔
وہ بدل چکا تھا
شمسی کی ساس نهنی جو کہ صرف سائز میں نهنی تھی اندر سے پوری تھی وہ آج اپنی تمام شکلوں کو سلائڈ شو میں دیکھا رہی تھی
اس كی شکل بار بار بدل رہی تھی بس کسی خوفناک فلم کی موسیقی کی کمی تھی ۔۔۔۔
شمسی نے وٹو کو ایک ہاتھ میں اٹھایا اور وہ خاص آواز نکالتی
ہوئی اپنے کمرے میں لے گئی ۔۔۔
ساس کے اندر کوئی چیز چھن سے ٹوٹی تھی مگر وہ نظر انداز کر کے رضائی اوڑھ کر سو گئی تھی ۔۔۔
