Dangal by Jameela Nawab Readelle 50380 Dangal Episode 4
Rate this Novel
Dangal Episode 4
Dangal by Jameela Nawab
“اماں ؟؟؟”
“ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سونے دے نہ شمسی ۔۔۔”
“اماں بچے اسکول چلے گئے ہیں اور وٹو صاحب کام پر میں نے گھر کا کوئی بھی کام نہیں کیا نا ہی میں نے کرنا ہے کیوں کہ میں ہڈ حرام ہوں اور فلحال میں جلدی میں ہوں بہت”
شمسی نے ساس کے چہرے کے تاثرات دیکھے بغیر ہی دروازے کا رخ کیا تھا ساس جانتی تھی دس منٹ سے پہلے یہ دروازے تک نہیں پہنچے گی وہ 9منٹ اونگنے کے بعد اگلے 30سیکنڈ میں شمسی کے آگے جا کھڑی ہوئی تھیں
“کیا اماں سفيد کپڑوں میں پہلے ہی بہت خاص لگ رہی ہو اوپر سے اس طرح بدروح کی طرح اچانک سامنے آگئی ہو تراہ نکال دیا ہے مجھ نازک حسینہ کا ۔۔ “
شمسی نے دل پر ہاتھ رکھ لیا تھا
“دیکھا پھر میرا کمال شمسی ۔۔۔۔۔ڈونٹ انڈر ایسٹیمیٹ دا پاور آف ساس”
“اچھا اماں اب جانے دو ہٹو آگے سے کھمبہ کیوں بن گئی ہو ؟؟ سامنے جو گھر بن رہا ہے ادھر ٹرالا اینٹیں چھوڑنے آیا ہے میں نے لفٹ لینی ہے اس سے جلدی میں ہوں”
وہ آٹے کاخالی گٹو بغل گیر کرتے ہوۓ ساس کو ہلکی سی پھونک مار کر پیچھے کرتی ہوئی بولی تھی
“مگر شمسی میری بچی توں اس بھاری وجود کا بوجھ لئے جا کدھر رہی ہے میں وٹو کو کیا منہ دیکھاؤں گی اگر توں مر گئی تو ؟؟”
اس بات پر شمسی کا موڈ بگڑا تھا
“اماں ٹیلر کے پاس جا رہی ہوں میرا ناپ بدل گیا ہے وہ ٹھیک کروانے اور میں کیوں مرنے لگی اس صحت مند جوانی میں بھلا ؟؟؟
“جن کی عمر ہو گئی ہے وہ مریں نہ۔۔”
“کیا ہو گیا اب ناپ کو ابھی دو دن پہلے تو دے کر آئی تھی تم ؟؟”
“اماں نظر نہیں آتا ڈائٹنگ پر ہوں دو دن سے پتلی ہو گئی ہوں”
شمسی نے ہاتھ کا ڈولہ بنا کر کہا تھا
“اماں ہو گئی ہوں نہ سلم اینڈ سمارٹ ؟؟؟”
“کھی کھی کھی ۔۔۔۔”
ساس منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنسی تھی
“ہاں ہاں چل جا میرا پتر ٹرالا سٹارٹ کر لیا ہے انہوں نے”
“اوکے اماں جلدی آجاؤں گی”
وہ کہہ کر نکلی تھی
“موٹی ۔۔۔۔۔موٹی ۔۔۔۔۔مو۔ ۔۔۔۔۔۔۔ٹی ۔۔۔۔۔۔بھینس کہیں کی ۔۔۔۔بلکه بھینسوں كی بھینس ۔۔۔۔ہاں یہ صحیح رہے گا”
ساس نے مرحہ کے بناے ہوۓ سٹاپو پر ٹاپتے ہوۓ اس بات سے چسسسسس لی تھی ۔۔
ساس پورے گھر میں گدا ڈالتی تصور میں خود کو ہیمامالنی سمجھ رہی تھی ۔۔۔
پتہ نہیں ریمورٹ کہاں رکھ دیتے ہیں یہ بلڈوزری کے بچے”
وہ ہم كلامی میں گویا ہوئی تھیں آخر کافی تردد کے بعد وہ مل گیا تھا ساس نے خوشی سے کمر پر دوپٹہ باندھا تھا اپنا من پسند گانا لگاتی ہوں
“آکھ لڑی بدو بدی ۔۔۔۔۔۔موقع ملے کدی کدی ۔۔۔۔۔کل نئی کسی نے ویکھی ۔۔۔۔۔مزہ لائی آج دا ۔۔۔آے ہاے ۔۔۔”
وہ اس گانے پر جھومتی پھر رہی تھیں جب غزلان اندر قلابازی مار کر آیا تھا جس پر دادی نے فوری گانا بند كیا تھا ۔۔۔
“دادی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اے کم چنگے نئی ۔۔۔۔”
غزلان نے لال آنکھوں سے سر نفی میں ہلاتے کہا تھا
“نہیں پتر وہ میں ۔۔۔۔”
“توں اتنے غصے میں ہے کہ آنکھیں ہی لال کر لی ہیں”
“دادی زیادہ امپرس نہ ہو ۔۔۔۔یہ آنکھیں غیرت سے لال ہر گز نہیں ہوئی ۔۔۔”
“پھر ؟؟”
“مجھے ماسٹر جی نے کلاس سے مار کر باہر نکال دیا ہے”
غزلان بیگ اتار کر اب رونے بیٹھ گیا تھا
“مگر کیوں ؟؟؟”
دادی کو تسلی ہوئی تھی
“میں بچوں کا لنچ کھاتا پکڑا گیا ہوں”
غزلان نے معصومیت سے شکایت کی تھی جس پر دادی نے اس کی بلائیں لی تھیں
