173.1K
12

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dangal Episode 7

Dangal by Jameela Nawab

آدھی رات گزر چکی تھی مگر وٹو صاحب منہ بسورے چار پائی کے نیچے شمسی سے ناراض بیٹھے ہوۓ تھے یہ واحد جگہ تھی جہاں شمسی جھک کر وٹو کو دبوچ کر باہر نہیں نکال سکتی تھی ۔۔۔

“آخر وٹو جی آپ کس بات پر مزيد وٹو ہو گئے ہیں ؟؟؟باہر آجائیں مجھے سخت نیند آئی ہے “

شمسی نے پورا منہ کھول کر جمائی لی تھی

“میں باہر نہیں آؤں گا آج سے میرے اور تمہارے راستے الگ ۔۔۔”

وٹو دونوں ہاتھ سینے پر باندھے عزم مصمم لئے بولا تھا

“اچھا جو آدھا درجن منی ڈائناسارز پیدا کئے ہیں مجھ سے ان کا کیا ہوگا وٹو جی ؟؟”

“ان کو نوی پال لے گی ۔۔۔”

وٹو نے فورا جواب دیا تھا اس بات پر شمسی کا غصہ آسمان کو چھونے لگا تھا

“تو ٹھہر بونے جن کی اولاد ۔۔۔۔کوڈو۔۔۔۔۔ تمہیں میں نے مزيد پدرا نہ کیا تو میرا نام شمشاد عرف شمسی نہیں ۔۔ “

شمسی نے مخصوص آواز نکال کر چار پائی ہاتھ میں اٹھا کر پیچھے پھینکی تھی جبکہ وٹو صاحب سر گھٹنوں میں دیے آنکھ بند کر کے طوفان گزرنے کا انتظار کر رہے تھے

شمسی نے وٹو کو اٹھا کر پٹ پر بیٹھایا تھا وہ غصے سے چیخی تھی

“اب لو اس کلموئی نوی کا نام ۔۔ خود کو عامر لیاقت سمجھ لیا ہے ؟؟؟؟”دوسری شادی کرے گا ؟؟؟”

“اس كی پہلی بیوی مجھ جیسی جسیم عورت ہوتی تو وہ ان بلالڑوں فارمی چوزیوں سے ہرگز شادی نا کرتا ۔۔۔”

شمسی نے اپنی اس بات پر بڑا سا منہ کھول کر قہقہ لگایا تھا

“شمسی برج خلیفہ پر ای۔مارٹ کو کون ترجیع دے سکتا ہے مگر تمہارا وٹو مجبور ہے ۔۔ نہایت ہی مجبور ۔۔۔”

وٹو کی ناک سے باقاعدہ پانی آیا تھا شمسی نرم پڑی تھی

“کیا مجبوری ہے آپ کو میری گھیٹھی سركار ؟؟”

“اماں نے مجھے دمكهی دی ہے کہ اگر میں نوی کو اپنے جوڑ کا حسین ہم سفر نہیں بناؤں گا تو وہ مجھے لیکٹوجن(ڈبے کا دودھ) نہیں بخشیں گی ۔۔۔۔

اس بات پر شمسی نے اپنے نتھنے پھیلا لئے تھے

“اچھا تو یہ ساری سازش ان دونوں بہنوں سنتا بنتا کی ہے تبھی اس دن دونوں منہ جوڑ کر ایک ہی ناک سے اکسیجن لے رہی تھیں ۔۔۔کل ہی کرتی ہوں بندوبست ۔۔۔ سنتا کا بھی اور اس بنتا کا بھی”

“خبردار شمسی جو تم نے میری ماں کا کوئی نام رکھا ہو یا اس کے ساتھ کوئی بد تمیزی کا سوچا بھی ہو ۔۔۔۔۔میں قد میں چھوٹا ضرور ہوں مگر اپنی ماں کی شان میں یہ گستاخی بلکل برداشت نہیں کروں گا ۔۔۔۔”

“اچھا وٹو ۔۔۔۔میرے پیارے ۔۔۔۔راج دلارے وٹو ۔۔۔

To be continued …..

“قسمیں بڑی نیند آئی ہے ۔۔۔شمسی یہ کہتے ہی اگلے لمحے خراٹے مارتے سو چکی تھی ۔۔۔جس پر وٹو آہستہ آہستہ شمسی کے پٹ سے نیچے اترا اور پیٹی پر جا کر سو گیا ۔۔۔

صبح ۔۔۔۔۔۔

شمسی بچوں کے لئے ناشتہ بنا کر وٹو اور نهنی کے پاس آ کر بیٹھی تھی ۔۔۔شمسی نے بڑی عزت سے ساس کو آدھا پراٹھا دیا تھا جس پر ساس نے گدھی کی طرح منہ چڑھایا تھا

“اماں ۔۔۔لے خود ہی بات کر لے اپنی بہو سے ۔۔ “

وٹو نے ہیروز كی طرح اس بات كی مناسبت سے اپنی ٹانگ پر ٹانگ رکھنے كی کوشش کی تھی مگر وہ پیچھے کو الٹ گیا تھا ساس نے اٹھانے كی بجاۓ پراٹھے کا بڑا سا نوالہ منہ میں ڈالے اوں اوں کی آواز نکال کر شمسی کو اسے اٹھانے کا اشارہ کیا تھا

شمسی نے بے دلی سے اسے اٹھا کر بیٹھا دیا تھا

“وٹو اب چھوڑ دیں نا اس بات کو ۔۔۔رات گئی بات گئی ۔۔ “

وٹو کو تاؤ چڑھا تھا مگر اس بار وہ چارپائی کے سینٹر میں ہو کر بولنا شروع ہوا تھا

“شمسی مجھے تم سے بس اس بات کا جواب دركار ہے کہ کیا میری کتا ہے جو تم اس کو روٹی ڈالنے کا کہہ رہی تھی ؟؟؟

شمسی کو وٹو کی اس بات سے ٹھنڈے پسینے آے تھے

“نہیں ۔۔۔۔وہ ۔۔۔۔ تو ۔۔۔۔۔۔۔۔ٹنگ سلپ ۔۔۔۔۔۔۔۔تھا ۔۔۔۔ ورنہ میری ۔۔۔۔یہ کیا مجال جو میں ۔۔ آپ كی اماں کو ۔۔۔۔ایسا کہوں ۔۔۔۔”

وہ وٹو سے مغلوب ہو کر بولی تھی

“نہیں ۔۔۔مطلب تو یہی تھا تمہارا کہ میری بوڑھی ماں کتا ہے ۔۔ “

“نہیں وٹو آپ بلکل غلط سمجھ رہے ہیں ۔۔ “

نهنی لفظ کتا بولنے پر نوالہ مشکل سے نگل کر وٹو کو غصے سے دیکھ رہی تھی

“پھر مطلب کیا تھا ۔۔۔روٹی ڈال دو سے تمہارا ؟؟؟کیوں کہ روٹی تو گھر کے پالتو کتے کو ہی ڈالتے ہیں ۔۔ ہیں نہ اماں ؟؟”

وہ ماں سے اپنی ہمت پر داد وصول کرنے کی غرض سے مخاطب ہوا تھا ماں نے اسے کھا جانے والی نظر سے دیکھا تھا وٹو کو لگا میری بات میں زور کی کمی رہ گئی ہے شاید اس نے پھر سے شمسی کی طرف دیکھتے ہوۓ بات شروع كی تھی

“نہیں شمسی تم مان کیوں نہیں لیتی کہ تم نے میری ماں کو کتا ہی ۔۔۔۔”

اس سے پہلے کے وٹو اپنا جملہ مکمل کرتا ماں نے اسے کھینچ کر تھپڑ رسيد کیا تھا جس کے ساتھ ہی وہ لڑک کر زمین پر جا گرا تھا وٹو نے اپنے چہرے پر ہاتھ رکھے ماں کی طرف شکایتی نظروں سے دیکھا تھا

“کیا کتا کتا لگا رکھی ہے توں نے تین فٹیے ؟؟؟؟میں نے شمسی کو ذلیل کرنے کو کہا تھا اور تم کب سے ادھر میرے پہلو میں بیٹھا میری مٹی پلید کر رہا ہے ؟؟؟”

“اس نے صاف صاف نہیں کہا تھا

مگر تم ہو کے پہاڑہ ہی بنا لیا ہے ۔۔۔۔

ایک دونی دونی ۔۔۔۔تے دو دونی چار ۔۔

نهنی نے پولے منہ سے نرم نرم کہا تھا

اتنا برا مجھے شمسی کے دو کنال پر محیط منہ سے نہیں لگا تھا جتنا تمہارے اس چٹانک بھر منہ سے ۔۔۔

“چل نس اب کام پر دفع ہو ۔۔۔شکل گم کر ۔۔۔”

ساس کے منہ میں گویا الفاظ کا ریلہ آیا تھا کچھ الفاظ گال کے گوشت سے ٹکڑا کر باہر نکلنے کی کوشش میں تھے ۔۔۔

شمسی کو آج اپنی ساس دنیا كی عظیم عورت لگ رہی تھی ۔۔۔

وٹو نے آنسو صاف کر کے شمسی كی طرف دیکھا تھا جس نے چیچی انگلی آگے کر کے کچی کا سائن بنایا تھا

وٹو نے بچوں كی طرف دیکھا تھا جو انگوٹھے نیچے کی طرف کر کے وٹو کو لوزر کہہ رہے تھے ۔۔

وٹو نے آج فرط جذبات سے مغلوب ہو کر خود کو نیچے كی طرف پریس کیا تھا جس پر سب اس کے اس نئے فیچر پر حیران ہوۓ تھے

پھر اس نے خود کو ڈھیلا چھوڑ دیا تھا جس پر وہ مینڈک كی طرح اوچھل کر سیدھا دروازے سے باہر نکلا تھا ۔۔۔۔