173.1K
12

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dangal Episode 3

Dangal by Jameela Nawab

“شمسی ۔۔۔۔۔شمسی ۔۔۔۔۔مائی لائف ۔۔۔۔۔ مائی ہیلدھی وائف”

وٹو صاحب جو کے جھلونگی میں بیہوشی کی حالت میں نیند پوری کر رہے تھے آہستہ آہستہ ذیرلب بڑبڑاۓ تھے ان کو جھولا جھولانے کا کام پریہان اور جیزل کو دیا گیا تھا

وٹو صاحب ہوش میں آ رہے ہیں شمسی ۔۔۔پریہان نے جيزل کو بھاگ کر بلانے بھیجا تھا

آئے دن اسٹور میں چوہے چیزیں کتر رہے تھے جن سے شمسی سخت تنگ تھی وہ چوہے کے لئے کڑیکی لگائے اس کے اس میں پھنسنے کی منتظر دروازے کے پیچھے سے چہرے پر مسکراہٹ لئے کھڑی تھی وہ ایک کڑیکی پیٹی کے نیچے بھی لگا کر آئی تھی جیزل کے بتانے پر وہ تیزی سے آٹھ منٹ میں وٹو صاحب کے پاس پہنچی تھی آج وہ دو منٹ پہلے پہنچی تھی

“چلو بچوں تم لوگ اب باہر جاؤ ۔۔۔”

شمسی نے بے شرمی کا اپنا پرانا ریکارڈ توڑ کر شرماتے ہوۓ کہا تھا جس پر وٹو صاحب جھولے میں ہی اپنا چہرہ چھپا گئے تھے

“ویسے شمسی ہمیں ناولز میں جتنا بے حیا بنایا جاتا ہے تم تو ہم سے بھی چار ہاتھ آگے ہو۔۔۔”

شاہ نے کمرے میں آکر اپنی زبان ٹھنڈی کی تھی

جس پر شمسی نے فخر سے اپنا نا موجود کالر کھینچا تھا ۔۔۔

“شاہ تم بس لوفر ہی رہنا ۔۔۔۔”

شاہ نے اپنی تعریف پر قلابازی ماری تھی اس کے دیکھا دیکھی پریہان اور جیزل بھی قلابازیاں مارتے کمرے سے باہر نکلے تھے

“میرے ریچھ ۔۔۔”

شمسی نے بے اختیار ان کو جاتے دیکھ کر کہا تھا دروازہ بند ہونے کی آواز پر شمسی وٹو کو جھولا دیتی پیار سے قریب آئی تھی

“شمسی ۔۔۔۔تم ہی میری آخری محبت ہو ۔۔۔میں نہیں رہ سکتا تمہارے بغیر ۔۔۔۔۔بس مجھے نہیں پتہ۔۔۔۔میں مرنا نہیں چاہتا “

اس بات پر فرط جزبات میں غرق پگلی شمسی نے جھولا تیز کیا تھا جس سے جھولے کا دوپٹہ پھٹا اور وٹو صاحب چارپائی کی حدود عبور کرتے ہوۓ پیٹی کے نیچے جا گھسے تھے ۔۔۔۔

وٹو صاحب ۔۔۔کچھ اور کہیے نا ۔۔۔۔بس آپ بولتے رہیں ۔۔۔۔۔”

“مجھے خود سے دور مت کرو شمسی میں مر جاؤں گا جاناں ۔۔۔”

وٹو صاحب کی آواز پیٹی کے نیچے سے برابر آئی تھی ۔۔۔

“ویسے ہی تو نہیں کہتے پھرتے سب ۔۔۔۔۔میرے پیارے وٹو ۔۔۔۔”

“کیا کہتے ہیں سب شمسی ؟؟؟”

“محبت بھول ہے جاناں”

شمسی نے اپنا ناخن صاف کرکے اس کا سرا چبا کر تھوکتے ہوۓ کہا تھا وہ دوسرے ہاتھ سے جھولا برابر ہلا رہی تھی

“کڑک”

کی آواز پر وٹو صاحب کی چیخ سنائی دی تھی پیٹی کے نیچے موجود کڑیکی نے ان کی ٹانگ پکڑ لی تھی جس پر وہ چلا کر بولے تھے

“شمسی ۔۔۔۔۔۔مائی لائف ۔۔۔۔مائی ہیلدھی وائف”

ساس کو فوری طور پر بلا یا گیا جنہوں نے گھس کر وٹو کو باہر نکالا اور پھر اس درد سے آزادی دلوائی…

سچ ہی تو کہتے ہیں ماں جیسا کوئی نہیں ۔۔۔

ساس نے شمسی کی اس حرکت پر ایک لیٹیسٹ شکل بنائی تھی ۔۔۔

جس پر شمسی کا دل کیا آج ساس کو دروازے کے اوپر ڈنڈے کے ساتھ باندھ کر نظر بٹو کا کام لے لے ۔۔۔

شمسی کے سر کے اوپر یک بلبلا بنا تھا جس میں اس نے ساس کو اس گھر کے گیٹ کے اوپر ڈنڈے سے بندھے یہاں وہاں دیکھتے ہوۓ دیکھا تھا ۔۔۔

شمسی کا بلند قہقہ کمرے میں گونجا تھا جس سے کمرے میں جو وبال مچا تھا بچے کمرے سے باہر قلابازیاں مارتے نکل گئے تھے ساس نے کمرے کا دروازہ پکڑ کر خود کو باہر نکلنے سے بچایا تھا جبکہ وٹو صاحب اس بار خود پیٹی کے نیچے بھاگ کر گھسے تھے ۔۔۔۔اور ایک بار پھر

“کڑک”

کی آواز کمرے میں گونجی تھی ۔۔۔۔