Dangal by Jameela Nawab Readelle 50380 Dangal Episode 10
Rate this Novel
Dangal Episode 10
Dangal by Jameela Nawab
“پریہان تمہیں نہلا دیا میں نے اب ایسا کرو شاہ کو بھیجو ایک وہ ہی رہ گیا ہے نہلانے والا”
شمسی نے بالٹی میں پانی برابر کرتے ہوۓ کہا تھا پریہان نے بھینس کی دم پکڑ پکڑ کر قہقہ لگاتے ہوۓ شاہ کو شمسی کا پیغام دیا تھا دور سے وہ بھینس کا بچہ ہی لگ رہا تھا
“تم نے نہا لیا ؟؟”
وہ پھر سے بھینس کی دم پکڑ کر خوش ہو کر بولا تھا
“ہاں ۔۔۔۔خالا کو تنگ کرنا بند کرو شمسی کو آج کل ہر وقت وٹو صاحب پر غصہ آیا رہتا ہے نکل ہم سب پر جاتا ہے اب جلدی جاؤ ۔۔۔۔”
پریہان نے بالوں میں كنگی کرتے ہوۓ شاہ کو موقعے کی نزاكت کا احساس دلايا تھا
شاہ نے شمسی کی طرف رخ کر کے قلابازی ماری تھی
شمسی غسل خانے میں بیٹھی سوچوں میں گم تھی شاہ نے شمسی سے پوچھنے کی بجاۓ اس کی نظر کا تعاقب کیا تھا جہاں شمسی دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
وٹو تولیہ لپیٹے صحن میں بیٹھا تھا اور شمسی اس کے سر میں مالش کر رہی تھی
“شمسی ۔۔۔۔۔تم بہت اچھی ہو ۔۔۔۔۔”
اس بات پر شمسی کی مالش میں تیزی آئی تھی ۔۔۔
“وٹو ۔۔۔۔آپ بھی بہت اچھے ہیں ۔۔۔”
شمسی کے چہرے میں حیا کے سارے رنگ نمودار ہوۓ تھے ۔۔۔
“شمسی ؟؟؟؟”
شاہ نے شمسی كے خیال کا محور توڑا تھا
“شمسی ۔۔۔۔تم سیڈ کیوں ہوتی ہو ؟؟؟سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔۔”
شاہ نے شمسی کی گود میں بیٹھ کر اس کو تسلی دی تھی
“ویسے شمسی برا نا مناؤ تو ایک بات کہہ ہی دوں آج لگے ہاتھوں ؟؟”
شمسی نے سوالیہ نظر سے گود میں بیٹھے شاہ کو دیکھا تھا
“وٹو بھی کوئی چیز ہے یاد کرنے والی هاهاهاهاهاها ۔۔۔۔۔”
اس بات پر شمسی نے شاہ کو آنکھیں دکھاکر اس پر پانی کا مگا الٹایا تھا
شمسی بچوں کو نہلانے کے بعد خود بھی نہا کر اب صحن میں بیٹھی بال سکھا رہی تھی جب اس کی بھابی جو کچھ دنوں کے لئے اپنے میکے گئی تھی دروازے سے اندر آئی تھی وہ شمسی اور اس کی پانڈہ فورس کو دیکھ کر پير پٹختی اپنے کمرے میں گئی تھی
“یہ ہتھنی یہاں کیا کر رہی ہے؟؟؟؟”
وہ اندر بیٹھے شمسی کے بھائی سے مخاطب ہو کر بولی تھی
“ارے بہن ہے وہ میری تکلیف میں اور کدھر جائے گی؟؟؟”
وہ سینا تان کر بولا تھا اس کی بیوی سعدیہ جو اپنی چادر اتارکر رکھنے والی تھی اب دوبارہ اوڑھ کر بولی تھی
“اچھا تو جب تک یہ یہاں ہے میں نہیں رکوں گی جب یہ چلی جائے تو آ جانا مجھے لینے”
وہ پیر پٹخ کر جن قدموں آئی تھی انہی پر واپس لوٹ گئی تھی
“میں نہیں رکوں گی،بڑی آئی”
وہ اس کی نقل اتار کر دوبارہ اپنے دودھ کے حساب میں مصروف ہوگیا تھا
شمسی اپنی بھابھی کی آواز سن چکی تھی ۔۔۔
“وٹو تیری تو ایسی كی تیسی”
“غیرت گئی تيل لینے،ساڈا حق ایھتے رکھ”
شاہ،پریہان،غزلان،جیزل اور باقی جو بھی ہو سارے جلدی آؤ وٹو کے گھر ہلا بولنا ہے ۔۔۔شمسی نے باآواز بلند سب کو پکار کر کہا تھا
وہ کسی فوج کے سپاہی كی طرح دستہ بن کر شمسی کے ساتھ چل پڑے تھے
۔**************
“چلو بندر بن کر دکھاؤ”
نوی شرما کر بولی تھی جس پر وٹو قربان ہو کر اب خود کو دونوں ہاتھوں سے کجھا کر دکھا رہا تھا نهنی بیٹھی یہ بندر کلی کا تماشہ دیکھ رہی تھی
“دور فٹے منہ تیرا کوڈواں ۔۔۔۔۔۔لاکھ دی لعنت ۔۔۔۔تم اتنے گر جاؤ گے ۔۔۔۔میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا ۔۔۔۔ایک چھپکلی کے لئے اتنا پاگل ہو گئے ہو ۔۔۔۔”
نهنی دور بیٹھی کبھی کانوں کو ہاتھ لگا کر توبہ کرتی کبھی لعنتیں بھیج کر دل ٹھنڈہ کرتی ۔۔۔
اتنے میں شمسی خاص آواز نکال کر دروازے پر آئی تھی۔۔کوڈو بھاگ کر دروازے کے پیچھے چھپ گیا تھا جبکہ نوی نهنی کی پناہ میں آ گئی تھی
“چل نگوڑی میرے پاس نا آں ابھی نظر آئی ہوں میں تجھے ؟؟؟”
نهنی نے نوی کو خود سے الگ کرتے ہوۓ ناراضگی سے کہا تھا
“خالہ وہ ۔۔۔۔۔”
“چل بھاگ میری شمسی آ گئی ہے میدان میں ہے جمالو ۔۔۔۔”
نهنی لوڈی ڈالتی ہوئی شمسی کے پاس آئی تھی شمسی سے ساس کو گود میں اٹھا کر پیار کیا تھا
بہت یاد کیا تمہیں میں نے تمہیں شمسی”
نهنی نے پولی سی زبان میں کہا تھا
“میں نے بھی”
شمسی نے ساس کو چوم کر کہا تھا
وٹو سمجھ گیا تھا نهنی کا شمسی کی گود میں چڑھنے کا مطلب ۔۔۔۔نوی کا چیپٹر کلوز ۔۔۔۔”
نوی درمیان میں کھڑی تھی جبکہ اس کے ارد گرد سارے بچے قلابازی مار مار کر اسے ہراساں کر رہے تھے
وہ سہمی سے وٹو کی طرف دیکھ رہی تھی جو ٹوکری کے نیچے سے نکل کر باہر آ کر زور سے کھانسا تھا بچوں نے اب اپنی قلاباذی کا محور وٹو کو بنایا تھا
“وٹو جی ۔۔۔۔”
نوی وٹو کا ہاتھ پکڑ کر بولی تھی
“کوئی وٹو شٹو نہیں ۔۔۔چلو ۔۔۔باجی اپنے گھر جاؤ”
وٹو نے ازلی مردانہ پینترہ اپنایا تھا
“باجی؟؟؟؟؟”
“ہاں ۔۔۔۔تم کیا سمجھی تھی میں اپنی چار من كی بیوی چھوڑ کر تم دو کلو کی لڑکی سے شادی رچا لوں گا ؟؟؟”
“چلو میری گھر کی صحت مند جنت واپس آ چکی ہے ۔۔۔۔تم اپنے دل سے میرا خیال نوچ کر اکھاڑ پھینکو ۔۔۔۔۔بھول جاؤ مجھے ۔۔۔ بھول جاؤ مجھے ایک خوبصورت خواب سمجھ کر
وٹو دیوار پکڑ کر خود کو صبیحہ خانم سمجھ کر جذبات میں آ کر بول رہا تھا
نوی روتی ہوئی وہاں سے چلی گئی تھی ۔۔۔
جبکہ وٹو اب شمسی کی طرف بے شرم سا دیکھ رہا تھا
جس پر شمسی نے اسے دونوں ہاتھوں سے منہ چڑھایا تھا ۔۔۔
