Bharosa By Zaisha Khan Readelle50264

Bharosa By Zaisha Khan Readelle50264 Bharosa (Episode 10) Last Episode

63.3K
10

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bharosa (Episode 10) Last Episode

Bharosa By Zaisha Khan

غلام میڈم گھر پر ہے یہ کہی گئ ہے ؟

نہیں سر میڈم گھر پر ہی ہے ۔۔۔

گھر پر کوئ آیا ہے ؟ ۔

نہیں سر ۔۔

اوکے ۔۔

ولید کچھ شاپر بیگ غلام کو پکڑاتے ہوئے بولا ۔۔

ولید نے جیسے ہی گھر کے اندر قدم رکھا منہ میں پانی بھرنے والی خوشبو نے اس کا استقبال کیا ۔۔

ولید سیدھا کیچن کی طرف بڑھا اس کا پسندیدہ سوپ گیس پر ابل رہا تھا ۔۔

ولید نے کیچن کے اندر نظریں دوڑائی تو شیزہ اسے وہاں کام کرتی ہوئ نظر آئ۔۔جو شلف پر رکھے ہوئے لیپ ٹاپ پر کچھ ٹائپ کرنے میں مصروف تھی ۔۔۔

ولید اسے گہری نظروں سے دیکھنے لگا ۔۔

گھٹنوں تک آتے کریم کلر کے ڈیپ گلے والا فراک پہنے بالوں کو جوڑے میں قید کئے وہ سیدھا ولید کے دل میں اتر رہی تھی ۔۔

ولید اسے گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا کہ شیزہ اپنے اوپر کسی کی نظر محسوس کئے ایک دم پیچھے پلٹی اور ولید کو دیکھ کر ہلکا سا مسکرائ ۔۔

“گڈ ایوننگ” شیزہ اپنا لیپ ٹاپ بند کئے اس کی طرف مڑی ۔۔

“گڈ ایوننگ” ولید بے یقینی سے بولا۔۔

آج شیزہ بلکل الگ بی ہیو کر رہی تھی جو ولید کو کھٹک رہا تھا

“امم.. تم فریش ہونے کیوں نہیں جاتیں؟، جب تک تم واپس آؤ گے، تمہارا ڈنر سیٹ ہو جائے گا” شیزہ مسکراتے ہوئے برتن سیٹ کرنے لگی ۔۔

یہ کیا تم مجھ سے کہہ رہی ہوں ولید کو اچانک جھٹکا لگا ۔۔

ہنی تم سے ہی کہہ رہی ہوں فریش ہو جاوں یقینا تم تھکے ہو گئے اور بھونک بھی لگی ہو گئ اس لیے کہہ رہی ہو جلدی سے فریش ہو کر آ جوں

“اوہ؟” میں نے ڈھنگ سے پوچھا، مجھے نہیں لگتا کہ میں نے صحیح سنا ہے۔

’’تم نے مجھے کیا بلایا؟‘‘ ولید حیران ہوئے بولا۔

کیا میں اپنے شوہر کو اس نام سے نہیں بلا سکتی ۔

نہیں ایسی بات نہیں ہے تم بلا سکتی ہو بلکل بلا سکتی ہوں میں ابھی فریش ہو کر آتا ہوں اس سے پہلے واپس اس کا موڈ بدل جاتا ولید جلدی سے اپنے کمرے کی جانب بڑھا ۔۔

یا اللہ مجھے لگتا ہے میں کوئ خواب دیکھ رہا ہوں یہ شیزہ نہیں ہو سکتی مجھے ہنی کہہ کہ بولائے یہ شیزہ واقعی میں نہیں ہو سکتی ۔۔

اوپر سے میری پسند کا کھانا بھی بنایا ہے ۔۔

یہ ضرور اس کی کوئ چال ہو گئ مجھے تنگ کرنے کی میں اتنی جلدی اس پر بھروسہ نہیں کر سکتا ۔۔

ولید ہچکچاہتے ہوئے کمرے کا دروازہ کھولے پورے کمرے میں نظریں دوڑائے آرام سے اندر داخل ہوا۔۔

ہر چیز بلکل ویسے ہی تھی جیسے چھوڑ کر گیا تھا ۔۔۔۔

ولید نے پورا کمرہ چھان مارا لیکن کہی بھی کچھ غیر معمولی نہیں لگا ۔۔

لیکن ولید کو ابھی بھی شیزہ پر یقین نہیں ہو رہا تھا ۔۔

****

ولید جلدی سے فریش ہوئے موبائل ہاتھ میں پکڑے سڑھیاں سے نیچے اترتے ہوئے کیچن کی طرف گیا ۔

شیزہ ہاتھ میں کھانے کی ٹرے لیے ڈائننگ ٹیبل کی طرف جا رہی تھی کہ اسے وہاں دیکھ اپنے ساتھ چلنے کا اشارہ کئے ڈائننگ ٹیبل کی طرف بڑھی ۔۔

..

کیچن ایک دم صاف تھا ایسا بلکل نہیں لگ رہا تھا کہ ابھی یہاں کسی نے کچھ پکایا بھی ہوں ۔

ولید کیچن میں ایک نظریں مارے وہاں پر رکھی ہوئ کھانے کی ٹرے اٹھائے ڈائننگ ٹیبل کی طرف گیا ۔

ارے ۔۔۔تم نے کیوں تکلیف کی میں ابھی انہیں لینے واپس آ رہی تھی شیزہ اسے ٹرے اٹھائے آتا دیکھ اس کے پاس آئ ۔۔

کوئ بات نہیں ولید ہلکا سا مسکرایا ۔۔

بہت شکریہ تمہارا شیزہ اس کے گالوں کو چومے پیچھے ہوئ ۔۔

شیزہ کی اس حرکت سے ولید اپنی جگہ جم گیا آج اس کے اوپر خیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ رہے تھے

یا اللہ یہ شیزہ نہیں ہو سکتی اس نے مجھے خود سے کس کیا ۔۔ولید دل میں سوچے اس کی جانب دیکھنے لگا ۔۔

کیا ہوا بیٹھوں ورنہ کھانا ٹھنڈا ہو جائے گا اور یہ مت بھولوں تمہیں ٹھنڈا کھانا بلکل پسند نہیں ہے شیزہ جلدی سے پلیٹیں سیٹ کئے سروس کرنے لگی

ولید کھا کم شیزہ کو دیکھ زیادہ رہا تھا ۔۔

شیزہ کیا تم ٹھیک ہوں ولید اسے سکون سے کھانا کھاتا دیکھ بولا۔۔

اس نے ولید کی طرف ایسے دیکھا جیسے اس نے سب سے مضحکہ خیز بات پوچھی ہو۔

“ہاں، میں ٹھیک ہوں، کیوں؟”

“تم واقعی میں اچھی ہو” ولید نے دو ٹوک انداز میں کہا اور وہ ہنس پڑی۔

کیوں تمہیں اچھی نہیں لگ رہی۔۔

نہیں ایسی بات نہیں ہے مجھے یہ سب بہت عجیب لگ رہا ہے ولید اس کی طرف جانچتی نظروں سے دیکھنے لگا ۔۔

ٹھیک ہے ۔۔میں مانتی ہوں پیچھلے کچھ مہینوں سے میرا برتاو کچھ ٹھیک نہیں تھا ۔ مجھے اس کا بہت افسوس ہے ۔۔پلیز پہلے مجھے کہنے دو ولید نے ابھی منہ کھولا ہی تھا کہ شیزہ روتی ہوئ بولی۔۔

میں جانتی ہو تم کیا کہنا چاہتے ہوں کہ میں بہت بری ہو بدتمیز ہوں لیکن سچ میں مجھے بہت افسوس ہے مجھے ایک ایماندار اور اچھی بیوی بننا چاہیے تھا چاہے کچھ بھی ہوں کتنے بھی دن رہتے ہو ہماری طلاق کو لیکن تم ابھی بھی میرے شوہر ہوں

تمہاری ہر ضروریات کو پورا کرنا میرا فرض تھا

مجھے پتہ ہے اب بہت دیر ہو چکی ہے لیکن میں ان تین دونوں میں ایک بہترین بیوی بننا چاہتی ہوں اور پلیز اس کے متعلق مجھ سے کوئ سوال مت کرنا ۔

بس اس وقت کو انجوائے کرو کوئ ٹینشن نہیں کوئ دوری نہیں بس پیار ہی پیار ہوں ان دونوں میں ۔۔

ولید بہت سارے سوال اس پوچھنا چاہتا تھا لیکن وہ پوچھ نہیں پایا اس کی تو جیسے دعائیں قبول ہو گئ تھی

***

ولید بیٹھ کر ٹی وی دیکھ رہا تھا کہ شیزہ کیچن کا سارا کام ختم کئے اس کے ساتھ آ کر بیٹھ گئ ۔

ولید نے ایک فیصلہ کیا تھا وہ اسے طلاق لینے سے منع تو نہیں کر سکتا تھا اس لیے جتنے بھی دن اس کے ساتھ تھا اچھے سے گزارنا چاہتا تھا تاکہ اس کے جانے کے بعد اس کے پاس اس کی اچھی یادیں ہو نہ کہ بری یادیں ۔۔

ولید کیا تم میری بات سن رہے ہوں ۔۔

شیزہ کی آواز اسے سوچوں سے باہر لائ ۔۔

کیا کہا تم نے سوری میں نے سنا نہیں ۔۔

مجھے ایک کنٹریکٹ کی آفر آئ ہے شیزہ خوش ہوئ بولی اسے آج بھی یاد تھا اسے جب بھی کوئ نیا پروجیکٹ ملتا تھا تو وہ کتنی محنت سے اسے پورا کرتی تھی ۔۔

“واقعی؟ کس قسم کا ؟” ولید نے واقعی دلچسپی سے پوچھا

“ایک نئی کریم کے لیے، یہ نیویارک میں ہے اور یہ چھ ماہ تک جاری رہے گا، پیکج بہت اچھا ہے۔ اس کے علاوہ میرا کھانا، فلائٹ، رہائش اور سب کچھ کمپنی خود ہی سپانسر کرے گی۔‘‘

“واہ، یہ تو بہت اچھا ہے.. میں تمہارے لیے بہت خوش ہوں” ولید اداسی سے بولا ۔۔۔

“ہاں میں بھی، لیکن میں نے اسے قبول نہیں کیا۔” اس نے کہا ولید بے یقینی سے اسے دیکھنے لگا۔۔

“کیوں؟”

شیزہ نے بس کندھے اچکائے۔

“شیزہ، تم نے اسے قبول کیوں نہیں کیا؟” ولید انگوٹھے سے اس کے گال کو سہلائے بولا۔

“یہ بریک لینے کا وقت ہے ولید ، میں اب دس سال سے ماڈلنگ میں ہوں، اب وقت آگیا ہے کہ بریک لیا جائے اور مزید اہم چیزوں پر توجہ دی جائے” اس نے سادہ الفاظ میں کہا۔

“جیسے؟” ولید اپنے آپ کو پوچھنے سے نہیں روک سکا.. اس نے بس کندھے اچکا کر ٹی وی پر توجہ مرکوز کر دی.

ولید کو خیرانگی ہوئ ماڈلنگ اس کی جان تھی چھوٹی سی عمر میں اس نے ماڈلنگ کرنا شروع کر دی تھی اسے کیمرے کے سامنے رہنا بہت اچھا لگتا تھا ، شوز، ایونٹس، فوٹو شوٹس، میوزک ویڈیوز، رن وے، بیوٹی پیجنٹس، ٹاک شوز، اشتہارات میں۔ اور اسی طرح.. سالوں کے دوران اس نے کئی ایوارڈز اور مقابلے جیتے، فلموں میں بطور مہمان اداکار کام کیا، اور کئی مقابلوں کی جج بھی رہ چکی تھی وہ اپنے کاموں میں بہت اچھی تھی اور کبھی بھی اچھے معاہدے سے انکار نہیں کرتی تھی

لیکن آج اچانک یہ سب اسے پریشان کر گیا تھا

***

گڈ مارننگ۔۔ شیزہ سڑھیوں سے نیچے اترتی ہوئ بولی ۔

گڈ مارننگ وائف ولید اس کی طرف دیکھ مسکرائے فریج کی طرف بڑھا

شیزہ کے لب مسکرائے جنہیں ولید با آسانی دیکھ سکتا تھا

کیا ہوا ؟ تم مسکرا کیوں رہی ہوں ۔۔۔

“کیا وایفی جیسا کوئی لفظ نہیں ہے”

ولید پانی کی بوتل سے ایک بڑا گلیپ لیتے ہوئے مسکرا گیا ۔۔

بلکل کیو نہیں میری پیاری وائفی ولید دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے اسے سیب کاٹتے ہوئے دیکھنے لگا

. اس نے اپنا گلابی بیگی بڑے سائز کا ریچھ والا سویٹر پہنا ہوا تھا.. اس کے کان سفید تھے، اور اسی طرح اس کی انگلیوں کو ڈھانپنے والے پنجے تھے۔

یہ تم نے کیا پہنا ہوا ہوا اس کے لباس کو دیکھ اسے ہنسی آئ ۔۔

وہ کل رات سردی کچھ زیادہ تھی اس لیے۔۔شیزہ کندھے اچکائے بولی۔۔

تو پھر تمہاری رات کیسی گزری ۔

اچھی تھی دونوں نے گیارہ بجے تک مل کر فلمیں دیکھی تھی

تمہاری رات کیسی گزری ۔۔

بلکل ویسی ہی جیسی تمہاری گزری ولید آہستہ آہستہ قدم اٹھائے اس کی جانب بڑھا ۔۔

تم ناشتے میں کیا لو گئے شیزہ اسے اپنی جانب بڑھتا ہوا دیکھ دو قدم پیچھے ہوئ بولی ۔۔

ولید اسے بازو سے پکڑ کے اپنے قریب کئے کمر سے مضبوطی سے تھام گیا ۔اور بنا اسے فرار ہونے کا موقع دیے اس کے لبوں کو اپنی دسترس میں لے گیا شیزہ اپنی نظریں جھکائے مسکرا گئ ۔۔

اس کے لبوں کو چھوئے ولید پیچھے ہوا اور جلدی سے فریج سے سامان نکالنے لگا ان کی فریج میں زیادہ تر چکن اور مچھلی ہی پائ جاتی تھی ایک منٹ سوچنے کے بعد ولید نے آئسڈ فش کے لیے بس کر لیا.. اس نے دو بڑے ٹکڑے نکالے، انہیں پانی کے پیالے میں ڈیفروسٹ کرنے کے لیے رکھا.. پھر تازہ ٹماٹر، لینے فریج کی طرف چل دیا۔ اور ساتھ انڈے بھی ۔۔

شیزہ سٹور سے سبزیوں کا تیل اور پیاز لے کر واپس آئی۔

ولید کوکنگ کر رہا تھا جبکہ شیزہ اس کے پاس کھڑی بس اسے دیکھ رہی تھی

ان تینوں مہینوں میں اس نے ایک بار بھی اس پر ہاتھ نہیں اٹھایا تھا کیا وہ سچ میں بدل گیا تھا کہ اسے واقعی میں ایک موقع دینا چاہیے بہت سے سوال اس وقت اس کے ذہن میں چل رہے تھے ۔۔

۔

ولید نے مچھلی کو ٹکڑوں میں کاٹنا شروع کیا، شیزہ نے پیاز کے ٹکڑے کرنے کے لیے ایک چاقو اور کاٹ بورڈ اٹھایا۔

شیزہ پیاز کاٹے اسے ایک طرف رکھے اچھی طرح سے اپنے ہاتھ دھوئے ولید کو دیکھنے لگی جو بہت آسانی سے سارے کام کر رہا تھا اسے یہ دیکھ خیرانی ہوئ وہ اس کے ساتھ بھی ہوتا تھا تو بہت پرسکون اور آسانی سے کام کرتا تھا

’’ارے کیا سوچ رہی ہو؟‘‘ ولید اسے سوچوں میں ڈوبے دیکھ بولا۔۔

کچھ نہیں شیزہ اس کے براون بالوں کو دیکھے بولی جو اس کے ماتھے پر بکھرے ہوئے تھے اور یقینا اس لوک میں بہت ہینڈسم لگ رہا تھا اسے کبھی کبھی اپنی قسمت پر رشک ہوتا تھا ۔۔

“تم آج کیا کرنا چاہتی ہوں ؟” اس نے اچانک پوچھا۔

“ام.. تم کام پر نہیں جا رہے ہو؟” شیزہ نے پوچھا۔ آج جمعرات ہے، جس کا مطلب ہے کہ ہم ہفتہ کو کاغذات پر دستخط کریں گے۔

پرسوں.

“نہیں.. میں نے اپنے سیکرٹری کو فون کیا کہ میری آج اور کل کی تمام میٹنگز کینسل کر دی جائیں، میں صرف تمہارے ساتھ وقت گزارنا چاہتا ہوں ” اس نے لجاجت سے کہا اور شیزہ نے سر ہلایا۔

“کیا ہم ساحل پر جا سکتے ہیں؟” شیزہ اس کی جانب دیکھتے ہوئے بولی کافی عرصہ ہو گیا ہے ہم وہاں نہیں گئے ۔۔

ٹھیک ہے ہم ناشتے کے بعد چلے گئے ۔

بہت لزیز بنی ہے ولید اپنی بنائ ہوئ ڈش چیک کرتے ہوئے بولا ۔۔

***

سارا دن دونوں نے ساحل سمندر پر گزارا ایک دوسرے کے ساتھ ولید فریش ہوئے خود کو ریلکس کئے کمرے سے باہر نکلا اور سڑھیاں اترتے ہوئے نیچے گیا ۔۔

کیچن کی لائٹ آن تھی ولید نے جیسے ہی کیچن میں قدم رکھا اسے تقریبا جھٹکا لگا ۔۔

شیزہ پہلے سے ہی بلیک چھوٹی نائٹی پہنے فریج میں جھکی ہوئ تھی ۔۔۔

ہاتھ میں آئس کریم کا ڈبہ لیے فریج بند کئے کھڑی ہوئ اس کی جانب خیرانگی سے دیکھنے لگی جو اسے آنکھیں پھیلائے دیکھے جا رہا تھا ۔۔

“کیا تم ٹھیک ہو؟”

ہاں بلکل۔۔ولید سرد آہ بھرے اس کے سائیڈ سے گزرے فریج سے کولڈ ڈرنک کا ڈبہ نکالے ایک طرف ہوا جلدی سے اسے کھولے ایک لمبا گھونٹ بھر گیا اچانک اسے بہت گرمی محسوس ہونے لگی تھی

ولید تم ٹھیک ہو شیزہ اسے تجسس سے دیکھنے لگی اسے ولید ٹھیک نہیں لگ رہ تھا

“تم ٹھیک ہو؟”

ہاں میں تو ٹھیک ہوں تمہیں کیا ہوا ہے ۔۔شیزہ اسے کے سامنے ٹیبل پر بیٹھے آئس کریم کا کارٹن کھولے چمچے سے کھاتی ہوئ بولی ۔۔

اس سے پہلے ولید اس سے اتنی رات کو آئس کریم کھانے کی وجہ پوچھتا آئس کریم اس کی چمچ سے پھسلے اسے کے سینے پر گر گئ ۔۔

ولید کی آنکھیں مزید پھیل گئ اسٹرابیری آئس کریم اس کے سینے سے مزید نیچے پھسل رہی تھی کہ اچانک شیزہ نے ٹشو پیپر سے اسے صاف کر دیا ۔۔

ولید سے یہ سب برداشت نہیں ہو رہا تھا ۔۔

ولید تم ٹھیک ہوں شیزہ اسے خود کے سحر سے نکالتے ہوئے بولی۔۔

“تمہیں پسینہ آ رہا ہے” شیزہ نے اس کی پیشانی کو چھوتے ہوئے کہا.. یقیناً مجھے پسینہ آ رہا ہے، اس حالت میں کس کو نہیں آئے گا !

“میں.. میں.. میں ٹھیک ہوں، میں ٹھیک ہوں” ولید ہکلا کر اس کے ہونٹوں کو مختصراً دیکھتا رہا تھا

’’تمہیں یقین ہے؟‘‘ شیزہ نے پریشانی سے پوچھا

“ہاں” ولید بڑبڑایا ۔۔

“ٹھیک ہے، پھر، گڈ نائٹ” شیزہ اسے کہے اس کے گالوں کو اپنے لبوں سے چھوئے جانے ہی والی تھی کہ ولید اسے کمر سے پکڑے اپنے قریب کئے اس کے ہونٹوں پر جھکے انہیں اپنی دسترس میں لے گیا ۔۔ ولید اس کے سحر میں اتنا کھویا ہوا تھا کہ اسے خوش ہی نہیں رہا کہ وہ کیا کر رہا ہے

شیزہ کے لبوں کو چھوڑے بغیر اسے ایسے ہی اٹھائے کاونٹر پر بٹھائے ایک سکینڈ کے لیے پیچھے ہوئے ایک لمبی سانس چھوڑے دوبارہ اس کے لبوں پر جھکا معاملات واقعی سنگین ہو جاتے اگر ولید وقت پر خود پر قابو پہ کر پیچھے نہیں ہوتا ۔۔

ولید اس سے دور ہوئے اپنے کمرے میں بھاگ گیا ۔

وہ کچھ ایسا نہیں کرنا چاہتا تھا جس سے اسے تکلیف ہوتی اس لیے خود پر کنٹرول کئے وہاں سے بھاگ گیا ۔۔۔۔

شیزہ وہاں بیٹھی اسے وہاں سے جاتا ہوا دیکھنے لگی شاید آج اسے اس کا یو جانا اچھا نہیں لگا تھا

***

ولید کی بادل گرجنے سے آنکھ کھولی تو اس نے وقت دیکھا تو رات کا ایک بج رہا تھا ولید بستر سے اٹھے کھڑکی کی جانب بڑھا باہر بہت تیز بارش ہو رہی تھی ۔۔کھڑکی کو بند کئے ابھی ہٹا ہی تھا زوردار سے بجلی گرجی ولید اپنے بستر پر واپس چلا گیا لیکن ولید ایک جھٹکے سے دوبارہ بستر سے اٹھا اور کمرے سے باہر نکل گیا اسے اچھے معلوم تھا کہ شیزہ بجلی کی گرج سے ڈرتی تھی ۔۔

ولید بنا دروازہ نوک کئے اس کے کمرے میں داخل ہوا

لیکن شیزہ کو بستر پر نہ دیکھ کر اس کا دل گھبرایا ۔

شیزہ ۔۔شیزہ تم کہاں ہوں ولید چیختے ہوئے پورے کمرے میں نظر دوڑانے لگا

باہر بارش بہت تیز ہو رہی تھی ایک بار پھر بجلی گرجی اور شیزہ کی چیخ بلند ہوئ ولید نے دروازے کی جانب دیکھا تو شیزہ دروازے کے پیچھے گھٹنوں کو اپنے سینے سے لگائے فرش پر ڈری سہمی بیٹھی ہوئ تھی ۔۔

ولید جلدی سے اس کے پاس پہنچا اور اس کی لرزتی ہوئی شکل کو تھامنے کے لیے گھٹنے کے بل ٹیک لگائے بیٹھا ۔

شیزہ، تم ٹھیک ہوں ، ٹھیک ہو ؟ دیکھو میں یہاں ہوں.. تمہیں کچھ نہیں ہو گا شیزہ جلدی سے اس کی بانہوں میں گئ اور بھاری بھاری سانس لینے لگی “

کچھ نہیں ہوا سب ٹھیک ہے اب میں آ گیا ہوں ریلکس رہو اب تم محفوظ ہوں ولید اسے اپنی گود میں اٹھائے بیڈ کی طرف چل پڑا اسے بیڈ پر لٹائے اس کے اوپر کمبل درست کئے ولید ابھی پلٹا ہی تھا کہ شیزہ نے اس کی کلائ کو پکڑ لیا ۔۔

مجھے چھوڑ کر مت جاو ۔۔شیزہ بولے رونے لگی

میں کہی نہیں جا رہا صرف لائٹس بند کرنے جا رہا ہوں ۔

مت جاو اس کی آنکھوں سے آنسو مسلسل بہنے لگے ولید نیچے جھکے اس کی پیشانی کو چومے پیچھے ہوا

“میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں نہیں جاؤں گا، ٹھیک ہے؟” ولید اس سے اپنی کلائ چھوڑائے لائٹس آف کئے سائیڈ لیمپ آن کئے اس کے پاس لیٹ گیا شیزہ جلدی سے اس کے سینے کے گرد بازو لپیٹے اس کے سینے سے لگ گئ ولید کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئ ۔۔

تم مجھے چھوڑ کر کہی مت جانا ۔۔

نہیں جاوں گا ولید اسے کمر سے پکڑ کر مزید اپنے ساتھ لگائے اپنی بانہوں میں بھر گیا ۔۔

اسے اپنی بانہوں میں بھر کر سونے کہ شاید یہ اس کا آخری موقع تھا ۔۔

ولید اسے زور سے اپنی بانہوں میں بھرے اسے خود میں سمانے لگا اس کی خوشبو کو اپنے اندر اتارنے لگا

ولید میں تم سے بہت محبت کرتی ہوں شیزہ کے اظہار محبت پر ولید کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئ

میں بھی تم سے بہت محبت کرتا ہوں ۔۔

“لیکن تم نے مجھے تکلیف دی ہے، اس کے بارے میں سوچ کر بھی بہت تکلیف ہوتی ہے “

میں جانتا ہوں اور مجھے اس کا بہت افسوس ہے میں چاہ کر بھی وہ سب بدل نہیں سکتا میں تمہاری تکلیف دور نہیں کر سکتا جو میں نے تمہیں پہنچائ ہیں ولید اس کے بازوں پر اپنے لب رکھے وہاں پر اپنا لمس چھوڑ گیا ۔۔۔

پلیز مجھے ان سب کے لیے معاف کر دو ۔

میں جانتا ہوں میں تقریبا پیچھلے تین ماہ بس یہی کہہ رہا ہوں لیکن میرے پاس اس کے علاوہ کہنے کے لیے کچھ نہیں ہے

“تین سال تین مہینے نہیں ہیں ولید ، یہ واقعی بہت مشکل ہے، میں نے جو درد سب سے زیادہ محسوس کیا خاص طور پر جب مجھے اپنا بچہ کھونا پڑا ۔ مجھے ہمیشہ اس وقت مرنے کی طرح محسوس ہوتا تھا۔” اس نے لرزتی ہوئی سانس خارج کرتے ہوئے کہا

“لیکن میں پھر بھی تم سے پیار کرتی ہوں” شیزہ کچھ سکینڈ تک اس کی آنکھوں میں دیکھتی رہی ولید نے اس کے گالوں سے آنسو صاف کئے اس کے لبوں پہ جھکے انہیں نرمی سے چھوئے پیچھے ہوا۔۔

میں تم سے بہت محبت کرتی ہوں میں تمہارے بنا نہیں رہ سکتی شیزہ اس کے کان میں سرگوشی کئے اپنے دل کا خیال بیان کرنے لگی

تم سچ کہہ رہی ہوں ۔۔تمہیں پتہ ہے تم کیا کہہ رہی ہوں ولید اس کی جانب دیکھنے لگا

“ہاں، اور میں ابھی بھی تمہیں چاہتی ہوں” تمہارے ساتھ رہنا چاہتی ہوں شیزہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی ولید کی آنکھیں بھر آئ اسے اپنی بانہوں بھرے اس کے سر پر اپنے لب رکھ گیا ۔

تمہارا بہت شکریہ میری جان مجھے معاف کرنے کے لیے مجھے ایک اور موقع دینے کے لیے دیکھنا دنیا کی ہر خوشی تمہارے قدموں میں لا کر رکھ دو گا

ولید اس کی پیشانی کو شدت سے چومے اسے اپنے سینے سے لگا گیا ۔۔۔۔

****

ختم شدہ ۔۔۔