63.3K
10

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bharosa (Episode 02)

Bharosa By Zaisha Khan

ولید اس پر ایک نظر ڈالے بغیر وہاں سے چلا گیا ۔۔

ولید کو جاتا ہوا دیکھ اس کی آنکھوں سے چند آنسو فرش پر گرے ۔۔۔۔

شیزہ رینگتی ہوئ بیڈ کے قریب گئ اپنے درد کو برداشت کئے اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھے بیڈ کے سہارے سے وہ کھڑی ہوئ یہ سب اس کے لیے بلکل آسان نہیں تھا اس کے پورے جسم میں آگ لگی ہوئ تھی

پیٹ پر ہاتھ رکھے آہستہ آہستہ الماری کے پاس گئ وہاں سے اپنا ٹاپ لیے آہستہ آہستہ دروازے کی جانب بڑھی گزرتے ہوئے شیزہ کی نظر سائیڈ پہ رکھے ہوئے ڈریسنگ ٹیبل کی جانب پڑی جہاں آئنے میں اس کا عکس نظر آ رہا تھا

اس کے پتلے جسم پر اس کی بے داغ جلد پر سرخ/گلابی رنگ کے تازہ زخم بکھرے ہوئے تھے..

اور تھپڑ سے ہاتھ کے نشانات اس کے گال پر عیاں تھے.. اور اس کی خوش آنکھیں بہت بے جان اور اداس لگ رہی تھیں۔

اپنے پیٹ کو دیکھتے ہوئے اس کی آنکھوں سے آنسو اس کے گال سے نیچے گرے ۔۔۔

اس نے اپنا بچہ کھو دیا تھا اس کا سب کچھ ختم ہو گیا تھا اسکی گود خوشیوں سے بھرنے سے پہلے ہی اجڑ چکی تھی ۔۔۔

تم میرے ساتھ کیوں نہیں رہے میرے پیارے بچے؟ تم نے اپنی ممی کو کیوں اکیلے چھوڑ دیا ؟ پیٹ پر ہاتھ رکھے اس کے آنسو اس پر گرے ۔۔۔۔

****

ماضی ۔۔۔۔

تین سال پہلے ۔۔۔۔

تم نے مجھے دھوکہ دیا ہے۔۔۔ ۔۔

میں نے تمہیں کوئ دھوکہ نہیں دیا تم اپنی بیوی سے ہار گئے ہوں تو اب یہ سب باتیں بنا رہے ہوں شیزہ خوش ہوتے اسے اپنی زبان دیکھائے بولی ۔۔۔

تم جیتی نہیں میں نے تمہیں جیتنے کا موقع دیا ہے

اچھا جی ۔۔۔اگر ایسا ہے تو پھر سے کھیل لیتے ہیں مجھے یقین ہے پھر سے تم ہار جاوں گے ۔

نہیں رہنے دو اس بار اگر میں نے تمہاری آنکھوں میں دیکھا تو میں تو تباہ ہو جاوں گا ولید ہنسا

ڈائلاگ مارنے بند کرو ۔۔اور مان جاوں کہ تم اپنی بیوی سے ہار گئے ہوں۔

“ٹھیک ہے، میں اپنی بہت سیکسی اور ہوشیار بیوی سے ہار گیا ہوں، اب مسکرانا بند کرو ۔۔ولید اسے اپنی جانب کھیچتے ہوئے اپنی گود میں بٹھائے اس کے سرخ لبوں کو اپنی دسترس میں لے گیا ۔۔

ایک گہرہ بوسہ لیے ولید اس سے الگ ہوا ۔۔ اور اسے اپنی گود میں اٹھائے کیچن کی جانب بڑھا اسے کاونٹر پر بٹھائے پیچھے ہوا ۔۔۔

کیا ہوا تھک گئے شیزہ اسے پیچھے ہوتا دیکھ بولی ۔

میں تھکتا نہیں ہو اور یہ بات تم بھی اچھے سے جانتی ہوں تھکے بغیر میں تمہیں کسی بھی پوزیشن میں اٹھا سکتا ہوں اور کہی بھی لے کر جا سکتا ہوں ولید اس کے ہونٹوں کو ایک بار پھر چومے چولہے کی جانب بڑھا ۔۔

’’تم بہت بدتمیز ہو‘‘ شیزہ اسے دیکھتے ہوئے بولی ۔۔

صرف تمہاری محبت میں ولید اس کی جانب دیکھتے ہوئے مسکرا گیا ۔۔

“تو ہم کیا بنا رہے ہیں؟” شیزہ خوش ہوتے بولی ۔

“ہم؟.. نہیں، میں ۔۔۔چاول اور مختلف قسم کا گوشت بنا رہا ہوں،اور میں کیا کرو گی ۔۔

تمہارا کام ہے بیٹھ کر اپنے پیارے شوہر کو ہمارے دوستوں کے لیے رات کا کھانا تیار کرتے ہوئے دیکھنا۔

نہیں مجھے کچھ کرنا ہے میں تمہاری مدد کئے بغیر یہاں آرام سے نہیں بیٹھ سکتی شیزہ کاونٹر سے نیچے اتری ۔۔

نہیں تم یہاں آرام سے بیٹھو ولید اسے دوبارہ کاونٹر پر بٹھائے بولا ۔۔

اگر تم واقعی ہی میرے لیے کچھ کرنا چاہتی ہو تو میرے لیے گانا گاو

اس کے علاوہ اگر تم یہاں میری طرف آئ تو میری صرف ریسپی ہی خراب کرو گی ۔۔ولید پیاز کاٹتے ہوئے مسکرایا ۔۔۔

ٹھیک ہے ۔۔شیف صاحب ۔۔نہیں آتی تمہاری طرف تم کرو اپنا کام شیزہ منہ پھولائے بولی ۔۔جسے دیکھ ولید کی مسکراہٹ گہری ہوئ ۔۔۔

****

سب کھانے کی ٹیبل پر بیٹھے کھانا کھانے کے ساتھ ساتھ باتیں کر رہے تھے ۔۔

تو تم پھر کب پاپا بننے والے ہوں دانیال نے ولید سے پوچھا جو اس کا بہترین دوست تھا ۔۔

ولید نے مسکرا کر جوس کا ایک گھونٹ لیا

یار ابھی ہم اس سب کے لیے تیار نہیں ہے ۔۔

تم لوگوں کی شادی کو دو سال ہو گئے ہیں اور تم ابھی تک تیار نہیں یا پھر تم اپنے اور ہماری بھابھی کے بیچ کسی کو آنے نہیں دینا چاہتے ۔۔۔ اس بات پر سب کا قہقہ گونجا سوائے بلال کے جو ولید کا دوست تھا ۔۔

سب کی باتوں سے شیزہ کا چہرہ شرم سے چہرہ سرخ ہو گیا تھا

تم تیار نہیں ہو یا شیزہ اپنے کیرئیر کی وجہ سے ماں نہیں بننا چاہتی۔ بلال کی نظریں شیزہ پر تھی شیزہ کی نظریں اس سے ملی لیکن شیزہ جلد ہی نظریں ہٹا گئ ۔۔

ولید نے شیزہ کی جانب دیکھا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر میز کے اوپر رکھا اور مسکرایا ۔۔

یہ وجہ نہیں ہے اور اگر ایسا ہوتا بھی تو مجھے اس سے کوئ پریشانی نہیں تھی ولید نے مسکراتے ہوئے شیزہ کی جانب دیکھا

شیزہ کے لبوں پر بھی ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئ اسے کبھی کبھی اپنی قسمت پر رشک ہوتا تھا کہ اسے ولید جیسا پیار کرنے والا انسان کیسے مل گیا ۔۔جو اس بے حد محبت کرتا تھا اللہ کا جتنا شکر ادا کرے اتنا کم تھا ۔۔۔

اووو۔۔۔۔میں اب شادی کرنے کا انتظار نہیں کر سکتی مجھے بھی ولید جیسا شوہر چاہیے جو مجھ سے بہت پیار کریں عروج دونوں کو ایک ساتھ دیکھے بولی۔۔۔

تو پھر دیر کس بات کی ہے کر لو دانیال سے شادی ولید اسے چھیڑتے ہوئے بولا ۔۔۔

جس سے عروج منہ بنا گئ اور دونوں کا قہقہ گونجا ۔۔

شیزہ نے بلال کی طرف دیکھا جو ان دونوں کے ہاتھوں کو گور رہا تھا شیزہ کو عجیب لگا بلال کی نظر اس پر پڑی دونوں کی آنکھیں ایک پل کو ملی ۔۔

بلال اس کی طرف دیکھ مسکرایا اور اپنے نیچلے ہونٹ کو کاٹنے لگا ۔۔

شیزہ گھبراہٹ سے جلدی سے اپنی نظریں پھیر گی

رات کے کھانے کے بعد، عروج نے میز صاف کرنے کے ساتھ ساتھ برتن صاف کرنے میں اس کی مدد کی۔۔۔

اچھا میں واش روم سے ہو کر آتی ہوں عروج معذرت کئے واش روم میں چلی گئ ۔۔۔

شیزہ برتن دھونے میں مصروف تھی کہ اچانک اسے اپنی کمر پر کچھ رینگتا ہوا محسوس ہوا شیزہ ڈر کر پیچھے مڑی تو سامنے بلال کو خود کو گھورتے ہوئے پایا ۔۔

کیا بات ہے ۔۔آپ کو کچھ چاہیے شیزہ گھبراتے ہوئے بولی ۔۔

گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے یہاں صرف ہم ہی ہیں

مجھے بس تمہیں گلے لگانے دو چاہے چند منٹ کے لیے ہی سہی بلال اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے بولا ۔۔

شیزہ گھبراتے ہوئے پیچھے ہٹ گئ ۔۔

یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں آپ ہوش میں تو ہے

نہیں میں ہوش میں نہیں ہو تم نے مجھے پاگل کیا ہوا ہے میں نے جب پہلی دفع تمہیں شادی میں دیکھا تھا میں تم سے پیار کرنے لگا تھا ۔۔تم مجھے ایک موقع کیوں نہیں دے سکتی ۔۔ولید کے پاس ایسا کیا ہے جو میرے پاس نہیں ہے ۔۔

ولید میرا شوہر ہے میں اس سے بہت پیار کرتی ہوں

آپ کو شرم کرنی چاہیے آپ اس کے دوست ہے آپ میرے بارے میں ایسا کیسے سوچ سکتے ہیں

میں آپ کے دوست کی بیوی ہوں.. اگر آپ میری عزت نہیں کر سکتے تو کم از کم میرے شوہر کے ساتھ اپنی دوستی کا احترام کریں”

پلیز مجھے اکیلا چھوڑ دیں ۔۔یہاں سے چلے جائیں شیزہ واپس مڑی ۔۔

ٹھیک ہے اگر تمہیں پیار سے بات سمجھ نہیں آتی تو ایسے ہی سہی ۔۔

شیزہ نے اس کے ہاتھ اپنے کمر پر محسوس کئے شیزہ کے اندر تو جیسے آگ لگ گی شیزہ ایک دم سے پلٹی اس کے چہرے کو تھپڑ سے لال کر گئ بلال نے اسے گھورتے ہوئے اپنا گال تھام لیا

“اگر تم نے مجھے دوبارہ چھونے کی ہمت کی تو خدا کی قسم میں اس بیلن سے تمہارا سر توڑ دوں گی ” شیزہ کاؤنٹر کے پاس رکھے بیلن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی

بلال نے دانت پیستے ہوئے اس کی طرف دیکھا

“فکر مت کرو، بہت جلد تم میرے پاس مدد کے لیے دوڑتی آؤ گی اور میں اس بات کو یقینی بنا لوں گا کہ تم سے میرا پیٹ بھر جائے”

اس نے کہا اور کیچن سے باہر نکلتے وقت عروج سے ٹکرایا ۔۔

شیزہ نے آہ بھری ۔۔۔اور اپنا کا کرنے لگی ۔

اسے کیا ہوا ہے عروج شیزہ کے پاس آئ بولی ۔۔

پتہ نہیں شیزہ کندھے اچکا گئ ۔۔۔

****

شیزہ گروسری سے شاپنگ کئے سپر مارکیٹ سے باہر نکلی گاڑی کی ڈیکی میں سارا سامان رکھے اسے بند کئے ڈرائیو سیٹ کی جانب بڑھی ۔۔

اس سے پہلے وہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتی کسی نے اس کا نام پکارا ۔۔۔

شیزہ میڈم ۔۔۔شیزہ نے مڑ کر ادھر اودھر دیکھا تو اسے آس پاس کوئ شناسا چہرہ نظر نہیں آیا ۔۔

میڈم ۔۔۔ایک نوجوان مسکراتے ہوئے اس کی جانب بڑھا ۔۔

شیزہ نے اس کی جانب دیکھا یہ کوئ پچیس ۔سال کا نوجوان تھا ۔۔۔۔

آپ سوچ رہی ہو گی کہ میں کون ہوں ۔۔

بلکل ۔۔مجھے نہیں لگتا ہم پہلے کبھی ملے ہیں اور نہ ہی پہلے میں نے آپ کو کبھی دیکھا ہے ۔۔

میرا نام جاوید ہے اور میں اپکا بہت بڑا فین ہو میں نے آپ کے سارے شوز دیکھے ہیں ۔۔

اور میں آپ سے پہلے بھی مل چکا ہو ۔۔آپ کو شاید یاد نہیں ہے

“واقعی؟!، مجھے بہت افسوس ہے..میں نے آپکو پہچانا نہیں ۔۔۔

میں سمجھ سکتا ہوں ۔۔۔لیکن آپ سے دوبارہ مل کر مجھے بہت خوشی ہوئ ۔۔

مجھے بھی شیزہ پروفیشنلی انداز میں مسکراتی ہوئ بولی

اب میں چلتی ہو شیزہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھی ۔۔

میڈم ۔۔۔اگر آپکو تکیلف نہ ہو تو کیا آپ مجھے میری منزل تک چھوڑ سکتی ہے ۔۔وہ آپ کے راستے میں ہی ہے ۔۔

آپ کو کیسے پتہ ہے کہ میں اسی راستے سے جا رہی ہوں ۔۔شیزہ نے اسے گھورتے ہوئے پوچھا ۔۔

“میں دراصل ڈبک ہوٹل جا رہا ہوں، وہاں ہماری نوجوانوں کی کانفرنس ہے، یہ ایکسپریس کے ساتھ ہے.. میرے پاس ٹرانسپورٹ نہیں ہے اس لیے میں امید کر رہا ہوں کہ آپ مجھے وہاں چھوڑ سکتی ہیں، لیکن اگر آپ اس طرف نہیں جا رہی تو ٹھیک ہے آپ جا سکتی ہے

شیزہ نے اس کی جانب دیکھا ۔۔وہ کسی انجان شخص کو گاڑی میں بیٹھانا تو نہیں چاہتی تھی لیکن وہ اسے اچھا انسان لگ رہا تھا اور مصیبت میں بھی

“میں درحقیقت اسی طرف جا رہی ہوں، میں تمہیں چھوڑ دوں گی” شیزہ ڈور کا لاک کھولتے ہوئے بولی

ہوٹل آ گیا ۔۔شیزہ گاڑی روکتے ہوئے بولی ۔۔

’’آپ اندر کیوں نہیں آتی ؟‘‘ جاوید گاڑی سے اترتے ہوئے بولا ۔۔

’’کس لیے؟‘‘ شیزہ نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا

“کیا آپ یہ نہیں دیکھنا چاہتے کہ یوتھ کانفرنس کیسی ہے؟”

’’نہیں شکریہ‘‘

میں آپ سے ریکوسٹ کرتا ہوں آپ میرے ساتھ اندر آئیں

ٹھیک ہے شیزہ کچھ سوچتے ہوئے گاڑی سے اتری

اس نے مسکرا کر راستہ دیا، اس نے ہوٹل کے شیشے کا دروازہ کھولا اور اسے اندر جانے کا اشارہ کیا..

شیزہ اندر داخل ہوئ ۔۔وہ اسے ایک خالی ہال کی طرف لے گیا ۔۔شیزہ نے ادھر اودھر دیکھا پورا ہال خالی تھا ۔۔

سب کہاں ہیں شیزہ ادھر اودھر دیکھتے ہوئے بولی

شاید ابھی کوئ نہیں آیا ۔۔۔ویسے آج دن کیا ہے

ہفتہ ۔۔اس نے اپنا فون نکالا اور اس پر کچھ چیک کرنے لگا ۔۔

اوہ۔۔۔۔دراصل کانفرس کل تھی اس نے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ۔۔۔

“آپکے کے بتانے کا مطلب ہے کہ آپ نے میرا وقت بغیر کسی وجہ کے ضائع کیا؟!، آپ اتنے ناقابل یقین ہیں!..

شیزہ غصے سے لال پیلی ہوئ وہاں سے باہر نکل گئ

گاڑی میں بیٹھی اپنی گاڑی سٹارٹ کئے جانے ہی والی تھی کہ اس نے گاڑی کے شیشے پر دستک دی

اب کیا ہے ۔۔

پلیز مجھے اس سپر مارکیٹ میں دوبارہ چھوڑ دے گئ میرے پاس واپس جانے کے لیے ٹرانسپورٹ نہیں ہے

کیا میں آپکو پاگل نظر آتی ہوں بے شرمی کی بھی حد ہوتی ہے شیزہ گاڑی آگے بڑھائے اپنے گھر کی طرف روانہ ہوئ ۔۔

****

شیزہ اور ولید ایک ساتھ بیٹھے کمرے میں فلم دیکھ رہے تھے کہ دروازے پر دستک ہوئ ۔۔

سر آپ سے کوئ ملنے آیا ہے ملازم ہاتھ جوڑے ادب سے بولا ۔۔۔

کون ہے۔۔۔

“اس نے اپنا نام نہیں بتایا، وہ کہتا ہے کہ وہ آپ سے ملنا چاہتا ہے”

“ٹھیک ہے اسے اندر آنے دو” ولید ملازم کو بولے واپس اندر آیا ۔۔

“کیا تم کسی کی توقع کر رہے تھے ؟” شیزہ نے ولید کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا ۔۔۔

“نہیں، میں حیران ہوں کہ یہ کون ہے” ولید کمرے سے باہر نکلا ڈرائنگ روم کی طرف بڑھا ۔۔

شیزہ بھی اس کے ساتھ داخل ہوئ لیکن سامنے جاوید کو دیکھ کر خیران ہوئ

“تم یہاں کیا کر رہے ہو؟”

شیزہ کیا تم اسے جانتی ہوں ولید نے اس سے پوچھا

شیزہ نے آہ بھری ۔۔۔

یقینا وہ جانتی ہے آخرکار وہ میری محبوبہ ہے۔‘‘

شیزہ کے بولنے سے پہلے جاوید بولا ۔

کیا بکواس کر رہے ہوں ۔۔شیزہ چیخی ۔۔

۔۔اب مزید چھپانے کی ضرورت نہیں اپنے شوہر سے تم فکر نے کرو اب میں تمہارے ساتھ ہوں

یہاں کیا ہو رہا ہے ۔۔ولید شیزہ کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔

میں نہیں جانتی ولید یہ لڑکا کیا بول رہا ہے میرا اس سے کوئ رشتہ نہیں ہے پتہ نہیں یہ کیوں جھوٹ بول رہا ہے

“دیکھو بیبی میں اسے چھپاتے چھپاتے تھک گیا ہوں، وہ سچ جاننے کا حقدار ہے۔” جاوید شیزہ کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا ۔۔

’’کون سا سچ؟‘‘ شیزہ الجھ کر بولی۔۔

جاوید اسے نظر انداز کئے ولید کی جانب بڑھا

“جناب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ آج دوپہر آپ کی بیوی کو سپر مارکیٹ سے واپس آنے میں اتنی دیر کیوں لگ گئی، وہ دراصل میرے ساتھ ڈبک ہوٹل میں تھی.. تصدیق کے لیے یہ تصویریں ہیں” جاوید براؤن لفافہ میز پر رکھتے ہوئے بولا ۔۔

یہ کیا ہو رہا ہے!.. کیا کہہ رہے ہوں شیزہ غصے سے چیخی ؟!.

ولید نے لفافہ اٹھایا اور اس میں سے تصویریں نکالیں شیزہ بھی دیکھنے کے لیے اس کی جانب بڑھی شیزہ یہ سب دیکھ کر بے ہوش ہونے کو تھی ۔۔

. پہلی تصویر اس وقت لی گئی تھی جب دونوں سپر مارکیٹ کے باہر ایک دوسرے کے قریب کھڑے تھے لیکن اسے ایڈیٹ کیا ہوا تھا جس میں شیزہ اور وہ ایک دوسرے کے گلے لگے ہوئے تھے

، دوسری تصویر بھی دونوں کی تھی۔ جب دونوں گاڑی میں بیٹھے ہوئے تھے ، اگلی وہ تصویر وہ تھی جب اس نے شیزہ کے لیے ہوٹل کا دروازہ کھولا تھا اور آخری تصویر وہ تھی جب اس نے اسے اپنا گاڑی کا شیشہ نیچے کرنے کو کہا تھا جس طرح سے انہوں نے تصویر کھینچی اس سے ایسا لگتا تھا جیسے دونوں ایک دوسرے کو کس کر رہے ہیں ۔۔

“مجھے یقین ہے کہ اس نے آپ کے لیے پہلے ہی ایک احمقانہ کہانی بنا لی ہوگی کیونکہ میں نے آپ کو سب کچھ بتانے کی دھمکی دی تھی، لیکن اس معاملے کی سچائی یہ ہے کہ میرا اور آپ کی بیوی کا پچھلے ایک سال سے افیئر چل رہا ہے۔

شیزہ کے پیروں کے نیچے سے جیسے کیسی نے زمین کھینچ لی ہوں

جاوید ۔۔۔ایسا کیوں۔۔۔شیزہ اسے پیچھے دھکیلتے ہوئے چلائ ۔۔اس کی آنکھوں سے آنسو نیچے گر پڑے ۔۔

“کیوں.. تم جھوٹ کیوں بول رہے ہوں ؟..

تمہیں یہ سب کر کے کیا حاصل ہو گا سب سچ بتاو میں نہیں جانتی تم یہ سب کس لیے اور کس کے کہنے پر کر رہے ہو لیکن پلیز اگر تمہارا توڑا سا بھی ضمیر زندہ ہے تو سچ بولو۔۔

شیزہ پیچھے مڑی ولید کی طرف دیکھنے لگی جو ابھی بھی اپنے ہاتھوں میں موجود تصویروں کو سختی سے گھور رہا تھا۔۔۔

ولید یہ جھوٹ بول رہا ہے شیزہ کی آنکھوں سے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ ابھی مر جائے گئ ۔۔

میں نے تمہارا کیا بھگاڑا ہے تم میرے ساتھ یہ سب کچھ کیوں کر رہے ہو شیزہ جاوید کو پیچھے دھکیلتے ہوئے زور سے چیخی ۔۔۔

کیا تم یہ سب اس لیے کر رہے ہوں کہ میں تمہیں واپس سپر مارکیٹ نہیں لے کر گئ ۔۔۔

’’بیبی یہ سب ڈرامے بند کرو، وہ پہلے ہی سچ جانتا ہے۔‘‘ جاوید اس کی طرف دیکھتے ہوئے کمینگی سے بولا ۔۔

کیسا سچ ۔۔۔

کہ تم میری گرل فرینڈ ہوں ۔۔۔اور۔۔

اپنی بکواس بند کرو شیزہ زور سے چیخی ۔۔

او۔۔۔خدا میں آج مر جاوں گئ شیزہ اپنا سر پکڑے ولید کی طرف دیکھنے لگی جو غصے سے لرز رہا تھا ۔۔

غلام ۔۔۔ولید غصے سے چلایا ۔۔واچ مین بھاگتا ہوا اندر آیا ۔۔

سر۔۔۔۔

’’اس بیوقوف کو باہر لے جاؤ، جب تک میں باہر نہ آؤں اسے جانے نہ دینا، اگر وہ بھاگ گیا تو تم مارے جاؤ گے۔‘‘

غلام جاوید کو گھسیٹتے ہوئے باہر لے گیا ۔۔

شیزہ نے ولید کی طرف دیکھا جو پہلے ہی اسے گھور رہا تھا

“کیا یہ تصویریں اصلی ہیں؟”

۔شیزہ آہستہ آہستہ گھٹنوں کے بل چلی گئ

’’کیا تم اس کے ساتھ ہوٹل گئی تھی؟‘‘

ولید ایسا نہیں ہے جیسا تم سوچ رہے ہوں ۔۔

ہاں یا ناں شیزہ ۔۔۔ولید زور سے چیخا

یہ پہلا موقع تھا جب ولید نے اس سے اونچی آواز سے بات کی تھی

ہاں ۔۔۔لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا یہ تصویریں جھوٹی ہے میں قسم کھاتی ہوں یہ۔۔۔۔شیزہ مزید بولتی ولید غصے سے گھر سے باہر نکل گیا ۔۔شیزہ بھی اس کے ساتھ بھاگی ۔

ولید جاوید کو اپنی گاڑی میں بٹھائے کہی چلا گیا

یا اللہ میری مدد فرما ۔۔شیزہ روتی ہوئ واپس اندر آ گئ ۔۔۔

ولید کے واپس آنے کے بعد اس نے پہلی بار اس پر ہاتھ اٹھایا اس کے بعد یہ سلسلہ چلتا ہی گیا ۔۔

****

حال۔۔۔

میں اس دن پر لعنت بھیجتی ہوں جب میں اس اس انسان سے ملی ۔۔

اسے کبھی سکون یا خوشی نہیں ملے گی جب تک کہ وہ واپس آکر سچ نہیں بولے گا.. خوشی اس کے گھر سے دور ہوگی، میرا خدا اسے اس کے کیے کی سزا ضرور دے گا..

****