63.3K
10

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bharosa (Episode 05)

Bharosa By Zaisha Khan

2 ہفتے بعد..

شیزہ

“کیا تمہیں اس بات کا پورا یقین ہے؟” اس نے شیزہ کی طرف غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔

“اسے پورا یقین ہے ، اگر اسے یقین نہ ہوتا تو وہ یہاں کیوں ہوتی ؟” عروج وکیل کو دیکھتے ہوئے بولی ۔۔

“مجھے افسوس ہے لیکن یہ طلاق ہے جس کے بارے میں ہم بات کر رہے ہیں، اور میں چاہتی ہوں کہ وہ اس فیصلے کے بارے میں دوبارہ سوچے ۔” بیرسٹر عائشہ عروج کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی ۔۔

دو ہفتے ہوچکے ہیں، مجھے چار دن پہلے ڈسچارج کیا گیا تھا اور اب تک اس نے مجھ سے ملنا مناسب نہیں سمجھا ایک بار بھی وہ مجھ سے ملنے نہیں آیا پچھلے کچھ دونوں سے میں عروج کے ساتھ رہ رہی ہوں ہسپتال میں بھی وہ مجھے ایک بار بھی دیکھنے نہیں آیا کہ میں کیسی ہوں میری حالت کیسی ہے جیسے جیسے دن گزرتے گئے میری امید ٹوٹتی گئ مجھے اس سے نفرت ہونے لگی ہے اسے میری ذرہ بھی پروا نہیں ہے ۔۔

عروج ٹھیک تھی وہ کبھی نہیں بدلنے والا ۔۔

اس لیے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں اس کے ساتھ اپنی زندگی تباہ نہیں کرو گی میں آزاد زندگی گزارنا چاہتی ہوں ۔۔اس لیے میں اس سے طلاق لینا چاہتی ہوں ۔۔

میں پوری طرح سے رضا مند ہوں مجھے اس سے طلاق چاہیے ۔۔۔

ٹھیک ہے ۔۔مجھے ایک منٹ دیں ۔۔عائشہ اپنے کیبن کی جانب بڑھی ۔۔۔

****

ولید بلال کے ساتھ لڑائی کے بعد سے ایک بار بھی شیزہ سے نہیں ملا تھا دانیال ہی عروج سے اس کی خیریت معلوم کر لیتا تھا اور اسے بتا دیتا تھا ۔۔

اس میں شیزہ کا سامنے کرنے کی ہمت نہیں تھی وہ نہیں جانتا وہ اس کے بارے میں کیا سوچ رہی ہو گی اس میں شیزہ کو سچ بتانے کی ہمت نہیں تھی وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ اسے بلال کے بارے میں کیسے سب بتائے

کیسے اسے بتائے کہ ہر چیز کے پیچھے بلال کا ہاتھ تھا اس کی باتوں میں آکر اس نے اپنی بیوی کے ساتھ بدسلوکی کی ۔۔

کیسے اسے بتائے کے وہ کتنا بڑا بے وقوف تھا اپنی بیوی اور اپنے درمیان مسائل خود حل کرنے کی بجائے اپنے دوست کا مشورہ پر عمل کیا ۔۔

اور اب نوبت یہاں تک پہنچ گئ ہے کہ وہ اس سے طلاق لینا چاہتی ہے آخر کار وہ کرتی بھی کیا کتنی دیر اسے برداشت کرتی ۔۔اس نے اپنا گھر خود اپنے ہاتھوں سے تباہ کیا تھا ۔۔

کسی کی اس میں کوئ غلطی نہیں بلال کی بھی نہیں ۔۔اس نے اسے ہر گز مجبور نہیں کیا تھا اگر اس نے شیزہ کی بات اس وقت سنی ہوتی تو آج یہ سب نہ ہوتا ۔۔۔۔۔۔پجھتاوائے کے سوا اب اس کے پاس کچھ نہیں تھا

***

ہم یہاں کیوں آئے ہے دانیال کورٹ میں داخل ہوئے ولید کی طرف دیکھتے ہوئے بولا ۔۔

مجھے یہاں شیزہ اور اس کے وکیل سے ملنا ہے مجھے طلاق کے کاغذات پر دستخط کرنے کے لیے یہاں بلایا گیا ہے ۔

تو تم سائن کرنے آئے ہوں یہاں ۔۔

میں ایسا ہر گز نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ صرف میری خود غرضی ہو گی ۔۔

میں نے اسے کافی تکلیف دی ہے،اب مزید اور تکلیف نہیں دے سکتا میں چاہتا ہوں وہ جسمانی اور روحانی طور پر بلکل ٹھیک ہو جائے

****

ریسپشنسٹ سے ملنے اور ہدایات حاصل کرنے کے بعد،دونوں لفٹ کی طرف چل پڑے

لفٹ میں داخل ہوئے ولید نے ایک گہرا سانس لیا۔۔

تم نروس ہوں ۔۔

’’اس دن کے بعد پہلی بار میں اسے دیکھنے جا رہا ہوں، یقیناً میں نروس ہوں‘‘ ریلکس رہو دانیال اس کے کندھے پر ہاتھ رکھے اسے پر سکون کرنے لگا ۔۔

دونوں لفٹ سے باہر نکلے ۔۔

سامنے ویٹنگ ایریا میں اسے عروج اور شیزہ بیٹھی ہوئ نظر آئ ولید کا دم گھٹنے لگا ۔۔

ولید دور سے ہی شیزہ کو پہچان گیا تھا

عروج نے اس کے کان کے پاس سرگوشی کی جسے سنے شیزہ پیچھے مڑے ان کی جانب دیکھنے لگی

ولید نے شیزہ کو دیکھا جو بہت مختلف لگ رہی تھی

لیکن وہ اب زیادہ پختہ ہو چکی تھی، اس کی آنکھیں چمک رہی تھی ۔۔۔۔ولید اس کے سحر میں اس قدر کھویا ہوا تھا کہ اسے آس پاس کا ہوش نہی نہیں رہا اسے ہوش تب آیا جب دانیال نے اسے آگے کی جانب دھکا دیا ۔۔

اس نے دانیال کی طرف دیکھا اور اس کے ساتھ آہستہ آہستہ چلتا ہوا دونوں کی جانب بڑھا ۔۔

عروج دانیال کو دیکھ کر فورا مسکرا کر کھڑی ہو گی ۔۔

ولید کی نظریں شیزہ پر ہی تھی شیزہ جان بوجھ کر انجان بن رہی تھی شیزہ نے اس کی موجودگی پر کوئ رد عمل ظاہر نہیں کیا ۔۔

شیزہ ولید کو اگنور کئے دانیال سے خوش ہوتے ملی

ولید کو آج پہلی بار دانیال سے حسد محسوس ہوا ۔

ولید کی طرف دیکھتے ہی اس کی مسکراہٹ کہی غائب ہو گی ۔۔۔

دروازہ کھلا اور سیاہ اور سفید لباس میں ملبوس ایک خاتون باہر نکلی اور ولید کی طرف دیکھ کر مسکرائی اور ہلانے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔

“آپ مسٹر ولید ہے ۔۔ولید نے سر ہاں میں ہلایا ۔۔

’’میں بیرسٹر عائشہ ہوں‘‘ عائشہ ہاتھ ہٹاتے ہوئے بولی ۔۔

اب تم یہاں آ گئے ہوں تو پھر چلو شروع کرتے ہیں ۔۔

عائشہ اپنے کیبن کی طرف بڑھی ۔۔

تم لوگ جاوں میں باہر عروج کے ساتھ انتظار کرتا ہوں

ولید اور شیزہ عائشہ کے پیچھے اس کیبن میں چلے گئے

***

کیا ۔۔۔شیزہ ایک دم چیخی ۔۔۔

یہ صرف تین ماہ کے لیے ہیں شیزہ ۔۔عائشہ اس کا رد عمل دیکھتے ہوئے بولی ۔۔

تم مجھ سے کہہ رہی ہوں کہ تین مہینے مجھے اس شخص کے ساتھ گزارنے ہو گئے وہ بھی ایک ساتھ ایک ہی گھر میں ۔۔کیا تم مجھے مارنا چاہتی ہوں شیزہ غصے سے چلائ۔۔۔

یہ ایک رول ہے ۔۔۔طلاق سے پہلے میاں بیوی کو تین مہینے کا وقت دیا جاتا ہے تین مہینے کے بعد آپ واپس یہاں آئیں گے اور اس کا بعد ہی آپ طلاق کے پیپرز سائن کر سکتے ہیں ۔۔

نہیں ۔ایسا نہیں ہو سکتا ۔۔ اس نے مجھے برسوں سے تکلیف دی ہے یہ کافی نہیں تھا ۔۔جو اب مجھے اس کے ساتھ تین مہینے اور رہنا پڑے گا ۔۔

نہیں میں ایسا ہر گز نہیں کرو گی میں اپنی زندگی تباہ نہیں کرو گی مجھے ابھی پیپر سائن کرنے ہیں ۔۔شیزہ غصے سے بھری بولی ۔۔

ولید کا دل پھٹنے کو تھا اتنی نفرت اس نے اس کے اندر بھر دی تھی اپنے لیے کہ اب وہ اس کے ساتھ ایک سکینڈ بھی نہیں رہنا چاہتی تھی ۔۔

ٹھیک ہے میں پیپر پر سائن کرنے کو تیار ہوں ولید جب سے آیا تھا پہلی بار بولا ۔۔

شیزہ نے ایک نظر بھی نہیں اس ڈالی ۔۔

ہم دونوں ہی پیپر پر سائن کرنے کو تیار ہے آپ ہمیں پیپر دے اور ہمیں آزاد کریں ۔۔۔

عائشہ نے آہ بھری ۔۔۔

“مجھے افسوس ہے لیکن یہ طریقہ کار ہے” اس نے کہا اور شیزہ غبارے کی طرح پھڑک اٹھی۔

وہ مجھے مار دے گا ۔۔میں یہ نہیں کر سکتی شیزہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے کو تیار تھے

شیزہ مجھ پر بھروسہ رکھوں تم دونوں کو میاں بیوی بن کر ساتھ رہنے کی ضرورت نہیں ہے

آپ دونوں انفرادی طور پر جو چاہیں کرنے کے لیے آزاد ہیں، آپ کو صرف ایک ہی گھر میں رہنے کی کوشش کرنا ہے۔

تو تم کہہ رہی ہوں کہ ہم دونوں کاغذی طور پر ایک ہے لیکن ہم دونوں اپنے فیصلے خود لینے کے لیے بلکل آزاد ہے شیزہ عائشہ کی طرف دیکھتے ہوئے اپنی بات کی تصدیق کرنے لگی ۔۔

عائشہ نے ہاں میں سر ہلایا ۔

مسٹر ولید آپ کو تو کوئ مسلہ نہیں ہے نہیں مجھے کوئ مسلہ نہیں ہے

“ٹھیک ہے پھر.. آپ لوگوں کو اس کاغذ پر دستخط کرنا ہوں گے، یہ آپ کے معاہدے کے لیے ہے، جب آپ آئیں گے تو طلاق کے کاغذات تیار ہوں گے۔”

عائشہ نے ایک کاغذ ولید کی جانب بڑھایا ولید نے پین اٹھایا اس سے پہلے ولید سائن کرتا شیزہ نے وہ کاغذ اس سے چھین لیا اور جلدی سے دستخط کئے باہر نکل گئ ۔۔

اس کی اس حرکت پر ولید کے لب مسکرائے ۔۔

ولید کاغذ پر سائن کئے کھڑا ہوا ۔۔

مجھے امید ہے کہ آپ دونوں اچھے سے رہے گئے عائشہ ولید کے ہاتھ سے کاغذ لیے بولی ۔۔

میں کوشش کروں گا ۔۔۔آپ کا بہت شکریہ ولید کہے باہر نکل گیا ۔۔

ولید کیبن سے باہر نکلا تو اس نے شیزہ کو غصے سے عروج سے بات کرتے ہوئے دیکھا ۔۔

کیا سب ختم ہو گیا ۔۔دانیال اس کے پاس آئے بولا۔

“ہمیں تین ماہ تک ساتھ رہنے کے لیے کہا گیا، یہ دیکھنے کے لیے کہ کیا ہم رشتہ کو ایک اور موقع دیتے ہے کہ نہیں ۔۔

“ویسے شیزہ اس سے زیادہ خوش نہیں لگتی” دانیال شیزہ کی جانب دیکھتے ہوئے بولا ۔۔۔

وہ نا خوش تو ہو گی ویسے بھی خوش ہونے والی میں نے وجہ بھی تو نہیں چھوڑی ولید افسوس سے بولا ۔۔۔

وہ میرے گھر سے سامان لے کر تمہارے گھر آ جائے گی عروج ولید کو بولے واپس شیزہ کے پاس گئ شیزہ ولید کو غصے سے گھوڑے لفٹ میں غائب ہو گی

*****