Bharosa By Zaisha Khan Readelle50264 Bharosa (Episode 06)
Rate this Novel
Bharosa (Episode 06)
Bharosa By Zaisha Khan
شیزہ تمہیں کیا لگتا ہے ۔۔۔۔عروج اپنے چہرے پر بڑی سے مسکراہٹ سجائے بولی ۔۔
مجھے نہیں معلوم ۔۔مجھے نہیں لگتا میں یہ کر سکتی ہوں ۔۔شیزہ کی بات سن کے عروج کی مسکراہٹ غائب ہو گئ ۔۔
شیزہ یہ ایک بہت بڑی بات ہے جس کے بارے میں ہم بات کر رہے ہیں مجھے لگتا ہے کہ تمہیں اپنا کیرئیر دوبارہ شروع کرنا چاہیے ۔۔بہت سے ایسے لوگ ہے جو اب بھی تمہارے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں
ہماری کمپنی میں بہت سی ماڈل ہے ہم ان کے ساتھ کام کر سکتے ہیں
“نہیں.. ہم نہیں کر سکتے!
تم کیوں نہیں سمجھتی یہ اپنے کیرئیر کی طرف واپسی کا بہترین وقت ہے
تین سال ہو گئے، تین سال! تمہارے آخری فوٹو شوٹ کو تمہیں پھر سے اپنی زندگی شروع کرنا ہو گی ۔۔اور میں پہلی بھی تمہاری مینجر تھی اور اب بھی رہو گی عروج امید بھری نظروں سے شیزہ کو گھورتے ہوئے بولی ۔۔
“نہیں شکریہ” شیزہ جوس کا ایک گھونٹ لیتے ہوئے بولی ۔۔
شیزہ تم ایسا کیسے کر سکتی ہوں عروج مایوسی سے اس پر چلائ۔۔
ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی عروج شیزہ کے ہاتھ سے جوس کا گلاس چھینتے ہوئے ایک گھونٹ میں سارا پی گئ ۔۔
اسے دیکھ شیزہ کا قہقہ بلند ہوا ۔۔
اچھا ناراض ہونے کی ضرورت نہیں ہے ساری تفصیلات مجھے ای میل کر دینا میں دیکھ لو گی شیزہ صوفے سے اٹھتے ہوئے بولی کھڑے ہوتے ہی اس کی پسلیوں سے ہلکی سی درد اٹھی ۔۔
اس کا درد مکمل طور پر ختم نہیں ہوا تھا ۔۔۔
شیزہ تم ٹھیک ہو عروج اسے تکیلف میں دیکھ کھڑی ہوئ ۔۔
ہاں میں ٹھیک ہوں ۔۔بس ہلکا سا درد ہے ۔۔
ابھی تو مجھے اپنے شوہر سے بھی نمٹنا ہے شیزہ مسکراتے ہوئے بولی ۔۔
شیزہ۔۔۔تم کیسے اس کے ساتھ رہو گی مجھے تمہاری بہت فکر ہو رہی ہے ۔۔
فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے جتنا درد اس نے مجھے دیا ہے اس سے دوگنا درد میں اسے دو گی ۔۔
یہ ہوئ نہ میری بیسٹی والی بات عروج خوشی سے اس کے گلے لگ گی ۔۔
تم مجھ سے کچھ کہنا چاہتی ہوں شیزہ عروج کو خود کو گھورتا ہوا دیکھ بولی ۔۔
تمہیں کیسے پتہ چلا کہ میں تم سے کچھ کہنا چاہتی ہوں ۔۔
جس طرح تم میرے کہے بنا میری سب باتیں سمجھ لیتی ہو اس طرح مجھے بھی پتہ لگ جاتا ہے ۔۔
دونوں ایک ساتھ مسکرائ
تمہیں یقین ہے کہ تم ولید کے دھوکے میں دوبارہ نہیں آو گئ اگر دانیال نے جو کچھ کہا ہے وہ سچ ہے اس سارے سازش کے پیچھے بلال تھا اور ولید پہلے سے ہی ساری سچائ جانتا ہے تو مجھے پورا یقین ہے وہ تمہارے نزدیک آنے کی کوشش ضرور کرے گا ۔۔۔
تم فکر مت اب ایسا کچھ نہیں ہو سکتا میرے دل میں اس کے لیے اب بس نفرت ہے ۔۔
جب عروج نے اسے بتایا کہ اس سب کے پیچھے بلال کا ہاتھ تھا تو اسے ذرہ بھی خیرانی نہیں ہوئ اس انسان سے کسی بھی قسم کی امید کی جا سکتی تھی ۔۔
عروج کے مطابق دانیال کا کہنا ہے کہ بلال اس وقت ہسپتال میں داخل ہے ۔۔
شیزہ کو اس بات پر فخر محسوس ہوا کہ اس کا شوہر اس کے علاوہ بھی کسی اور پر ہاتھ اٹھانا جانتا ہے
چلو اب میں چلتی ہوں میرا شوہر میرا انتظار کر رہا ہو گا شیزہ مصنوعی مسکراہٹ سجائے بولی
تم مجھے سب میل ای میل کر دینا میں دیکھ لو گی اب میں چلتی ہوں شیزہ صوفے سے اپنا ہینڈ بیگ اٹھاتے بولی ۔۔
میں تمہیں باہر تھا چھوڑ دیتی ہوں عروج اس کا سامان پکڑتے ہوئے دروازے کی جانب بڑھی
بیگ کو گاڑی میں رکھنے کے بعد شیزہ عروج کی جانب بڑھی اسے گلے لگا گئ ۔
اپنا خیال رکھنا ۔۔میں تمہیں بہت یاد کرو گی عروج زور سے اسے کے گلے لگی بولی ۔۔
میرا گھر یہاں سے صرف ایک گھنٹے کی مسافت پر ہے جب دل کرے وہاں آ جانا شیزہ عروج کو خود سے جدا کرتے ہوئے بولی ۔۔
میں جانتی ہوں ۔۔لیکن تمہارے ساتھ اتنے دن گزارنے کے بعد مجھے تمہاری عادت ہو گئ ہے ۔ عروج اپنے آنسو صاف کئے مسکراتے ہوئے بولی
ہمیشہ خوش رہو ۔۔اور مجھے یقین ہے مجھے سے زیادہ تم دانیال کے ساتھ خوش رہو گی شیزہ اسے چیڑتے ہوئے ہنسی۔۔
عروج نے آہستہ نے اسے کہنی ماری ۔۔۔
اچھا اب میں چلتی ہوں خدا حافظ اپنا بہت خیال رکھنا شیزہ گاڑی میں بیٹھی وہاں سے چلی گئ
****
شیزہ اپنے گھر پہنچی گاڑی گیراج میں پارک کئے گاڑی سے باہر آئ ۔۔
اپنے گھر کو دیکھ کر اس نے آہ بھری ۔۔کبھی یہ محبتوں سے بھرا ہوا گھر ہوا کرتا تھا لیکن اب یہ صرف ایک مکان ہے جہاں محبت نام کی کوئ چیز نہیں ہو گئ
شیزہ نے اپنا سارا سامان گاڑی سے اتارا ۔۔
میڈم میں آپکو دیکھ کر بہت خوش ہوں آپ صحیح سلامت گھر واپس آ گئ ۔۔
غلام شیزہ کا سامان اٹھائے بولا ۔۔
آپ کیسے ہیں غلام بھائ ۔
میں بلکل ٹھیک ہوں غلام سارا سامان گھر کے اندر رکھتے ہوئے بولا۔۔
بہت شکریہ اپکا اب آپ اپنی جگہ واپس جا سکتے ہیں شیزہ اپنا سامان خود پکڑتے ہوئے بولی ۔۔
واچ مین دروازہ بند کئے وہاں سے چلا گیا
شیزہ نے ایک گہرا سانس بھرا اور لیونگ روم کی طرف چل پڑی جہاں سب لائٹ آن تھی اور ٹی وی بھی آن تھا
لیکن ولید کہی نظر نہیں آ رہا تھا
شیزہ سڑھیوں کی جانب بڑھی ۔
سڑھیوں کے اوپر ولید کو کھڑا دیکھ اچانک اس کی چیخ بلند ہوئ ۔وہ سب سے اوپر کھڑا اس کی جانب ہی دیکھ رہا تھا ۔
شیزہ خود کو ریلکس کئے اپنا بیگ گھسیٹتے ہوئے سڑھیاں چڑھنے لگی ۔۔
اس نے ایک بار بھی ولید کی طرف دیکھنے کی کوشش نہیں کی وہ تو اللہ کا شکر تھا سڑھیاں اتنی چوڑی تھی کہ ایک ہی وقت میں تقریبا پانچ لوگ اوپر نیچے ہو سکتے تھے ۔۔
شیزہ اس کی طرف دیکھے بغیر اپنے اور ولید کے ساتھ والے کمرے کی طرف بڑھ گئ ۔۔
یہ کمرہ بھی اتنا ہی بڑا تھا جتنا کہ وہ کمرہ تھا
کمرے کے درمیان میں بیڈ سائیڈ پہ ایک صوفہ اور دوسری سائیڈ پہ ڈریسنگ ٹیبل تھا
شیزہ آگے بڑھتی ہوئ کھڑکی سے پردے پیچھے کئے کھڑکی کھولے نیچے بنے ہوئے پول کو دیکھنے لگی ۔
کمرے میں تین دروازے تھے، ایک لکڑی کے دروازے کے ساتھ شیشے کے دو دروازے تھے۔
لکڑی کا دروازہ الماری کی طرف جاتا تھا، شیشے کے دروازے باتھ روم اور بالکونی کی طرف جاتے تھے جس سے باغ اور مین گیٹ کے دروازے کو آسانی دیکھا جا سکتا تھا ۔۔
شیزہ اپنا بیگ سائیڈ پر رکھے اپنے دوسرے روم کی جانب بڑھی جہاں یہ اور ولید دونوں اکھٹے رہتے تھے
یہ کمرہ بہت سی بری یادوں کے ساتھ ساتھ اچھی اچھی یادوں سے بھی بھرا پڑا تھا ، اس نظریں خود بخود ان کی شادی کی تصویروں کی جانب مڑی ۔۔
کئ سکینڈ تک انہیں دیکھنے کے بعد شیزہ الماری کی جانب بڑھی اپنے سارے کپڑے پیک کئے دوسرے کمرے کی جانب بڑھی ۔۔
سارے کپڑے وہاں رکھے واپس پھر کمرے آئ اور اپنا بچا کچا سامان بھی پیک کئے جانے ہی والی تھی کہ اسے قدموں چاپ سنائ دی شیزہ نے چہرہ اوپر کر کے دیکھا تو ولید دروازے پہ کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا
شیزہ تم یہ سب کیا کر رہی ہو ولید چلتا ہوا اس کے نزدیک آیا ۔۔
میں نے تمہارے کمرے سے اپنا سارا سامان نکال لیا ہے شیزہ اپنا سارا سامان پیک کرتے ہوئے بولی
“بیبی آپ کو ایسا کرنے کی ضرورت نہیں ہے..”
ولید نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا شیزہ نے غصے سے اس کے ہاتھ کی جانب دیکھا اور پھر ولید کی طرف ولید جلدی سے اپنا ہاتھ پیچھے ہٹا گیا ۔۔
شیزہ اپنا سارا سامان لیے اپنے کمرے کی طرف بڑھی
شیزہ پلیز۔۔میں جانتا ہوں کہ میں ایک گھٹیا انسان ہوں اور تم مجھ سے نفرت کرتی ہوں میں شاید تمہاری معافی کا مستحق بھی نہیں ہوں لیکن پلیز۔۔کمرے سے مت جاوں ۔تم اس کمرے میں رہ سکتی ہوں میں اس کمرے سے چلا جاوں گا پلیز تم مت جاوں اس کمرے سے ۔۔
“میں اس کمرے میں نہیں رہوں گی اور یہ حتمی ہے، اگر تم اگلے تین ماہ تک اس گھر میں سکون سے رہنا چاہتے ہیں تو پلیز مجھ سے دور رہو!…
عائشہ نے کہاں ہے کہ میں جو چاہوں کر سکتی ہوں اور میں بلکل ایسا ہی کروں گی
تم ہمیشہ شکایت کرتے تھے کہ میرے کپڑوں نے اتنی جگہ لی ہوئ ہے تو آج تمہاری شکایت دور ہو گئ ہے میں نے اپنے سارے کپڑے نکال لیے ہیں اور اب بھی تمہیں مسلہ ہے شیزہ اس کی طرف دیکھے بغیر بولی ۔۔
“..میرا یہ مطلب نہیں تھا،
مجھے بہت افسوس ہے کہ میں نے تمہیں بہت تکلیف پہنچائی ہے ۔۔
باہر نکلو ۔شیزہ اس کی بات کاٹتے ہوئے بولی ۔
شیزہ۔۔۔میری ۔۔۔
میں نے کہا باہر نکلو۔۔
شیزہ کے چہرے پر درد بھرے تاثرات تھے
شیزہ۔۔پلیز۔۔
باہر نکل جاوں شیزہ آنکھوں میں آنسو لیے دروازہ کھولے اسے باہر جانے کا اشارہ کرنے لگی ۔۔
ولید مجھے پریشان مت کرو
ولید آہستہ آہستہ قدم اٹھائے اس کی جانب بڑھا
ولید نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ شیزہ اس کی بات کاٹ گئ
یہاں سے چلے جاوں ۔۔
ولید اس پر ایک نظر ڈالے کمرے سے باہر نکل گیا ولید نے مڑ کر ایک نظر اسے دیکھا اس کی انکھوں سے آنسو باہر آنے کو بے چین ہو رہے تھے
میں تمہیں دوبارہ اس کمرے کے قریب نہیں دیکھنا چاہتی ۔۔شیزہ اسے کے منہ پر دروازہ بند کرتے ہوئے بولی ۔۔
دروازہ بند کئے شیزہ گہرا سانس لیے اپنے بالوں کو پیچھے کہ جانب دھکیل گئ ۔۔
اسے بہت برا لگ رہا تھا چاہے جو بھی ہو ابھی بھی وہ اس کا شوہر تھا ۔۔
نہیں شیزہ تجھے مضبوط بننے ہو گا اس بار تجھے کسی کے دھوکے میں نہیں آنا شیزہ خود سے بڑبڑائ
****
یہ اب تک کی بدترین سزا ہے لیکن میں اسی کا مستحق ہوں ۔۔کل جب اس نے مجھے کمرے سے نکالا اور میرے چہرے پر دروازہ بند کیا تو میرا دل پھٹنے کو تھا آنکھوں سے آنسو بہنے کو تیار تھے
ولید موبائل کان سے لگائے دانیال کو بتاتے ہوئے بولا
اور تمہیں پتہ ہے کل رات سے میں اس کا نیچے لیونگ میں انتظار کر رہا ہوں اس امید میں کہ وہ شاید کچھ کھانے کے لیے نیچے آئ گی لیکن صبح کا ایک بج گیا ہے وہ ابھی تک نیچے نہیں آئ ۔۔۔
یار تو فکر مت کر اللہ نے چاہا تو سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔ولید دانیال سے مزید باتیں کئے فون رکھ گیا ۔۔
اس کا انتظار کئے ولید آفس کے لیے تیار ہوئے ناشتہ کئے گھر سے باہر نکلا ولید اپنی گاڑی کی طرف ابھی بڑھا آفس کے لیے نکلا ۔۔
ولید ابھی آفس داخل ہوا ہی تھا کہ اس کے ساتھ شیزہ بھی بھی اندر داخل ہوئ ولید نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو شیزہ کو دیکھ اپنی جگہ جم گیا اس نے بلیو جینز کے اوپر وائٹ شرٹ پہنی ہوئ تھی اور اس کے اوپر لانگ ٹاپ بالوں کو اونچی پونی میں باندھے آنکھوں پر کالے بڑے چشمے لگائے بہت حسین لگ رہی تھی ۔۔
ولید تو اسے دیکھتا ہی رہ گیا
ولید کو آج پھر اس شیزہ سے پیار ہوا تھا جس نے خود کو فخر ،وقار ،اعتماد اور خود اعتمادی سے اوپر اٹھایا تھا
شیزہ اسے اگنور کئے آگئے بڑھ گئ ۔۔
ولید اسے دیکھتا ہی رہ گیا ۔۔
تم سب کیا دیکھ رہے ہوں اپنے اپنے کام دھیان دو ولید تمام سٹاف کو اپنی طرف متوجہ دیکھ بولا۔۔
شیزہ تم یہاں کیا کر رہی ہو ولید اپنے کیبن میں داخل ہوئے بولا۔۔
تم نے میری کمپنیوں میں جو اپنے آدمی رکھے ہوئے انہیں وہاں سے ہٹا دو ۔آج سے میں خود اپنی کمپنیوں کو سنبھالوں گی ۔۔
اور اپنے آدمیوں سے بولنا مجھے پیچھلے تین سالوں کی ساری ڈیٹیل چاہیے میں بھی تو دیکھوں ان تین سالوں میں میری کمپنیوں نے کیا ترقی کی ہے ۔
تم جو چاہتی ہوں وہ ہو جائے گا کچھ اور بھی ہے تو بتا دو ولید اس کے سامنے کھڑا ہوا بولا ۔۔
ٹھیک ہے ان کے پاس جمعہ تک کا وقت ہے تب تک مجھے تمام ڈیٹیل چاہیے شیزہ اس کے کان میں سرگوشی کئے بولی
ولید نے اس کی خوشبو کو اپنے اندر اتارا ۔۔
اب میں چلتی ہوں مجھے امید ہے تم میری باتوں کو اچھے سے سمجھ گئے ہو گئے شیزہ اس سے دور ہوئے بولی ۔۔ایک دم سے ولید کا سحر ٹوٹا ۔۔
شیزہ ہونٹوں پر مسکراہٹ سجائے آنکھوں پر چشمہ لگائے کیبن سے باہر نکل گئ
****
