Bharosa By Zaisha Khan Readelle50264 Last updated: 24 September 2025
Rate this Novel
Bharosa By Zaisha Khan
کہاں سے آ رہی ہوں " شیزہ اس کی آواز سنے اپنی جگہ منجمد ہو گئ ۔۔میں خود سے بات نہیں کر رہا میں تم سے پوچھ رہا ہوں کہاں سے آ رہی ہوں ۔۔۔۔ شیزہ ڈرتے ہوئے اس کی جانب پلٹی جو کمرے کے دروازے کے ساتھ ٹیک لگائے اسے ہی دیکھ رہا تھا اس کی نظریں شیزہ کو ایسے دیکھ رہی تھی جیسے کوئ شکاری اپنے شکار کو دیکھتا ہے ۔۔ ڈر کے مارے شیزہ نے اپنا خشک ہوا گلا تر کیا .. اس نے ایک سیاہ کمبیٹ شارٹ پہنا ہوا تھا۔ جس کا مطلب تھا وہ چند منٹ پہلے ہی گھر پہنچا تھا شیزہ ۔۔۔ولید قدم بڑھتا ہوا اس کے قریب ہوا جیسے جیسے ولید قدم آگے کو بڑھا رہا تھا شیزہ اپنے قدم پیچھے لے رہی تھی ولید نے روکتے ہوئے جیب میں ہاتھ ڈالتے آہ بھری ۔۔۔ میں تم سے کچھ پوچھ رہا ہوں ولید دانت پیستے ہوئے بولا شیزہ کی خاموشی اسے غصہ دلا رہی تھی ۔۔ "میں.. میں.. میں.." شیزہ کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے ۔۔ شیزہ اگر تم نے اپنا منہ نہیں کھولا تو میں تمہیں مار ڈالو گا ۔۔ اب جلدی سے بتاو شام کے اس وقت تم کہاں سے آ رہی ہوں ۔۔ میں عروج کے ساتھ تھی ۔۔اس کی آنکھوں سے آنسو روانگی سے بہنے لگے ۔۔ ولید نے آئ برو اٹھا کر اس کی جانب دیکھا اور ایک قدم اس کی جانب بڑھا اسے آگے بڑھتا دیکھ شیزہ ایک قدم پیچھے لے گئ ۔۔ ولید نے سرد آہ بھری۔۔ تم رو کیوں رہی ہوں میں نے تو ابھی تک تمہیں ہاتھ بھی نہیں لگایا ولید شیزہ کی حرکتیں دیکھ الجھتے ہوئے بولا ۔۔ میں جانتی ہوں تم مجھے مارنے والے ہوں تمہارا مجھ پر ہاتھ اٹھانے کا خیال ہی مجھے مار دیتا ہے میں اس تکلیف کو برداشت نہیں کر سکتی ۔۔۔ شیزہ ہیلس اور بیگ کو اپنے سینے سے لگائے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی بیبی کس نے کہا میں تمہیں مارنے والا ہوں عروج نے مجھے پہلے ہی فون کر کے سب بتا دیا ہے ولید شیزہ کے قریب ہوئے بولا ۔۔ شیزہ ساکت کھڑی اس کے الفاظ سننے لگی ولید اس کے آنسو صاف کئے اسے اپنے گلے سے لگا گیا مجھے معاف کرو دو میں نے تمہیں ڈرایا ،،اب تم ٹھیک ہوں ولید اس کا چہرہ اوپر کئے بولا ۔۔ شیزہ نے ہاں میں سر ہلایا ۔۔ ولید نے اس کا آنسو سے بھرا ہوا چہرہ صاف کیا ۔۔ میں تمہارے لیے کھانا بنا دیتی ہوں شیزہ اس سے دور ہوئ ہچکچاہتے ہوئے بولی "نہیں..اس کی فکر مت کرو، میں پہلے ہی کھا چکا ہوں" ولید نے اسے ہاتھ سے پکڑ کر اپنے قریب کیا اور اس کے ہاتھ سے ہیلس اور بیگ لے کر میز پر رکھ دیں ۔۔ آج شیزہ پر خیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ رہے تھے اسے یقین نہیں ہو رہا تھا کہ یہ اس کا ولید ہے آج وہ بہت بدلہ ہوا لگ رہا تھا آج اس نے اس پر ہاتھ نہیں اٹھایا تھا ۔۔۔ جاو جا کر اپنے کپڑے چینج کر لو ولید اس کے ماتھے پر محبت بھرا بوسہ دیے پیچھے ہوا ۔۔ شیزہ شاک ہوئ جلدی سے الماری سے اپنی نائٹ گاون نکلے واش روم میں بند ہو گئ ۔۔ اس کے جسم پر ٹانگوں پر رانوں پر کمر پر جگہ جگہ نیل کے نشان پڑے ہوئے تھے جو ولید کی درندگی کا ثبوت تھے وہ ایک جانور بنا روز اسے چھوٹی چھوٹی وجہ پر مارتا تھا ۔۔۔ شیزہ اپنے آنسو صاف کئے گرم پانی سے شاور لیے گاون پہنے باہر نکلی ۔۔۔ اس سے پہلے شیزہ سونے کے لیے اپنی مخصوص جگہ پر جاتی اس اپنی کمر پر مضبوط گرفت محسوس ہوئ وہ اچھے سے جانتی تھی کہ وہ کون ہے شیزہ نے ایک لمبی سانس بھری ۔۔ ولید اس کا رخ اپنی جانب موڑے اس کے ہونٹوں کو اپنی دسترس میں لے گیا ۔۔ اسے بلکل یاد نہیں تھا کہ آخری بار کب ولید نے اسے اتنے پیار سے چھوا تھا ۔۔ دونوں کی سانسیں بھاری ہو رہی تھی لیکن ولید تھا کہ ہٹنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا اور نا شیزہ اسے پیچھے کرنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔وہ اس پل سب کچھ بھولائے بس اس کی قربت میں ہی رہنا چاہتی تھی ۔۔جب سانس لینا دشوار ہو گیا تو ولید اس کے ہونٹوں کو آزاد کئے پیچھے ہوا آئ لو یو شیزہ ۔۔آئ ریلی لو یو شیزہ کانپ گئ جب اس نے اس کی کان کی لو کو اپنے دانتوں تلے دبایا ۔۔ ولید شیزہ کو گود میں اٹھائے اسے بیڈ پر لٹائے واپس اس کے ہونٹوں پر جھکا ۔۔۔ ****
