Bharosa By Zaisha Khan Readelle50264 Bharosa (Episode 08)
Rate this Novel
Bharosa (Episode 08)
Bharosa By Zaisha Khan
ان کی طلاق کو صرف دو ہفتے باقی رہ گئے تھے
شیزہ ابھی بھی اپنی بات پر قائم تھی ۔۔
تم کہاں جا رہی ہوں ۔۔شیزہ تیار ہوئ اپنا ہیڈ بیگ ہاتھ میں پکڑے سڑھیاں اتر رہی تھی کہ ولید جو سڑھیوں کے پاس کھڑا تھا اس اتنا تیار دیکھ پوچھے بنا نا رہ سکا ۔۔
اس بات کا کیا مطلب ہے۔۔۔شیزہ اس کی جانب دیکھتے ہوئے اطمینان سے بولی ۔۔
مطلب یہ ہے کہ تم اس وقت کہا جا رہی ہوں ابھی تھوڑی دیر میں رات ہو جائے گی اور ایک شادی شدہ عورت رات کو اس وقت اکیلے باہر جائے اچھا نہیں لگتا ۔۔
ایم سوری ۔۔۔شاید تم بھول رہے ہوں میں جو چاہو کر سکتی ہوں کہی بھی جا سکتی ہوں کیونکہ میں اب آزاد ہوں دو ہفتوں میں ہماری طلاق ہونے والی ہے تم اب مجھ پر کوئ حق نہیں رکھتے سمجھے ۔۔شیزہ اس کے پاس آئ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی ۔۔۔
او۔۔اوہ کہی تمہیں یہ تو نہیں لگ رہا کہ میں اپنا ارادہ بدل لو گی میں تمہیں بتاتی چلو میں اپنا ارادہ ہر گز نہیں بدلنے والی تمہارے بارے میں میرا خیال کبھی نہیں بدل سکتا شیزہ مسکرائے اس کی طرف دیکھتے ہوئے آگے کی جانب بڑھی ۔۔
“بیبی پلیز میری بات سنو پلیز” ولید شیزہ کا ہاتھ پکڑتے ہوئے بولا ۔۔
دیکھو مجھے ڈنر پر جانے کے لیے دیر ہو رہی ہے شیزہ اس کی طرف مڑے بغیر اپنا ہاتھ چھوڑانے لگی
کس کے ساتھ ڈنر کرنے جا رہی ہوں ۔۔ولید غصے سے اس کی کلائ دباتے ہوئے بولا
“کسی ایسے شخص کے ساتھ جو اپنی زندگی میں میری موجودگی کو جانتا ہے اور اس کی تعریف کرتا ہے، کوئی ایسا شخص جو میرے جذبات کی پرواہ کرتا ہے اور مجھے مارنے کے لیے کبھی ہاتھ نہیں اٹھائے گا اور مجھے باکسنگ بیگ کی طرح گھونسہ نہیں مارے گا، کوئی ایسا شخص جو میرے بچے کا قاتل نہیں ہو گا !” شیزہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے چیخی ۔۔
ولید کی توہین سے آنکھیں جھک گئ ۔۔
چھوڑوں مجھے ۔۔مجھے جانا ہے میں دیر نہیں کرنا چاہتی شیزہ اپنا بازو اس کی گرفت سے چھوڑاتے ہوئے بولی ۔۔
شیزہ اس کی طرف دیکھے بغیر دروازے کہ جانب بڑھی ابھی دروازے کے پاس پہنچی ہی تھی کہ ولید اسے بازوں سے کھیچتا ہوا دروازے کی سامنے والی دیوارے کے ساتھ لگا گیا ۔۔شیزہ کی سانس ایک دم سے بھاری ہو گئ ولید اس کے دونوں ہاتھوں کو دیوار سے لگائے اس کے بلکل قریب کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا
ولید تم یہ کیا کر رہے ہوں شیزہ ہکلاتی ہوئ بولی ۔
اس کی آنکھوں میں شدت وہ اچھے سے دیکھ سکتی تھی ۔۔وہ کیا سوچ رہا تھا کیا کرنے جا رہا تھا اس بات کا اسے بلکل اندازہ نہیں تھا لیکن وہ اس کی آنکھوں میں اپنے لیے جذبات ،پچھتاوا، اور شرمندگی اچھے سے دیکھ سکتی تھی ۔۔
“مجھے افسوس ہے، میں بہت معذرت خواہ ہوں ،شیزہ میں جانتا ہوں کہ ایسا کوئی عذر نہیں ہے جو میرے اعمال کو درست ثابت کر سکے، میں جانتا ہوں کہ میں تمہاری معافی کا مستحق نہیں ہوں۔ پچھلے سالوں سے تم ایک اچھی بیوی رہی ہو خدا کی طرف سے ایک نعمت ہوں اور میں۔” ولید بولے شرم سے نیچے دیکھنے لگا۔
“اور میں نے تمہارے ساتھ صرف بدتمیزی کی ہے، تمہیں پیار دکھانے کی بجائے، تمہاری حفاظت کرنے کی بجائے، میں نے خود ہی تمہیں نقصان پہنچایا، میں اتنا بیوقوف تھا کہ کسی اور کے پاس مشورہ لینے گیا .. مجھے تمہاری بات بھی سننی چاہیے تھی ۔۔ لیکن میں نے ایسا نہیں کیا، اب میں نے تمہارا اعتماد توڑ ہے ، ہماری شادی کو توڑا ہے، اپنا ہنستا بستا گھر تباہ کر دیا میں نے اس کے پیٹ پر ہاتھ رکھے اس کے کئے آنسو زمین پر گرے تھے شیزہ تکلیف سے اپنی آنکھیں بند کر گئ اس کے گالوں پر بھی کئے آنسوؤں گریں
“میں ایک اور موقع کا مستحق نہیں ہوں ،میں نے تمہارا بھروسہ تھوڑا ہے میں جانتا ہوں کہ تم اب مجھ سے بہت نفرت کرتی ہو اور تم صحیح ہو، لیکن میری محبت کے لیے مجھے ایک اور موقع دے دو ، ایک پلیز
“میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں تمہیں کبھی مایوس نہیں کروں گا، میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں وہی آدمی ہوں گا جس سے تم نے پانچ سال پہلے شادی کی تھی، میں وعدہ کرتا ہوں کہ ہماری شادی کو میں قابل بناؤں گا، پلیز شیزہ۔۔۔
میں معافی مانگتا ہوں میں نے تمہیں بہت تکیلف دی ہے مجھے پچھتاوا ہے اپنے بچے کا
مجھے ان تین سالوں کے لیے افسوس ہے جو میں نے تمہئں پیار کا احساس دلانے کے بجائے تمہیں مارنے میں ضائع کیے ہیں.. مجھے بہت افسوس ہے”
اسے دیکھتے ہوئے شیزہ نے اپنی ہتھیلی کی پوشت سے اپنے آنکھوں سے آنسو صاف کئے ۔۔
میں یہ مزید نہیں کر سکتی ۔۔اب مجھ میں برداشت کرنے کی طاقت نہیں بچی ۔۔
’’اگر تم نے مجھے یہ بات ایک سال یا پانچ مہینے پہلے بتائی ہوتی تو میں تمہیں معاف کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہ کرتی، کیونکہ پچھلے تین سال سے میں یہی دعا مانگتا رہی اور اب جب کہ میری دعا قبول ہو گئی ہے۔ تو مجھے نہیں لگتا کہ میں اب یہ کر سکتی ہوں، درد اب بھی میرے دل میں گہرا ہے، زخم ابھی تک میرے دماغ میں تازہ ہیں،
مجھے یہ سب بھولانے میں وقت لگے گا
تمہیں جتنا وقت چاہیے تم اتنا لے سکتی ہوں میں تمہارا انتظار کرو گا ولید اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لیے بولا ۔
نہیں ۔۔نہیں اب ایسا ممکن نہیں ہے میں اب مزید تمہارے ساتھ نہیں رہ سکتی اگر ہم ایک ساتھ اکھٹے بھی ہو گئے تو میں اپنے درد کو نہیں بھولا پاوں گئ اور میں اب یہ درد برداشت نہیں کر سکتی ۔
کیا تم مجھ سے پیار کرتے ہو؟”
ولید نے انگوٹھے سے اس کے گالوں کو پونچھتے ہوئے ہاں میں سر ہلایا
میں تم سے بہت زیادہ پیار کرتا ہوں ۔۔
“تو پھر مجھے جانے دو”
ولید اپنی جگہ جیسے جم گیا ہو چند آنسو اس کی آنکھوں سے گرے ۔۔
مجھے جانے دو ولید، ،اگر تم مجھ سے سچی محبت کرتے ہو اور چاہتے ہو میں ہمیشہ خوش رہوں تو مجھے جانے دو۔۔۔
ولید بھوت بنا اس کے ہلتے ہوئے ہونٹوں کو دیکھ رہا تھا کہ اچانک ولید اس کے ہونٹوں پر جھکے انہیں اپنی دسترس میں لے گیا ۔۔۔اتنی شدت سے اس نے اس کے ہونٹوں کو چھوا کہ شیزہ کے نیچلے ہونٹ سے خون رسنے لگا تھا
میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں پلیز مجھے چھوڑ کر مت جاوں ولید کی آواز اتنی درد بھری تھی کہ شیزہ تکیلف سے اپنی آنکھیں موند گئ ۔۔
اس کی گردن سے لے کر اس کے کندھے تک اپنا لمس چھوڑے ولید اس کے ہونٹوں پر دوبارہ جھکنے ہی والا تھا کہ شیزہ نے اسے خود سے دور دھکیل دیا شیزہ کے دماغ میں پیچھلے سالوں کی یادیں گھومنے لگی تھی ۔۔۔اس کا پیار کرنا بعد میں اسے جانور کی طرح مارنا۔۔
“نہیں! نہیں میں ایسا نہیں کر سکتی “
مجھ سے دور رہو،دور رہو شیزہ گھبرائ اپنا بیگ اور فون سنبھالے باہر کی جانب بھاگ گئ
” شیزہ کیا ہوا، …؟” ولید اس کے پیچھے بھاگتے ہوئے الجھتے ہوئے بولا۔۔۔
’’اگر تم میرے قریب آئے تو میں پولیس کو کال کروں گی ، ہمارے معاہدے کو مت بھولنا۔‘‘ شیزہ اسے دھمکی دیے وہاں سے بھاگتے جلدی اپنی گاڑی میں بیٹھے وہاں سے چلی گئ ۔۔
ولید اسے جاتے ہوئے دیکھتا ہی رہ گیا ۔۔۔
شیزہ کا فون مسلسل بج رہا تھا لیکن اسے پرواہ کہا تھی آنسو تھے کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے اس کا دم گھٹ رہا تھا ایسا محسوس ہو رہا جیسے ابھی سانس رک جائے گا شیزہ ایک دم سے گاڑی سائیڈ پہ روکیں گہرے گہرے سانس لینے لگی خود کو پر سکون کرنے کی کوشش کرنے لگی۔۔
یا اللہ ۔۔۔میری مدد فرما۔۔۔مجھے نفرت ہے اس انسان سے ۔اتنی نفرت ہونے کے باوجود کیوں میرا دل اس کا طلبگار ہے کیوں ۔۔۔۔
نہیں شیزہ تجھے کمزور نہیں پڑنا تجھے پھر سے اس آدمی کے دھوکے میں نہیں آنا
شیزہ اپنے آنسو صاف کئے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گئ ۔۔۔
*****
پتہ ہے میں نے تمہیں کتنی کالز کی تم نے ایک بھی نہیں اٹھائ ۔۔عروج شیزہ کو ان کے ٹیبل کی طرف آتا دیکھ بولی ۔۔۔
بہت لمبی کہانی ہے ۔۔بعد میں سناوں گی ۔۔چھوڑوں یہ سب تم دونوں سناوں کیسے ہوں شیزہ عروج کی ساتھ والی کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولی ۔
دانیال تم کیسے ہوں شیزہ اپنے سارے درد چھپائے ایک میٹھی مسکراہٹ سجائے اس کی جانب دیکھنے لگی ۔۔۔
میں بلکل ٹھیک ہوں ۔۔تم سناوں ؟ تمہارا شوہر کیسا ہے دانیال اس کی جانب دیکھتے ہوئے بولا ۔۔
تم لوگوں نے ابھی تک کچھ آرڈر کیوں نہیں کیا ش۔۔شیزہ اسکی جانب دیکھے بات بدلتے ہوئے بولی ۔
دانیال اسے دیکھ مسکرا گیا ۔۔
ہم تمہارا انتظار کر رہے تھے ۔
چلو پھر اب آرڈر کرو مجھے بہت بھوک لگی ہے شیزہ کرسی سے ٹیک لگائے خود کو ریلکس کئے بولی ۔۔
شیزہ اورنج جوس کا ایک لمبا گھونٹ بھرے گلاس میز پر رکھتے ہوئے گہرے سانس لینے لگی ۔۔
شیزہ کیا بات ہے ۔۔عروج اس کی جانب دیکھتے ہوئے بولی ۔۔
“کچھ نہیں. کیوں؟”
کیونکہ تم جب سے آئ پریشان ہو کیا ہوا ہے کوئ بات تمہیں پریشان کر رہی ہے ۔۔ولید نے تو کچھ غلط تو نہیں کیا تمہارے ساتھ عروج پریشانی سے بولی ۔۔
ایسا کچھ نہیں ہے ۔میں تو بس ایسے ہی ۔۔۔
شیزہ تم مجھے بتا سکتی ہوں دانیال تمہارے شوہر کا دوست ہو سکتا ہے لیکن تم مجھے تو بتا سکتی ہوں ۔۔عروج اس کے ہاتھ پر دباو ڈالے بولی
عروج ایسی کوئ بات نہیں ہے میں آفس کے کام کی وجہ سے بہت تھک گئ ہوں ،میٹنگز،شوٹنگز یہ سب اتنا آسان نہیں ہے
“تو تم دونوں کا کیا حال ہے؟ تم دونوں نے مجھے ڈنر پر کیوں بلایا ہے شیزہ مصنوعی مسکراہٹ سجائے بات بدل گئ ۔۔
وہ دونوں اچھے سے جانتے تھے کہ وہ بات بدل رہی ہے لیکن خاموش رہے
“اوہ ام.. کوئی خاص وجہ نہیں” عروج ایک بے وقوفانہ مسکراہٹ کے ساتھ بولی جب اس نے اپنے سنہرے بالوں کو اپنے بائیں ہاتھ سے کانوں کے پیچھے ٹکا دیا.. اس کی انگلی میں منگنی کی انگوٹھی کی چمک پر اس کا دھیان نہیں گیا ۔۔
عروج مایوس ہوئ ۔۔
عروج تمہیں کیا ہوا ہے تم اتنا شرما کیوں رہی ہوں شیزہ نا سمجھی میں بولی ۔۔ایسے واقعی میں کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی
عروج کو دیکھتے ہوئے دانیال کا قہقہ ہوا میں گونجا ۔۔
یہ اس لیے شرما رہی ہے کہ ہماری منگنی ہو گئ ہے یہ دیکھو دانیال عروج ک ہاتھ پکڑتے ہوئے انگوٹھی والا ہاتھ اس کے سامنے کئے بولا ۔۔
“اے میرے اللہ! لڑکی میں تمہارے لیے بہت خوش ہوں” شیزہ نے اسے مضبوطی سے گلے لگاتے ہوئے اعتراف کیا۔
’’میں بھی۔‘‘ وہ پرجوش انداز میں بولی۔
“اوہ، مبارک ہو دانیال “
شیزہ کی آنکھیں آنسو سے بھر آئ یہ واقعی میں اپنی سب سے پیاری دوست کے لیے بہت خوش تھی
شیزہ تم رو کیوں رہی ہو عروج الجھتے ہوئے بولی
شیزہ اپنے آنسو صاف کئے مسکرائ میں بہت خوش ۔۔تم دونوں کے لیے تم دونوں شادی کرنے والے ہوں ۔۔میں بہت خوش ہوں شیزہ عروج کو دوبارہ گلے سے لگا گئ ۔۔
“اوون.. بہت شکریہ، میں تم سے محبت کرتی ہوں” عروج اسے گلے سے لگائے بڑبڑائی
’’میں بھی تم سے پیار کرتی ہوں۔‘‘ شیزہ اس خود سے الگ کئے بولی ۔
میں ابھی بھی یہیں پر ہوں دانیال دونوں کو ایسے گلے ملتے ہوئے دیکھ جیلس ہوتے ہوئے بولا ۔۔
دونوں اس کی جیلسی کو دیکھ کر ہنسنے لگی ۔
********
تم کہاں چل دی شیزہ عروج کو اٹھتے ہوئے دیکھ بولی۔
میں ابھی آئ عروج ایکسکیوز کئے وہاں سے چلی گئ۔۔۔
’’تو بتاؤ، تم حقیقت میں کیسی ہو؟‘‘
دانیال شیزہ کو کھانے میں مصروف دیکھ بولا ۔۔
’’میں ٹھیک ہوں۔‘‘ شیزہ نے کندھے اچکائے۔
شیزہ میں جانتا ہوں مجھے تم دونوں کی پرسنل لائف میں بولنا نہیں چاہیے لیکن میں یہاں بولنا چاہتا ہوں
“ولید نے جو کیا وہ برا تھا، بہت برا تھا اور اس کے لیے اسے سخت سزا ملنی چاہیے، اس میں کوئی شک نہیں،
لیکن شیزہ ہم دونوں اصلی ولید کو جانتے ہیں جس تمہاری شادی ہوئ ہے اس نے وہ کام اپنی مرضی سے نہیں کیا لیکن میں مانتا ہوں وہ نا انصافی تھی تمہارے ساتھ لیکن اس کی طرف سے مجھے افسوس ہے، وہ بیوقوف تھا کہ کسی تیسرے فریق کے مشورے پر عمل کیا،وہ ایسا نہیں ہے وہ تم سے بہت محبت کرتا ہے میں نہیں جانتا تمہارے دل میں اس کے لیے کیا ہے لیکن پلیز اسے معاف کر دو وہ میرا سب سے اچھا دوست ہے میں اسے اندر سے جانتا ہوں وہ بدل گیا ہے بلکل بدل گیا ہے وہ اب پہلے جیسا نہیں رہا اور اس بات کا گواہ میں ہوں ۔۔
میں یہ بھی جانتا ہوں کہ ایسا کرنا تمہارے لیے مشکل ہے خاص طور پر سالوں تک اتنی تکلیف اٹھانے کے بعد اسے معاف کرنا لیکن پلیز اسے معاف کرو دو ایک آخری موقع دیں دو اسے میں تمہیں مجبور نہیں کر رہا اسے معاف کرنے کے لیے لیکن اسے ایک موقع تو ملنا چاہیے ۔۔جو بھی ہو آخری فیصلہ تمہارا ہی ہو گا
جہاں تک میں نے دیکھا ہے تم دونوں کا رشتہ ایک بہترین رشتہ تھا
میں نے کبھی بھی روحانی ساتھیوں پر یقین نہیں کیا، لیکن تم لوگوں کو ایک شادی شدہ جوڑے کے طور پر ایک ساتھ دیکھ کر یہ بات بدل گئی۔ جس طرح سے تم دونوں ایک دوسرے کو بہت پیار سے دیکھتے تھے، جس طرح سے تم دونوں ایک دوسرے کے لیے کھڑے ہوتے تھے، تم دونوں کو ایک نظر سے کیسے پتہ چل جاتا تھا کہ دوسرا کیا سوچ رہا ہے، تم دونوں بھیڑ میں کیسے چپکے رہتے تھے،
مجھے بہت افسوس ہو گا اگر تم دونوں کا یہ رشتہ ختم ہو گیا ۔۔اب یہ تم پر ڈیپینڈ کرتا ہے کہ تم اس رشتے کو ختم کرنا چاہتی ہوں کہ نہیں تمہیں اسے خود کو ثابت کرنے کا ایک موقع ضرور دینا چاہیں
دانیال ایک نظر شیزہ پر ڈالے واپس اپنے کھانے میں مصروف ہو گیا ۔۔
شیزہ نے سانس چھوڑی اور تیزی سے پلکیں جھپکیں..
کیا ہوا عروج شیزہ کو ویسے بیٹھا ہوا دیکھ بولی ۔۔
کچھ نہیں ۔۔
تو پھر تم کھانا کیوں نہیں کھا رہی عروج بیٹھتے ہوئے بولی ۔۔
نہیں ایسا کچھ نہیں ہے شیزہ بولے گہرا سانس لیے پانی کا ایک لمبا گھونٹ بھرے خود کو پرسکون کرنے لگی
****
شیٹ میں نے یہ کیا کر دیا وہ اب مجھ سے مزید نفرت کرے گئ
میں اتنا احمق کیسے ہو سکتا تھا؟!،
ایک لمحے کے لیے مجھے لگا وہ مجھے شاید ایک موقع دے گی لیکن ۔۔۔میں نے سب خراب کر دیا ۔۔
شیٹ۔۔۔۔شیٹ۔۔۔ولید اپنا ہاتھ زور سے دیوار پر مارتے ہوئے چلایا۔۔۔
شیزہ جب سے واپس آئ تھی اپنے کمرے میں بند تھی کل رات اپنے کئے گئے عمل کے بعد اس کی بچی ہوئ امید بھی ختم ہو رہی تھی ۔۔۔
ولید سب سوچے جھٹکے کمرے سے باہر نکلا تھا کہ شیزہ بھی اسی پل کمرے سے باہر نکلی ۔
اپنی نائٹی میں موجود بال اس کے کندھے پر بکھرے ہوئے تھے شاید وہ ابھی اٹھی تھی
ایک سکینڈ کے لیے دونوں کی آنکھیں ملی۔ولید کا دل زور کا دھڑکا ۔۔۔
“گڈ مارننگ” ولید ہمت کر کے بولا
۔، شیزہ گنگناتی ہوئی اسے اگنور کئے ہال سے نیچے چلی گئ ۔۔
ولید اس کے پیچھے پیچھے گیا
، شیزہ نے اس کی طرف پلٹ کر دیکھا اور اپنی بالکل تراشی ہوئی پیشانی اوپر کی۔
“میں کافی بنانا چاہتا ہوں” ولید اسے یو اپنی طرف دیکھتا ہوا دیکھ جلدی سے بولا ۔
شیزہ نے اپنی آنکھیں گھمائیں، سڑھیوں سے نیچے اترنے لگی ولید اس کی پیٹھ کو گھورتے ہوئے اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔۔
کیا تم مجھے گھورنا بند کرو گئے شیزہ ایک دم سے مڑے اپنی آنکھیں جھپکتی ہوئ بولی ۔۔
“سوری” ولید جلدی سے اپنی نظریں دائیں طرف گھما گیا ۔۔
یہ سوری اپنے پاس ہی رکھو مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے شیزہ کیچن کی طرف جاتی ہوئ بولی ۔۔۔
“امم، تمہاری رات کیسی رہی؟” ولید اس کے پیچھے آتا ہوا بولا ۔۔
شیزہ طنزیہ نظروں سے اس کی جانب دیکھنے لگی
“کیا تم مجھ سے بات کرنا بند کر سکتے ہو؟”
“تم میری بیوی ہو میں جب چاہوں تم سے بات کر سکتا ہوں”
“اوہ واقعی ؟”
“ہاں واقعی” ولید اس کے لہجے کا مذاق اڑاتے ہوئے بولا۔۔
صرف دو ہفتوں کے لیے اس کے بعد ہم دونوں کی بیچ کوئ رشتہ نہیں ہو گا شیزہ اسی کے انداز میں بولی
“جو کچھ بھی ہو، لیکن ابھی تک تم میری بیوی ہو اور تمہیں وہی کرنا ہے جو بیویوں کو کرنا چاہیے”
اس کی بات سنے شیزہ ہنس پڑی ۔۔
“اگر تم مجھ سے تمہارے لیے کھانا پکانے کی توقع رکھتے ہیں تو معذرت!”
میں اپنا لیے کھانا خود بنا سکتا ہوں اس کے لیے مجھے تمہاری ضرورت نہیں ہے ولید اپنے کندھے اچکائے بولا۔۔
تو تم مجھ سے کیا کروانا چاہتے ہوں تم چاہتے ہو میں گھر کے کام کرو سوری یہ کام بھی مجھ سے نہیں ہونے والا ۔۔۔
“یہ واحد کام نہیں ہے جو ایک بیوی کو کرنے چاہئے،
میرا مطلب ہے اور بھی بہت سے کام ہوتے ہیں جب تک تم چلی نہیں جاتی کم از کم ان ضروریات کو تو اچھے سے پورا کرو ۔، اس کے علاوہ میں جانتا ہوں کہ تم بھی مجھے چاہتی ہو، یہ لڑنا بند کرو۔”
ولید اس کی کالی گہری آنکھوں میں ڈوبا ہوا بولا ۔۔
کیا مذاق ہے یہ ۔۔شیزہ الجھتے ہوئے بولی ۔۔
ولید تم یہ سب کیا بول رہے ہو شیزہ کہے کیچن سے باہر جانے کے لیے مڑی تھی کہ ولید اسے کمر سے پکڑے اپنے قریب کئے اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا
مجھے بتاو کیا تم مجھے نہیں چاہتی ۔
نہیں میں تم سے محبت نہیں کرتی شیزہ اس کے ہاتھ کو اپنے کمر سے ہٹاتے ہوئے بولی ۔۔
“
’’تو پھر یہ کہتے ہوئے تم میری آنکھوں میں کیوں نہیں دیکھ سکتی؟‘‘
ولید اس کی جھکی ہوئ آنکھوں کو دیکھنے لگا اس کے پیشانی پر پسینے کی چند بوندیں اس کی حالت بیان کر رہے تھے شیزہ کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا ولید اس کے اتنے قریب تھا کہ اگر شیزہ کچھ بھی بولتی تو اس کے ہونٹ ولید کے ہونٹوں سے ٹچ ہو جاتے ۔۔
ولید اس کے سرخ ہونٹوں کو دیکھتے اپنا کنٹرول کھوئے ان پر جھکا شیزہ بھی خود پر قابو نہ رکھ سکی اور اس کا بھر پور ساتھ دینے لگی ۔۔ولید کے عمل میں شدت بڑھتی ہی جا رہی تھی ..
دونوں اپنے غم بھولائے ایک دوسرے میں کھوئے ہوئے تھے دروازے پہ ہونے والی دستک سے ان کا سحر ٹوٹا شیزہ فورا اس سے پیچھے ہوئ ۔۔
دروازے پر دستک بڑھتی ہی جا رہی تھی شیزہ اپنی آنکھیں جھکائے دروازے کی جانب بڑھی ولید کو دیکھنے کی اس میں ہمت نہیں تھی ۔۔
دروازے پر موجود انسان کو دیکھ کر شیزہ کے چہرے پر چمکیلی مسکراہٹ آئ ۔۔۔
ماما۔۔۔؟؟
****
