63.3K
10

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bharosa (Episode 01)

Bharosa By Zaisha Khan

شیزہ ۔۔شیزہ۔۔شیزہ ۔اٹھو ،اس نے کراہتے ہوئے اپنی آنکھیں کھولی تو سامنے عروج کو خود کو گھورتے ہو دیکھا ۔۔

ارے یار،،

اٹھ جاوں شام کے چھ بج چکے ہیں عروج شیزہ کے اوپر سے کمبل ہٹاتے ہوئے بولی ۔۔

نیند کی ہوماری کی وجہ سے پہلے تو اسے کچھ سمجھ نہیں آیا لیکن جب سمجھ آیا تو ایک جھٹکے سے بیڈ سے اٹھی ۔۔

یار تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں اٹھایا ۔۔شیزہ میز سے اپنا بیگ اور چابی اٹھاتے ہوئے بولی

میں نے تم سے بولا تھا مجھے چار بجے تک جگا دینا اب میں پکا ماری جاوں گی شیزہ اپنی ہیلس اور بیگ اٹھائے دروازے کی طرف بڑھی ۔۔

یار میں بھی سو گئ تھی میری بھی ابھی آنکھ کھولی ۔۔ایم سوری یار

مجھے ابھی جانا ہو گا میں بعد میں تمہیں کال کروں گی شیزہ گاڑی میں بیٹھتے ہوئے بولی

ٹھیک ہے ،،لیکن اپنا خیال رکھنا اور گاڑی آرام سے چلانا ۔۔اور اگر میرے ضرورت ہوئ تو مجھے کال کر لینا ۔۔عروج فکر مندی سے بولی ۔۔

اوکے اب میں چلتی ہوں شیزہ گاڑی سٹارٹ کئے آگے بڑھ گئ

ایک ہاتھ سے گاڑی چلاتے ہوئے دوسرے ہاتھ کا استعمال کئے شیزہ اپنے بیگ تک پہنچی اور اس میں سے موبائل نکالے چیک کرنے لگی کوئ کال یا میسج نہ دیکھ کر اس نے سکون کا سانس لیا ۔۔۔

لگتا ہے وہ ابھی تک واپس نہیں آیا ۔۔یا اللہ میری مدد کرنا میں اس سے پہلے گھر پہنچ جاوں۔۔

مجھے الارم لگا کر سونا چاہیے تھا شیزہ کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے اس نے اپنے گالوں سے آنسو صاف کئے ایکسلریٹر پر پیر رکھا

شیزہ تیزی سے اپنے گھر میں داخل ہوئ ان کے واچ مین غلام نے اس کے لیے گیٹ کھولا ۔۔

شیزہ گیراج میں گاڑی پارک کئے باہر نکلی لیکن جب سفید رینج روور اسپورٹ کو اپنے پاس کھڑا دیکھا تو اس کا سر چکرا گیا ۔۔اس کے خوف میں اور اضافہ ہو گیا

میڈم آپ ٹھیک تو ہے ۔۔غلام بھاگتے ہوئے اس تک پہنچا ۔۔

سر آ گئے ہیں شیزہ کی آنکھوں سے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے نہ جانے اس نے کیسے ہمت کر کے اس سے پوچھا

یس میڈم سر تو کب آ گئے ۔

او ۔۔نو اب تو میں پکا مر گی شیزہ اپنے سر ہاتھ رکھے لڑکھڑا گئ ۔۔

میڈم آپ ٹھیک تو ہے واچ مین پریشان ہوا

میں بلکل ٹھیک ہوں مجھے اکیلا چھوڑ دو شیزہ اس کے پاس سے گزری مرے مرے قدموں سے گھر کی جانب بڑھی ۔۔

آہستگی سے دروازہ کھولے اندر داخل ہوئ لائٹس ساری آن تھی ٹی وی بھی آن تھا جس پر سپر اسپورٹس کا چینل لگا ہوا تھا ۔۔دھڑکتے دل کے ساتھ اس نے گھر کے اندر قدم رکھا اور اتنا آرام سے بند کیا کہ شور کی آواز پیدا نہ ہو ۔

شیزہ دبے پاوں سڑھیاں چڑھتی ہوئ کمرے میں داخل ہوئ کمرے میں کسی کو نہ پاکر اس نے سکون کا سانس لیا

کہاں سے آ رہی ہوں ” شیزہ اس کی آواز سنے اپنی جگہ منجمد ہو گئ ۔۔

میں خود سے بات نہیں کر رہا میں تم سے پوچھ رہا ہوں کہاں سے آ رہی ہوں ۔۔۔۔

شیزہ ڈرتے ہوئے اس کی جانب پلٹی جو کمرے کے دروازے کے ساتھ ٹیک لگائے اسے ہی دیکھ رہا تھا

اس کی نظریں شیزہ کو ایسے دیکھ رہی تھی جیسے کوئ شکاری اپنے شکار کو دیکھتا ہے ۔۔

ڈر کے مارے شیزہ نے اپنا خشک ہوا گلا تر کیا

.. اس نے ایک سیاہ کمبیٹ شارٹ پہنا ہوا تھا۔ جس کا مطلب تھا وہ چند منٹ پہلے ہی گھر پہنچا تھا

شیزہ ۔۔۔ولید قدم بڑھتا ہوا اس کے قریب ہوا جیسے جیسے ولید قدم آگے کو بڑھا رہا تھا شیزہ اپنے قدم پیچھے لے رہی تھی

ولید نے روکتے ہوئے جیب میں ہاتھ ڈالتے آہ بھری ۔۔۔

میں تم سے کچھ پوچھ رہا ہوں ولید دانت پیستے ہوئے بولا شیزہ کی خاموشی اسے غصہ دلا رہی تھی ۔۔

“میں.. میں.. میں..” شیزہ کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے ۔۔

شیزہ اگر تم نے اپنا منہ نہیں کھولا تو میں تمہیں مار ڈالو گا ۔۔

اب جلدی سے بتاو شام کے اس وقت تم کہاں سے آ رہی ہوں ۔۔

میں عروج کے ساتھ تھی ۔۔اس کی آنکھوں سے آنسو روانگی سے بہنے لگے ۔۔

ولید نے آئ برو اٹھا کر اس کی جانب دیکھا اور ایک قدم اس کی جانب بڑھا اسے آگے بڑھتا دیکھ شیزہ ایک قدم پیچھے لے گئ ۔۔

ولید نے سرد آہ بھری۔۔

تم رو کیوں رہی ہوں میں نے تو ابھی تک تمہیں ہاتھ بھی نہیں لگایا ولید شیزہ کی حرکتیں دیکھ الجھتے ہوئے بولا ۔۔

میں جانتی ہوں تم مجھے مارنے والے ہوں تمہارا مجھ پر ہاتھ اٹھانے کا خیال ہی مجھے مار دیتا ہے میں اس تکلیف کو برداشت نہیں کر سکتی ۔۔۔

شیزہ ہیلس اور بیگ کو اپنے سینے سے لگائے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی

بیبی کس نے کہا میں تمہیں مارنے والا ہوں عروج نے مجھے پہلے ہی فون کر کے سب بتا دیا ہے ولید شیزہ کے قریب ہوئے بولا ۔۔

شیزہ ساکت کھڑی اس کے الفاظ سننے لگی ولید اس کے آنسو صاف کئے اسے اپنے گلے سے لگا گیا

مجھے معاف کرو دو میں نے تمہیں ڈرایا ،،اب تم ٹھیک ہوں ولید اس کا چہرہ اوپر کئے بولا ۔۔

شیزہ نے ہاں میں سر ہلایا ۔۔

ولید نے اس کا آنسو سے بھرا ہوا چہرہ صاف کیا ۔۔

میں تمہارے لیے کھانا بنا دیتی ہوں شیزہ اس سے دور ہوئ ہچکچاہتے ہوئے بولی

“نہیں..اس کی فکر مت کرو، میں پہلے ہی کھا چکا ہوں” ولید نے اسے ہاتھ سے پکڑ کر اپنے قریب کیا اور اس کے ہاتھ سے ہیلس اور بیگ لے کر میز پر رکھ دیں ۔۔

آج شیزہ پر خیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ رہے تھے اسے یقین نہیں ہو رہا تھا کہ یہ اس کا ولید ہے آج وہ بہت بدلہ ہوا لگ رہا تھا آج اس نے اس پر ہاتھ نہیں اٹھایا تھا ۔۔۔

جاو جا کر اپنے کپڑے چینج کر لو ولید اس کے ماتھے پر محبت بھرا بوسہ دیے پیچھے ہوا ۔۔

شیزہ شاک ہوئ جلدی سے الماری سے اپنی نائٹ گاون نکلے واش روم میں بند ہو گئ ۔۔

اس کے جسم پر ٹانگوں پر رانوں پر کمر پر جگہ جگہ نیل کے نشان پڑے ہوئے تھے جو ولید کی درندگی کا ثبوت تھے وہ ایک جانور بنا روز اسے چھوٹی چھوٹی وجہ پر مارتا تھا ۔۔۔

شیزہ اپنے آنسو صاف کئے گرم پانی سے شاور لیے گاون پہنے باہر نکلی ۔۔۔

اس سے پہلے شیزہ سونے کے لیے اپنی مخصوص جگہ پر جاتی اس اپنی کمر پر مضبوط گرفت محسوس ہوئ وہ اچھے سے جانتی تھی کہ وہ کون ہے شیزہ نے ایک لمبی سانس بھری ۔۔

ولید اس کا رخ اپنی جانب موڑے اس کے ہونٹوں کو اپنی دسترس میں لے گیا ۔۔

اسے بلکل یاد نہیں تھا کہ آخری بار کب ولید نے اسے اتنے پیار سے چھوا تھا ۔۔

دونوں کی سانسیں بھاری ہو رہی تھی لیکن ولید تھا کہ ہٹنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا اور نا شیزہ اسے پیچھے کرنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔وہ اس پل سب کچھ بھولائے بس اس کی قربت میں ہی رہنا چاہتی تھی ۔۔جب سانس لینا دشوار ہو گیا تو ولید اس کے ہونٹوں کو آزاد کئے پیچھے ہوا

آئ لو یو شیزہ ۔۔آئ ریلی لو یو شیزہ کانپ گئ جب اس نے اس کی کان کی لو کو اپنے دانتوں تلے دبایا ۔۔

ولید شیزہ کو گود میں اٹھائے اسے بیڈ پر لٹائے واپس اس کے ہونٹوں پر جھکا ۔۔۔

****

صبح جب شیزہ کی آنکھ کھلی تو بستر پر وہ اکیلی موجود تھی شاید ولید کچھ دیر پہلے ہی اٹھ چکا تھا

کل کی رات شیزہ کے لیے جادو جیسی تھی اس کے پیچھلے رویے کہ بلکل برعکس اسے اب امید کی ایک چھوٹی سی کرن نظر آئ تھی۔۔

واشروم سے پانی گرنے کی آوازیں آ رہی تھی جس کا مطلب تھا کہ وہ شاور لے رہا تھا ۔۔

شیزہ نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن وہ اٹھ نہیں پا رہی تھی وہ بہت تھکاوٹ محسوس کر رہی وہ واپس سونا چاہتی تھی شاید اس کے پیٹ میں پل رہی ایک ننھی کی جان کی وجہ سے ۔۔اسے پریگنیٹ ہوئے ایک ماہ ہو گیا تھا لیکن اسے خود دو دن پہلے ہی پتہ چلا تھا اس نے ولید کو ابھی تک اس کے بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا وہ ایک اچھے موقعے کی تلاش میں تھی اور اسے خوشخبری بتانے کا یہ وقت بلکل صحیح تھا شیزہ کے لب خوشی سے مسکرائے

شیزہ ابھی اس کے بارے میں سوچ ہی رہی تھی کہ ولید کمر پر ٹاول لپیٹے باہر نکلا ۔۔

اس وقت بنا کپڑوں کے وہ بہت ہینڈسم لگ رہا تھا شیزہ اسے دیکھتی ہی رہ گئ ۔۔

گڈ مارننگ شیزہ ڈرتے ڈرتے بولی ۔۔۔نہ جانے کس بات پر اسے غصہ آ جائے اس لیے شیزہ اختیاط سے کام لے رہی تھی

رات کیسی گزری؟‘‘

ولید نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا شیزہ لاکھ کوششوں کے باوجود اپنے ہونٹوں پر بننے مسکراہٹ والی کو روک نہیں پائ ۔۔۔

ولید بھی اس کی طرف دیکھ مسکرانے لگا ۔۔

یااللہ وہ میری طرف دیکھ کر مسکرا رہا ہے کیا میں کوئ خواب تو نہیں دیکھ رہی کیا سچ میں وہ بدل رہا ہے اس نے اپنے دل میں سوچا ۔۔

شیزہ کیا تم نے ڈرائ کلینر سے میرے کپڑے لے لیے تھے آج مجھے بہت اہم میٹنگ کے لیے جانا ہے ولید آئنے کے سامنے کھڑے ہوئے اپنے بال سیٹ کئے بولا ۔۔۔

شیزہ شاک میں چلی گئ ہڑبڑاہٹ کی وجہ سے کل عروج کے گھر سے کپڑا لانا بھول ہی گئ ۔۔

شیزہ ۔۔۔کہا کھو گئ ۔۔۔

جلدی سے میرے کپڑے نکال دو مجھے میٹنگ کے لیے جانا ہے ۔۔۔

شیزہ اپنی جگہ جیسے جم گئ تھی ۔۔

کیا ہوا ۔۔۔تم نے کپڑے یاد سے لے تو لیے تھے ۔۔

شیزہ جھنجھلا گئ ۔۔۔

کیا تم نے کپڑے نہیں لیے ۔۔۔

نہیں میں نے لے لیے تھے لیکن ۔۔۔۔۔

لیکن ۔۔۔لیکن کیا۔۔۔

وہ میں عروج کے گھر ہی بھول آئ ۔۔

کیا؟۔۔۔

تم میرے کپڑے عروج کے گھر بھول آئ ولید نے اسے گھورتے ہوئے پوچھا ۔۔

شیزہ نے تھوک نگلتے ہوئے سر ہاں میں ہلایا۔۔

یہاں آو ۔۔ولید اپنے دانت پیستے ہوئے بولا۔۔

شیزہ اس کے غصے کے ڈر سے اپنے قدم پیچھے کو لے گئ ۔۔

ولید نے آنکھیں بند کی اور گہرا سانس لیا ۔۔

یہاں آو شیزہ ۔۔۔

شیزہ اپنا سر جھکا گئ ۔۔

ولید اسے اپنی جگہ نہ ہلتا ہوا دیکھ اس کی جانب بڑھا شیزہ اسے اپنی جانب بڑھتا ہوا دیکھ دروازے کی جانب بھاگی ۔۔اس سے پہلے شیزہ بھاگتی ولید نے اسے کمر سے کھیچتے ہوئے بیڈ پر زور سے پھینکا ۔۔

شیزہ کا ڈر کے مارے برا حال ہو رہا تھا اس کا دماغ جیسے کام کرنا بند ہو گیا تھا شیزہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے ایک بار پھر بستر سے اٹھ کر دروازے کی جانب بھاگی

شیزہ۔۔۔۔ولید چیخا۔۔

شیزہ کو بازو سے کھیچتے ہوئے ایک زور دار تھپڑ اس کے چہرے پر رسید کیا جس سے شیزہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ پائ اور سیدھا فرش پر جا گری ۔۔۔

شیزہ چیختی ہوئ اپنے چہرے کو اپنے ہاتھوں سے ڈھانپ گئ ۔۔

پلیز ۔۔مجھے معاف کر دو ۔۔میں ابھی جا کر لے آو گی پلیز مجھے مت مارنا ۔شیزہ فرش پر تڑپتی ہوئ بولی ۔۔۔آنسو اس کی آنکھوں مسلسل بہہ رہے تھے رنگ زرد پر چکا تھا ۔۔

تم جانتی ہوں ۔۔میں واقعی میں تمہیں اب مارنا نہیں چاہتا تھا لیکن تم مجھے مارنے پر مجبور کرتی ہوں ولید سائیڈ ٹیبل سے اپنی بیلٹ اٹھاتے ہوئے فرش پر پڑی شیزہ کو دیکھنے لگا ۔۔۔

درد سے شیزہ کی چیخیں پورے کمرے میں گونجی

کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ تم نے مجھ پر نہ جانے کون سا جادو کیا تھا جو میں تم جیسی طوائف سے شادی کرنے کے لیے تیار ہو گیا ۔۔

ولید اس کے چہرے پر جھکا ۔۔۔

شیزہ تھپڑ کے ڈر سے اپنا چہرہ اپنے ہاتھوں میں چھپا گئ ۔۔

ولید غصے کے عالم میں اس کے جسم کہ ہر حصے پر کوڑے برسانے لگا ۔۔

میں معافی چاہتی ہوں ۔۔پیلز روک جاوں مجھے مت مارو چیخوں اور آنسوؤں کے درمیان شیزہ صرف اتنا ہی بول پائ۔۔۔

تمہیں تو خوش ہونا چاہیے تمہاری بے وفائ کے باوجود میں نے تمہیں طلاق نہیں دی ۔۔۔

تمہیں میرا شکر گزار ہونا چاہیے ولید نے زور کی لات اس کے پیٹ پر ماری ۔۔

شیزہ درد سے چیخ اٹھی ۔۔۔

“رکو!… نہیں.. نہیں.. نہیں. رکو،!

پلیز روک جاوں شیزہ اپنا پیٹ پکڑتے ہوئے اس درندے کی التجا کرنے لگی جو غصے کے عالم میں انسان اور جانور کے بیچ کا فرق بھول چکا تھا ۔۔۔

شیزہ کو اپنے بچے کی فکر ہونے لگی ۔

شکر کرو مجھے آج ایک ضروری میٹنگ میں جانا ہے ورنہ آج تم میرے ہاتھوں ماری جاتی ۔۔۔

ولید اس کے پیٹ پر ایک آخری لات مارے الماری سے اپنے کپڑے نکالے واش روم میں بند ہو گیا ۔۔

شیزہ اپنا پیٹ پکڑے فرش پر درد سے چلا رہی تھی درد اس کی برداشت سے باہر ہو رہا تھا شیزہ کو یقین ہو گیا تھا کہ وہ اپنا بچہ کھو چکی ہے ۔۔۔

****