Bharosa By Zaisha Khan Readelle50264 Bharosa (Episode 03)
Rate this Novel
Bharosa (Episode 03)
Bharosa By Zaisha Khan
کیا تم نے ان فائلوں کو کمپلیٹ کر لیا ہے جو میں نے تمہیں دی تھی ۔۔۔
یس سر۔۔فائل کمپلیٹ ہو گئ ہے اور فوٹو کاپی بھی ان پر اب بس آپ کے دستخط کی ضرورت ہے
“اوہ.. ٹھیک ہے، انہیں لے آؤ پھر”
ولید اسے حکم دیے انٹر کام کا سوئچ آف کر گیا
چند منٹ بعد دروازے پر دستک ہوئی اور لیلی جو ولید کی سیکریٹری تھی فائل لیے اندر داخل ہوئ ۔۔
“گڈ مارننگ سر” اس نے ٹیبل پر فائلیں رکھ کر سلام کیا..
ولید نے آہ بھری ۔۔یہ سب فائل ہے ولید فائلز اٹھاتا ہوا بولا
یس سر۔۔۔
“ٹھیک ہے.. آپ جا سکتی ہیں”
سر میں جانتی ہوں مجھے پوچھنا تو نہیں چاہیے لیکن آپ مجھے ٹھیک نہیں لگ رہے
آپ کو کیوں لگ رہا ہے میں ٹھیک نہیں ہوں ولید فائلز بند کرتے ہوئے اس کی جانب دیکھنے لگا ۔۔
“کیونکہ آج صبح آنے کے بعد سے آپ کچھ پریشان لگ رہے ہیں
ولید نے آہ بھری۔۔۔
جب سے فرش پر گری ہوئ شیزہ کو اکیلا چھوڑ کر آیا تھا تب سے اس کا دل بے چین تھا ۔
تم ٹھیک کہہ رہی ہوں میں واقعی ٹھیک نہیں ہوں
آپ مجھے بتا سکتے ہیں ۔لیلی ہمدردی سے بولی
اگر تم واقعی سننا چاہتی ہو تو تمہیں پہلا بیٹھنا ہو گا ۔مجھے لگتا ہے کہ مجھے کسی ایسے شخص سے مشورہ کی ضرورت ہے جس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے ولید اسے اپنے سامنے والی چئیر پر اشارہ کرتے ہوئے بولا ۔۔
لیلی مسکراتی ہوئی بیٹھ گئ ۔۔
تو مس لیلی .. کیا شوہر کا اپنی بیوی کو بے وفائی کی وجہ سے مارنا درست ہے؟”
ولید نے گہرا سانس لیا۔۔
“نہیں.. مجھے نہیں لگتا ۔۔اگر اس نے ایسا کچھ کیا بھی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں مرد اپنی طاقت دیکھاتے ہوئے اس پر تشدد شروع کریں ۔۔میرے خیال سے طلاق ایک بہتر آپشن ہے ۔۔لیلہ کی بات سن کر ولید اسے گھورنے لگا ۔۔
“ذاتی طور پر میرے خیال میں کوئی بھی مرد ایسا کرتا ہے تو وہ جیل میں سڑنے کا مستحق ہے ۔۔
عورتوں کو ایسے مردوں کے ظلم ہر گز نہیں سہنے چاہیے ۔۔
اگر میرے ساتھ کوئ مرد ایسا کرنے کی کوشش بھی کرے گا تو میں اسے مار ڈالو گی ۔۔لیکن ظلم ہر گز نہیں سہوں گئ
لیکن سر آپ ایسے سوال کیوں پوچھ رہے ہیں ۔میرے دوست کی بیوی تین سال پہلے اسے دھوکہ دیتے ہوئے پکڑی گئ تھی ۔۔لیکن وہ اپنی بیوی سے بہت محبت کرتا تھا وہ اسے تلاق نہیں دینا چاہتا تھا اس لیے وہ اپنے دوست سے مشورہ لینے گیا ۔جس نے اسے مشورہ دیا کہ اپنی بیوی کو دبا کر رکھو مارو پیٹوں ،،کیونکہ اس کے مطابق یہ عورت کو قابو کرنے کا بہترین طریقہ ہوتا ہے ۔۔ولید نیچے فرش کی طرف دیکھتے ہوئے بولا
“عورت کو قابو کرنے کا بہترین طریقہ؟! اسے یہ کہاں سے ملا؟!” لیلہ چڑ کر بولی۔
“وہ دوست شیطان ہے، میرے نزدیک وہ انسانی لباس میں شیطان ہے.. آپ ایک آدمی کو یہ کیسے مشورہ دے سکتے ہیں کہ وہ اپنی بیوی کو چھیڑ چھاڑ کے نام پر ہراساں کرے۔ وہ کر رہا ہے، کیونکہ یہ اچھا نہیں ہے، وہ صرف اسے جذباتی اور جسمانی طور پر ڈرا رہا ہے، ایک شوہر کی حیثیت سے اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اپنی بیوی کو مارے بغیر اسے کیسے ہینڈل کرنا ہے، مثال کے طور پر میرا شوہر جب بھی مجھ سے ناراض ہوتا ہے تو وہ مجھ سے خاموش سلوک کرتا ہے اور مجھ پر بھروسہ کرتا ہے۔ اور اس کی خاموشی میرے لیے اب تک کی بدترین سزا ہوتی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ اکثر ہم اس وقت تک نہیں سوتے جب تک کہ ہم اپنا تنازعہ طے نہ کر لیں،
آپ نے کہا کہ اسے تین سال پہلے پتہ چلا؟”
لیلی نے اس سے پوچھا ۔۔
ولید نے ہاں میں سر ہلایا ۔۔
“تو اب وہ تین سال سے اس کے ساتھ زیادتی کر رہا ہے؟” اس نے پوچھا ۔
ولید نے ہاں میں سر ہلایا ۔۔
“آہ!.. وہ عورت اگرچہ مضبوط ہے، میں بہت سی ایسی عورتوں کو جانتی ہوں جو ایک تھپڑ بھی برداشت نہیں کرتیں، پوری پٹائی تو دور کی بات ہیں
سر پلیز اپنے دوست سے بات کرنے کی کوشش کریں اسے سمجھائے اس سے پہلے حالات مزید بگڑ جائیں ۔۔
میں مانتی ہوں اس لڑکی نے اس کے ساتھ برا کیا لیکن آپ کے دوست کو اسے معاف کرنے کی کوشش کرنی چاہیے
اس نے کافی تکلیف اٹھائی ہے، عورت کو اپنے گھر میں سکون ملنا چاہیے نہ کہ افسردگی ۔۔
ولید کو وہ سب سمجھ آ گیا تھا جسے وہ پیچھلے کچھ سالوں سے سمجھنے سے قاصر تھا ۔۔
آپ کا بہت شکریہ،مس لیلہ۔۔۔ میں اسے ضرور سمجھاو گا ۔۔۔لیلہ مسکرا گئ ۔۔
“ٹھیک ہے سر” وہ بولی اور باہر چلی گئی.. دروازہ بند ہوتے ہی ولید کھڑا ہو گیا اور اپنی کرسی پیچھے دھکیل گیا ۔۔۔
****
ماضی ۔۔۔
ولید نے بلال کو فون کیا کیونکہ دانیال ملک سے باہر تھا اور سے کوئ رابطہ نہیں ہو پا رہا تھا ۔۔ولید نے بلال کو ملنے کے لیے بلایا ۔۔۔
میں نے جو کچھ کہا ہے وہ سچ ہے جاوید نے بلال کو سب کچھ بتایا ۔۔
مجھے اس کی باتوں پر یقین نہیں ۔۔شیزہ میرے ساتھ ایسا کچھ نہیں کرسکتی وہ مجھے کبھی دھوکا نہیں دے سکتی ۔وہ مجھ سے بہت محبت کرتی ہے ۔۔
اور تم کہتے ہوں میں تم پر یقین کر لو ۔۔مجھے یہ تمہاری فضول کی تصویروں میں کوئ دلچسپی نہیں ۔۔
ولید جاوید کا گریبان پکڑے دھاڑا ۔۔۔
ولید ۔۔۔ولید ریلکس ہو جاوں بلال اسے جاوید سے دور کرتے ہوئے بولا میں بات کرتا ہو اس سے ۔۔۔
ہاں تو مسٹر تمہارا کہنا ہے تمہارا شیزا کے ساتھ ایک سال سے تعلق ہے ۔۔بلال نے جاوید کو گھورتے ہوئے پوچھا ۔۔۔
ہاں ۔۔۔
’’ان تصویروں کے علاوہ تمہارے پاس اور کیا ثبوت ہیں؟،
اگر تمہارے پاس کوئ ثبوت نہیں ہے تو ساری عمر جیل میں سڑنے کے لیے تیار ہو جاوں ۔۔
میرے پاس بہت سی ایسی ویڈیو ہے جس میں آپ ہم دونوں کو ایک دوسرے کے قریب دیکھ سکتے ہیں
کہاں ہے وہ ویڈیو مجھے دیکھاو بلال اس کا کالر پکڑے بولا ۔۔۔
میرے موبائل میں ہے ۔۔
کدھر ہے تمہارا موبائل بلال اس کی پینٹ کی جیب تلاش کرنے لگا ۔۔۔
یہ رہا موبائل اب اس سے سب سچ پتہ چل جائے گا کہ تم سب سچ بول رہے ہو یا جھوٹ بلال موبائل کھولے چیک کرنے لگا ۔۔۔
ویڈیو دیکھے بلال کے لبوں پر شیطانی مسکراہٹ رینگی جسے وہ جلد چھپا گیا ۔۔۔۔
ولید یار یہ لڑکا بلکل ٹھیک کہہ رہا ہے مجھ سے یہ ویڈیو نہیں دیکھی جا رہی تو تم کیسے دیکھو گئے بلال موبائل بند کرتے بولا ۔۔۔
ایسا کیا ان ویڈیوز میں جو میں نہیں دیکھ سکتا ولید بلال کے ہاتھ سے موبائل لیتے اسے کھولنے لگا ۔۔۔
جیسے جیسے ولید ویڈیو دیکھ رہا تھا اسے اپنے پیروں پر کھڑا رہنا مشکل ہو رہا تھا ولید مزید ویڈیو نہیں دیکھ سکتا تھا ۔۔
اب آپ کو یقین ہو گیا جاوید اپنا کالر ٹھیک کرتے بولا
شیزہ میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتی ہے ولید اپنا سر ہاتھوں میں تھامے پاگل ہونے کو تھا ۔۔
جاوید میرے دوست کو سب سچ بتانے کا شکریہ اب تم یہاں سے جا سکتے ہوں لیکن شیزہ سے اب دور ہی رہنا بلال اس کا موبائل اسے پکڑائے بولا ۔۔
تو ،تم اب کیا کرو گئے ۔۔
شیزہ ایسا نہیں کر سکتی وہ مجھے دھوکہ نہیں دے سکتی میں اس پر بھروسہ کرتا ہوں میں اسے اچھے سے جانتا ہوں تین سال سے ہم ایک ساتھ ہے ۔۔
مجھے گھر جانا چاہیے ۔مجھے اس سے بات کرنے کی ضرورت ہے ولید اپنی جگہ سے اٹھا
ایک منٹ ولید میں اچھے سے جانتا ہوں تم شیزہ سے محبت کرتے ہو اس پر بھروسہ کرتے ہوں یہ اچھی بات ہے لیکن مجھے لگا تھا تم اب تک سمجھ گئے ہو گئے ۔۔
شیزہ جیسی لڑکیاں بھروسے کے قابل نہیں ہوتی ۔
بلال تمہارا مطلب کیا ہے ۔۔۔۔
میں تمہیں سمجھتا ہو تم یہاں کرسی پر بیٹھو۔۔
“ماڈل اور اداکارائیں طوائفوں کی طرح ہوتی ہیں، لیکن ان پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔
میں تمہاری بیوی کی توہین نہیں کر رہا میں صرف سچ کہہ رہا ہوں تم تصور بھی نہیں کر سکتے شیزہ جیسی سپر ماڈل کے پیچھے کتنے آدمی پاگل ہو گئے
بلال تم اچھے سے جانتے ہوں شیزہ شادی سے پہلے بھی ایک سپر ماڈل تھی ۔۔ اس وقت اس کا کسی کا ساتھ کوئ افئیر نہیں تھا تو اب کیسے ہو سکتا ہے
تم بھی اپنی جگہ ٹھیک کہہ رہے ہوں لیکن تم نے سب سچ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے مجھے تو اس پر یقین ہے بلال ولید کی طرف دیکھتے ہوئے بولا ۔۔
ولید نے سرد آہ بھری ۔۔
تو اب تم مجھے کیا کرنے کا مشورہ دیتے ہوں ۔ولید تھکا ہارا بولا ۔۔
میرے خیال سے تو تم اسے طلاق دے دو
“کیا؟!”
میں ایسا نہیں کر سکتا شیزہ میری بیوی ہے اور ہم نے ساری عمر ساتھ رہنا کا ایک دوسرے سے وعدہ کیا تھا میں اسے نہیں چھوڑ سکتا ۔۔اس نے میرے ساتھ جو کچھ بھی کیا ہوں لیکن پھر بھی میں ایسے طلاق نہیں دے سکتا ۔۔
بلال نے اس کی جانب دیکھا ۔۔
ٹھیک ہے اگر ایسی بات ہے تو پھر اسے تم ایک مرد کی طرح ٹریٹ کرو ۔۔
“کیسے؟” ولید نہ سمجھی اس کی طرف دیکھنے لگا ۔۔
دیکھوں ایک عورت کو سنبھالنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس پوری طرح اپنے قابو میں رکھا جائے ۔
جو کچھ میں نے دیکھا ہے اس سے تو لگتا ہے ہر چیز کی وجہ اس کا کام ہے ۔۔اسے کہوں کہ وہ یہ کام چھوڑ دے اور سہی طریقے سے اپنا گھر سنبھالے
“میں سمجھا نہیں”
میرا مطلب ہے اسے ایک مرد کی طرح ہینڈل کرو
اسے دیکھاو کہ تم اس گھر کے مرد ہوں ۔۔پھر دیکھنا وہ کسی دوسرے آدمی کے ساتھ کھڑے ہونے سے بھی ڈرے گی
تم چاہتے ہوں میں اپنی بیوی کے ساتھ بدتمیزی کرو اسے مارو ؟
ولید خیرانگی سے اس کی جانب دیکھنے لگا
“اس پر قابو پانے کا یہی واحد طریقہ ہے..
ایک بار اسے آزماؤں پھر دیکھنا یہ کیسے کام کرتا ہے ۔۔۔
بلال شیطانی مسکراہٹ لیے پریشان بیٹھے ولید کو دیکھنے لگا ۔
میں پینے کے لیے ڈرنک لاتا ہو اسے پی کا تم ریلکس ہو جاوں گئے ۔۔
کیا مجھے اس کی نصیحت پر عمل کرنا چاہئے؟…
میرے خیال میں بلال بلکل سہی کہہ رہا ہے لیکن میں اپنی ہی بیوی پر ہاتھ کیسے اٹھا سکتا ہوں ولید کے دل اور دماغ میں ایک جنگ چڑ چکی تھی
ولید تم کیا پیو گئے ۔۔بلال کی آواز سے ولید سوچوں سے باہر نکلا ۔۔
’’بس مجھے کوئی سافٹ ڈرنک دے دو۔‘‘
بلال سوالیاں نظروں سے اسے دیکھنے لگا
سافٹ ڈرنک سے تمہارا کیا ہو گا تمہیں تو ہیرو کی ضرورت ہے بلال اس کا کندھا تھپتھپائے کاونٹر کی جانب بڑھا ۔۔۔
****
حال
یا اللہ میں نے یہ کیا کیا ۔۔ولید نے اپنے چہرے سے پسینہ صاف کئے گاڑی کی چابیاں پکڑی ۔
ولید نے فورا شیزہ کا نمبر ڈائل کیا
**
شکریہ۔۔شیزہ ٹیکسی ڈرائیور کو پیسے دیے آہستہ سے گاڑی سے اتری ۔۔
شیزہ آہستہ آہستہ سے چلتی ہوئ مین گیٹ تک پہنچی ۔۔بیل بجانے کے بعد شیزہ کھڑی ہوئ انتظار کرنے لگی مزید کھڑے رہنا اس کے لیے مشکل ہو رہا تھا ۔۔
واچ مین نے دروازہ کھولا اور مسکراتے ہوئے اس کا استقبال کیا ۔۔
عروج گھر پر ہے ۔۔
جی میڈم ۔۔میڈم گھر پر ہی ہے ۔۔شیزہ سر ہلائے اندر بڑھی
شیزہ دروازے پر پہنچی دروازہ نوک کیا ۔۔
عروج دروازہ کھولے سامنے اسے دیکھ کر مسکرائ ۔۔۔
اوہ مائ گڈنس شیزہ۔۔۔میں تمہارے گھر آنے ہی والی تھی تم ولید کے کپڑے یہاں ہی بھول گئ تھی عروج شیزہ کو گلے لگائے بولی
شیزہ عروج کا وزن برداشت نہیں کر پائ اور زور سے چلائ ۔۔آہ۔۔۔
عروج تیزی سے پیچھے ہٹ گئ ۔۔
کیا ہوا عروج شیزہ کو یو چلاتے ہوئے دیکھ پریشان ہوئ
“کیا بات ہے تم نے چشمہ اور یہ لمبا کوٹ کیوں پہن رکھا ہے؟”
پلیز میری مدد کرو ۔۔مجھے بہت پیاس لگی ہے شیزہ تھکے انداز میں بولی ۔۔عروج نے سر ہلایا اس کا بیگ اٹھایا اور آہستہ آہستہ اسے اپنے کمرے میں لے گئی۔ اس نے اسے صوفے پر بٹھایا اور پانی لینے کچن میں چلی گئی..
شیزہ نے صوفے سے ٹیک لگائے سکون کا سانس لیا
“کیا ہوا؟ تم کچھ بول کیوں نہیں رہی؟” ساتھ والی سیٹ پر بیٹھی عروج پریشانی سے بولی
کیا کوٹ اتارنے میں تم میری مدد کرو گی میرے جسم میں آگ لگی ہوئ ہے شیزہ کراہتے ہوئے بولی ۔۔
عروج جلدی سے اس کے پاس گئ اور کوٹ اتارنے میں اس کی مدد کی ۔۔کوٹ اتارتے ہی عروج چیخی پڑی ۔۔۔یہ سب کیا ہے شیزہ ۔۔۔
شیزہ کی آنکھوں میں پانی بھر آیا اس نے گہرا سانس لیا اور اس کی جانب دیکھا
“تمہیں کیا ہوا، تمہاری جلد پر یہ بدصورت نشانات اور خراشیں کیوں ہیں؟” عروج اس کی آنکھوں سے آنسو صاف کرتے ہوئے بولی ۔۔
یہ کچھ نہیں ہے شیزہ کی آنکھیں پھر پانی سے بھر آئ۔۔۔
“کچھ نہیں؟!.. شیزہ یہ بہت زیادہ ہے!!.. کیوں؟ تم نے اس کے ساتھ ایسا کیا کیا، جس کی وجہ سے اس نے تمہارے ساتھ ایسا کیا؟… کیا؟!”
عروج اپنی جگہ سے کھڑی ہو کر چیخی
اس کے کپڑے میں یہاں بھول گئ تھی اور وہ غصہ میں آ گیا تم اس کے غصے کا نتیجہ دیکھ سکتی ہوں
شیزہ بہت اطمینان سے بولی ۔۔
ولید پاگل ہے۔۔ وہ تمھیں کپڑوں کی وجہ سے کیسے مار سکتا ہے؟!..وہ بھی ایک پریگنیٹ عورت پر کیسے ہاتھ اٹھا سکتا ہے ۔۔امید ہے بچہ کو کچھ نہیں ہوا ۔۔عروج شیزہ کی طرف دیکھتے ہوئے اپنی بات کی تصدیق کرنے لگی لیکن شیزہ کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے ۔۔
رکو۔۔یہ مت کہنا کہ تم نے اسے کھو دیا عروج اپنی کمر پر ہاتھ رکھے بولی
شیزہ نے ہاں میں سر ہلایا رونے کی وجہ سے اس کے منہ سے ایک الفاظ بھی نہیں نکل پا رہا تھا
یہ اس نے کیا کیا ۔۔چاہے تمہیں اچھا لگے یہ نہ لگے میں ابھی پولیس کو کال کرتی ہوں عروج اپنا فون پکڑتے ہو بولی ۔۔
نہیں۔۔۔شیزہ اس سے فون چھیننے کے لیے مشکل سے کھڑی ہوئ ۔۔
شیزہ تم ٹھیک ہوں ۔عروج اسے کھڑے ہوتا دیکھ بھاگتے ہوئے اس کے پاس آئ ۔۔۔
شیزہ نے اس کے ہاتھ سے فون لے کر میز پر گرا دیا ۔۔
“میں ٹھیک ہوں، کسی کو فون مت کرنا پلیز۔
“کوئی بھی عورت اس شیزہ کی مستحق نہیں ہے، تم اپنی شادی کے پانچ سالوں میں پچھلے تین سالوں سے اس کا سامنا کر رہی ہوں ۔
اور میں صرف اس لیے خاموش ہوں کہ تمہیں یقین تھا کہ وہ ایک دن ضرور بدل جائے گا لیکن تم یہ کیوں نہیں دیکھ رہی ولید تم سے بہت دور چلا گیا ہے وہ اب کبھی نہیں بدل سکتا ۔۔۔
تم طلاق کے لیے کیوں فائل نہیں کرتی ۔۔
اس نے تمہیں ماڈلنگ کرنے منع کر دیا تمہاری کمپنیوں میں تمہاری جگہ کوئ اور کام کر رہے ہیں تمہارے پاس بہت سی کمپنیاں ہے جو تمہیں تمہارے ڈیڈ سے وارثت میں ملی ہیں تمہارے پاس گھر، کاریں اور بہت کچھ ہے… ساری زندگی آرام سے گزار سکتی ہوں ۔۔
پھر تم اس آدمی کا ظلم کیوں برداشت کر رہی ہوں کیوں اس کے ساتھ تعلق ابھی بنائے رکھنا چاہتی ہوں ۔۔کیوں۔۔۔
میں اس سے پیار کرتی ہوں اور مجھے یقین ہے وہ ایک دن ضرور بدل جائے گا میں اس سے ہر گز دستبردار نہیں ہوں
اس کی وجہ سے خود کو مارو گی عروج کاٹتے ہوئے بولی
میں طلاق نہیں لے سکتی اس سے میں ایسا نہیں کرو گی ولید میرے پاس واپس آئے گا میں جانتی ہو وہ ضرور میرے پاس آئے گا
اللہ جاوید اور اس کے ساتھی کو اپنے مقصد میں ہر گز کامیاب ہونے نہیں دے گا میں ولید کے ساتھ ہی رہو گی اگر وہ مجھے مارنا چاہتا ہے تو پھر اسے مجھے مارنے دو ۔۔لیکن وہ میرے پاس تو ہے شیزہ اپنے آنسو پوچھتے ہوئے بولی
کیا تم میری مدد کر سکتی ہوں شیزہ عروج کی جانب ہاتھ بڑھاتے ہوئے بولی
ہاں میں تمہاری مدد کرو گی عروج اس کے ہاتھ کے اوپر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے بولی ۔۔
اس سے پہلے شیزہ کچھ بولتی ایک ناقابل برداشت درد اس کے پیٹ سے اٹھی شیزہ کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا اور وہ بے ہوش ہو گئ ۔۔
****
