Bharosa By Zaisha Khan Readelle50264 Bharosa (Episode 04)
Rate this Novel
Bharosa (Episode 04)
Bharosa By Zaisha Khan
کہاں ہوں تم ؟؟
میں گھر پر ہوں ۔۔کیوں کیا ہوا۔۔وہی رہنا میں تمہارے گھر آ رہا ہوں ولید موبائل کان سے ہٹائے دوسری سیٹ پر پھینکے گاڑی بلال کے گھر کی طرف موڑ گیا ۔۔۔
ولید کے دماغ میں لیلہ کی باتیں ابھی بھی گردش کر رہی تھی ۔۔
کیا واقعی ۔۔میں غلطی پر تھا لیکن میں تو یہ سب بس اپنی بیوی کو قابو رکھنے کے لیے کر رہا تھا
میں مانتا ہوں میں ابھی بھی اس سے محبت کرتا ہوں ۔۔
پیچھلے تین سالوں سے اس نے ہر چیز پر قابو پانے کی کوشش کی تھی لیکن جب بھی شیزہ کو دیکھتا تھا یہ خیال اس کے ذہن میں سوار ہو جاتا تھا کہ اس کہ کسی دوسرے شخص کے ساتھ افئیر تھا یہ سوچ اسے پاگل کر دیتی تھی۔۔۔
مجھے بلال سے بات کرنی ہو گئ ۔۔۔ولید سوچوں میں گم تھا کہ اس کی فون کی گھنٹی بجی ۔۔فون کی گھنٹی نے اسے خیالات سے باہر نکالا ۔۔۔
ولید نمبر دیکھے بنا یس کیے فون کان کے ساتھ لگا گیا
“ہیلو”
ولید ۔۔تم کہاں ہو۔۔۔
تمہیں جلدی آنا ہو گا ۔۔
عروج کیا ہوا ہے تم اتنی پریشان کیوں ہوں ولید آواز پہنچاتے ہوئے بے تابی سے بولا ۔۔
شیزہ ہسپتال میں ہے ۔۔اور وہ بے ہوش ہے ۔۔اور ڈاکٹر اسے ۔۔مجھے ایڈریس دو ولید اس کی بات کاٹتے ہوئے چیخا۔۔
عروج اسے ایڈریس بتائے فون رکھ گئ ۔۔
ولید نے ہسپتال کی طرف یو ٹرن لیا ۔۔
ولید جلدی سے ہسپتال پہنچا ریسپشن سے شیزہ کا پوچھے اس کی طرف بھاگا ۔۔
” یا الله!”
ولید جیسے ہی روم میں پہنچا شیزہ کو بستر پر بے ہوش پڑا دیکھ ہانپ گیا عروج کو نظر انداز کئے شیزہ کی جانب بڑھا ۔۔۔
ولید شیزہ کے پاس کھڑا اس کے جسم پر موجود کئی رنگوں کے نشانات کو افسوس سے دیکھنے لگا ۔۔اسے خود پر غصہ آیا ۔۔
شیزہ کی رنگت پیلی پڑ چکی تھی اور اس کے گال پر سرخ ہاتھ کا نشان صاف نظر آ رہا تھا
ولید کی آنکھوں سے آنسو نیچھے گرے اس یقین نہیں ہو رہا تھا کہ ان سارے نشانوں اور زخموں کا ذمہ دار وہ تھا ۔۔۔
جتنے درد میں وہ تھی اس کا صرف اندازہ لگا یا جا سکتا تھا
تم ایک جانور بن چکے ہوں تمہیں اس پر رحم نہیں آیا ۔۔عروج کی آواز پر ولید پیچھے مڑا ۔۔
کیا ہوا ہے اسے ۔۔۔
یہ تم مجھ سے پوچھ رہے ہو ۔۔۔یہ سب تمہاری غلطی ہے یہ تمہارے ہینڈ ورک کا نتیجہ ہے عروج نفرت سے بولی ۔۔
دیکھو ۔عروج میں جانتا ہوں کہ تم مجھ سے بہت نفرت کرتی ہوں لیکن کیا تم اس نفرت کو اس وقت ایک طرف رکھ کر بتا سکتی ہوں کہ میری بیوی کو کیا ہوا ہے
“اوہ اب وہ تمہاری بیوی ہے؟!..
تم ایک شیطان ہوں پاگل درندے ہوں تم جیل میں سڑنے کے مستحق ہوں عروج کی آنکھوں سے آنسو گر پڑے ۔۔
میں مانتا ہوں میں نے اس کے ساتھ غلط کیا ہے لیکن۔۔۔اس سے پہلے ولید کچھ اور بولتا روم کا دروازہ ایک دم سے کھولا ۔۔
ایک لیڈی ڈاکٹر روم میں داخل ہوئ دونوں اس کی طرف متوجہ ہوئے ۔۔
ڈاکٹر دونوں کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگی ۔۔
یہ اس پیشنٹ کے شوہر ہے لیڈی ڈاکٹر عروج کی طرف دیکھتے ہوئے اپنی بات کی تصدیق کرنے لگی ۔۔
عروج نے ہاں میں سر ہلایا ۔۔۔
“ڈاکٹر پلیز… میری بیوی کیسی ہے، کیا وہ ٹھیک ہے؟”
ولید پریشانی سے بولا ۔۔
مسٹر ولید میں پہلے آپ سے کبھی نہیں ملی لیکن آپ کی بیوی پیچھلے کچھ سالوں سے میری پیشنٹ ہے اس کی حالت واقعی خراب ہے اسے بہت تیز بخار
، کچھ معمولی چوٹیں ہیں لیکن ان میں سے اکثر واقعی سنگین ہیں خاص طور پر اس کی رانوں اور پیٹھ پر، اس کی کچھ پسلیاں ٹوٹ گئیں، اور مجھے ڈر ہے کہ شاید اسے ‘جسمانی طور پر’ ٹھیک ہونے میں کچھ وقت لگے،
“اور ایک اور بات، انہوں نے اپنا بچہ کھو دیا ہے اگر اگلی بار ایسا کچھ ہوا تو یہ دوبارہ کبھی ماں نہیں بن پائے گئ ۔۔
ڈاکٹر کی آواز سنے ولید وہی جم گیا ۔۔
ڈاکٹر یہ آپ کیا کہہ رہی ہے بچہ۔۔۔ولید کو اپنے کانوں پر یقین نہیں ہو رہا تھا ۔۔۔
کیا آپکو معلوم نہیں تھا ۔۔آپکی کی بیوی پیچھلے ایک ماہ سے پریگنیٹ تھی ۔۔ڈاکٹر سنجیدگی سے بولی
” شیزہ پریگنیٹ تھی، کیسے؟ کب؟” ولید ہکلایا
ولید نے اپنے پیچھے کھڑی عروج کی جانب دیکھا ۔۔
مجھے ابھی اپنے دوسرے مریضوں کو چیک کرنا ہے، اگر آپ کو میری ضرورت ہو تو میں اپنے کیبن میں ہوں گی .. اور مسٹر ولید ، میرے پاس کچھ کاغذات ہیں۔جس پر آپکو سائن کرنے ہیں
ڈاکٹر پیشہ ورانہ انداز میں بولی اور باہر چلی گئی۔
بس دعا کرو ولید اسے کچھ نہ ہو ورنہ خدا کی قسم میں تمہیں اپنے ہاتھوں سے مار ڈالوں گی ۔۔
میں حیران ہوں کہ شیزہ نے کیسے سوچ لیا کہ تم بدل جاو گئے میرا تو تمہیں دیکھنے کا دل بھی نہیں کرتا ۔۔
عروج کہے شیزہ کے پاس رکھی کرسی پر غصے سے جا بیٹھی
ولید زمیں کو ہی گھورتا رہا ۔۔
شیزہ پریگنیٹ تھی اس نے مجھے بتایا کیوں نہیں
میں نے اپنے بچے کو مار ڈالا کتنا بد نصیب باپ ہوں میں۔۔۔
میں نے صرف اپنی بیوی کے ساتھ زیادتی نہیں کی بلکہ میں نے اپنے بچے کو بھی مار ڈالا ہے
ولید آہستہ آہستہ کمرے سے باہر نکلا ۔۔
سب پیپر سائن کئے رقم جمع کروائے ہسپتال سے باہر اپنی گاڑی کی طرف بڑھا ۔۔۔
****
ولید بلال کے گھر پہنچا اس سے مصافحہ کئے اندر داخل ہوا ۔۔
سامنے دانیال کو صوفے پر بیٹھا دیکھ ولید شاک ہوا اس کے خیال سے دانیال ملک سے باہر تھا اگر عام حالات ہوتے تو ولید اس سے گرم جوشی سے ملتا
ولید دانیال سے گلے ملے کمرے میں ٹہلنے لگا
“بھائی کیا ہوا، تم نے میرے سلام کا جواب نہیں دیا۔”
اگر تم مجھ سے ناراض ہوں کہ میں نے تمہیں آنے کی خبر نہیں دی تو مجھے معاف کرنا میں تمہیں سرپرائز دینا چاہتا تھا لیکن مجھ لگ رہا ہے کہ تم مجھے دیکھ کر خوش نہیں ہوئے دانیال صوفے پر بیٹھتے الجھتے ہوئے بولا
دونوں ولید کو پریشان کمرے میں ٹہلتا ہوا دیکھ رہے تھے ۔۔
بلال تم نے تو کہا تھا یہ طریقہ کام کرے گا اسے قابو کرنے کے لیے پیچھلے تین سالوں سے میں یہی کرتا آیا ہوں لیکن دیکھو اس نے مجھے کہا پہنچا دیا ہے وہ نہ صرف ہسپتال میں ہے بلکہ بہت درد میں مبتلا ہے میں نے اپنے بچے کو مار دیا صرف تمہارے احمقانہ مشوروں کی وجہ سے ولید بلال پر چیخا ۔
دانیال ولید کی باتیں سن کر الجھ گیا
تم دونوں کیا کر رہے ہو دانیال بلال کے سامنے کھڑے ہوئے بولا۔۔
ولید چلو پرائیویٹ بات کرتے ہیں ۔۔
بلال ہڑبڑا کر بولا ۔۔
تو یہ بات ہے تم دونوں اب مجھ سے باتیں بھی چھپانے لگے ہوں دانیال ولید کی جانب دیکھتے ہوئے بولا ۔۔۔
ولید چلو اوپر چلتے ہیں بلال ولید کو گھسٹنے کی کوشش کرتے ہوئے اوپر لے جانے لگا ۔۔
ولید اس سے اپنا آپ چھوڑائے دانیال کے آگے جا کر کھڑا ہو گیا
دانیال کو سب کچھ جاننے کا پورا حق ہے اور میں اسے سب کچھ بتاوں گا
نہیں ولید تم اسے بس الجھاو گئے کہانی بہت لمبی ہے تم ابھی اسے کچھ نہیں بتا سکتے بلال غصے کے عالم میں بولا
دانیال پیچھلے تین سالوں سے میں شیزہ پر ظلم کر رہا ہوں اپنے ان ہاتھوں سے اسے مارتا ہوں تاکہ وہ میرے قابو میں رہیں ۔۔
دانیال چونک گیا ۔۔
ولید نے بلال کو نظر انداز کئے دانیال کو ساری کہانی بتا دی
دانیال نے غصے سے ولید کے منہ پر ایک زوردار تھپڑ مارا ولید کو ذرا بھی خیرانگی نہیں ہوئ اس نے کام ہی اتنا گرا ہوا کیا تھا
تم اتنے بے وقوف کیسے ہو سکتے ہوں دانیال ولید کے گریبان پکڑ کر چلایا ۔۔
ایک آدمی نے تمہیں اپنی بیوی کو مارنے کا مشورہ دیا اور تم نے اس پر عمل بھی کر لیا تم ایک بہت بڑے احمق انسان ہوں میری سوچ سے بھی زیادہ احمق نکلے تم تو ۔۔
تم نے مجھے بہت مایوس کیا ہے ولید میں تو سمجھتا تھا تم بہت ہوشیار ہوں ۔۔لیکن میں غلط تھا ۔۔
بلال نے تمہیں تمہاری بیوی سے بدلہ لینے کے لیے استعمال کیا ہے ولید نے اپنے پاس کھڑے بلال کی طرف دیکھا ۔۔
تم یہ کیا کہہ رہے ہوں ۔۔ولید الجھتے ہوئے بولا ۔
بلال نے دانیال کو اپنی آنکھوں کے اشارے سے چپ رہنے کی التجا کی ۔۔۔
میں خیران ہوں تم ابھی بھی اس بات سے لاعلم ہوں کہ بلال شیزہ کے لیے احساسات رکھتا ہے اس دن سے جب اس نے شیزہ کو شادی پر دیکھا تھا
اور اسی وجہ سے اس نے ہمیشہ اسے حقیر سمجھا ہے۔ پہلے تو میں نے سوچا کہ یہ صرف اس کا فتور ہے اور کچھ نہیں لیکن میں غلط ثابت ہوا جب میں نے اسے تمہاری شادی کے دو سال بعد اسے تمہاری بیوی کے ساتھ بدتمیزی کرتے ہوئے دیکھا ۔۔
اس دن جب تم نے ہم سب کو کھانے پر بلایا تھا ۔۔
کھانے کے بعد عروج اور شیزہ کیچن صاف کرنے چلی گئ تھی اور کچھ دیر بعد بلال بھی وہاں سے غائب ہو گیا تھا ۔۔
کافی دیر اس کا انتظار کرنے بعد میں بھی اس کے پیچھے گیا اور میں نے وہاں اسے تمہاری بیوی کے ساتھ بدتمیزی کرتے ہوئے دیکھا اس سے پہلے میں کچھ کرتا شیزہ نے ایک زور دار تھپڑ اسے چہرے پر مارا ۔۔اور بلال نے اسے برباد کرنے کی دھمکی دی
اور تم نے وہی کیا جو وہ چاہتا تھا اس نے تمہیں ہی استعمال کیا اسے برباد کرنے کے لیے ۔۔ اور تم نے کیا کیا اپنی بیوی اور اپنے ہی گھر کو برباد کر دیا ۔۔
مجھے یقین ہے کہ بلال نے ہی اس لڑکے کو بھیجا ہو گا ۔۔
شیزہ بے قصور ہے اس کی بس اتنی غلطی ہے کہ وہ اس کے فریب میں آ گئ اور تم اس پر بھروسہ کرنے کی بجائے اس دیوانے کی چال میں پڑ گئے
مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ تم نے مجھے اس بارے میں پچھلے تین سالوں سے کیوں نہیں بتایا!، سچ پوچھو تو میں تم سے بہت مایوس ہوں!”
دانیال ولید کی طرف دیکھتے بولا ۔۔
“تو یہ تم تھے؟!” ولید غصے سے بلال کی طرف دیکھتے ہو بولا
“ہاں یہ میں ہی تھا! چلو یہ سب بھول جاتے ہیں بلال باہر کی طرف بڑھا ولید کے سینے میں آگ لگی ہوئ تھی اس کی آنکھیں غصے سے سرخ ہو چکی تھی
ولید غصے سے بلال کو کالر سے پکڑے وہی درد دینا چاہتا تھا جو اس کی بیوی پیچھلے تین سالوں سے سہا تھا ۔۔۔
****
