63.3K
10

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bharosa (Episode 09)

Bharosa By Zaisha Khan

شیزہ کی ساس لبوں پر مسکراہٹ سجائے اس کے گلے لگی ۔۔۔

کیسے ہوں تم دونوں لو برڈز اسے گلے سے لگائے لیونگ روم کی جانب چلتی ہوئ بولی ۔۔

اگر شیزہ صدمے میں نہ ہوتی تو اپنی ساس کی اس بات پر ضرور شرما جاتی ۔۔۔

شیزہ انہیں دیکھ خیران ہوئ کیونکہ جو بھی مہمان آتا تھا گارڈ پہلے انہیں انفارم کرتا تھا پھر اندر بھیجتا تھا ۔۔

شیزہ کی ساس ایک اچھی خاتون تھی اس کے والدین کی وفات کے بعد اس کی ساس نے ایک ماں کی طرح اس کا خیال رکھا تھا اسے ماں جیسا پیار دیا تھا شیزہ بھی ان سے بہت پیار کرتی تھی

لیکن اس وقت ان کی ٹائمنگ بلکل غلط تھی ،وہ ہر گز نہیں چاہتی تھی کہ ولید اور اس کی طلاق کا ان کو پتہ چلیں وہ انہیں دکھی نہیں کرنا چاہتی تھی ۔

ماں ۔۔آپ یہاں کیسے آئیں ولید لیونگ روم میں داخل ہوئے بولا۔۔

میں یہاں اپنی دوست سے ملنی آئ تھی تو سوچا تم لوگوں سے بھی ملتے چلو تم لوگ تو گھر آتے نہیں تو میں نے سوچا میں ہی مل آو ۔۔۔

لیکن تم لوگوں کے چہروں سے دیکھ کر لگ رہا ہے کہ میرا یہاں آنا تم لوگوں کو پسند نہیں آیا ۔۔

اس نے ڈرامائی انداز میں آہ بھری اور وہاں سے جانے کے لیے مڑی۔

“آہ، ماما نہیں، پلیز اندر آجائیں.. ولید کی بات کا وہ مطلب نہیں تھا شیزہ انہیں بازو سے پکڑتے ہوئے ولید کو آنکھیں پھاڑے گھورنے لگی

ماما ایسی بات نہیں ہے میں آپکو اتنی صبح یہاں دیکھ کر خیران ہو گیا تھا آپ یہاں بیٹھے میں آپ کا کمرہ سیٹ کروا دیتا ہوں اور کھانا بھی ۔۔ولید لبوں پر مسکراہٹ سجائے انہیں پکڑے صوفے پر لے جا کر بیٹھا ۔۔

اتنی صبح کب ہے گیارہ بج گئے تم ایسے صبح کہتے ہوں

اس نے اپنے بیٹے کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا جو اس کے پاس بیٹھا ہوا تھا ۔۔

“واقعی؟” ولید وال کلاک کو دیکھنے لگا سچ میں گیارہ بج رہے تھے

“اللہ کا شکر تھا کہ ہفتہ تھا ورنہ اسے احساس تک نہیں ہوا کہ وقت اتنی آگے کیسے نکل گیا ” اس نے گہری سانس بھری۔

میں نے تم دونوں کو آنے سے پہلے انفارم اس لیے نہیں کیا کیونکہ میں تم دونوں کو سرپرائز دینا چاہتی تھی ۔۔اور میں یہاں رہنے کے لیے نہیں آئ میں تو بس تم دونوں سے ملنے آئ تھی

’’تو تم دونوں کیسے ہو؟‘‘

“ہم.. ہم اچھے ہیں” ولید اپنے ساتھ بیٹھی ہوئ شیزہ کا ہاتھ پکڑتے ہوئے بولا۔۔

شیزہ اپنی ساس کو دیکھتے ہوئے ہلکا سا مسکرائ ان کے سامنے وہ اپنا ہاتھ چھوڑا بھی نہیں سکتی تھی

ہم دونوں بلکل ٹھیک ہے شیزہ میرا بہت خیال رکھتی ہے اور میں اس سے اس سے زیادہ کی خواہش نہیں کر سکتا ” ولید شیزہ کی کمر میں ہاتھ ڈالے اس کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے بولا ۔۔

شیزہ نے اپنے لبوں پر مصنوعی مسکراہٹ سجائے اس کے کندھے پر زور سے چٹکی ماری ۔۔

آہ۔۔۔ولید اپنی آواز وہی دبا گیا شیزہ ایک اور چٹکی مارے مسکرا گئ ۔۔ اور آنکھوں سے اسے باز رہنے کی دھمکی دینے لگی ۔۔

ماما میں ابھی آپ کے کھانے کا انتظام کرتی ہو شیزہ اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے بولی ۔۔

اس کی ضرورت نہیں ہے مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے

****

شیزہ تم کیسی ہوں ۔۔دیکھوں سچ سچ بتانا ۔۔

میں ٹھیک ہوں ماما

تمہارا اور ولید کا رشتہ کیسا جا رہا ہے

وہ بھی ٹھیک ہے شیزہ اپنی نظریں اردگرد گھومائے بولی۔۔

ولید نے مجھے سب کچھ بتا دیا ہے مجھ سے جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں ہے

شیزہ نے گہری سانس بھری ۔۔

جو کچھ بھی ہوا بہت بڑا ہوا اس کی ساس اس کے ہاتھ پر دباو ڈالے بولی ۔۔۔

ہماری شادی کہ پہلے دو سال بہت اچھے تھے سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا ۔۔لیکن پیچھلے تین سال وہ میری زندگی کے سب سے درد ناک سال تھے ۔۔

بلال نے کسی کو بھیجا جس نے دعوی کیا کہ میرا اس کے ساتھ کوئی تعلق ہے، ولید نے آپکو اس کے بارے میں سب کچھ بتایا ہو گا ۔۔

“اس رات جب وہ واپس آیا تو اس نے مجھ سے بات کئے بنا ہی مجھے مارنا پیٹنا شروع کر دیا اور اس طرح یہ سب شروع ہوا،

لیکن میں نے اس سے ہمت نہیں ہاری، میں اس امید پر دعا کرتی رہی کہ وہ بدل جائے گا، وہ ایک اچھا انسان بن جائے گا جس سے میں نے شادی کی تھی.. لیکن اس نے ایسا نہیں کیا” شیزہ نے آنسوؤں کو جھپکتے ہوئے اپنے گالوں پر گرا دیا۔

لیکن میری بس تب ہو گئ جب اس نے ہمارے بچے کو مار دیا

کیا آپ یقین کر سکتی ہیں کہ میں دو ہفتے ہسپتال میں داخل تھی اور میرے شوہر نے مجھ سے ملنے کی زحمت نہیں کی؟، وہ صرف پہلے دن آیا بل کی ادائیگی کئے واپس چلا گیا ۔۔

عروج نے مجھ سے بہت اصرار کیا کہ میں اس پر گھریلو تشدد کا مقدمہ کروں ۔

آپ جانتی ہے میری حالت کیسی تھی میرے جسم پہ جگہ جگہ نیل پڑے ہوئے تھے میری پسلیاں ٹوٹ گئ تھی لیکن میں نے اس کے خلاف کوئ رپورٹ نہیں کروائ ۔۔

مجھے طلاق واحد ایک بہتر حل نظر آیا ۔۔میں اسے جیل میں جاتا ہوا نہیں دیکھ سکتی تھی کیونکہ میں ابھی بھی اس سے پیار کرتی ہوں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں اس نے جو میرے ساتھ کیا میں وہ بھول جاوں

ماما اگر آپ مجھے طلاق نہ لینے کا مشورہ دینے آئ ہے تو مجھے افسوس ہے میں ایسا نہیں کر سکتی ۔۔. میں نے کبھی آپ کی نافرمانی نہیں کی، لیکن پلیز مجھے سمجھنے کی کوشش کریں.. ہماری شادی پہلے ہی ٹوٹ چکی ہے، اس رشتے میں اب کچھ نہیں بچا میں اس کھوکھلے رشتے کو بچاتے بچاتے تھک چکی ہوں ۔۔

میں یہاں تمہیں روکنے کے لیے نہیں آئ

، یہ مکمل طور پر تم پر منحصر ہے، یہ تمہاری مرضی ہے کہ تم کیا چاہتی ہوں۔۔

جب ولید پچھلے ہفتے مجھے سب کچھ بتانے کے لیے گھر آیا تو میں واقعی پاگل ہو چکی تھی، خوش قسمتی سے اس کے والد اس وقت آس پاس نہیں تھے۔ میں نے اسے کئی تھپڑ مارے تھے، کیونکہ میں نے اسے کسی بھی وجہ سے کسی عورت کو مارنے کی تربیت نہیں دی تھی، میں نے اسے اپنے بچوں میں سب سے بڑا اور چھوٹے بچوں کو اچھے اخلاق اور اقدار کی پرورش کی تھی۔ میں بہت پاگل ہو گئ تھی جب اس نے سب کچھ مجھے بتایا ۔۔

، اس حقیقت کے باوجود کہ وہ رو رہا تھا، میں نے اس کی غلطیوں کی نشاندہی کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔ لیکن جو بات مجھے سمجھ نہیں آئی وہ یہ ہے کہ تم میرے پاس کیوں نہیں آئی۔‘‘

“میں تمہاری سگی ماں نہیں ہو سکتی، لیکن میں پھر بھی تمہاری ماں ہوں، میں اسی دن تمہاری ماں بن گئی تھی جس دن تم نے میرے بیٹے سے شادی کی تھی، تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا کہ کیا ہو رہا ہے؟،

تین سال، تین سال سے؟ ! تم نے مار پیٹ برداشت کی، تم مجھے بتا نہیں سکی!، تم مجھ پر اعتماد نہیں کر سکی.. سچ میں بہت مایوس ہوں تم نے مجھے اس قابل بھی نہیں سمجھا کہ مجھے اپنی تکلیف بتا سکوں

ایسی بات نہیں ہے ماما میں نے سوچا وہ بدل جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا شیزہ اپنی آنکھوں سے آنسو صاف کئے بولی

جو بھی ہوں ،لیکن ولید تم سے بہت پیار کرتا ہے اور میرے خیال سے تم بھی یہ بات اچھے سے جانتی ہوں

“لیکن فیصلہ تمہارا ہو گا میری بچی ، تم جو بھی فیصلہ کرو ، یاد رکھنا میں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں.. ٹھیک ہے؟”

یہاں آو ۔۔۔اس کی ساس اپنے بازو پھیلائے اسے اپنے پاس بلانے لگی ۔۔

شیزہ ایک سکینڈ ضائع کئے بنا ان کے گلے لگ گی

*****

ایک ہفتہ بعد

تمہیں اپنے فیصلے پر یقین ہے ۔تم ہار مان رہے ہوں

دانیال صوفے سے ٹیک لگائے اس کی جانب دیکھتے ہوئے بولا۔۔

میں پیچھلے دو ماہ اور تین ہفتوں سے اسے منانے کی کوشش کر رہا ہوں

لیکن وہ طلاق پر دستخط کرنے پر بضد ہے ایسی سیچویشن میں مجھے پھر کیا کرنا چاہیے میں اسے زبردستی اپنے پاس نہیں روک سکتا اور نہ ہی میں ایسا کرنا چاہتا ہوں اب جیسا وہ چاہے گئ ویسا ہی ہو گا اسے مجھ سے طلاق چاہیے ایسا ہی ہو گا میں اسے ہمیشہ کے لیے آزاد کر دو گا میں مزید اسے دکھ نہیں دے سکتا اس کی خوشی کے لیے میں کچھ بھی کرو گا ۔۔۔

ولید سرد آہ بھرے اپنی نظریں ٹی وی کی جانب مرکوز کر گیا ۔۔

“تو ٹھیک ہے، تم جو چاہو کر سکتے ہو، یہ تمہارا فیصلہ ہے میرا نہیں ہے۔” دانیال صوفے پر آرام سے بڑبڑایا۔

بلکل ۔۔ اب دھیان سے فلم دیکھوں ولید بھی اسی انداز میں بولا۔۔

کیا تم واقعی میں فلم دیکھ رہے ہوں دانیال اس کی جانب دیکھ مسکرایا ۔۔

دانیال یار کیا مسلہ ہے ولید اس کو اپنی جانب دیکھ ہلکا سا مسکرایا ۔۔

یار اس فلم میں ہیروئین کتنی ہوٹ ہے اس کی ٹانگیں دیکھو دانیال اپنی نظریں ٹی وی پر گاڑے بولا

مجھے لگتا ہے تم بھول گئے ہوں کہ تمہاری منگنی ہو چکی ہے وہ بھی عروج سے اگر اسے پتہ چل گیا تم ٹی وی پہ موجود ہیروئین کو کن نگاہوں سے دیکھتے ہوں تو وہ تمہیں زندہ دفن کر دے گی

ولید آئ برو اچکائے بولا۔۔۔

بلکل۔۔۔اللہ کا شکر ہے کہ وہ یہاں نہیں ہے دانیال ہنستے ہوئے بولا۔۔۔

دونوں ابھی باتیں ہی کر رہے تھے کہ دروازے کھولنے اور بند ہونے کی آواز آئ ۔۔

اس سے پہلے دونوں باہر کی جانب بڑھتے شیزہ لیونگ روم میں داخل ہوئ ۔۔۔

میں تمہاری لیے ایک سرپرائز لائ ہو شیزہ ولید کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالی بولی ۔۔

دانیال اس کی جانب دیکھ کر ہلکا سا مسکرایا۔۔

“دیکھو میرے ساتھ کون آیا ہے چلو باہر آ جاوں شرماوں مت ۔۔۔

شیزہ دروازے کی جانب دیکھنے لگی ۔۔

جب وہ سامنے آیا تو ولید کے تن بدن میں آگ لگ اس کا غصہ ساتوے آسمان کو چھونے لگا ۔۔ولید غصے سے اس کی جانب لپکا ۔

پیچھے ہٹو شیزہ ولید کو پیچھے دھکیلتے ہوئے چلائ ۔۔

ولید غصے سے اپنی ہاتھ کی موٹھیاں بنائے واپس اس کی جانب لپکا ۔۔

میں نے کہا پیچھے ہٹو شیزہ اسے دوبارہ پیچھے دھکا دیے درمیان میں کھڑی ہو گئ ولید اپنی جگہ رک گیا ۔۔

دانیال الجھن میں کھڑا ہو کر یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا

اتنا غصہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے جاوید ہم سے کچھ کہنا چاہتا ہے مجھے لگتا ہے اس بار اس کے پاس کچھ اچھا کہنے کو ہو گا ۔۔جس سے تمہیں کسی دوست کے مشورے کی ضرورت نہیں پڑے گئ اور نہیں ہی مجھے مارنے کی وجہ ۔۔

شیزہ جاوید کی طرف دیکھنے سے پہلے ولید کی جانب دیکھ کر ہلکا سا مسکرائ ۔۔۔۔

“جاؤ، اسے بتاؤ جو تم نے مجھے کچھ لمحے پہلے کہا تھا” شیزہ جاوید کی جانب دیکھتے ہوئے بولی ۔۔

“مجھے افسوس ہے جناب، میں آپ سے معافی مانگنے آیا ہوں، میں آپ کو اور آپ کی اہلیہ کی پریشانیوں کے لیے معذرت خواہ ہوں جناب، یہ بلال تھا جس نے مجھے ایسا کرنے پر مجبور کیا، اس نے مجھے آپ کی بیوی کو فریم کرنے کے لیے مجھے کافی رقم دی تھی

اس دن سے میری زندگی پہلے جیسی نہیں رہی، سب کچھ الٹ پلٹ ہو گیا یہاں تک کہ جو لوگ میری مدد کرتے تھے انہوں نے بھی مجھ سے منہ موڑ لیا، معاف کر دیں۔ جناب یہ شیطان کا کام تھا.. میرا یہ کام نہیں تھا..

” تم جانتے ہوں تم نے کیا کیا ۔۔تم نے سب کچھ برباد کر دیا، میرا گھر، میری شادی! سب کچھ!.

تمہاری لالچ کی وجہ سے تمہارے جھوٹے الزام کی وجہ سے میں نے اپنی بیوی پر شک کیا اسے بنا وجہ کی اذیت دی اسے مارا پیٹا کیا تم وہ سب بدل سکتے ہوں ولید اسے مارتے ہوئے بولتے جا رہا تھا دانیال اسے جاوید سے دور کرنے کی کوشش میں ہلکان ہو گیا تھا

“چھوڑو مجھے دانیال، مجھے اس کمینے کو مارنے دو!” ولید چیختے ہوئے بولا اور اپنے آپ کو دانیال کی سخت گرفت سے چھوڑانے کی کوشش کرنے لگا

خدا کا واسطہ ہے یہ مار پیٹ بند کرو شیزہ ایک دم سے چلائ ۔۔

تم کیا اسے مار ڈالو گئے شیزہ جاوید کی طرف دیکھنے لگی جو نیچے فرش پر پڑے کراہ رہا تھا

اب تم اسے مار کر ایک قاتل کی بیوی کا لیبل میرے سر لگانا چاہتے ہوں تو ٹھیک ہے جو دل میں آئے وہ کروں شیزہ اسے چھوڑوں وہاں سے نکل گئ

شیزہ میری بات سنو دانیال اسے جاتا دیکھ چلایا ۔

دانیال اسے اکیلا چھوڑ دو اگر یہ اس لڑکے کو مارنا چاہتا ہے تو مارنے دو مجھے کوئ فرق نہیں پڑتا ۔۔

شیزہ کہے وہاں سے نکل گئ ۔۔۔

****