63.3K
10

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bharosa (Episode 07)

Bharosa By Zaisha Khan

ایک مہینے بعد ۔۔۔

میں تنگ آ چکی ہوں ولید میری زندگی کو مزید تنگ کر رہا ہے وہ مجھ سے معافی مانگنے کا ،بات کرنے کا ، میرے قریب آنے کا ایک بھی موقع نہیں چھوڑتا ۔۔

اگر اسے ایسا لگتا ہے کہ برسوں تک مجھے تکلیف دینے کے بعد میں اسے معاف کر دو تو بھول ہے اس کی شیزہ غصے سے لال ہوئ بولی ۔۔۔

شیزہ یار تم کیوں ٹینشن لے رہی ہو تم بس ہمت بنائے رکھو ایک مہینہ گزر گیا ہے صرف دو مہینے باقی رہ گئے ہیں وہ بھی گزر جائے گئے ۔۔

تمہیں بس اپنی ہمت نہیں توڑنی عروج اسے کے گلے لگے اسے حوصلہ دینے لگی ۔۔۔

تمہیں پتہ ہے ہماری ایجنسی بہت اچھا ورک کر رہی ہے ہمارا نئے ماڈلز رکھنے کا آئیڈیا کام کر گیا لوگ ہماری ایجنسی کے ساتھ کام کرنے کے لیے بے تاب ہو رہے ہیں

یہ کیا کہہ رہی ہو تم ۔۔شیزہ نے خیرانگی سے اس کی جانب دیکھا ۔۔

میں بلکل ٹھیک کہہ رہی ہوں ۔۔۔کمرشل کے لیے کمپنی کا اونر خود تم سے ملنے کے لیے آیا ہے وہ دیکھوں عروج اس کا روح دروازے کی جانب کئے بولی ۔۔۔

سامنے سے ایک شخص کیبن میں داخل ہوا وہ شخص واقعی میں بہت ہینڈسم تھا اس کی رنگت گندمی تھی قد ولید جیتنا لمبا تھا ۔۔

یار کتنا ہینڈسم انسان ہے عروج اس کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھتے ہوئے شیزہ کے کان میں سرگوشی کئے بنا نہ رہ سکی ۔۔۔۔

میں مانتی ہو یہ ہینڈسم ہے لیکن ولید جتنا نہیں ۔۔شیزہ کے منہ سے اچانک الفاظ نکلے عروج اسے خیرانگی سے دیکھنے لگی ۔۔

میرا مطلب ہے اللہ کی بنائ ہوئ تمام چیزیں پیاری ہی ہوتی ہے شیزہ اپنی بات بدلتے سامنے دیکھنے لگی ۔۔

ہیلو۔۔۔آپ یقینا مس شیزہ ہے اس نے مسکراتے ہوئے ہاتھ شیزہ کی جانب بڑھایا ۔۔

شیزہ نے بنا تکلف اس کا ہاتھ تھام لیا ۔۔جی میں ہی شیزہ ہوں اور آپ ؟؟

میرا نام اقبال خان ہے ۔۔

آپ سے مل کر اچھا لگا مسٹر اقبال ۔۔۔

پلیز مجھے صرف اقبال بولے ۔۔

مجھے یقین ہے آپ کے مینجر نے آپ کو ہماری پیشکش کے بارے میں بتایا ہو گا ۔۔

ہاں مجھے میرے مینجر نے بتایا تھا شیزہ عروج کی طرف دیکھتے ہوئے بولی ۔۔

لیکن کچھ ایسی باتیں ہے جنہیں میں آپ کے ساتھ ڈسکس کرنا چاہو گی ۔۔

“ٹھیک ہے، مجھے یقین ہے کہ میں آپ کو ہر چیز کی مختصر وضاحت دے سکتا ہوں، اگر آپ برا نہ مانیں؟”

“ضرور، اس میں برا ماننے والی کونسی بات ہے

***

تو سب ہو جائے گا۔۔۔اقبال سڑھیاں اترتے ہوئے بولا

ٹھیک ہے آپ کا بہت شکریہ میں کل صبح وہاں ٹائم سے پہنچ جاوں گی شیزہ اسے باہر تک چھوڑنے کے لیے اس کے ساتھ آئ

میں نے آپ کے کام کرنا کا طریقہ دیکھا ہے وہ واقعی میں ہی بہت اچھا ہے اقبال کہے مسکرا گیا

“بریفنگ کے لیے شکریہ مسٹر اقبال ، ذاتی طور پر آپ سے مل کر اچھا لگا” شیزہ ہلکا سا مسکرائ

خوش قسمت تو میں ہوں جیسے آپ سے ملنے کا موقعہ ملا ۔۔آپ واقعی میں تصویروں سے زیادہ خوبصورت ہے

وہ خوبصورت ہے اس میں کوئ شک نہیں ۔دونوں نے ایک ساتھ سامنے دیکھا جہاں ولید کھڑا انہیں ہی دیکھ رہا تھا ۔۔

یہ یہاں کیا کر رہا ہے۔۔شیزہ اپنے سامنے ولید کو کھڑے دیکھ بڑبڑائ ۔۔

ولید اس کے پاس آیا اس کے گال کو اپنے لبوں سے چھوئے اس کی کمر میں ہاتھ ڈالے بلکل اس کے ساتھ کھڑا ہو گیا ۔۔

یہ آدمی مرنا چاہتا ہے،

ولید اس کے کان میں سرگوشی کئے بولا شیزہ اس کا ہاتھ اپنی کمر سے ہٹانے کی کوشش کرنے لگی لیکن ولید کی گرفت توڑنا ناممکن تھا ۔۔

شیزہ نے گہری سانس باہر چھوڑی ۔۔

اقبال خیرانگی سے اسے دیکھنے لگا اس سے پہلے شیزہ کچھ بولتی ولید بولا ۔۔

میری بیوی واقعی میڈیا کی تصویروں سے زیادہ خوبصورت ہے” ولید اقبال کی طرف دیکھتے ہوئے مسکراتے ہوئے بولا ۔۔

“بیوی؟”

اقبال شیزہ کی طرف خیرانگی سے دیکھنے لگا ۔۔

“ہاں، بیوی” ولید پاگلوں کی طرح مسکراتے ہوئے بولا

جی ۔۔مسٹر اقبال یہ میرے شوہر ولید ہے شیزہ ولید کی جانب دیکھتے ہوئے بولی وہ اس کی آنکھوں غصہ اچھے سے دیکھ سکتا تھا

ولید اس کے غصے کی پروا کئے بغیر اس کی کمر پر مزید دباو ڈالے مسکرایا ۔۔

“واہ، یہ بہت اچھی بات ہے .. آپ دونوں ایک ساتھ بالکل پرفیکٹ لگ رہے ہیں،

مس شیزہ اب میں اجازت چاہتا ہوں

اوکے مسٹر اقبال پھر آپ سے ملاقات ہو گی ۔۔شیزہ پروفیشنلی طور پر مسکراتی ہوئ بولی ۔۔

مجھے چھونے کی ہمت کیسے ہوئ تمہاری شیزہ اسے خود سے دور کئے اپنی آواز دبائے دانت پیستی ہوئ سرخ آنکھوں سے اس کی جانب دیکھنے لگی ۔۔۔

سوری۔۔۔میرا دھیان ہی نہیں گیا آفس کا ٹائم ختم ہو گیا تھا تو اس لیے میں تمہیں لینے آیا تھا ۔۔

شکریہ میرے لیے تکلیف اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے میرے پاس خود کی گاڑی ہے مجھے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں ہے ۔۔

میں تمہاری مدد تھوڑی کر رہا ہوں میں تو اپنی مدد کر رہا ہوں ولید اس کی غصے سے سرخ ہوئ آنکھوں میں دیکھتے ہوئے معصومیت سے بولا۔۔۔۔

آہ۔۔۔ولید تم مجھ سے دور رہو میرے نزدیک آنے کی کوشش مت کرو اور آئندہ مجھے چھوا تو اچھا نہیں ہو گا شیزہ پیر پٹکتی ہوئ اپنے آفس کی طرف بڑھی ۔۔۔

تم ابھی تک گئے نہیں شیزہ اپنا بیگ اور گاڑی کی چابی لیے واپس آئ تو ولید کو وہی اپنی گاڑی سے ٹیک لگائے کھڑا دیکھ بولی ۔۔۔

میں تمہیں لینے آیا تھا تو تمہیں لے کر ہی جاوں گا

تو کھڑے رہو یہاں کیونکہ میں تمہارے ساتھ ہر گز نہیں جانے والی میرے پاس اپنی گاڑی موجود ہے مجھے کسی کی لفٹ نہیں چاہیے شیزہ ایک آخری نظر اس پر ڈالے اپنی گاڑی کی طرف بڑھی ۔۔۔

آہ۔۔۔۔میرے خدا یہ کیسے ہوا شیزہ اپنے گاڑی کے ٹائروں کو دیکھ تقریبا چلائ ۔۔۔

گاڑی کے چاروں ٹائروں کی ہوا نکلی ہوئ تھی ۔

صبح تک تو یہ ٹھیک تھے شیزہ آگے پیچھے سے ٹائروں کو چیک کرنے لگی ۔۔۔

کیا ہوا ۔۔ساری ہوا نکل گئ ولید ہنستے ہوئے اس کے پاس آیا ۔۔

میرا مطلب ہے گاڑی کے ٹائروں کی ہوا نکل گئ ولید اسے غصے سے اپنی جانب دیکھتے ہوا دیکھ بات بدل گیا ۔۔۔

مجھے پتہ ہے یہ سب تم نے کیا ہے تم نے میری گاڑی کے ٹائروں کی ہوا نکالی ہے ۔۔۔

تم کچھ بھی کر لو میں تمہارے ساتھ نہیں جاوں گئ شیزہ اسے غصے سے دیکھتی ہوئ کمپنی سے باہر کی جانب بڑھی ۔۔۔

شیزہ یار ضد مت کرو دیکھوں شام کا ٹائم ہے اس وقت تمہیں یہاں سے ٹیکسی بھی نہیں ملے گئ

ولید اس کے راستے میں حائل ہوا ۔۔

تم سمجھتے کیا ہو خود کو جو دل میں آئے گا وہ کروں گئے کچھ بھی کر کے تمہیں بس اپنی بات پوری کرنی ہوتی ہے

چاہے اس کے لیے تمہیں کچھ بھی کیو نہ کرنا پڑے

شیزہ ابھی یہ سب باتیں کرنے کا ٹائم نہیں ہے سب لوگ دیکھ رہے ہیں چلو میرے ساتھ گھر چلو وہاں جا کر بات کرتے ہیں ۔۔۔

ولید اس کا ہاتھ پکڑے اسے گاڑی کی جانب لے جاتے ہوئے فرنٹ کا ڈور کھولے اسے اندر بیٹھائے خود دوسری طرف ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتے ہوئے گاڑی بھاگا لے گیا ۔۔

شیزہ تم ٹھیک تو ہوں ولید اسے سر پکڑے سیٹ کے ساتھ ٹیک لگائے دیکھ پریشانی سے اس کی جانب بڑھا ۔۔

خبردار مجھے چھونے کی کوشش کی تو ورنہ میں گاڑی سے کود جاوں گئ شیزہ غصے سے لال پیلی ہوئ بولی ۔۔

اچھا نہیں لگاتا تمہیں ہاتھ۔۔ لیکن پلیز ریلکس رہو

ریلکس ۔۔۔۔تمہارے ساتھ ہوتے ہوئے میں کیسے ریلکس ہو سکتی ہو میری زندگی تباہ کر دی شیزہ آنکھوں میں آئے ہوئے آنسو کو پیچھے دھیکلنے لگی جو باہر آنے کو بے چین تھے اور ایسا شیزہ ہر گز نہیں چاہتی تھی وہ اس انسان کے آگے ہر گز کمزور نہیں پڑ سکتی تھی ۔۔

گاڑی میں ایک گہری خاموشی چھا گئ ۔۔

*****

یار میری کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا ۔۔میری ساری کوششیں بیکار جا رہی ہے وہ مجھ سے بات کرنا گوارا نہیں کرتی آفس سے آنے کے بعد وہ اب تک اپنے کمرے میں بند ہے ۔۔

ان حالات میں ۔۔میں کیسے اس سے بات کرو ۔۔

ولید دانیال سے فون پہ بات کئے اداسی سے بولا ۔

فکر مت کرو ۔۔سب ٹھیک ہو جائے گا بس اسے تھوڑا سا وقت دو ۔۔بس کچھ الٹا مت کر دینا جس سے وہ مزید ناراض ہو جائے ۔۔۔اچھا میں فون رکھتا ہوں مجھے لگ رہا ہے وہ نیچے آ رہی ہے میں تمہیں بعد میں کال کروں گا ۔۔۔

شیزہ اپنے نائٹ سوٹ میں موجود سڑھیوں سے نیچے اترتی کیچن کی جانب گئ ولید اسے دیکھتا ہی رہ گیا وہ گھٹنوں تک آتی نائٹی میں موجود اس کے دل پہ بجلیاں گرا رہی تھی اس پر سے نظر ہٹانا ولید کے لیے مشکل ہو رہا تھا تقریبا ایک مہینے سے شیزہ اس طرح کے نائٹ ڈریس پہن کہ ولید کو بے تاب کئے ہوئے تھی ۔۔اس سے پہلے اس کی نیت بدلتی ولید اپنی نظریں اس سے ہٹائے ٹی وی کی جانب کئے اپنا دھیان بھٹکانے لگا ۔۔۔

تھوڑی دیر بعد شیزہ کوکیز،اور آئس کریم کی پلیٹ لیے ولید کے سامنے والے صوفے پر بیٹھ گی ۔۔

ولید کی آنکھیں اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔

اس کی نظریں اس کے سرخ ہونٹوں کو دیکھ رہی تھی ولید کا دل جلنے لگا جب شیزہ نے ٹھنڈی آئس کریم کھانے کے بعد آہ بھری اس خود پر قابو پانا مشکل ترین کام لگ رہا تھا

اپنے آپ پر قابو رکھو ولید ۔۔کوئ بیوقوفی مت کرنا ولید اپنے ذہن سے سب سوچیں جھٹکے اپنی نظریں ٹی وی کی جانب پھیر گیا

وقفے وقفے سے ولید شیزہ کی جانب دیکھ رہا تھا اس کی آنکھیں اس کے بس میں نہیں تھی ولید کو پورا یقین تھا کہ یہ جان بوجھ کر اس کے سامنے چھوٹے کپڑے پہن کر یہ سب کر رہی ہے اس کا دل جلا رہی ہے ۔۔

ولید کی بس تو تب ہوئ جب شیزہ اپنا موبائل اٹھائے ٹی وی کی جانب بڑھی اپنا فون چارجر پہ لگانے لگی اس کی پیٹھ ولید کی طرف تھی ۔۔

ولید کو اب یقین ہو گیا تھا وہ یہ سب کچھ جان بوجھ کر رہی ہے کیونکہ وہ ہمیشہ اپنا فون اپنے کمرے میں چارج کرتی تھی اسے یہاں ٹی وی پاس اپنا فون چارج کرنا پسند نہیں تھا

اپنا فون چارج پہ لگائے شیزہ ایک ادا کے ساتھ واپس اپنی جگہ بیٹھ گی اس کی نائٹی کا گلہ کافی ڈیپ تھا ولید لاکھ اس سے نظریں ہٹانے کی کوشش کر رہا تھا لیکن ہٹا نہیں پا رہا تھا ۔۔

ولید مت دیکھو اس کی طرف مت دیکھو ۔۔۔وہ یہ سب جان بوجھ کر رہی ہے یا اللہ یہ لڑکی میرے ساتھ آخر کرنا کیا چاہتی ہے ۔۔۔

ولید کی حالت دیکھ شیزہ کو بہت سکون حاصل ہو رہا تھا وہ جان بوجھ کر اس کے سامنے ایسی ڈریس پہن کے آئ تھی اور جان بوجھ کر یہ سب حرکتیں کر رہی تھی وہ اسے تڑپنا چاہتی تھی جو آج اس نے اس کی گاڑی کے ساتھ کیا اسے اس کے لیے سزا دینا چاہتی تھی اس کے ذہن میں بس یہی ایک طریقہ آیا تھا ۔۔

شیزہ ولید کی حالت کو بہت انجوائے کر رہی تھی اسے بار بار پہلو بدلتے دیکھ اسے بہت ہنسی آ رہی تھی لیکن وہ ظاہر نہیں کر رہی تھی ۔۔

آخر کار ولید تھک ہار کر ایک نظر اسے پہ ڈالے وہاں سے اپنے کمرے کی طرف چل دیا اگر مزید وہاں رہتا تو اپنے آپ پر کنٹرول کھو دیتا ۔۔۔

ولید کے جانتے ہی شیزہ کے لب کھل کے مسکرائے ۔۔اپنے فون لیے کوکی اور آئس کریم کی پلیٹ اٹھائے وہ بھی اس کے پیچھے پیچھے اپنے روم میں چلی گئ ۔۔۔۔

***