Ahle E Ishq By Mehak NovelR50505 Ahle E Ishq (Episode - 9)
No Download Link
Rate this Novel
Ahle E Ishq (Episode - 9)
Ahle E Ishq By Mehak
اس کے روم سے سونگس کی آواز سن کے زینت بیگم اس کےروم میں آئی تھی اسے دیکھنے کی صبح وہ اتنی اداس تھی نجانے اب کیسی ہوگی پر اس کے روم میں آکے انہیں حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا وہ اپنی پیکنگ کر رہی تھی اور ڈھیروں سوٹ اس نے بیڈ پے پھیلائے ہوئے تھے اور اس کے چہرے پے بھی مسکان تھی۔۔۔۔۔۔۔اڑی چاچی سائیں اندر آئیں اور سلیکٹ کرنے میں میری مدد کریں مجھے تو کچھ سمجھ ہی نہیں آرہا کی کیا لے کےجائوں اور کیا نہیں۔۔۔۔۔۔۔لہر نے جب زینت بیگم کو دروازے پے کھڑا پایا تو مسکرا کے ان کو بازو سے پکڑکے اندر لائی اور بیڈ کے سامنے کھڑا کر کے کہا
لہر پتر تو ٹھیک تو ہے نا کہیں تجھے بخار تو نہیں ہوا ڈاکٹر کو بلائوں کیا میں۔۔۔۔۔۔زینت بیگم نے فکرمندی سے کہا
اڑے اڑے چاچی سائیں مجھے کچھ نہیں ہوا میں بلکل ٹھیک ہوں آپ یہاں بیٹھے اور یے لیں پانی پیں۔۔۔۔لہر نے ان کو پانی کا گلاس تھمایا
چاچی سائیں مجھے کچھ نہیں ہوا میں بس یے بات سمجھ گئی ہوں کی اگر آپ لوگ مجھے اتنا دور بھیج رہے ہیں تو کوئی وجہہ تو ہوگی نا اور اگر آپ لوگ مجھ سے وہ وجہہ چھپا رہے ہیں تو وہیں میرے لیے بہتر ہوگا اس لیے میں اسی میں خوش ہوں اب اور مجھے اس وجہہ کو بھی نہیں جاننا جو ہے میرے پاس وہ ہی بہت ہے میرے لیے اور میں اس کیلئیے خوش ہوں بس اب آپ لوگوں سے پوچھ کے آپ کو اور پریشان نہیں کرنا چاہتی میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔لہر ان کے پاس زمین پے بیٹھ کے اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لےکے کہا
ماشاءاللہ ماشاءاللہ ماں صدقے میری بچی تو آپ کب اتنی بڑی ہوگئی ہمیں پتا ہی نا چلا کی ہماری بچی اب اتنی بڑی ہوگئی ہے اتنی سمجھدار ہوگئی ہے کی اب اپنے بڑوں کی تکلیفیں سمجھنے لگی ہے مجھے فخر ہے آپ پے میرا بچا۔۔۔۔۔۔زینت بیگم نے اپنی آنکھوں میں آئے آنسو صاف کیے اور اس کے ماتھے پے محبت سے بوسہ دیا
اچھا چاچی سائیں اب اموشنل نا ہوں آپ مجھے بتائیں میں کیا پہنوں اورکیا رکھوں مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہا ۔۔۔۔۔۔لہر نے ان کی آنکھ سے بہتے آنسو صاف کیے اور اٹھ کھڑی ہوئی کہیں ان کو دیکھ کے وہ کمزور نا پڑ جائے اور رونے لگ جائے وہ خود کو کمزور نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اماں سائیں دودھ ملے گا مجھے پھر سونا بھی ہے۔۔۔۔۔۔احد زینت بیگم کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے لہر کے روم میں آ پہنچا تھا
اڑے ہمارے چھوٹے سائیں کو دودھ پینا ہے ویسے اب بڑے ہوگئے ہو اب نا پیا کرو دودھ۔۔۔۔۔۔لہر نے اس کے بال بگاڑے جو کہ اسے سخت نا پسند تھے احد نے بال بگاڑنے پے برا سا موں بنایا
آپی سائیں مجھے نا کہیں آپ بھی تو پیتی ہیں دودھ اور آپ کو پتا ہے دودھ پینے سے اسٹرونگ ہوتے ہیں اور مجھے اسٹرونگ بننا ہے آپ کی طرح سوکھا ہوا نہیں رہنا کی ہوا کا ایک جھوکا مجھے اڑا کے لے جائے مجھے اسٹرونگ بننا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔احد نے اسے چڑایا
اچھا چھوٹے سردار جی میں سوکھی ہوئی ہوں آپ کو پتا ہے یونی میں اچھے اچھوں کو سبق سکھا چکی ہے لہر چودھری۔۔۔۔۔۔۔۔لہر نے فخریہ کالر جھاڑے
اوہ بس بس آپی سائیں بس جھوٹ اتنا بولیں جس کا وزن آپ سہہ سکیں ایسی بات تو نا کہیں جو مانی ہی نا جائے۔۔۔۔۔۔۔۔احد نے اس کی بات ناک سے مکھی کی طرح اڑائی
واٹ کیا مطلںب ہے تمہارا ۔۔۔۔۔۔۔
میرا مطلب ہے کی میری آپی سائیں ایک چوہیا ہیں جو کسی سے بھی نہیں لڑسکتی انہیں بس رونا آتا ہے اوردوسروں پے چلانا بس اور کچھ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔احد اپنی بات کہہ کے روم سے بھاگ چکا تھا اور لہر بھی اس کے پیچھے بھاگی اس کو خوش اور مستی کرتادیکھ گھر میں سب نے سکون کا سانس لیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
___________________________________
اماں سائیں مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے ۔۔۔۔۔۔۔عمر انیسہ بیگم کے روم کے باہر کھڑا انہیں اجازت طلب نظروں سے دیکھ رہا تھا
ہاں بیٹا سائیں اجازت کی کیا ضرورت ہے آجائیں آپ۔۔۔۔۔۔انیسہ بیگم نے اپنے بیٹے کا چہرہ دیکھا جو خوشی سے دمک رہا تھا اور ایسا کم ہی ہوتا تھا کی عمر خوش ہو ورنہ تو ہر بات پے ناراض ہی رہتا تھا وہ عمر اور عمیر دونوں بھائی تھے پر ان دونعں کی نیچر میں زمین أسمان کا فرق تھا عمیر خوش مزاج ہر کسی سے گھلنے ملنے والا شریف اور شکرگذار بندہ تھا پر عمر بہت اکڑو تھا کسی سے زیادہ بات نا کرتا تھا سوائے مطلب کے اور جیلس بندہ تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اماں سائیں مجھے آپ سے کچھ ضروری بات کرنی ہے۔۔۔۔۔۔۔عمر ان کے قریب بیڈ پر بیٹھا
ہاں بیٹا سائیں بولیں۔۔۔۔۔
اماں سائیں مجھے شادی کرنی ہے۔۔۔۔۔۔۔
بیٹا سائیں یے تو اچھی بات ہے پھر میں کروں شاہ جی سے بات اور پھر جلد ہی اریزے کو بہو بنا دوں ویسے بیٹا سائیں آج آپ نے میرے دل کی مراد پوری کرلی نجانے کب سے میری خواہش۔تھی کی میں اریزے کو اپنی بہو بنائوں ویسے بڑی تو زینی ہے پر زینی مجھے اتنی پسند نہیں۔۔۔۔۔۔انیسہ بیگم تو اس کی بات پے بہت خوش ہوئی تھی
اماں سائیں اتنی خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے میں اپنی پسند کی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔عمر نے انکی نان اسٹاپ چلتی باتوں کو کاٹ کے اپنی بات کہی ورنہ وہ تو اس کے اور اریزے کے بچوں کا بھی پلین بنا دیتی
ہاں تو اریزے سے اچھی لڑکی تجھے کہاں ملے گے
اماں سائیں میں اپنے یے لڑکی پسند کر چکا ہوں اور اسی سے شادی کرنا چاہتا ہوں مجھے نہیں کرنی ان جاہلوں سے شادی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیٹا سائیں آپ کو اندازہ بھی ہے کی آپ کیا کہہ رہے ہیں کیا پتا لڑکی کون ہے کہاں کی ہے کیا ذات ہے کس خاندان سے تعلق رکھتی ہے کچھ پتا ہے تجھے اور یے جو تو ان بچیوں کو جاہل کہہ رہے تو خود بھی تو دسویں جماعت پاس ہو کونسا ڈاکٹر ہو تم۔۔۔۔۔۔۔۔اس کی بات پے انیسہ بیگم کا تو دماغ ہی گھوم گیا تھا اگر یے بات سرتاج شاہ یا شاہ جی کو پتا چلتی تو کیا کہتے وہ
اماں سائیں جو بھی ہے آپ بابا سائیں سے بات کریں اگلے ہفتے آپ لوگ اس کے گھر رشتہ لے کے جارہے ہیں بات ختم۔۔۔۔۔۔۔۔عمر اپنی بات کہہ کے وہاں سے جا چکا تھا
یا اللہ یے لڑکا مجھے کہیں کا نہیں چھوڑے گا شاہ جی سے تو بعد کی بات ہے پر ابھی سرتاج سائیں سے کیسے بات کرونگی ۔۔۔۔۔۔۔انیسہ بیگم کو فکر لاحق ہوئی تھی چاہے جو بھی ہو دونوں طرف سے باتیں تو ان کو ہی سننی تھی
______________________________________
چھوٹے شاہ سائیں۔۔۔۔۔۔۔ساحل حویلی میں آیا تھا کی زینی جو کب سے اس کے انتظار میں ٹہل رہی تھی اسے دیکھ کے اس کی طرف گئی اور پکارے بغیر نا رہ سکی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کی پکار پے ساحل شاہ رکا تھا اور مڑ کر اسے دیکھا تھا اس کی سوالیہ نظروں کو خود کو مرکز بنتے دیکھ زینی گھبرا گئی تھی اس نے بلا تو لیا تھا پر اب اسے کیا کہتی کی کیوں پکارا ہے۔۔۔۔۔
وہ چھوٹے شاہ سائیں اگر صبح آپ کی اجازت ہو تو آپ کے کمرے کی صفائی کروا دوں الماڑی وغیرہ کی۔۔۔۔۔۔۔وہ تو شکر اسے با وقتن اریزے کی بات یاد آگئی تھی جب وہ کہہ رہی تھی کی آج وہ ساحل شاہ سے بولے گی کیونکہ وہ اپنی اجازت کے بغیر اپنے روم میں کسی کو بھی آنے نہیں دیتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔۔ساحل شاہ بس اتنا کہہ کے وہاں سے چلا گیا اور پیچھے زینی کی خوشی کی تو کوئی انتہا نا تھی کی اس نے اس سے بات تو کی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اے لڑکی ۔۔۔۔۔۔۔وہ ابھی اپنی سوچوں کے بھنور میں گم تھی کی شاہ بیبی کی آواز نے اسے ہوش کی دنیا میں لا پٹکا
جی۔۔۔۔۔جی۔۔۔جی شاہ بیبی۔۔۔۔۔۔زینی نے شاہ بیبی کی آواز پے ہڑبڑا کے جواب دیا۔۔۔۔۔۔
ادھر کیا کر رہی ہے تو تجھے پتا نہیں ہے کیا کی یے مردوں کے واپس آنے کا وقت ہے اور تو یہاں کھڑی نجانے کس جہاں میں گم ہے کچھ تو خیال کر شرم لحاظ نام کی تو کوئی چیز آج کل کی لڑکیوں میں رہی نہیں ہے جا جا کے باورچی خانے میں رات کا کھانا دیکھ۔۔۔۔۔۔شاہ بیبی نے اسے ڈپٹا اور وہ ان کو جی کہہ کے باورچی خانہ میں آگئی جہاں سب لڑکیاں ہی رات کے کھانے کی تیاری کر رہی تھی
کیا ہوا تیرا چہرہ کیوں اترا ہوا ہے۔۔۔۔۔شانزے نے اس کے چہرے کی اداسی نوٹ کی تو پوچھا
کچھ نہیں۔۔۔۔زینی نے کڑھ کے جواب دیا
سنا دیا ہوگا پھر سے بیبی جی نے کچھ اس کو بہت شوق ہے نا اس وقت یوں باہر کھڑے رہنے کا۔۔۔۔سائرہ کے کہنے پے زینی نے اسے کڑی نظروں سے دیکھا
سائرہ بیبی احد سائیں کہہ رہے ہیں کی انہیں چائے پینی ہے اور آپ بنا کے لے کے آئیں ان کیلئیے۔۔۔۔۔اس کی ملازم نے آکے اسے اطلاح دی
ٹھیک ہے آپ جائیں ہم آتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔سائرہ نے ملازمہ کو باہر بھیجا
ویسے آجکل احد سائیں کچھ زیادہ نہیں بلانے لگے آپ کو اپنے ہر چھوٹے چھوٹے کام کیلئیے۔۔۔۔۔۔اریزے نے اسے چھیڑا
ہرگز نہیں ایسا کچھ نہیں ہے اور تم اپنا موں بند ہی رکھو۔۔۔۔۔۔سائرہ اسے ڈپتے چائے لے کے احد کے کمرے کی طرف چل دی۔۔۔۔۔۔۔
احد سائیں میں اندر آجائوں۔۔۔۔۔سائرہ نے اس کا ڈور ناک کیا
اڑے آپ آئیے نا آپ کا ہی تو روم ہے مسز احد آپ کو کیا ضرورت اجازت طلب کرنے کی۔۔۔۔۔۔۔احد جو کی کچھ فائلس میں کھویا ہوا تھا اس کی آواز پے سر اٹھا کے اسے کہا
یے لیں آپ کی چائے۔۔۔۔۔سائرہ نےچائے رکھی اور جانے کیلئیے مڑی کی احد نے اسے پکارا۔۔۔۔۔۔دیکھیں احد سائیں کل والا مذاک مجھے بلکل نہیں سننا آج میں چائے چیک کر کے لائی ہوں چینی برابر ہے اس میں ۔۔۔۔۔۔اس کے پکارنے پے سائرہ نے اسے کڑی نظروں سے دیکھ کے کہا۔۔۔اور اس کی بات پے احد کی مسکان گھری ہوئی تھی۔۔
آپ کی اطلاح کیلئیے عرض ہے محترمہ کی یے غلام آپ کیلئیے تحفہ لایا ہے۔۔۔۔۔۔احد نے ایک گفٹ پیک اس کو تھمایا
یے میرے لیے ہے۔۔۔۔سائرہ نے حیرت سے پوچھا
نہیں پڑوس کی امبرین کیلئیے ہے۔۔۔یار تمہیں دے رہا ہوں تو تمہارے لیے ہی ہے نا۔۔۔۔۔۔
ویسے کتنے چھچھورے انسان ہے آپ پڑوس کی لڑکیوں کے نام بھی آتے ہیں آپ کو۔۔۔۔
اچھا خیر چھوڑو کھولو اسے اوردیکھو مجھ سے لڑ بعد میں لینا۔۔۔۔۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔۔سائرہ نے گفٹ پیک کھولا تو اس میں ڈائمنڈ کے دو کنگن جگمگا رہے تھے ۔۔۔۔۔اور احد نے ان کو ڈبیا سے نکال کے اس کی کلائی کی زینت بنایا تھا۔۔۔۔۔۔اب اور بھی پیارے لگ رہے ہیں اس کےاس طرح سے معنی خیزی سے کہنے پے سائرہ جلدی سے اس کے ہاتھ سے اپنی کلائی چھوڑوا کے باہر کی طرف بھاگی
ہائے میری شرمیلی سی جان۔۔۔۔۔احد یے کہہ کے اپنے بیڈ پے گرا تھا
_____________________________________
عمیر سائیں۔۔۔۔۔۔اریزے کی آواز پے اس کا انتظار کرتے عمیر نے اپنی نظریں اوپر کی اور اسے جلدی سے کلائی سے پکڑ کے روم کے اندر کیا اور دروازہ بند کردیا۔۔۔۔کہاں تھی تم کیوں اتنا وقت لگا دیا کتنی دیر سے انتظار کر رہا تھا میں ۔۔۔۔۔عمیر نے ٹھنڈے لھجے میں کہاپہلے تو اسے غصہ آیا تھا پر اریزے کا معصوم سا چہرہ دیکھ کے اس کا سارا غصہ ھوا ہوا
سائیں نکلنے کا وقت ہی نہیں ملا اور مجےمھے تائی سائیں(ثمیننہ بیگم) کے روم سے یے تصویریں ملی۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس نے کچھ پکس اس کے سامنے کی جو کی اس چھوٹی بچی کی تھی ۔۔۔۔۔۔
تائی سائیں اکثر ان سب کو اپنے سینے سے لگا کے رکھتی ہیں۔۔۔۔۔۔
تو اس کا مطلب ہے کی تائی سائیں کا ہی کچھ خاص تعلق ہے اس بچی سے ۔۔۔۔۔۔
اور آپ کو کچھ پتا چلہ سائیں کی امامہ آنٹی کا کیا تعلق ہے اس گھر سے ۔۔۔۔۔۔۔اریزے نے اسے دیکھ کے سوال کیا
نہیں فلوقت تو نہیں خیر کل دیکھونگا اور ہاں تم اسی طرح ہیلپ کرتی رہو میری۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے لالا سائیں اب ہم جائیں۔۔۔۔
ہاں جائو پر ہاں سنو ٹھینکس میری اتنی مدد کرنے کیلئیے۔۔۔۔۔۔
___________________________________
ساحل شاہ آنکھیں موندے لیٹا ہوا تھا کی اس لڑکی کا چہرہ آنکھوں کے سامنے آتے اس نے فٹ سے آنکھیں کھولی تھی۔۔۔۔۔۔یے کیا ہو رہا ہےمجھے باربار اس کا خیال کیوں آرہا ہے مجھے نہیں ساحل شاہ تم کسی کے بارے میں نہییں سوچ سکتے تم پہلے سے کسی کے نام ہو اور وہ وہ لڑکی بھی کسء اور سے محبت کرتی ہے دیکھا نہیں تھا کہہ رہی تھی کی وہ دیوانی ہے اس کی اور تم بھی کسی کے بارے میں نہیں سوچ سکتے ساحل شاہ تمہیں صرف نفرت کرنی ہے اس سے بس نفرت اور شاہ زین چودھری کے خاندان کو برباد کرنا ہے بس ساحل شاہ کی زندگی کا یہیں مقصد ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
