Ahle E Ishq By Mehak NovelR50505 Ahle E Ishq (Episode - 7)
No Download Link
Rate this Novel
Ahle E Ishq (Episode - 7)
Ahle E Ishq By Mehak
احد کچن سے ڈائننگ ٹیبل پے آیا تھا جہاں گھر کے سب مرد براجمان تھے اور یوسف کو بھی وہاں بیٹھا دیکھ کے وہ اس کی طرف متوجہ ہوا۔۔اور یوسف بھائی آج کیسے راستہ بھٹک کے اس طرف آگئے آپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔احد خوشدلی سے یوسف سے متوجہ ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
اڑے بھئی آج ہی تو آیا ہوں شہر سے۔۔۔۔۔۔سیدھا یہیں آیا ہوں۔۔۔۔۔۔یوسف نے اس کے طنز پے مسکرا کے جواب دیا اور احسان شاہ کے آتے ہی سب نے کھانا شروع کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔یوسف بار بار دروازے کی طرف دیکھ رہا تھا شاید کسی کا انتظار کر رہاتھا جسے عمیر نے بہت غور سے نوٹ کیا تھا کھانے کے بعد یوسف گھر جانے کیلئیے نکلا تھا کی عمیر بھی اس کے پیچھے پیچھے نکل آیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رکیں یوسف بھائی ساتھ چلتے ہیں۔۔۔۔۔عمیر بھی اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگا
کیوں بھئی آپ اس وقت کیوں باہر کوئی کام ہے کیا۔۔۔۔۔۔عمیر کے یوں چلنے پے یوسف نے اس سے پوچھا کیونکی وہ رات کو زیادہ باہر نا جاتا تھا کام سے ہی کام رکھنے والا بندہ تھا ورنا باہر گھومنا رات کو آواراگردی کرنے کا بلکل شوقین نہیں تھا بلکے شاہ سائیں کی طرف سے انہیں اجازت تھی پر عمیر کسی بھی چیز کو ہاتھ تک نا لگاتا تھا ہاں عمر کبھی کبھی ڈرنک کرتا تھا کلبس وغیرہ میں بھی جاتا تھا پر عمیر ایسا کچھ بھی نہیں ان سب سے دور تھا وہ تو سموکنگ بھی نا کرتا تھا باقی ساحل احد عمر تینوں لڑکے سموکنگ کرتے تھے
ہاں بس یوسف بھائی سوچا کچھ تفریح ہوجائے گی اس لئیے آگیا ساتھ۔۔۔۔۔۔عمیر نے یوسف کو اسے تفتیشی نظروں سے جانچتے دیکھا تو فورن جواب دیا۔۔۔۔۔
ہم۔۔۔۔۔۔۔۔
ویسے یوسف بھائی اتنی بےچینی سے کس کا انتظار کیا جارہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔عمیر نے پینٹ کی دونوں جیبوں میں ہاتھ ڈال کے اوپر چمکتے چاند کو دیکھتے مسکرا کے پوچھا
کیا مطلب۔۔۔۔اس کے اس طرح سے پوچھنے پے یوسف گھبرا گیا تھا ۔۔۔۔۔۔
بھائی اب اس طرح سے انجان تو نا بنیں نا میں نےسب دیکھا تھا ڈائنگ ٹیبل پے جو آپ بار بار باورچی خانه کے دروازے کی طرف دیکھ رہے تھے۔۔۔۔۔عمیر نے مشکوک نظروں سے دیکھا
نہیں ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔یوسف نے خجل ہوتے ہوئے جواب دیا
اوہو بھائی تو کیسا ہے اب چھوڑیں بھی اور بتائیں کس کا انتظار کر رہے تھے آپ کی چوری پکڑی جا چکی ہے اب بتائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بس شانزے کا انتظار کر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔یوسف نے ہار مانی
اوہ ویسے محبت دو طرفہ ہے کی صرف یک طرفہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔عمیر نے ہونٹوں کو گول گھما کے پوچھا
ابھی تو یک طرفہ ہی ہے۔۔۔۔۔یوسف نے لمبا سانس لیا
اچھا ویسے کتنے سالوں سے چل رہی ہے یے یک طرفہ محبت
پچھلے چودہ سالوں سے۔۔۔۔۔۔یوسف نے زمین پے پڑے پتھر کو ٹھوکر ماری۔۔۔
اوہو مطلب کی جب سے ہماری بہن چار سالوں کی تھی تب سے ویسے آپ اتنی اچھی محبت کرتے ہو تو کچھ اپنے دوست کو بھی سکھا دو یار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ساحل شاہ اور محبت مجھے تو نا ممکن لگتا ہے پر شاید وہ جب اس کی زندگی میں آئے 57 دن بعد تو اس کے دل کو دھڑکا سکے بس دعا کرو۔۔۔۔۔۔۔
کیا مطلب بھائی کون آئی گی 57 دن بعد ۔۔۔۔۔۔عمیر کو اس کی بات بلکل سمجھ نا آئی تھی
کچھ نہیں تمہارے مطلب کی بات نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔یوسف اسے کہتا وہاں سے چلا گیا جب کی عمیر ابھی تک اسی کشمکش میں تھا اس نے خود سے وعدہ ضرور کیا تھا کی وہ اب اس بات کے بارے میں جان کے ہی دم لے گا اور اس کی بچپن سے عادت تھی جس بات کے پیچھے لگ جاتا تھا اسے جان کے ہی رہتا تھا وہ خود سے وعدہ کرتا گھر کے راستے کی طرف نکل پڑا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_______________________________
بھائی میں اندر آجائوں۔۔۔۔۔۔عمر نے دروازہ ناک کر کے ساحل سے اجازت مانگی وہ جو کچھ فائلس چیک کر رہا تھا اس کی آواز پے اس کو اجازت دے کے اس کی طرف متوجہ ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھائی یے لیں کام ہوگیا ہے آپ کا۔۔۔۔۔عمر نے کچھ کاغذات ساحل کو تھمائے
ہم ٹھیک ہے تم جائو۔۔۔۔۔۔۔ساحل اسے کہہ کے فائلس پڑھنے لگا
بےمروت ہے ساحل بھائی تو بلکل ایک تو بندہ سارا دن ان کیلئیے کام کرے اوپر سے ٹھینکس بھی نہیں کہتے انہیں کیا پتا کتنا ذلیل ہوا ہوں دھوپ میں میں ہوںںں۔۔۔۔۔۔۔۔۔عمر نے روم سے جاتے ہی خودکلامی کی
___________________________________
ہائے کیا لڑکی تھی ۔۔۔۔۔۔عمر نے خیالوں میں لہر کو سوچتے ہوئے کہا وہ اس وقت کھڑکی کےسامنے کھڑا سگریٹ کے کش لے رہا تھا اس نے ایک گلاس میں شراب نکال کی پی۔۔۔۔۔۔۔۔آج تو اس شراب کا نشا بھی نہیں چڑھ رہا اس کی نشیلی آنکھوں کے سامنے یے شراب تو پھیکی ہے ۔۔۔۔۔۔فکر مت کرو محترمہ تم جو بھی ہو تمہارے بارے میں جلدی پتا کر کے تمہیں اپنا بنا لونگا آخر کو تم وہ پہلی لڑکی ہو جو کی عمر شاہ کے دل کو بھائی ہو اور عمر شاہ کو جو چیز پسند آجاتی ہے وہ اسے اپنا بنا ہی لیتا ہے اور تم سے تو محبت ہوئی ہے مس تمہیں تو اپنی زندگی میں لا کے ہی دم لونگا۔۔۔۔۔۔۔۔
_________________________________
کیا ہوا امامہ آپ سوئی نہیں۔۔۔۔۔اور اتنی بیچین کیوں ہے آپ۔۔۔۔شاہ زمان چودھری جب عشاءپڑھ کے آئے تو امامہ بیگم کو بیچین دیکھا
جس ماں کے دونوں بچے اس سے دور ہوں بھلا وہ کیسے سکون سے بیٹھ سکتی ہے آپ نے دیکھا تھا میری بچی کتنی اداس ہوگئی تھی مجھ سے نہیں دیکھی جاتی اس کی اداسی میں نہیں سہہ سکتی اس کی جدائی اگر آپ اسے بھیج رہے ہیں تو مجھے بھی اس کے ساتھ بھیج دیں میں نہیں رہ سکتی اس کے بغیر ۔۔۔۔۔۔۔امامہ بیگم نے اپنی آنکھوں سے بہتے آنسو صاف کیے تھے
شاہ زمان چودھری نے انہیں دیکھ کے لمبا سانس لیا اور پانی کا گلاس بھر کے اسے دیا اور اس کے پاس بیٹھے۔۔۔۔۔۔۔دیکھیں امامہ بیگم آپ اس گھر سے آئیں ہے اس گھر کے اصول آپ سے بہتر کون سمجھ سکتا ہے جہاں بیٹیوں کیلئیے اتنی سختی ہے وہاں ایک ونی کیلئیے کیا عزت ہوگی اس کا کیا حال ہوگا سوچا ہے آپ نے آج بھی کبھی اگر ہم ساحل شاہ سے اتفاقن ملتے ہیں تو اس کی آنکھوں میں نفرت صاف ظاہر ہوتی ہے وہ اس نفرت میں میری بچی کا کیا حال کرے گا سوچا ہے آپ نے دیکھیں آپ اپنی جگہ پے صحیح ہیں پر ہم اپنی بچی کو اس دوزخ میں نہیں ڈال سکتے آپ کی ہر بات حکم سمجھ کر مانی ہے ہم نے پر اس دفعہ ہم آپ سے معذرت چاہتے ہیں پر آپ کے ان چند آنسوئوں کیلئیے میں اپنی بچی کی زندگی عذاب میں نہیں ڈال سکتا۔۔۔۔۔۔
____________________________________
لہر صبح فجر ادا کر کے باہر نکل آئی تھی گھر میں اسے گھٹن ہورہی تھی بہت زیادہ اس لیے وہ باہر آگئی تھی کھیتوں سے ہوتی کس وقت وہ سڑک کی طرف نکل آئی تھی اسے اندازہ بھی نا رہا تھا اس وقت وہ سڑک کے بیچوں بیچ چل رہی تھی جب اس کے سامنے ایک گاڑی اچانک سے رکی تھی اس اچانک حادثے کی وجہہ سے وہ اپنا بیلنس نا سنبھال پائی تھی اور گر گئی تھی ساحل شاہ غصے سے سامنے گرے وجود کو دیکھا تھا اگر وہ عین وقت پے بریک نا لگاتا تو نجانے کیا ہوجاتا ۔۔۔۔۔وہ غصے سے گاڑی سے نیچے اتر کے اس کے قریب آیا تھا
او محترمہ اگر خود خوشی کرنی ہی تھی تو کسی اور کی گاڑی سے کرو ہماری گاڑی سے کیوں کر رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ساحل شاہ نے اپنے سامنے نیچے سڑک پے گری اس لڑکی کو دیکھ کے کہا جس کا سر جھکا ہوا تھا ساحل شاہ نے اس کے آگے ہاتھ بڑھایا اسے اٹھانے کیلئیے۔۔۔۔۔۔لہر نے ساحل کی آواز پے سر اٹھا کے اسے دیکھا اسے یقین نہیں ہورہا تھا کی سامنے کھڑا لڑکا ساحل شاہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔لہر نے اس کو دیکھ کے خود کو چونٹی کاٹی اس کو لگا وہ اس کا سپنہ ہے۔۔۔۔آئوچ وہ چلائی تھی اس نے نظر اٹھا کے دیکھا وہ ابھی بھی سامنے کھڑا تھا مطلب وہ حقیقت تھی ساحل شاہ سچ میں اس کے سامنے تھا اپنے گھر سے جانے کے دکھ میں وہ تو یے بھول گئی تھی کی یے وقت ساحل سائیں کے کام پے جانے کا ہے اور کب وہ اس طرف نکل آئی تھی اور سڑک پر آگئی اور تو اور وہ جو ساحل شاہ کی جیپ کا آواز بھی دور سے پہچان جاتی تھی آج اتنا قریب ہوکے بھی نا پہچان پائی اس کو تو تب ہوش آیا جب سائیں کی گاڑی بلکل اس کے سامنے آکے رکی تھی۔۔۔۔۔۔۔ویسے محترمہ آج سے پہلے لڑکا نہیں دیکھا کیا۔۔۔۔۔۔۔اس کے اس طرح دیکھنے پے ساحل شاہ نے طنز کیا اور لہر نے اپنی نظریں اس پر سے پھیر کے اس کا ہاتھ تھاما اور اٹھ کھڑی ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔وہ سوری میں تو کھیت گھوم رہی تھی مجھے اندازہ ہی نا رہا میں کب اس سڑک کی طرف آ نکلی ۔۔۔۔۔۔ویسے بھی اگر موت آپ کے ہاتھوں نصیب ہو تو مجھے خودکشی بھی قبول ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔آخری بات لہر نے اپنے دل میں کہی تھی
کہیں چوٹ تو نہیں لگی نا آپ کو۔۔۔۔۔۔۔ساحل کے اس طرح سے فکریہ پوچھنے پے لہر کے تو قدم ہے زمین پر نا پڑ رہے تھے لہر کو تو محسوس ہے ہورہا تھا وہ ہوائوں میں اڑ رہی ہے۔۔۔۔۔۔
نہیں بلکل نہیں کوئی چوٹ نہیں لگی مجھے میں بلکل ٹھیک ہوں آپ کو تو چوٹ نہیں لگی نا(اگر اتنی محبت سے پوچھوگے تو بندہ اپنا درد ہی بھول جائیگا)۔۔۔۔۔۔۔۔اسے اندازہ ہی نا رہا اس نے ہڑبڑاہٹ میں کیا کہا تھا
کیا مطلب محترمہ مجھے کیوں چوٹ لگے گی۔۔۔۔۔۔۔ساحل نے اسے مشکوک نگاہوں سے دیکھا۔۔۔۔۔۔
وہ وہ میرا مطلب تھا کی یوں اچانک بریک لگائی نا تو کہیں اسٹیرنگ وغیرہ سے سر تو نہیں ٹکرایا نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لہر نے گھبرا کے بہانا بنایا
نہیں میں ٹھیک ہوں اب اگر آپ راستہ دینگی تو میں جائوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ اس کی گاڑی کے راستے کے بلکل بیچ میں کھڑی تھی۔۔۔۔۔
جی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا مطلب۔۔۔۔۔۔۔ساحل نے اس کی بڑی بڑی آنکھوں میں دیکھا
جی جی جائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔لہر اس کے راستے سے ہٹی اس کے ہٹنے پے ساحل جا کے اپنی جیپ میں بیٹھا تھا اور اسے اسٹارٹ کیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔پاگل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاتے جاتے ساحل کی سرگوشی اس کے کانوں میں پڑی تھی آج تو لہر کی خوشی کا کوئی اندازہ ہی نا تھا کی آج اس کا ساحل سائیں نہ صرف اس کے قریب تھا بلکے آج ساحل سائیں نے اس سے بات بھی کی تھی اور تو اور اسے سہارا دے کے اٹھایا تھا اس کی فکر بھی کی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لہر جتنا اداس ہوکے گھر سے نکلی تھی اب اتنی ہی خوش ہوکے واپس ہویلی کی طرف آئی تھی وہ جب حویلی میں آئی تو سلمان چودھری بھی کہیں باہر سے آرہے تھے
کہاں گئی تھی ہماری جان۔۔۔۔۔۔۔۔سلمان چودھری نے محبت سے لہر کو دیکھا جس کے چہرے سے مسکان جدا ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی رات اس کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کے پوری رات بیچین رہے تھے وہ ان کی اپنی اولاد تو نا تھی پر اپنی اولاد سے زیادہ محبت کرتے تھے اسے وہ بے انتہا زیادہ پیاری تھی اور اب اس کے چہرے کی مسکان دیکھ کے ان کے دل کو سکون ملا تھا
کہیں نہیں تایا سائیں صبح صبح زمینوں کے سیر پے نکل کے بڑا مزا آتا ہے ٹھنڈی ٹھنڈی پاک ہوا ہوتی ہے پہنچھیوں کی آواز بڑا سکون ملتا ہے صبح کی سیر پے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لہر نے مسکرا کے جواب دیا تھا
اللہ آپ کو ایسے ہی خوش رکھے میرا بچہ۔۔۔۔۔۔۔سلمان چودھری نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔۔۔۔۔۔۔۔آج صبح صبح کچھ زیادہ پیار نہیں جتایا جارہا تایا بھتیجی کا آخر کو ہم بھی اسی گھر کے بچے ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔اسد جب جوگنگ سے لوٹا تھا تو لہر کو اور سلمان چودھری کو ایسے لاڈ دلار کرتے دیکھا تو شرارت سے کہا کیونکی وہ اپنی آپی کے چہرے پے مسکان لانا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
آئو چھوٹے برخردار آپ بھی آجائیں۔۔۔۔۔۔
سلمان چودھری نے اپنے بھتیجےکیلئیے بازو پھیلائے اس سے پہلے کی احد ان کے پاس آتا لہر آگئی۔۔۔۔۔۔نا اسد نا تایا کی محبت صرف میرے لیے ہیں۔۔۔۔۔۔لہر نے شرارت سے کہا جس پے اسد نے موں بنایا تھا اور ان کو یوں مسکراتا دیکھ کے دور کھڑے شاہ زین چودھری کو بھی سکون ملا تھا وہ اپنے گھر کو ہمیشہ ایسے ہی دیکھنا چاہتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔پر افسوس بہت جلدی ان کے گھر کی یے خوشیاں چھیننے والی تھی ان کی خوشیوں کی روشنی پے غموں کا کالا بادل چھانے والا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
_______________________________
کیا کر رہی ہیں میری پیاری سی دادی اماں شاہ بیبی۔۔۔۔عمیر نے آکے پیچھے سے سکینہ بیگم کے گلے میں باہیں ڈالی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے اس طرح کے رویے پے ان کے چہرے پے ہمیشہ کی طرح مسکان آئی تھی۔۔۔۔۔۔۔وہ اکثر ان کے پاس صبح صبح آکے بیٹھ جایا کرتا تھا ساحل تو صرف اپنے کاموں سے کام رکھتا تھا اور عمر تو کسی سے بات ہی نہیں کرتا تھا احد کا بھی کبھی موڈ بنتا تھا تو آجاتا تھا ورنہ نہیں ویسے تو اس سب میں غلطی ان ہی کی تھی ان کے ہی بنائے ہوئے اصولوں نے مردوں کو مغرور بنایا تھا پر عمیر اکثر سب سے ملتا جلتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
کیا ہوا آج کم تے نہیں جارہا میرا پتر۔۔۔۔۔۔۔سکینہ بیگم نے محبت سے اپنی گود میں لیٹے عمیر کے بالوں میں انگلیاں پھیری۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہیں شاہ بیبی آج دل نہیں میرا۔۔۔۔۔۔عمیر نے بے دلی سے جواب دیا اصل اس کا مقصد کچھ اور تھا وہ جاننا چاہتا تھا ماضی کے بارے میں
شاہ بیبی ایک بات پوچھوں۔۔۔۔۔۔۔عمیر نے ان سے پوچھا
اڑے پتر تجھے اجازت کی کیا ضرورت ہے تو حکم کر بیٹا سائیں۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہ بیبی ماضی میں ایسا کیا ہوا جو ثمینہ پھپھو ایسے چپ چپ ہوگئی ساحل لالا ایسے کیوں رہتے ہیں شاہ بیبی ایسا کیا ہوا تھا ماضی میں جس کا ہمیں نہیں پتا اور 56 دن بعد کیا ہونے والا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عمیر نے ان سے پوچھا اس کے سوال پے سکینہ بیبی کی اس کے بالوں میں چلتی انگلیاں رکی تھی۔
کیا ہوا شاہ بیبی بتائیں نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان کی طرف سے کوئی جواب نا پا کر اس نے پھر سے پوچھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ نہیں پتر ایسا کچھ نہیں ہوا تھا تو ایسے ہی اپنے زہن میں الٹے سدھے خیال نا پال۔۔۔۔۔۔۔چل اٹھ مجھے دیر ہورہی ہیں گائوں کی عورتیں میرا انتظار کر رہی ہونگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔شاہ بیبی نے گھبرا کر جواب دیا اور جلدی جلدی سے وہاں سے نکل گئی کہیں وہ اور سوال نا کرلے
کچھ تو ہے شاہ بیبی ورنا آپ یوں نا جاتی اور جو بھی ہے اس کا جلدی پتا کرلونگا میں۔۔۔۔۔۔۔عمیر نے ان کی پشت کو دیکھ کے کہا اور وہاں سے نکل گیا
