Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ahle E Ishq (Episode - 10)

Ahle E Ishq By Mehak

سرتاج سائیں یے آپ کی چائے۔۔۔۔۔۔انیسہ بیگم نے ان کے ٹیبل پے چائے کا کپ رکھا ان کی بہت پرانی عادت تھی رات کو چائے پینے کی ابھی بھی وہ فائلس چیک کر رہے تھے کی انیسہ بیگم نے ان کے سامنے چائے رکھی انہوں نے فائلس سے نظریں ہٹا کے انیسہ کے چہرےکی طرف دیکھا وہ ان کو پریشان نظر آرہی تھی

کیا ہوا آپ پریشان کیوں ہیں سب ٹھیک تو ہے نا طبعیت تو ٹھیک ہے نا آپ کی۔۔۔۔۔سرتاج شاہ نے فکرمندی سے پوچھا

جی ہاں وہ مجھے آپ سے کچھ بات کرنی تھی ۔۔۔۔۔۔انیسہ بیگم نے اٹک اٹک کے اپنی بات مکمل کی

جی جی بولیں آپ گھبرا کیوں رہی ہیں کیا بات ہے بے جھجھک کے کہیں۔۔۔۔۔سرتاج شاہ نے انہیں اپنے پاس بٹھایا

جی وہ عمر کو شادی کرنی ہے۔۔۔۔۔۔

اڑے اس میں گھبرانے کی کیا بات ہے آپ مجھے یے بات ایسے بھی تو کہہ سکتی ہیں یے تو خوشی کی بات ہے میں شاہ جی سے بات کرتا ہوں ماشاءاللہ سے اتنی پیاری پیاری بچیاں ہیں ہمارے گھر میں ویسے بھی ساحل کے بعد عمر ہی بڑا ہے تو میں بھی سوچ رہا تھا کی کروالوں شادی اب اگر یے خود ہی کہہ رہا ہے تو میں صبح ہی شاہ جی سے بات کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔سرتاج شاہ کے چہرے کی خوشی دیکھ کے انیسہ بیگم کا دل ہی نہیں کیا کی وہ انہیں کچھ بتائے پر مجبور تھی دوسری طرف بھی ان کا بیٹا ہی تھا جانتی تھی اگر اس نے نا بتایا تو عمر خود ہی سرتاج شاہ سے بات کرے گا جو کی بلکل ٹھیک نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نہیں جی وہ کسی سے محبت کرتا ہے اور اسی سے شادی کرنا چاہتا ہے وہ۔۔۔۔۔۔انیسہ بیگم نے جھکے سر سےکہا یے بات کہتے ان کا سر ازخود ہی جھک گیا تھا

کیا کہہ رہی ہیں آپ آپ کو اندازہ بھی ہے سمجھا دیں اپنے اس لاڈلے بیٹے کو کی اس کی شادی اسی سے ہوگی جس سے ہم چاہیں گے۔۔۔۔۔۔سرتاج شاہ اپنی بات کہہ کے روم سے باہر چلے گئے تھے کیونکہ وہ اپنا غصہ اپنی بیوی پر نہیں نکالنا چاہتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نجانے کہاں کہاں ذلیل کروائے گا مجھے یے لڑکا پہلے جب پڑھنے کا کہا تب نہیں پڑھا اگر آج عمیر کی طرح پڑھ کر ڈاکٹر بن جاتا تو کیا چلا جاتا اس کا اب اس کی ایک اور ضد اب میں کیا کروں بس اللہ ہی خیر کرے ںنا جانے اس گھر کی اتنی پیاری بچیاں چھوڑ کر اس کو اس منحوس میں کیا نظر آیا جو اس کو اچھی لگتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

____________________________________

کیا ہوا پاگل ہوگئی ہو کیا جو رات کو یوں ان کنگن کوگھور رہی ہو۔۔۔۔۔سائرہ احد کے دیے ہوئے ان کنگنوں کو دیکھ رہی تھی جب مائرہ کی آواز سے وہ ہوش میں آئی وہ کنگن تو بہت پیارے تھے پر دینے والے کی محبت مان اسے اور پیارا بنا رہا تھا

ہاں پاگل ہوگئی ہوںں۔۔۔۔۔۔۔سائرہ نے کھوئے کھوئے لہجے میں کہا

اے جھلی ہوش میں آیا ۔۔۔۔مائرہ نے اسے ہلایا

اوہو کیا ہے کم از کم سکون سے کچھ سوچنے تو دیا کرو۔۔۔سائرہ نے جھنجھلا کے کہا

اوہو تو بتائیں گی کی کس نے دیے ہے یے کنگن جنہیں اتنی محبت سے دیکھا جارہا ہے اور سوچا جارہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

احد سائیں نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اوہوو تو اب انجینئر صاحب نے تحفے دینا بھی شروع کردیے ہیں ۔۔۔۔مائرہ نے ہونٹوں کو گول کرکے اوہو کہا۔۔۔۔۔۔۔ویسے انجینئر صاحب ہمارے جیجو کب بن رہے ہے۔۔۔۔۔

تو بھی کیا باتیں کر رہی ہے چپ ہوکے سوجا رات ہوگئی ہے۔۔۔۔۔۔سائرہ اسے ڈپٹ کے دوسری طرف کروٹ لے کے لیٹ گئی۔۔۔۔۔۔۔

اوہو تو اب شرمایا جا رہا ہے۔۔۔۔۔۔

______________________________________

لالا سائیں ہم اندر آجائیں۔۔۔۔۔۔اریزے نے اندر ڈریسنگ مرر کے سامنے تیار ہوتے ساحل شاہ سے اجازت طلب کی ساحل نے ڈریسنگ مرر سے نظر ہٹا کے اریزے کو دیکھا اس کی شکل و صورت سحر سے بہت ملتی جلتی تھی اور اس کی معصومیت بھی اسے دیکھ کے ساحل شاہ کو سحر کی یاد آتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جی آجائیں اندر۔۔۔۔۔۔۔۔ساحل شاہ نے اپنی آنکھوں میں آئی نمی صاف کی جو کی اسے دیکھ کے سحر کی یاد آنے کی وجہہ سے اس کی آنکھوں میں آئی تھی

وہ لالا میں آج آپ کے کمرے کی صفائی کروا دوں بہت دن ہوگئے ہیں ساحل لالا میں اپنی نگرانی میں کرائونگی اور کوئی بھی چھیڑ چھانی نہیں ہوگی کوئی بھی چیز اپنی جگہ سے نہیں ہلے گی۔۔۔۔۔اپنی جگہ پے ہی رہے گی لالا سائیں۔۔۔۔۔۔

ہاں ٹھیک ہے تم کروالو صفائی۔۔۔۔۔۔ساحل شاہ کی بات ابھی پوری نا ہوئی تھی کی ثمینہ بیگم کے کمرے سے کچھ ٹوٹنے کی آواز آئی تھی ساحل اس آواز پے ان کے روم میں دوڑ کے گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔اس کے پیچھے اریزے بھی وہاں گئی تھی جب وہ کمرے میں پہنچی تو ہر چیز ادھر سے ادھر پھیلی ہوئی تھی کانچ کی چیزیں بے دردی سے فرش پر ٹوٹی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔

اماں سائیں کیا ہوا اماں سائیں۔۔۔۔۔۔۔ساحل جلدی سے ان کے پاس گیا اور ان کو اپنے سینے سے لگا ے رلیکس کرنے کی کوشش کی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ساحل ساحل سحر کی تصویریں پتا نہیں کہاں گئی یہاں نہیں ہے ساحل مجھے میری بچی لا دو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ثمینہ بیگم نے سسکتے ہوئے کہا ان کی بات پے اریزے کے دماغ میں یے بات گھومی تھی کی جو اس چھوٹی بچی کی پکس اس نے لی تھی وہ کسی سحر کی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اماں سائیں اماں سائیں آرام سے مل جائے گی یہیں کہیں ہوگی آپ بیٹھیں۔۔۔۔۔۔۔ساحل نے انہیں آرام سے وہاں بٹھایا اور انہیں نیند کی دوائی دے کے سلا دیا۔۔۔۔۔۔۔۔

سنو یہاں جو بھی ہوا اس کا کسی کو مت بتانا اور ہاں یے سب صاف کروا دو ۔۔۔۔۔۔۔۔ساحل شاہ اریزے کو کہتا باہر چلا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔

___________________________________

اریزے ساحل کی الماڑی کی صفائی کر رہی تھی جب کوئی موٹی سی ڈائری نیچے گری۔۔۔۔۔۔۔۔اریزے نے وہ ڈائری اٹھائی اس میں سب کچھ لکھا تھا وہ انگلش میں لکھا ہوا تھا اریزے اس پے لکھا تو نا سمجھ پائی تھی پر اتنا جان گئی تھی کی وہ لکھاوٹ ساحل کی تھی وہ ملازمائوں کو صحیح سے کام کرنے کا کہتی عمیر کے روم کی طرف چل دی جب وہ اس کے روم میں آئی تو وہ وائٹ کوٹ پہنے ریڈی کھڑا تھا ہوسپٹل جانے کیلئیے

اڑے تم صبح صبح یہاں۔۔۔۔۔۔۔

وہ لالا سائیں کے کمرے کی صفائی کر رہی تھی تو مجھے یے کتاب ملی ۔۔۔۔۔۔اریزے نے ہاتھ میں پکڑی ڈائری اس کی طرف بڑھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔جس پے عمیر نے سرسری نظر ڈال کے اسے تھام لیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عمر نے ڈائری کا ٹائٹل دیکھا تو وہاں پے مائے لائف لکھا ہوا تھا وہ جیسے جیسے پڑھتا گیا اس کے تو ہوش ہی اڑتےگئے اور اریزے اس کے بدلتے زاویے دیکھ رہی تھی

کیا ہوا۔۔۔۔۔۔۔

چلو مجھے شاہ جی سے بات کرنی ہے۔۔۔۔۔۔۔عمیر اسے کہتا وہاں سے اٹھ جے باہر کی طرف نکل گیا تھا اور اریزے بھی اس کے پیچھے پیچھے چلتی گئی۔۔۔۔۔۔۔

________________________________________

لہر پچھلے آدھے گھنٹےسے اس جگہ پے انتظار کر رہی تھی یا تو آج وہ جلدی آگئی تھی یا ساحل شاہ کو آنے میں دیر ہوگئی تھی ۔۔۔۔۔۔اوہو کہاں رہ گئے ساحل سائیں آج تو دیدار کروا دیں شام کی فلائٹ سے امریکا چلے جانا ہے آج تو دیدار یار کروادیں۔۔۔۔۔۔۔لہر بے جا وہاں موجود پتھروں کو ٹھوکر مار رہی تھی اور اس کا ایک پتھر وہاں سے گذرتے ساحل شاہ کی بازو پے لگا تھا اور اس نے گاڑی روکی تھی ۔۔۔۔۔۔۔جیپ رکنے کی آواز پے لہر نے سامنے دیکھا جہاں ساحل شاہ اپنی بازو کو سہلا رہا تھا

محترمہ کوئی خاص دشمنی نے ہے کیا آپ کی مجھ سے۔۔۔۔۔۔۔ساحل نے اپنے گوگلس اتار کے اسے دیکھا

سوری سوری۔۔۔۔۔۔۔۔وہ غلطی سے لگ گیا سوری۔۔۔۔۔۔۔لہر جلدی سے رستے کے اس پار اس کی جیپ کے قریب آئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہم ٹھیک ہے پر دھیان رکھیں ایسے کسی کا ایکسیڈینٹ بھی ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جی جی ویسے آپ کو زیادہ چوٹ تو نہیں لگی نا۔۔۔۔۔۔لہر نے مسکرا کے اسے دیکھا اورجب وہ مسکرائی تھی تو اس کی بڑی بڑی آنکھوں میں بھی ایک الگ ہی چمک آئی تھی اس کی کالی گھری آنکھیں بہت سحر انگیز تھی کسی کو بھی اپنے حصار میں قید کردینے والی۔۔۔۔۔۔۔اور ساحل شاہ کو بھی اپنا آپ قید ہوتا محسوس ہوا اس لیے اس نے جلدی سے اس سے نظریں چرائی

ہاں میں ٹھیک ہوں نہیں زیادہ چوٹ نہیں لگی میں ٹھیک ہوں آپ پریشان نا ہوں ۔۔۔۔۔ساحل نے اسے کہہ کے گاڑی اسٹارٹ کی

رکیں سنیں۔۔۔۔لہر نے اسے پکارا

جی بولیں۔۔۔۔۔۔۔لہر کے کہنے پے ساحل اس کی طرف مڑا تھا۔۔۔۔۔۔اس کے مڑنے پے لہر نے ایک چھوٹہ سا ڈبا اس کی طرف بڑھایا

یے کیا ہے۔۔۔۔۔ساحل نے اس چھوٹی سی ڈبی کی طرف اشارہ کیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔

گفٹ ۔۔۔۔۔آج میں شام کو امریکا چلی جائونگی ہمیشہ کیلئیے اس لیےسوچا جاتے جاتے آپ کو ایک تحفہ ہی دیتی جائوں جسے دیکھ کے آپ کو میری یاد آئے گی بائے۔۔۔۔۔۔۔۔لہر وہ تحفہ اس کے ہتھیلی پے رکھ کے جانے کیلئیے مڑی تھی اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا کے آگے بڑھ رہی تھی نا چاہتے ہوئے بھی اس کی آنکھ سے ایک آنسو جھلکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ساحل شاہ ںے اپنی ہتھیلی پے پڑے اس گفٹ کو دیکھا اور پھر اس کی پشت کو اس کے دور جانے کی بات اسے بلکل اچھی نا لگی تھی اسے دکھ ہوا تھا یے بات جان کے اس کا دل چاہا وہ اسے روک لے پر ساحل شاہ دل سےنہیں دماغ سے کام کرتا تھا اور آج بھی اس نے دماغ سے کام لیا تھا اور گاڑی اسٹارٹ کر کے آگے نکل گیا تھا

_________________________________________

شاہ جی مجھے آپ سے کچھ ضروری بات کرنی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔عمیر آج پہلی بار ان کے کمرے میں بغیر اجازت کے اندر آیا اور اس کے پیچھے اریزے بھی روم میں آئی تھی

آپ نیچے جائیں ۔۔۔اور آپ عمیر بیٹا کچھ تمیز ہی کرلیں بغیر اجازت کیسے آسکتے ہیں پہلے تو کبھی ایسا نا کیا آپ نے تو آج کیوں آخر وجہہ اس بدتمیزی کی وجہہ جان سکتے ہیں۔۔۔۔۔احسان شاہ نے اس کی اس حرکت پے اسےکڑی نظروں سے دیکھا اور پہلےتو وہ اریزے سے متوجہ ہوے پھر عمیر سے ۔۔۔۔۔۔۔

نہیں اریزے کہیں نہیں جائیگی۔۔۔۔۔۔شاہ جی کے حکم پے اریزے جانے کیلئیے مڑی تھی کی عمیر نے اس کی کلائی پکڑی اور شاہ جی سے کہا۔۔۔۔شاہ جی کے سامنے اس طرح سے ہاتھ پکڑنے پے اریزے گھبرا گئی تھی ۔۔۔۔۔۔شاہ جی مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے اور اس کیلئیے مجھے کسی گواہ کی ضرورت ہے اور اریزے میری گواہ ہے کسی گواہ کے علاوہ آپ میری بات نہیں مانیں گے اور اسے ٹال دیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔عمیر نے اریزے کو اپنے ساتھ کھڑا کیا جب کی اس کی کلائی ابھی تک پکڑی ہوئی تھی۔۔۔۔۔

کیا مطلب ہم آپ کی بات نہیں سمجھے آپ کیا کہنا چاہتے ہیں عمیر کیا مطلب ہے آپ کا ایسی کیا بات کرنی ہے جس کیلئیے آپ کو گواہ کی ضرورت ہے کیا ہم جان سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے اس طرح سے کہنے پے شاہ جی نے گھبرا کے کہا اور عمیر نے وہ فوٹو ایلبم اس چھوٹی بچی کی تصویریں اور ساحل جی ڈائری وہاں بیڈ پے رکھی تھی وہ سب دیکھ کے احسان شاہ کا رنگ زرد پڑا تھا جس راز کو وہ اتنے دنوں سے چھپا کے بیٹھے تھے اب وقت آگیا تھا اس کو سامنے لانے کا۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *