Ahle E Ishq By Mehak NovelR50505 Ahle E Ishq (Episode - 15)
No Download Link
Rate this Novel
Ahle E Ishq (Episode - 15)
Ahle E Ishq By Mehak
بابا سائیں کیسے ہیں آپ اب۔۔۔۔۔۔۔۔وہ سب جلدی سے نرس کے بتانے پر ان کے وارڈ میں آئے تھے
لہر لہر کہاں ہے پتر۔۔۔۔۔۔۔۔شاہ زین چودھری نے سب سے پہلے لہر کا پوچھا
بابا سائیں وہ چھوڑیں آپ بتائیں آپ کیسے ہیں۔۔۔۔۔۔سلمان شاہ نے انہیں رلیکس کرنا چاہا تھا
سلمان تم چھوڑو اور بتائو کیسی ہے ہماری پوتی اور کہاں ہے ۔۔۔۔۔۔۔ان کے پوچھنے پے وہ سب چپ ہوگئے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہ زمان چھوڑو سلمان تو نہیں بتا رہا تم ہی بتا دو مجھے کی کہاں ہے لہر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شاہ زین چودھری نے شاہ زمان چودھری کی طرف آس سے دیکھا
اڑے تم میں سے کوئی بتا بھی دو کہاں ہے ہماری پوتی کس حال میں ہے زبیر شہیر شہریار تم لوگ ہی بتادو حویلی ہے کیا وہ اگر حویلی میں ہے تو لے چلو ہمیں حویلی ہمیں ہماری پوتی سے ملنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔شاہ زین چودھری نے وہاں سے اٹھنے کی کوشش کی
نہیں دادا سائیں یہیں رہیں آپ وہ ساحل شاہ کے پاس ہے۔۔۔۔۔۔زبیر کے الفاظ پے ان کے چہرے پے پریشانی صاف ظاہر تھی
تو تم لوگ یہاں کیو کھڑے ہو جائو لے آئو ہماری بچی کو نا جانے کس اذیت کس تکلیف میں ہوگی وہ اسے کیوں اس کی سزا ملے جو اس نے کیا ہی نہیں ہے جائو لے آئو ہماری بچی کو اگر نہیں ہمت تو ہم خود چلے جاتے ہیں ہٹو یہاں سے تم لوگ۔۔۔۔۔۔۔شاہ زین چودھری نے پھر سے اٹھنے کی کوشش کی
نہیں بابا سائیں ابھی نہیں بہت جلد آپ کی پوتی آپ کے سامنے ہوگی پر بابا سائیں جلد بازی میں کیا کوئی بھی کام صحیح نہیں ہوتا ہے اس لیے کچھ صبر کریں پہلے ہی کسی کی جلد بازی میں کیے گئے فیصلوں سے بہت کچھ بگھت رہے ہیں ہم اس لیے بہتر ہے کی ہم اس وقت صبر سے کام لیں بابا سائیں میرا وعدہ ہے آپ سے کچھ نہیں ہوگا اسے آپ بس خود کو رلیکس کریں بابا سائیں اپنا خیال رکھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شاہ زمان چودھری نے انہیں رلیکس کرنا چاہا
ہاں بابا صحح کہہ رپے ہیں شاہ زمان جب اتنے دن ہم ہمارے ایک بچے کے بغیر رہ رہے ہیں تو کچھ دن لہر کے بغیر بھی رہ لینگے بابا سائیں آپ بس اپنا خیال رکھیں کیونکہ جب ہم اپنا خیال نہیں رکھینگے تو لہر کو ہمت کیسے دینگے اسے کیسے محفوظ کر پائینگے بابا سائیں۔۔۔۔۔۔۔۔سلمان چودھری نے بھی شاہ زمان چودھری کی ہاں میں ہاں ملائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے ہم مان لیتے ہیں تم دونوں کی بات پر ہماری پوتی کو کچھ نہیں ہونا چاہیے۔۔۔۔۔۔۔۔
دادا سائیں آپ بے فکر رہیں ابھی ہم زندہ ہے اسے کچھ نہیں ہونے دینگے۔۔۔۔۔۔۔۔اس بار زبیر نے انہیں دلاسہ دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس وقت دلاسے کی تو ان سب کو ضرورت تھی سب بکھرے ہوئے تھے پر اس وقت وہ شاہ زین چودھری کو دلاسہ دے رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
___________________________________________
مجھے پتا تھا تم مجھے یہیں ملوگے۔۔۔۔۔۔یوسف کی آواز پے اس نے مڑ کے دیکھا جہاں یوسف اسے کھڑا دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔یوسف رستے میں ہی عمیر کو حویلی کی طرف بھیج کے خود گائوں کے پچھلی طرف کچے کنوے کی طرف آگیا ان تینوں کی بچپن سے وہیں جگہ تھی بیٹھنے کی وہ جب بھی اداس ہوتےتھے یا زیادہ خوش ہوتے تھےتو یہیں آتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم یہاں کیوں آئے ہو۔۔۔۔۔۔ساحل نے اسے دیکھ کے بیزاری سے کہا
اگر یہیں سوال میں تم سے پوچھوں تو۔۔۔۔۔۔۔۔یوسف اس کے قریب بیٹھ گیا
تمہیں ابھی یہاں نہیں آنا چاہیے تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ساحل نے اس کی طرف دیکھ کے کہا
کیا کروں اب تمہاری طرف بے وفا تو ہوں نہیں کی دوست کو مصیبت میں اکیلا دوست کو ایسے ہی کہیں سر راہ چھوڑ دوں تکلیف میں ہرگز نہیں چھوڑ سکتا ہوں میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔یوسف کی بات سمجھتے ہوئی اس نے ضبط سے آنکھیں میچی
اب بتائوگے تم کی یہاں کیوں آئے ہو کیا ہوا پھر سے۔۔۔۔۔۔۔یوسف نے سب کچھ جانتے ہوئے بھی انجان بن کے اس سے پوچھا۔۔۔۔۔۔
کچھ نہیں بس لہر کو آج حویلی لے آیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
پر کیوں ابھی سے کیوں ابھی تو وقت تھا۔۔۔۔۔
کیونکہ وہ لوگ اسے امریکا بھیجنا چاہتے تھے مجھ سے دور وہ آزاد کرنا چاہتے تھے اسے پر ایسا ساحل شاہ نہیں ہونے دیگا ہرگز نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو تمہیں تو خوش ہونا چاہیے نا ۔۔۔۔۔۔۔یوسف نے اس کی طرف دیکھ کے کہا
ہاں تو میں خوش ہوں تمہیں کس نے کہا میں اداس ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔ساحل نے بھی اپنی آنکھیں کھول کے اس کی طرف دیکھا
تمہارا چہرہ تمہاری آنکھیں بتا رہی ہے اور تمہارا اس جگہ پر ہونا ہی اس بات کا ثبوت ہے کی تم اداس ہو ساحل شاہ اور اب تم مجھے صحیح سے بتائو کی کیا بات تمہیں تکلیف دے رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یوسف کی بات پے حیران تو ساحل بھی تھا آخر ہمیشہ سے وہ یے تو چاہتا تھا کی لہر چودھری کو تکلیف دے وہ اس خاندان کو تباہ کرنا چاہتا تھا تو اب پھر کیوں۔۔۔۔۔۔۔
میں نہیں جانتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ساحل نے اس بار سچ کہا تھا کیونکہ جواب تو اسے بھی پتا نا تھا
پر مجھے پتا ہے میرے دوست تم چاہے کتنے بھی مضبوط بننے کی کوشش کرو پر اتنے ہو نہیں تم ہر روز اس غم میں سلگتے ہو کی تم نے اسرار کا قتل کردیا ہے وہ تو تم نے جلدبازی اور جنون میں کردیا اب لہر کو تکلیف نہیں دے پارہے تمہیں درد ہورہی ہے نا یہاں ۔۔۔۔۔۔۔یوسف نے دل پے انگلی رکھ کے کہا اور پھر اپنی بات شروع کی ۔۔۔۔۔
میری جان میں نے اس وقت بھی تجھے کہا تھا کی ہمارا اسرار ایسا کچھ نہیں کر سکتا اور آج بھی تجھے یہیں کہتا ہوں کی اسرار بے گناہ ہے۔۔۔۔۔۔۔تو نے ایک غلطی کردی ہے غلط فہمی میں آکے اب تو ایک اور کرنے جا رہا سوچ لو ساحل شاہ اپنا ضمیر تو پہلے ہی مار چکے ہو تم اب اپنی روح کو فناہ نا کرو میری جان لوٹ آئو نفرت کے راستے میں کچھ نہیں ہےسوائے کانٹوں اور تنہائی کے تیری وہ پیاری سی مسکان نا جانے کتنے دن سے غائب ہے جانتے ہوکیوں کیونکہ وہ دل سے آتی ہے اور تو نے تو اپنا دل ہی دبا دیا ہے نفرت تلے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میری جان لوٹ آ کہیں اور دیر نا ہوجائے کہیں تجھے اور پچھتانا نا پڑے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یوسف نے اس کے کندھے پے ہاتھ رکھ کے اسے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تجھے کس نے کہا میں پچھتا رہا ہوں بلکل نہیں میں بلکل نہیں پچھتا رہا ہوں اور مجھے کیوں پچھتانا چاہیے کیا غلطی ہے میری وہ قاتل تھا میری بہن کا اس کا قتل کر کے مجھے کوئی پچھتاوا نہیں ہوا بلکے سکون ملا ہے سکون اور آج بھی اداس نہیں ہوں ہم یہاں جب اداس ہوتے ہیں صرف تب نہیں بلکہ جب خوش ہوتے تب بھی آتے ہیں اور آج یہاں میں اپنی خوشی سلیبریٹ کرنے آیا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ساحل شاہ نے اس سے نظریں چرائی کیونکہ اس کی نظروں میں دیکھ کے وہ جھوٹ نہیں بول سکتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اچھا ساحل جو تو کہہ رہا ہے اگر وہ سچ ہے تو تومجھ سے نظریں کیوں چرا رہا ہے۔۔۔۔۔تمہاری یے نظریں تمہارا ساتھ کیوں نہیں دے رہی اس بات میں کی تو سچ کہہ رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔یے تو مجھے کسی اور اذیت کا ہی پتا بتا رہی ہے میری جان ابھی بھی وقت ہے لوٹ آ ورنہ پچھتاوے کے علاوہ کچھ نہیں بچے گا دیکھو وہ معصوم ہے اس سب میں اس کی کوئی غلطی نہیں تو تم اسے سزا دے رہے ہو تمہارے مطابق تمہارا گناہ گار اسرار تھا اس کا قتل کر چکے ہو تم تو کیوں اسےسزا دے رہے ہو تم چھوڑ دو اسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یوسف نے اسے سمجھانے کی ایک بار پھر سے جوشش کی تھی اسے پتا تھا اسے سمجھا کے وہ صرف دیوار کے ساتھ ماتھا پیٹ رہا ہے جس سے اثر تو کوئی پڑے گا نہیں البتہ اسے ہی چوٹ لگے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غلطی تو سحر کی بھی نا تھی اسے کس بات کی سزا دی تھی اسرارنے صرف اس ڈائری کو جلانے کی تمہیں پتا ہے جب میں نے جنازہ پڑھا تھا نا سحر کا اور بابا سائیں کا تب خود سے یے وعدہ کیا تھا کی میں اس کے سارے گھر والوں کو تباہ کردونگا ان کو بھی وہیں تکلیف دونگا جو مجھے ملی ہے اور ان کی وہ تکلیف وہ تڑپ صرف لہر کو تکلیف دینے سے ملے گی۔۔۔۔۔۔۔۔
ساحل نا بنو پتھر نا بن جوالہ جس کا لاوا ابل ابل کے اسے ہی تباہ کردیتا ہے اسے ہی ختم کر دیتا ہے ویسے ہی کہیں تیرا غصہ تیری نفرت تجھے تباہ نا کردے ابھی بھی وقت ہے آجا پیچھے میں مانتا ہوں سحر کے ساتھ جو ہوا اس میں اس کی کوئی غلطی نا تھی پر جو ہونا تھا ہوگیا نا وہ لہر نے تو نہیں کیا نا معاف کردے اسے تو اب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یوسف ایسا تم کہہ سکتے ہو کی جو ہونا تھا ہوگیا کیونکہ وہ تمہاری بہن نا تھی میری بہن تھی تم نے وپ اذیت نہیں سہی جو میں نے سہی ہے اور بھلے اس کی وجہہ لہر نا تھی پر اس کا بھائ اسرار تو تھا نااور اب اسرار کےکیے کی سزا اس کی بہن بھگتے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
واہ ساحل آج تونے مجھے بھی پرایا کردیا یارا تیری بہن تھی میری نہیں مطلب اس کے جانے سے صرف تجھے فرق پڑا ہمیں نہیں۔۔۔۔۔۔واہ یار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یوسف اس کے کندھے پے ہاتھ رکھ کے وہاں سے اٹھا واقعی آج اسے بہت تکلیف ہورہی تھی ساحل کی کہی گئی باتیں اس کے دل پے ایسے لگی تھی جیسے کسی نے خنجر اس کے دل کے آرپار کیا ہو جسے وہ اپنی جان سے زیادہ محبت کرتا تھا اس کا بھائی بچپن کا ساتھی اسی نے اسے پرایا کردیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یوسف میری بات سن میرا وہ مطلب نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔ساحل بھی جلدی سے اس کے ساتھ اٹھا
جی میری جان ہوجاتا ہے خیر صبح بات کرے ہیں اللہ کے حفظ و امان میں۔۔۔۔۔۔یوسف اسے کہتا وہاںسے نکل گیا اور وہ بھی وہاں کچھ دیر رہ کے حویلی کی طرف چل دیا۔۔۔۔۔۔۔۔
_____________________________________________
اس کی جب آنکھ کھلی تو شاید رات کے تین بج رہے تھے اس نے اپنے پاس دیکھا تو وہ معصوم سی لڑکی اس کے پاس سوئی ہوئی تھی اسے تو سمجھ نا آرہا تھا کی وہ کب سوئی تھی ہاں اسے اس لڑکی نے دودھ پلایا تھا اس کے بعد وہ سوگئی تھی شاید اس دودھ میں نیند کی میڈیسن تھی لہر نے ایک مسکراتی نظر سامنے اس معصوم اس لڑکی پر ڈالی جسے وہ جانتی تک نا تھی پر اس نے اس کی اتنی پرواہ کی تھی کاش سب اس جیسے ہوتے پر کاش کاش ہی رہتا ہے۔۔۔۔۔۔۔لہر نے اپنے دل میں خود سے کہا
اور جب اس نے موبائل پے وقت دیکھا تو تین بج رہے تھے وہ اٹھی وضو کر کے تہجد ادا کیے اور پھر دعا میں ہاتھ اٹھائے تو بے ساختہ اس کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوئے اور اس نے بغیر آواز کے رونا شروع کردیا اس کے پاس الفاظ نا تھے کی کیا کہے بس آنسو ہی رواں تھے بہت دیر رونے کے بعد جب اس کے آنسو خشک ہوئے تو وہ اٹھی جائے نماز سمیٹا اسے پیاس لگی تھی اس نے ادھر ادھر پانی کےلئے دیکھا پر جگ خالی تھا اسے تو پتا بھی نا تھا کی اب پانی کہاں ہوگا پر جب پیاس شدت پکڑ گئے تو اللہ کا نام لے کے باہر نکل آئی اور ڈھونڈتے ڈھونڈتے کچن مل ہی گیا کچن میں آکے اس نے پانی پیا وہ ابھی پانی پی ہی رہی تھی جب اسے باہر سے کوئی کانچ کی چیز ٹوٹنے کی آواز آئی وہ پانی کا گلاس رکھ کے
جلدی سے باہر آئی ۔۔۔۔۔۔۔۔وہ جب ہال میں آئی تو ایک لڑکا جو کی لہر کو دیکھا دیکھا لگ رہا تھا پوری طرح سے لڑکھڑا کے چل رہا تھا شاید وہ نشے میں تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عمر کی نظر جب لہر پر پڑی تو وہ اس کی طرف بڑھا اس کو اپنی طرف بڑھتا دیکھ لہر پیچھے ہٹتی گئی پر اب دیوار تھی کہاں جاتی وہ اور وہ اس کے قریب تھا
ہر جگہ تم ہی نظر آرہی ہو اب دیکھو نا آج نشے میں بھی تم ہی نظر آرہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہا تھا بابا کو پر وہ کہتے دوبارہ تمہاری طرف آنکھ اٹھا کر بھی نا دیکھوں اب خود دیکھو میں کہاں دیکھتا ہوں تم خود مجھے نظر آتی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عمر نے اسے لڑکھڑاتی آواز میں کہا اور اس سے تھوڑا دور ہٹ کے وہ کانچ کی شراب کی بوتل جو کی اس کے ہاتھ میں تھی پورے زور سے زمین پے ماری اور پھر اس کے قریب ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا ہورہا ہے یہاں۔۔۔۔۔۔۔۔ساحل شاہ جو کی ابھی حویلی میں آیا تھا اپنے سامنے یے سب دیکھ کے اس کا تو دماغ غصے سے پھٹنے پے آیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لہر جو پہلے سے ہی گھبرائی ہوئی تھی ساحل شاہ کی آواز پے اس کا دل خوف سے تیز دھڑکنے لگا تھا اس کا جسم کانپ رہا تھا اب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اف لالا سائیں آپ ابھی بھی یہاں آپ تو سپنے میں بھی مجھے چین کا سانس نہیں لینے دینگے نا لالا سائیں کم از کم میرے سپنوں میں تو مجھے اکیلا چھوڑ دیتے لہر کے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عمر ساحل کی آواز پے بدمزہ ہو کے اس کی طرف بڑھا تھا
ساحل اس کی بات کو نظرانداز کرتا لہر کی طرگ بڑھا اور لہر جو کی ابھی تک خوف سے اسی دیوار سے چپکی ہوئی تھی ساحل نے اسے بازو سے دبوچ کر اپنی طرف کھینچا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور اس کی نازک گال پے اپنے ہاتھ کے نشان چھوڑے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لہر نے بے یقینی سے اپنی گال پے ہاتھ رکھ کے ان نشانوں کو چھوا اسے یقین نہیں ہورہا تھا کی ساحل شاہ نے اس پے ہاتھ اٹھایا تھا خیر جب سے وہ یہاں آئی تھی ہر کسی کے الگ الگ روپ ہی دیکھ رہی تھی اس کی زندگی تو ایک پہیلی بن کے رہ گئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی اتنی رات کو یوں حویلی میں کہیں آنے کی کسی کی اجازت کے بغیر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ساحل شاہ اس پے دھاڑا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کی آواز پے لہر اندر تک کانپ گئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ساحل شاہ آپ میں کیا اب اتنی بھی تمیز نہیں رہی کی کسی عورت پے ہاتھ نہیں اٹھاتے۔۔۔۔۔۔۔عمر نے جو بوتل توڑی تھی اس آواز پے سب نیچے آئے تھے پر یہاں جو ہوا اسے دیکھ کے احسان شاہ کا غصہ تو ساتویں آسمان کو چھو رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔احسان شاہ کی آواز سن کی ساحل نے جلدی سے لہر کی بازو کو اپنے شکنجے سے آزاد کیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور لہر جو پورے طریقے سے اس کے رحم و کرم پے تھی اس کے چھوڑنےسے نیچے گری تھی اریزے جو پاس ہی کھڑی تھی وہ جلدی سے اس کے قریب آئی تھی اور اسے سہارا دے کے کھڑا کیا تھا
اریزے اسے یہاں سے لےجائو۔۔۔۔۔۔۔شاہ سائیں کے کہنے پے اریزے اسے لےکے اپنے کمرے کی طرف چل دی
ساحل ہمیں آپ سے اس حرکت کی امید ہرگز نا تھی آج آپ نے ایسے حرکت کر کے یے ثابت کردیا کی وجدان شاہ اور ثمیںہ اور ہماری تربیت میں کوئی کمی رہ گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شاہ سائیں اپنی ضبط کی آخری حد پے تھے اس وقت
دیکھیں دادا سائیں یے میرا اور میری بیوی کامعاملہ ہے میں نہیں چاہتا کوئی بھی اس کے بیچ میں آئے باقی اس گستاخی کےلئے آپ سے معافی چاہتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔ساحل شاہ اپنی بات کہتا وہاں سے واک آئوٹ کرگیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
__________________________________________
کیا ہوا درد ہورہا ہےکیا۔۔۔۔۔۔۔اریزے اس کی۔گال کے اس ریڈ نشان پے مرہم لگا رہی تھی جب اس کی ہلکی سی سسکی پر اس نے پوچھا
ہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اوہ اچھا سوری میں اب آرام سے کرتی ہوں۔۔۔۔۔اریزے اس کو مرہم تو پہلے ہی آرام سے لگا رہی تھی پر اب اور احتیاط سے لگا رہی تھی
تمہارے آرام سے لگانے سے کیا ہوگا۔۔۔۔۔
کیا مطلب۔۔۔۔۔اس کی بات اریزے کو سمجھ نا آئی تھی
مطلب کی درد تو ہورہی ہے مجھے پر اس چوٹ پر نہیں ۔۔۔۔یہاں درد ہورہے ہے مجھے۔۔۔۔۔۔۔لہر نے اپنے دل پے انگلی رکھ کے اس کی طرف اشارہ کیا ساتھ ساتھ اس کے آنسو بھی اس کی آنکھوں سے نکلنا رواں ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔تمہیں پتا ہے کتنا درد ہوتا ہے جس سے آپ اتنی محبت کرو اس کی نفرت دیکھ کے اس کی جو نفرت ہے نا میرے دل پےکسی تیر کی ماند لگتی ہے جوبھی ہوا تھا اس میں میری تو کوئی غلطی نا تھی تو مجھے کس چیز کی سزامل رہی ہے کیوں وہ مجھ سے نفرت کیوں کرتا ہے وہ میں نے تو کچھ نہیں کیا تو مجھےکس بات کی سزا مل رہی ہے جانتی ہو جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے اس سے محبت کی ہے میں نے اور آج مجھے میری محبت کا یے صلہ مل رہا ہے۔۔۔۔۔۔کیوں آخر کیوں۔۔۔۔۔۔لہر اس سے گلے لگ کے رورہی تھی ۔۔۔۔۔
