Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ahle E Ishq (Episode - 5)

Ahle E Ishq By Mehak

اوئے اندھے ہو کیا ابھی میری جیپ کو کچھ ہو جاتا تو۔۔۔۔۔۔۔اس کی کار کا شیشہ کسی نے بجایا تھا اس نے نیچے کیا تو سامنے برائون کلرکے حجاب میں لڑکی کھڑی اسے گھور رہی تھی سنہری دھوپ میں اس کا چہرہ بہت پیارہ لگ رہا تھا عمر کی نظریں ایک پل کیلئیے اس پے ٹھر گئی۔۔۔۔۔۔۔۔
باہر نکلو ایسے کیا گھور رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔لہر چودھری کو اس شخص پے بہت غصہ آیا تھا ایک تو اس کی جیپ کو ٹکر ماری تھی اوپر اسے گھور رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے کہنے پے عمر نے کار ڈور اوپن کیا اور باہر آگیا
جی۔۔۔۔بولیں۔۔۔۔۔۔۔عمر نے اپنے گوگلس اتار کے اسےدیکھا

یے آپ کو کہاں کی اتنی جلدی ہے جناب۔۔۔۔۔۔۔

جی کہیں کی نہیں کیو۔۔۔۔۔۔عمر اس کے یوں فر فر بات کرنے پے حیراں ہوا تھا کیوںکی یے جس طرف جارہی تھی وہ سڑک ان جےگائوں کی طرف جاتی تھی اور ان کے گائوں میں زیادہ تر لڑکیاںں سب ان پڑھ تھی اور جو کچھ پڑھی لکھی تھی وہ بھی پانچویں پاس تھی اور ان کا تو لڑکوں کے سامنے تک نہیں آتی تھی جواب دینا تو دور کی بات تھی

تو یے کس چیز کی جلدی تھی جو یوں ٹکر ماری ۔۔۔۔۔۔۔۔اگر میری جیپ کو کچھ ہوجاتا تو کیا ہوتا ہاں اندازہ بھی ہے کتنی پیاری ہے مجھے یے جیپ اگر اس جیپ کو کچھ ہوجاتا تو تمہاری جان لینے میں بھی وقت نا لگاتی لہر چودھری۔۔۔۔۔۔۔

دیکھیں شاید غلطی سےہوگیا ہوگا سوری۔۔۔۔۔۔۔

اوکے اگین میری جیپ بھی دیکھو تو سو قدم دور رہنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کی بات پے عمر ںے لہر کی جیپ کو دیکھا جو کی بلکل ساحل شاہ کی جیپ جیسی تھی وہیں رنگ وہیں ماڈل سب سیم

کیا میری جیپ کو کیوں ایسے دیکھ رہے ہوسمجھ گئے ہو نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کی بات پے عمر نے ہاں میں سر ہلایا اور وہ جاکے اپنی جیپ میں بیٹھ گئی۔۔۔۔۔کیا لڑکی تھی۔۔۔۔۔۔اس کے جاتے عمر نے خودکلامی کی اور اپنی کار میں بیٹھ کے اس کے پیچھے پیچھے گاوں کی طرف چلا دیا۔۔۔۔۔۔

حد ہوتی ہےایک تو اوور اسپینڈنگ نا کرنے کا واعدہ کیا ہے اور اپر سے اس گھونچو سے بھی ابھی ٹکرانا تھا یا اللہ بس ساحل شاہ سائیں ابھی نا گئے ہوں انہیں لیٹ ہوگئی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔لہر خودسے باتیں کر رہی تھی کی مغرب کی اذان ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔لو جی ہوگیا کام اب تو چلے ہی گئے ہونگے ساحل سائیں ۔۔۔۔اس نے گاڑی کی اسپیڈ پھر بھی کم نا کی اور اس موڑ پے پہنچ کے اس نے گاڑی روکی اس پے پیچھے عمر نے بھی گاڑی روکی۔۔۔۔۔عمر اسے بغور دیکھنے لگا اس نے آس پاس شاہوں کی زمینوں کی طرف دیکھا پھر وہیں نیچے پیپل کے پیڑ کے نیچے بیٹھ گئے اور گھاس کو نوچنے لگی تقریبن دس منٹ وہیں بیٹھنے جے بعد وہ اٹھی اور اپنی جیپ نکال کے چودھریوں کی طرف چلی گئی۔۔۔۔۔۔۔اور وہ شاہوںکی طرف

________________________________

ساحل شاہ۔۔۔۔۔۔۔۔ساحل مسجد سے ابھی نماز ادا کر کے نکلا تھا کی پیچھے سے اسے کسی نے پکارا اس نے مڑ کر دیکھا تو پیچھے یوسف اسے ہی دیکھ رہا تھا یوسف کو دیکھ کے اسکے چہرے پے مسکان بکھری تھی جو کی کبھی کبھی ہی مسکراتا تھا اس کے چہرے پے مسکان دیکھ کے اس کے ساتھ کھڑے احسان شاہ کے دل میں سکون اترا تھا اس کے مڑنے پے یوسف ساحل کی طرف آیا

تم کب آئے یوسف۔۔۔۔۔۔۔ساحل اس سے بغلغیز ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔یوسف ایئر فورس میں تھا وہ اور ساحل شاہ بچپن کے دوست تھے بچپن سے ایک دوسرے کے ساتھی رہے تھے ہر دکھ سکھ کے ساحل شاہ اسرار ارسلان چودھری اور یوسف شاہ بچپن کے ساتھی تھے ہر جگہ ایک ساتھ ہی پائے جاتے تھے پر اب افسوس ساحل شاہ اسرار ارسلان چودھری سے نفرت کرتا تھا اور شاید اسی نفرت کی وجہہ سے اب گائوں بھی دو تھے اب صرف ایک ہی دوست تھا اس کا یوسف شاہ

بس آج ہی آیا ہوں شام کو زمینوں پر کیا تو پتا چلا کی تو وہاں نہیں ہے تو وہاں سے سیدھا یہاں آیا ہوں تو بتا کیسا ہے اب ۔۔۔۔۔۔۔یوسف نے مسکرا کے اس کے خوبصورت وجود کو دیکھا جو کی ویسے کا ویسہ تھا بس اگر کچھ تبدیل ہوا تھا وہ بس اس کا دل تھا جس میں صرف ویرانی تھی اس کی زندگی میں جہاں پہلے خوشیوں کے محل ہوا کرتے تھے وہاں اب غموں جے کھنڈر تھے

اچھا میں جیسا ہمیشہ ہوتا ہوں ویسا ہی ہوں شاہ جی آپ جائیں ہم دونوں کچھ وقت تک آتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یوسف کو جواب دے کے وہ شاہ سائیں کی طرف متوجہ ہوا اور ان کے کہنے پے احسان شاہ وہاں سے چلے گئے اور وہ دونوں وہاں سے کچی سڑک کی طرف چل دیے اور آکے پرانے کنوے کے قریب بیٹھ گئے اس طرف کم ہی لوگ آتے تھے پر ان کا بچپن سے یہیں مقام تھا وہ جب بھی ساتھ ہوتے ہمیشہ یہیں پوتے تھے وہاں اب تک سب کچھ سیم تھا بس تبدیلی آئی تھی تو ان کی زندگیوں میں ساحل شاہ کے دل میں جہاں محبت کا بسیرا ہوا کرتا تھا وہاں اب نفرت کی گہری کھائی تھی یوسف کو آج اس جگہ اس وقت اسرار کی بہت یاد آرہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج بھی یہاں سب کچھ ویسا ہی ہے نا۔۔۔۔۔۔۔۔یوسف کے کہنے پے ساحل طنزیہ مسکرایا تھا

ہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔کچھ تبدیل نہیں ہوا سب کچھ وہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان بیس سالوں میں کچھ تبدیل نہیں ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔ہے نا۔۔۔۔۔۔۔

تبدیل تو ہوا ہے ساحل بہت کچھ تبدیل ہوا ہے۔۔۔۔۔بہت کچھ۔۔۔۔۔۔۔۔

ہمم۔۔۔۔۔۔۔

کیا ایسا نہیں ہوسکتا ساحل ہم سب بھول جائیں۔۔۔۔۔۔۔

کیا بھول جائیں بتائو یوسف کیا سب کچھ بھولنے سے سحر واپس آجائیگی اس کی عزت واپس آجائی گی ان خاندانوں کی نفرت ختم ہوجائیگی یے گائوں ایک ہوجائینگے سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کے کہنے پے اسد نے ٹھنڈی آہ بھری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔پر تم بھی وہیں کرو یے تو ضروری نہیں نا

میں کیا کرونگا بتائو مجھے میں بلکل وہ نہین کر سکتا جو اسرار نے کیا ہے پر اسے سزا ضرور ملے گی جس طرح میری بہن تڑپی تھی اسی طرح میں اس کی بہن لہر چودھری بھی تڑپیگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ساحل سزا تو اسے مل چکی ہے آج وہ ہمارے بیچ نہیں ہے اور کیا کرنا ہے اس ایک حادثے کی وجہہ سے سحر ارسلان وجداں انکل ہمارے ساتھ نہیں ہے اور آنٹی کی حالت دیکھی ہے تم نے یے گائوں الگ ہوچکے ہیں جو خاندان ایک دوسرے کیلئییے جان دیتے تھے اب ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں سب ایک دوسرے سے نفرت کرتےہیں شاہ زمان انکل اور امامہ آنٹی اپنے بیٹے کی موت کے بعد اپنی بیٹی کو بھی ہر وقت اپنے آغوش میں چھپائے رکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ساحل اور کتنا بڑھانا ہے اس نفرت کو اب بس کردو ایسے تو نسل با نسل اس نفرت کی آگ میں تباہ ہوگی میں نے تجھے اس دن بھی کہا تھا آج بھی کہتا ہوں اسرار ارسلان چودھری ایسا کبھی نہیں کرسکتا تو ایسے کام نا کر جس اے سچائی سامنے آنے پےتجھے پچھتانا پڑے ساحل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یوسف نے ہر بار کی طرح اس بار بھی اسے سمجھانا چاہا پر جانتا تھا اس پر کوئی اثر نہیں ہوگا

میں جارہا ہوں حویلی تجھے آنا ہے تو آجا نیرے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کی باتیں سننے کے بعد ساحل شاہ اسے یے کہہ کےاٹھ گیا اور اس کا جواب سن کے یوسف کا سر پیٹنے کو دل چاہا وہ بھی اس کے پیچھے چلنے لگا

_________________________________

لہراداس اداس سی حویلی کے اندر آئی تو شاہ زین چودھری کو پریشانی سے ٹہلتے دیکھا اور سامنے ہی سریا بیگم تسبیح لے کے بیٹھی تھی اور امامہ بیگم سامنے چہرا ہاتھوں پے جھکائے بیٹھی تھی اور شاہزمان چودھری کسی سے فون پے بات کر رہا تھا اور سلمان چودھری اور عثمان چودھری اور زبیر گھر پر نا تھے اس کے پیچھے شہیر اور شہریار بھی اندر آئے اسے دروازے پے کھڑا دیکھ وہیں رک گئے

کیا ہوا گڑیا۔۔۔۔۔۔۔شہریار نے اس جے ماتھے پے ہاتھ رکھا کسی کی یو اچانک آواز پے لہر اچھلی تھی

اف بھائی آپ ہیں نہیں کچھ نہیں بس اندر سب پریشان ہے وہیں دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔وہ اسے کہہ کے اںدر شاہ زین چودھری کے پاس گئے

دادا سائیں۔۔۔۔۔۔اس کی آواز پے سب اس کی طرف آئے۔۔۔۔۔۔

کہاں تھی تم بیٹا اتنا وقت لگا دیا تم نے۔۔۔۔۔۔امامہ بیگم نے اسے گلے سے لگایا۔۔۔۔۔۔۔

بیٹا آپ نے ہم سے وعدہ کیا تھا کی آپ مغرب سے پہلے آجائیں گی پھر کیوں اتنا وقت لگا دیا۔۔۔۔۔۔۔۔شاہزین چودھری نے اسے محبت سے اسے دیکھا

کچھ تو فکر کیا کر ہم یہاں کتنے پریشان تھے تمہارے لیے۔۔۔۔۔۔ثریا بیگم نےاپنی آنکھوں سے بہتے آنسو صاف کیے۔۔۔۔۔ہاں۔۔۔۔۔آمنہ بیگم نے بھی ثریا بیگم کی ہاں میں ہاں ملائی

اب کچھ بولوگی بھی یا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔رقیہ نے اسے ڈپٹا

اڑے آپ لوگ کچھ بولنے دوگے بھابھی سائیں تو بولونگی نا ۔۔۔۔۔۔۔۔اس کی بات پے سب مسکرائے تھے

ہاں تو بتائیں بیٹا سائیں کیوں اتنی دیر کردی۔۔۔۔۔۔۔شاہ زمان چودھری نے اسے گلے سے لگایا

آپ یہاں ہے اور ہم ہر جگا ڈھونڈ رہے ہیں آپ کو ۔۔۔۔۔زبیر نے اندر داخل ہوا تق اسے وہاں دیکھ ےکہا

ہاں بیٹا سائیں ہم پورا گائوں ڈھونڈ کے آگئے ہیں۔۔۔۔۔سلمان چودھری نے بھی سکون کا سانس کیا اسے یہاں دیکھ کے

بیٹا سائیں اتنا وقت کیوں لگا دیا آپ نے۔۔۔۔۔۔۔عثمان چودھری نے اسے چپ دیکھا تو پوچھا اان سب کے سوالوں پے لہر نے قہقہ لگایا ایک گھنٹہ زیادہ لگادیا آپ لوگعں نے اتنی ٹینشن لینا شروع کردی ایسے ہی آپ لوگ بھی نا اور کچھ بولنے دوگے تو بولونگی نا آپ لوگ بھی نا

اچھا اب ہم سب چپ اب صرف ہماری پوتی سائیں بولیگی۔۔۔۔۔۔۔شاہ زین چودھری کے کہنے پے اب نے اپنے ہونٹوں پے انگلیاں رکھ لیں

وہ دادا سائیں بس ایکسیدنٹ ہوتے ہوتے بچا اسی وجہہ سے لیٹ ہوگئی۔۔۔۔۔۔۔

کیا ایکسیڈنٹ کہیں چوٹ ت نہیں لگی نا اس کے کہنے پے سب نے پریشانی سے اسے دیکھا پر کوئی بولا نہین پر امامہ بیگم اسےکہہ کے جانچنے لگی

اڑے نہیں اماں سائیں ٹھیک ہوں بس بوکھ لگی ہے مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔لہر نے معصوم سا موں بنایا

اچھا بیٹا سائیں آپ جائو نہا لو میں کھانا لگاتی ہوں اس کے اس طرح سے کہنے پے سب کے چہرے پے مسکان آئی تھی اور آمنہ بیگم نے اس کے سر پر ہاتھ پھیر کے اسے کہا اور وہ انہیں ہاں کرتی اوپر چلی گئ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *