Ahle E Ishq By Mehak NovelR50505 Ahle E Ishq (Episode - 1)
No Download Link
Rate this Novel
Ahle E Ishq (Episode - 1)
Ahle E Ishq By Mehak
جینے لگا ہوں
پہلے سے زیادہ ۔۔۔۔۔پہلے سے زیادہ۔۔۔۔۔۔تم پے مرنے لگا ہوں
میںمیرا دل اور تمہو یہاں
پھر کیوں ہو پلکیں جھکائیں وہاں
تم سا حسیں پہلے دیکھانہیں
تماس سے پہلے تھے جانے کہاں
جینے لگا ہوں
پہلے سے زیادہ
پہلے سے زیادہ۔۔۔۔۔۔۔۔تم پے مرنے لگا ہوں
رہتے ہو آکے جو تم پاسمیرے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔تھم جائیں یے پل وہیں میں بس یہں سوچوں=۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لہر جھولے پے اوندھے لیٹی سونگس سن رہی تھی تصور میں خود کو اور ساحل کو سوچتے ہوئے پر باہر سے آتے شور پر اس نے بدمزہ ہوکے سونگس بند کیے اور کھڑکی کے پاس آگئی اور سامنے کے منظر کو دیکھنے لگی جہاں اس کے دادا سائیں شاہ زین چودھری اپنے تخت پر بیٹھے تھے ان کے تخت کے ایک طرف اس کے بڑے چاچا سائیں سلمان چودھری بیٹھے تھے اور دوسری طرف اس کے بابا سائیں شاہ زمان چودھری اور اس کے بابا سائیں کے ساتھ ہی اس کے چھوٹے چاچا سائیں عثمان چودھری کھڑے تھے اور ان سب کے سامنے بہت سارے گائوں کے لوگ کھڑے تھے شام کے وقت اکثر اس کے دادا سائیں کی پنچائت گھر کے صحن میں ہی لگتی تھی اتنے سارے لوگوں کو کہڑا دیکھ کے لحر سمجھ گئی تھے کی ضرور آج پھر کوئی شاہوں کی طرف گیا ہوگا یا ان کی طرف سے کوئی یہاں آیا ہوگا یا پھر کچھ ایسا پر جو بھی تھا مسلئہ شاہوں کی طرف سے ہی تھا وہ یے تو نہیں جانتی تھی کی چودھریوں اور شاہ میں مسلئہ کیا تھا اسے تو بس اتنا پتا تھا کی پہلے یے ایک ہی گائوں ہوا کرتا تھا جو کی اب دو میں تقسیم ہوچکا تھا ایک چودھریوں کا تو ایک شاہوں کا اگر چودھریوں کی طرف سے کوئی اس طرف چلا جائے تو یا تو اس کا مرا ہوا جسم ملتا تھا یا پھر ایسے حالت کی وہ ایک مہینہ ہسپتال میں ضرور رہتا تھا اور اگر شاہوں کی طرف سے کوئی اس طرف آجائے تو اس کے ساتھ بھی یہیں کیا جاتا تھا اور آج بھی شاید یہیں مسلئہ تھا اس لئیے وہ کھڑکی بند کر کے نیچے آگئی یہاں بھی ایک طرف اس کی دادی سریا بیگم کی پنچائت لگی ہوئی تھی جہاں وہ عورتوں کے مسئلے حل کرتی تھی اور گھر میں بہت سارے ملازم تھے ادھر سے ادھر کام کر رہے تھے اور اس کے سامنے اس بڑی چاچی آمنہ بیگم غریبوں کو اناج اور کچھ کپڑے بانٹ رہی تھی وہ اس کی طرف آگئ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تائی جان کیا کر رہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔لہر نے جان بوجھ کے سوال کیا جس پے آمنہ بیگم نے مسکرا کے اپنی چلبلی سی بھتیجی کو دیکھا جس کی شرارتوں میں پورے گھر کی جان بستی تھی
کچھ نہیں لہر میں تو بس دان کر رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
اچھا چاچی یے زبیر بھائی اور رقیہ بھابھی نظر نہیں آرہے کہاں گئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔لہر نے ان کے بیٹے زبیر کا اور اس کی زبیر کی بیوی رقیہ کا پوچھا
شاہ زین چودھری اور سریا بیگم کے تین بیٹے تھے سب سے بڑا سلمان چودھری اس سے چھوٹا شاہ زمان چودھری اور سب سے چھوٹا عثمان چودھری
سلمان چودھری اور آمنہ بیگم کے تین بیٹے تھے زبیر شہیر اور شہریار ۔۔۔۔۔زبیر کی شادی ہوچکی تھی وہ لایر تھا پر گھر پر رہ کر زمینوں کے ہی کام دیکھتا تھا شہریار اور شہیر دونوں جڑوا تھےاور ایم اے کر چکے تھے اب باپ دادا کابزنس سنبال رہے تھے
اور شاہ زمان چودھری اور امامہ بیگم کی ایک ہی بیٹی تھی لہر چودھری جو کی پورے گھر کی لاڈلی تھی اور بہت شرارتی لہر ڈاکٹر تھی اور شاہ زین چودھری کا ہی خواب تھا کی وہ لہر ڈاکٹر بنے کیوںکی ان کے گائوں میں کوئی ہسپتال نا تھی گائوں کی ہسپتال شاہوں کی طرف تھی اس لیے وہاں کوئی جاتا نہیں تھا اور تین گھنٹے کا سفر طئے کر کے شہر جانا پڑتا تھا اب جب لہر نے اپنی پڑھائی مکمل کر لی تھی تو وہ اس کیلئیے ہسپتال بھی بنوا رہے تھے
عثمان چودھری اور زینت بیگم کے دو بیٹے تھے اسد اور احد اسد ابھی میٹرک میں تھا اور احد پانچویں جماعت میں تھا اس گھر کی صرف ایک ہی بیٹی تھی لہر چودھری جس میں سب کی جان بستی تھی اور لہر کی جان ان کے سب سے بڑے دشمن ساحل شاہ میں بستی تھی
زبیر زمینوں پر گیا ہے اور رقیہ امامہ اور زینت کے ساتھ باورچی خانے میں ہے۔۔۔۔۔۔آمنہ بیگم نے اسے مسکرا کے جواب دیا۔۔۔۔۔جس پے لہر سر ہلاتی باہر کی طرف چلی گئ
کہاں جارہی ہو لہر شام کا وقت ہورہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تائی امی آجائونگی کچھ دیر تک وہ انہیں کہتی حویلی سے نکل کے کچی سڑک کی طرف بھاگنے لگی مغرب کا وقت ہورہا تھا اور اسے مغرب سے پہلے وہاں پہنچنا تھا ورنہ آج ایک ہفتے بعد بھی اس کا دیدار نا ہوتا وہ بھاگتی بھاگتی اس جگھ پہنچی جہاں سے دونوں گائوں کی سڑک الگ کی گئی تھی وہ سیدھی سڑک شہر سے آتی تھی اور اس کا ایک موڑ چودھریوں کی گائوں کی طرف نکلتا تھا اور ایک شاہوں کی گائوں کی طرف وہاں سے شاہوں کے زمینوں پر جانے کا راستہ بھی تھا شاہوں کی پوری زمینیں وہاں سے واضع نظر آرہی تھی اس نے ایک نظر سامنے دیکھا اور اس پیپل کے پیڑ کے پیچھے چھپ کے اس شہر سے آنے والی سڑک کو دیکھنے لگی آج ایک ہفتے بعد وہ شہر سے لوٹنے والا تھا مغرب کی اذانیں ہورہی تھی ہر طرف اندھیرہ پھیل رہا تھا
یا اللہ کہیں وہ چلے تو نہیں گئے میرے آنے سے پہلے۔۔۔۔لہر کو خدشہ ہوا
نہیں آپ میرے ساتھ۔۔۔۔۔لہر کی بات ابھی بیچ میں ہی تھی کی اسے سامنے ایک کالی جیپ آتی نظر آئی وہ اسی کی جیپ تھی لہر نے نظریں اس طرف کرلی اس کی جیپ ک رفتار بہت تیز تھی پر لہر کی نظریں جب اس پر پڑی تو وہ پلٹنا بھول گئی اس کی گھری کالی آنکھیں شہد رنگ بال تیکھے نقوش لمبا قد چوڑا سینا گھنی موچھیں سفید رنگ مغرور انداز وہ اپنے آپ میں ایک مثال تھا لہر کی نظریں ابھی بھی وہیں ٹھری تھی پر وہ تو کب کا جا چکا تھا لہر کو جب احساس ہوا تو وہ بھی حویلی کی طرف چل دی جانتی تھی تھوڑی دیر ہوگئی تو اس کے دادا سائیں خود اسے ڈھونڈتے ہوئے یہاں آجائیگے۔۔۔۔
______________________
حویلی میں اس کی جیپ کے داخل ہوتے ہی سب ملازم سترک ہو چکے تھے سب واقف تھے ساحل شاہ کے غصے سے اور حویلی کا ہر بندہ اس کے غصے سے خوف کھاتا تھا اگر وہ کسی کی سنتا تھا تو اپنے دادا سائیں احسان شاہ کی بس وہ حویلی میں داخل ہوتے ہی اوپر سیدھا اپنی دیدے سائیں کے کمرے میں آیا ان کے روم میں داخل ہوا تو وہ بیڈ پے گم سم بیٹھی تھی وہ ان کے قریب زمین پے بیٹھ گیا وہ جب بھی کہیں جاتا تھا سب سے پہلے اپنی ماں کے پاس آتا تھا
اماں دیکھیں نا میری طرف۔۔۔۔۔۔ساحل نے بے بسی سے اپنی ماں کو دیکھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔پر اس کی نے اسے ایک نظر اٹھا کے دیکھا اور اس کی آنکھوں سے رواں ہوئے ساحل کو دیکھ کے ثمینہ بیگم کو ہمیشہ وجدان شاہ کی یاد آتی تھی اس کے نین نقش ہو بہو ویسے ہی تھے ۔۔۔۔۔
وہ ایک امید سے اپنی ماں کو دیکھ کے ان کے قریب سے اٹھ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔میری ماں میرے گھر سب کی بربادی کی وجہہ صرف تم ہو شاہ زین چودھری صرف تم جس طرح تم نے مجھے برباد کیا ہے وہسے ہی تم بھی برباد ہوئوگے اور تمہیں برباد ساحل شاہ کرے گا
